21
چوتھی قسط
*حجاز کے حالات کی تحقیقات کے لیے جمعیت علمائے ہند کا وفد دیار حبیب میں*
روزنامہ الجمعیۃ میں 14 مئی 1925ئ کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق جمعیت علمائے ہند کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ نے حضرت مولانا شوکت علی کو تار بھیج کر یہ تجویز پیش کی کہ جمعیت علمائے ہند، خلافت کمیٹی اور مسلم لیگ کا ایک مشترکہ وفد 15 مئی 1925ئ تک حجاز روانہ کیا جائے تاکہ سلطان ابن سعود سے ملاقات کرکے حج کے انتظامات، امن و امان اور حجاج کی سہولتوں کا براہِ راست جائزہ لے کر مسلمانوں کو حقیقتِ حال سے آگاہ کیا جاسکے۔بعد ازاں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے 20 مئی 1925ئ کے اجلاس میں مشترکہ وفد کی عدمِ تشکیل پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ جمعیت اپنا مستقل نمائندہ حجاز بھیجے گی۔ اس مقصد کے لیے حضرت مولانا عبدالحلیم صدیقیؒ کو نمائندہ مقرر کیا گیا۔ چنانچہ وہ 5 جون 1925ئ کو جمعیت علمائے ہند کے نمائندے کی حیثیت سے، جبکہ مولانا ابوالمعارف محمد عرفان خلافت کمیٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔ بعد میں یہ وفد 10 جون 1925ئ کو کراچی سے جہاز اکبر کے ذریعے مکہ معظمہ کے لیے روانہ ہوا۔حج کے موقع پر 2 جولائی 1925ئ (مطابق 10 ذی الحجہ 1343ھ) کو سلطان ابن سعود نے وفد کو شرفِ ملاقات بخشا۔ اس موقع پر مولانا عبدالحلیم صدیقیؒ نے ایک اہم خطاب کیا، جس میں حجاز میں قائم امن، مسلمانوں کے اتحاد، حجاز کو بیرونی اثرات سے پاک رکھنے، عالمِ اسلام کی توقعات اور عدل و انصاف کے قیام پر زور دیا۔ یہ خطاب بعد میں 26 اگست 1925ئ کے شمارہ¿ الجمعیۃ میں شائع ہوا۔وفد 6 اگست 1925ئ کو دہلی واپس پہنچا، جہاں اس کا شاندار استقبال کیا گیا، اور 7 اگست 1925ئ کو جامع مسجد دہلی میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس کی رپورٹ 14 اگست 1925ئ کو شائع ہوئی۔ اس جلسے میں وفد کے ارکان نے اپنے مشاہدات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ابن سعود کی حکومت میں راستوں کا امن، حجاج کی سہولتیں اور انتظامات سابقہ حالات کے مقابلے میں بہتر تھے۔ انہوں نے طائف کے واقعات، مزارات کے قبوں کے انہدام، مدینہ منورہ اور مقدس مقامات کے تحفظ سے متعلق سلطان ابن سعود سے ہونے والی گفتگو بھی بیان کی۔ وفد نے یہ بھی واضح کیا کہ بہت سی مشہور افواہیں مبالغہ آمیز یا بے بنیاد تھیں، جبکہ سلطان نے طائف کے سانحے پر افسوس، مساجد کی مرمت، قبور کے بارے میں علمائے اربعہ کے فیصلے کی پابندی اور مدینہ منورہ، جنت البقیع اور شہدائے اُحد کے احترام و حفاظت کی یقین دہانی کرائی۔ ان بیانات کی تفصیلی اشاعت 18 اگست 1925ئ کو ہوئی۔اسی دوران سلطان ابن سعود نے 18 جولائی 1925ئ کو جمعیت علمائے ہند کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کے نام ایک مکتوب بھی تحریر کیا، جس میں جمعیت کی خدمات کو سراہتے ہوئے وفد کی آمد پر اظہارِ تشکر کیا۔ یہ مکتوب بعد میں 10 اگست 1925ئ کو شائع ہوا۔مزید برآں، مکہ معظمہ سے آنے والے چار معزز حضرات کے اعزاز میں 28 جولائی 1925ئ (مطابق 6 محرم 1344ھ) کو دہلی میں ایک استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی، جس میں حجاز کے حالات پر سوال و جواب ہوئے۔ مہمانوں نے بتایا کہ قبوں کا انہدام ضرور ہوا، مگر قبروں کی بے حرمتی نہیں کی گئی، مختلف فقہوں کے ماننے والوں کو مذہبی آزادی حاصل تھی، اور ابن سعود کی حکومت میں امن و انصاف نمایاں تھا۔آخرکار جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے 18 تا 21 جنوری 1926ئ کے اجلاس میں حضرت مولانا عبدالحلیم صدیقیؒ کی رپورٹ اور خدمات کو باضابطہ طور پر سراہا، رپورٹ کو ریکارڈ میں محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا اور قرار دیا کہ اس کا مضمون انہی بیانات کے مطابق ہے جو وفد کی واپسی کے بعد مختلف جلسوں اور اخبارات میں شائع ہوچکے تھے۔(جاری)@all





















