جمعرات, جون 25, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

    تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    ہماری نسل نو کے ایمان و تعلیم کے لیے فرشتے نہیں،رسول نہیں ،دہلی مُمبئی کے علما نہیں ، بلکہ ہمیں خود آنا ہوگا

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

    نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

    نیا ڈیہہ بانکا بہار میں  اکابر علمائے کرام کی بہار

    نیا ڈیہہ بانکا بہار میں اکابر علمائے کرام کی بہار

    یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

    یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

    نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

    تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    ہماری نسل نو کے ایمان و تعلیم کے لیے فرشتے نہیں،رسول نہیں ،دہلی مُمبئی کے علما نہیں ، بلکہ ہمیں خود آنا ہوگا

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

    نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

    نیا ڈیہہ بانکا بہار میں  اکابر علمائے کرام کی بہار

    نیا ڈیہہ بانکا بہار میں اکابر علمائے کرام کی بہار

    یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

    یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

    نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

حساب خودی

by Md Yasin Jahazi
مارچ 4, 2026
in اسلامیات
0
آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے
0
SHARES
13
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محمد یاسین جہازی

خدا کی بنائی ہوئی بے شمار مخلوقات میں سے ایک اعلیٰ و اشرف مخلوق کا نام بشرہے۔ اس کی برتریت کا راز یہ ہے کہ اس کی ادراک و شعور دوسری تمام مخلوقات کی بنسبت اعلیٰ معیار تک پہنچا ہوا ہے ۔ دنیا کا سب سے پہلا شخص حضرت آدم علیہ السلام ہیں، اس لیے ان کی جانب نسبت کرتے ہوئے اسے آدمی بھی کہاجاتا ہے۔اس کا ایک تیسرا نام بھی ہے اور وہ ہے : انسان۔ یہ عربی کے لفظ انس سے بنا ہے، جس کے لغوی معنی محبت و الفت کے ہیں۔ چوں کہ انسان کے اندر محبت کا جذبہ پایا جاتا ہے، اس لیے اسے اس نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اور یہیں سے ہم عوام الناس کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ انسان کی ادراک و شعوراس کے اندر محبت وپیار کاجذبہ پیدا کرتا ہے اور یہی جذبہ اسے تمام انسانوں ؛ بلکہ دیگر مخلوقوں کے ساتھ خیرخواہی اور ہمدردی کا سلیقہ بخشتا ہے۔ چنانچہ یہ انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ وہ اپنے کسی بھائی کے ساتھ یا کسی جاندار مخلوق کے ساتھ ظلم ہوتا دیکھ کر دکھی ہوتا ہے ۔ وہ جب یہ دیکھتا ہے کہ دوسرا شخص کسی تکلیف میں مبتلا ہے، تو اسے دیکھ کر اس کی چبھن یہ بھی محسوس کرتا ہے ۔ اور اس کی وجہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے کہ وہ انسان ہے ، محبت و ہمدردی اس کی فطرت کا ایک لازمی عنصر ہے۔ عشق و شیفتگی اور لاڈ پیار ہی انسان کی سب سے بڑی امتیازی شناخت ہے۔
اسلام چوں کہ دین فطرت ہے اور محبت و الفت انسان کی فطرت میں داخل ہے ، اس لیے اسلام نے انسان کو یہ تعلیم دی ہے کہ
من قتل نفسا بغیر نفس او فساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا، و من احیاھافکانما احیاالناس جمعیا۔(المائدۃ، ۳۲)
ناحق ایک شخص کو قتل کرنا ایسا ہے جیسا کہ تمام انسانوں کو قتل کردیا ۔ اور جس شخص نے ایک جان کو زندگی دی ، گویا اس نے سب انسانوں کو زندگی بخشی۔
اس اسلامی ہدایت کی روشنی میں آئیے ہم سب اپنا اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہم واقعی انسان ہیں ؟ اور اگر انسان ہیں تو کیا انسانیت کے تقاضے کو پورا کر رہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم انسیت و محبت کا دعویٰ کرتے کرتے نہ تھکتے ہوں، لیکن ہمارے کسی ظلم و زیادتی کی وجہ سے ایک فرد نہیں، ایک خاندان نہیں؛ بلکہ پورا معاشرہ پریشان ہو رہا ہو اور ہمیں اس کا احساس بھی نہ ہو۔
اپنا محاسبہ شروع کرنے سے پہلے آئیے ایک واقعہ ذہن نشین کرتے چلیں کہ پہلے زمانے میں ایک عبادت گزار شخص تھا۔ ایک فاحشہ اور بدکار عورت نے اسے اپنے دام تزویر میں پھنسانے کی کوشش کی۔ اور ایک لونڈی کو پیغام دے کر اس کے پاس بھیجا کہ میں تمہیں گواہی کے لیے اپنے پاس بلا رہی ہوں (گواہی کے لیے جانا فرض تھا) چنانچہ وہ مرد صالح اس لونڈی کے ساتھ چلا آیا۔ وہ نیک شخص مطلوبہ مکان کے جس کمرے میں داخل ہوتا۔ لونڈی اس کا دروازہ مقفل (بند) کر دیتی۔ اس طرح وہ اس خوبصورت عورت کے پاس پہنچ گیا۔ وہاں عورت کے علاوہ ایک لڑکا تھا اور ایک طرف شراب کا جام رکھا ہوا تھا۔ اب اس بدکار عورت نے اس نیک آدمی سے کہا۔ انی واللہ مادعوتک للشھادۃ اللہ کی قسم! میں نے تجھے کسی گواہی کے لیے نہیں بلایا۔ بلکہ اس لیے بلوایا ہے کہ تم میرے ساتھ ہم بستری کرو۔ یا شراب کا یہ جام پیو۔ یا پھر اس لڑکے کو قتل کرو۔ (تمھیں ان تینوں میں سے ایک کام لازمی کرنا پڑے گا) چنانچہ اس نے شراب نوشی کو دوسرے دونوں گناہوں سے کم تر جرم خیال کرتے ہوئے کہا۔ مجھے شراب کا ایک گلاس پلا دو۔ اس عورت نے اسے ایک پیالہ شراب پلا دی۔ (جب لذت محسوس ہوئی تو) بولا۔ اور پلاؤ۔ اس نے اور شراب پلا دی۔ پھر اس مرد صالح نے شراب نوشی کی مخموری کے باعث اس عورت سے صحبت بھی کی اور اس کے مطالبے پر لڑکے کو بھی قتل کر دیا۔
اس واقعے میں جس طرح بزرگ شخص نے شراب نوشی کو دوسرے دونوں گناہوں کی بنسبت کم تر خیال کرتے ہوئے اسے اختیار کرلیا اور پھر سبھی بڑے بڑے گناہ ہوگئے ،اسی طرح آج ہماری ذاتی زندگی ، خاندانی نظام حیات اور معاشرتی معاملات کا نقشہ اس واقعہ سے مختلف نہیں ہیں۔ ہم لاشعوری طور پر کچھ ایسے کام کرجاتے ہیں ، جس کی وجہ سے مفاسد کے دروازے کھل جاتے ہیں اور وہ کام بڑے بڑے گناہوں کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ محاسبہ کے طور پر چند پہلو کی نشاندھی کی جاتی ہے۔
(۱) غلط فہمی
غلط فہمی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی چیز کو دیکھ کر یا سن کر وہ سمجھ لیتا ہے ، جو حقیقت میں وہ ہے نہیں۔ مثال کے طور پر ایک واقعہ ہے کہ ایک صاحب کی دکان کے سامنے لوگ پیشاب کرتے تھے، جس کی بدبو اور تعفن سے وہ پریشان تھے۔ دکاندار نے بہت کوشش کی ، کبھی اس جگہ دیوار پر لکھ دیا کہ یہاں پیشاب کرنا منع ہے۔ کبھی کسی کو دیکھ لیا تو اسے ٹوک دیا کہ بھائی یہاں پیشاب مت کرو، لیکن لوگ تھے کہ باز ہی نہیں آرہے تھے۔ پھر اس کے دماغ میں یہ ترکیب آئی کہ کیوں نہ ایسا کریں کہ اس جگہ کے متعلق غلط فہمی پھیلائی جائے ، شاید اس سے لوگ رک جائیں۔ چنانچہ اس نے وہاں پر یہ لکھ کر ایک بورڈ لگوادیا کہ یہاں جنات و شیطان رہتے ہیں، اس جگہ پیشاب نہ کریں۔ ایک دن ایسا ہوا کہ ایک صاحب کو بڑی تیز لگی ہوئی تھی، جگہ کا پتہ تو تھا ہی، وہ جلدی میں آئے اور اسی جگہ بیٹھ گئے، جب اس کو اطمینان ہوا اور بیٹھے ہوئے ہی اس کی نظر اس بورڈ پر پڑی کہ یہ کہ جنات کی جگہ ہے، پھر کیا تھا اس کا پیشاب رک گیا اس کے ذہن نے کام کرنا بند کردیا، گھبراہٹ کے عالم میں جلدی جلدی پینٹ کا بٹن لگانے لگا، لیکن اتفاق سے ہوا ایسا کہ پینٹ کی بٹن شرٹ میں شرٹ کی بٹن پینٹ میں لگ گئی۔ اب وہ صاحب جب کھڑے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، تو کمر سیدھی ہی نہیں ہورہی ہے۔ گھبرایاہوا تو پہلے سے ہی تھا اب مارے خوف کہ چیخیں نکل گئیں کہ مجھے بچاو مجھے جنات نے پکڑ لیا ہے، میری کمر ٹیڑھی کردی ہے۔ مجھے بچاو۔ یہ منظر جب راہ گیروں نے دیکھا تو انھیں بھی یہی لگا کہ اس نے جنات پر پیشاب کیا ہے، اسی وجہ سے جنات نے اس کی ایسی حالت کردی ہے۔
اب دیکھیے کہ حقیقت میں وہاں نہ جنات ہے اور نہ ہی اس کی کمر ٹیڑھی ہوئی ہے،لیکن اس کو غلط فہمی ہوگئی ہے کہ جنات نے مجھ پر اثر ڈال دیا ہے، اس لیے صحیح ہونے کے باوجود وہ بیماری میں مبتلا ہے۔
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، وہاں ایک دوسرے سے غلط فہمی اور بدگمانی عام ہوچکی ہے۔ اس سے جہاں بدگمان شخص بدگمانی شخص کو نقصان پہنچاتا ہے، وہیں وہ شخص خود بھی نقصان اور پریشانی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اور بے شمار تاریخی واقعات اس پر شاہد ہیں کہ بدگمانی سے کسی شخص کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔آئیے ہم اسلامی تاریخ سے مثال ڈھونڈھتے ہیں کہ صلح حدیبیہ سے پہلے کفار مکہ اور یہود مدینہ نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں پھیلادی تھیں، کفار مکہ نے سرور کائنات ﷺکے بارے میں تو یہاں تک مشہور کردیا تھا کہ وہ تو جادو گر ہیں، اس لیے کوئی قریب مت جانا ورنہ ان کے جادو کے شکار ہوجاو گے ، لیکن جب صلح حدیبیہ کی وجہ سے دس سال کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا اور لوگ ایک دوسرے سے ملنے جلنے اور معاملات کرنے لگے تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ ہم اب تک اندھیرے میں رکھے گئے تھے، پھر جس طرح سے لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے ، اس سے پہلے بیس سالہ اسلام کے دور میں نہیں ہوا تھا۔
(۲) شادی بیاہ میں رسوم و رواجات
زندگی کی ایک تلخ سچائی یہ ہے کہ جب اپنی لڑکی کی شادی کرتے ہیں،تو سمجھتے ہیں کہ لڑکے والے جہیز، تلک اور بارات وغیرہ کی رسموں کو انجام دے کر غیر ضروری اخراجات کا بوجھ ڈال دیتے ہیں، لیکن جب وہی لڑکی والا اپنے کسی لڑکے کی شادی کرتا ہے، تو وہ تمام رسمیں اور چیزیں اپنے لیے رحمت کا باعث سمجھتے ہیں اور ان چیزوں سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوتے۔
قرآن و حدیث کی رو سے لڑکے کو لڑکی پر ایک درجہ زیادہ مرتبہ ملنے کی دو وجہیں بیان کی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام چلانے کے لیے حاکم ومحکوم اور بادشاہ و رعایہ کا سسٹم رکھا ہے۔ اگر یہ نہ ہوگا تو انسان کا سماجی و تمدنی نظام نہیں چل سکتا ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت بالغہ سے کسی کو بادشاہ اور کسی کو رعایہ بنادیا ہے۔ اسی نظریے کے مطابق خاندانی شیرازہ بندی کے لیے اللہ تعالیٰ نے لڑکے کو حاکم و قوام اور نگراں بنایا ہے اور لڑکی کو اس کا ماتحت۔ یہ تو ایک وجہ تھی اور دوسری وجہ یہ ہے کہ لڑکا چوں کہ مال خرچ کرتا ہے، اس لیے لڑکے کا درجہ بڑا ہے۔
اس فرمان کے مطابق کوئی بھی موقع ہو، مال خرچ کرنے کی ذمہ داری لڑکے پر عائد ہوتی ہے، لہذا شادی بیاہ کے موقع پر بھی مال اور دعوت وغیرہ سبھی خرچ لڑکے کے ذمہ ہے، نہ کہ لڑکی کے ذمہ۔ علاوہ ازیں حدیث میں لڑکی کورحمت کہا گیا ہے، اور شادی کے ذریعہ لڑکی رخصت ہوتی ہے، تو لڑکی والوں کے لیے کوئی خوشی کا موقع نہیں ہوسکتا، کیوں کہ رحمت کی رخصتی خوشی کی وجہ نہیں ہوسکتی، البتہ لڑکے والوں کے لیے مسرت کا مقام ہے کہ ایک رحمت کا ورود ہورہا ہے، جس کی خوشی کے طور پر ولیمہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
قرآن و حدیث کے ان فرمان کے برعکس آج ہمارا حال یہ ہے کہ لڑکی والوں پر سارے اخراجات کی ذمہ داری ڈال دیتے ہیں اور اس طرح ہم ان پر ظلم کرتے ہیں۔ ایسے موقع پر ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ کہیں ہم کسی طریقے سے کسی پر ظلم و زیادتی تو نہیں کر رہے ہیں…!
اس طرح زندگی کے بے شمار واقعات ہیں، جہاں ہم چاہی نہ چاہی ، شعوری اور لاشعوری طور پر غلط فہمیوں کے شکار ہوتے ہیں ، یا غلط کام کرتے ہیں اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا، اس لیے ایسے موقعوں پر گناہوں سے بچنے کا خود کا اور خودی کا محاسبہ بہت ضروری ہے۔

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

سماوی، انسانی، شیطانی آفات اور تحفظ کے فطری طریقے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

7 مہینے ago
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

موجز اسلوب

5 مہینے ago

مقبول

  • نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    ہماری نسل نو کے ایمان و تعلیم کے لیے فرشتے نہیں،رسول نہیں ،دہلی مُمبئی کے علما نہیں ، بلکہ ہمیں خود آنا ہوگا

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • خطرے میں شہریوں کی آزادی و حقوق

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مختصر واقعہ شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.