منگل, ستمبر 22, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد (5) جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور اس کا متحدہ راشٹرواد کا نظریہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(02) ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

    زبان سکھانے والی نصابی کتاب کیسے لکھیں

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    مولانا سلمان بجنوری صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند

    اماموں کی تربیت پر جمعیت علمائے ہند کا ایک صدی قبل کا فیصلہ اور حضرت بجنوری نقشبندی دامت برکاتہم کی جامع رہ نمائی

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ارکان پارلیمنٹ کی افسوس ناک کارکردگی اورمودی کی شاہ خرچی

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد (5) جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور اس کا متحدہ راشٹرواد کا نظریہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(02) ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

    زبان سکھانے والی نصابی کتاب کیسے لکھیں

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    مولانا سلمان بجنوری صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند

    اماموں کی تربیت پر جمعیت علمائے ہند کا ایک صدی قبل کا فیصلہ اور حضرت بجنوری نقشبندی دامت برکاتہم کی جامع رہ نمائی

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ارکان پارلیمنٹ کی افسوس ناک کارکردگی اورمودی کی شاہ خرچی

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home قومی و بین الاقوامی

جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

by Admin
ستمبر 22, 2026
in قومی و بین الاقوامی, متفرق مضامین
0
وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ملاحظات،

عبدالحمید نعمانی،
گزشتہ دنوں معروف دانش ور پروفیسر اپوروا نند نے کہا تھا کہ بھارت فاشسٹ اور غنڈہ راج میں بدل گیا ہے، خاص طور سے مسلمان اور عیسائی اقلیت کے لیے، یہ تجزیہ و تبصرہ حقیقت پر مبنی ہے، بی جے پی اقتدار والی ریاستیں تو پوری طرح فاشزم اور جبر و زور زبردستی کی راہ پر گامزن ہیں، وہاں کی سرکاریں اور ان کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہے فاشسٹ عناصر کی ملی بھگت سے مسلم و عیسائی اقلیتیں جبر و زبردستی کی شکار ہیں، ان کے وجود کا کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے، ان کا جینا حرام کر دیا گیا ہے، مذہبی عبادت گاہوں، ماثر و معابد، مدارس و مساجد اور مزارات کے ساتھ ذرائع معاش، قسطوں میں مختلف بہانوں سے تباہ کیے جا رہے ہیں، اسلامی مظاہر و علائم پر جس طرح منصوبہ بند طریقے پر حملے اور ان سے مسلمانوں کو جبرا الگ اور ان کو ختم کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، اس سے جبر و زبردستی اور فاشزم کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے، السلام علیکم، جزاک اللہ، ان شا۶ اللہ، خدا حافظ، آئی لو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہنے کو جس طور سے فرقہ پرستی،امن و امان اور قومی و وطنی سلامتی کے لیے خطرہ بتا کارروائیاں کی جا رہی ہیں ان سے ہندوتو اور برہمن وادی مکروہ چہرے کی شناخت میں کوئی رکاوٹ نہیں رہ گئی ہے، اس سنگین صورت حال نے سنگھ سربراہ ڈاکٹر بھاگوت اور دیگر ہندو دھرم گروؤں کے دعوے، ایک میں سب اور سب میں ایک کو دیکھ کر پوجا کرنے اور تمام انسانوں کے وجود کی وحدت کے فلسفے کو بے معنی اور تردید و تغلیط کرنے کا کام کیا ہے، امریکہ اور بھارت میں مختلف مواقع پر ڈاکٹر بھاگوت ، ہندو مسلم کے ڈی این اے ایک ہونے اور ساتھ ساتھ زندگی گزارنے اور رہنے کی باتیں کرتے رہے ہیں ،اور مسلمانوں کے بغیر ہندو، ہندوتو کے ادھورے اور بے معنی ہونے کا اظہار کرتے رہے ہیں، اسے یا تو آر ایس ایس کی معاون تنظیموں/پارٹیوں سے وابستہ لوگ اپنے فاسد و کاسد ذہنیت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے سمجھنے سے قاصر ہیں اور برسوں تک فاشسٹ اور دوسروں کے وجود کو ختم کرنے کی شیطانی سوچ میں رہنے کے سبب بھارت کی متنوع روایات و افکار کو سمجھنے کی اہلیت کھو چکے ہیں، یا ڈاکٹر بھاگوت انسانی وجود کی وحدت کے اپنے نظریے کو سمجھانے میں ناکام ہیں یا پھر راون کی طرح دس سروں کی طرح مختلف سروں میں باتیں کر کے سماج کو بھرم میں رکھ کر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اندرون خانہ، سیاسی و سماجی تفوق کو بنائے رکھنے کی خاطر کوئی گہرا کھیل کیا جا رہا ہے، ایک موقع پر ڈاکٹر بھاگوت نے ایک بڑی بات کہی تھی کہ گرو گولولکر سے وقت آگے نکل گیا ہے، ہم ڈاکٹر بھاگوت کی نیت کو زیر بحث لانے کے حق میں نہیں ہیں، جو بیان ریکارڈ پر موجود ہے اسی کے حوالے سے بات نتیجہ خیز ہو سکتی ہے، ڈاکٹر بھاگوت نے گرو گولولکر کے تعلق سے بڑی بات کہہ کر یہ تو تسلیم کر لیا ہے کہ ان کے فکر و عمل میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو فرقہ وارانہ اتحاد اور بھارت کے تنوعات سے غیر ہم آہنگ ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آر ایس ایس نے گرو گولولکر کے فکر و عمل میں کوئی جوہری و بنیادی تبدیلی کی ہے یا ان کے افکار و خیالات پر تشریحی نوٹس لکھ کر وقت اور بدلتے حالات کے مطابق بنانے کی کوئی موثر سنجیدہ کوشش کی ہے، سنگھ نے 2018 میں خود کو ملکی و عالمی برادری کے سامنے کبھی کبھار ویدانت کے نظریہ وحدت کے حوالے سے قابل قبول کردار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن بھارت کے سیاسی و سماجی مسائل کے معاملے میں کوئی خاص تبدیلی نہیں کی ہے، Bunch of Thoughts, کے 2019 کے اڈیشن میں بھی ساری قابل اعتراض و زیر بحث آنے والی باتیں جوں کی توں موجود ہیں ،مختلف اڈیشنوں میں محولہ باتوں کے صفحات کے ادھر ادھر، آگے پیچھے ہونے کی وجہ سے،کچھ مغالطہ ہو گیا ہے کہ گرو گولولکر کی تحریروں/کتابوں میں بدلتے حالات میں ضروری تبدیلیاں کی گئی ہیں، جب کہ ایسا بالکل نہیں ہے، ان کی دستیاب کتابیں، Bunch of Thoughts, We Or Our Nation hood defined اور بارہ جلدوں پر مشتمل شری گرو سمگر میں تمام باتیں سابقہ صورتوں میں موجود ہیں، ہندوتو کے نظریہ سازوں میں شمار ڈاکٹر مونجے، ساورکر، ڈاکٹر ہیڈ گیوار، گرو گولولکر وغیرہم کسی نہ کسی طور سے جرمنی کے ہٹلر اور اٹلی کے مسولینی کے کلیت پسندی، ڈکٹیٹر شپ اور فاشزم سے متاثر تھے، انھوں نے جبر اور فاشسٹ فکر و عمل کو بھارت میں در آمد کر کے ایسے ہندو راشٹر قائم کرنے کی راہ ہموار کی، جس میں اس کی مخصوص دائرے سے باہر کمیونٹیز اور مذہبی اکائیوں کے اپنی شناخت اور مذہبی و تہذیبی آزادی کے زندگی گزارنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس پر گرو گولولکر نے We Or Our Nation hood defined میں بہت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، 1937 سے 1939 کے دور میں مولانا آزاد رح، مولانا حسین احمد مدنی رح، ڈاکٹر اقبال، مولانا مودودی اور گرو گولولکر وغیرہم کے قومیت و وطنیت کے الگ الگ نظریات سامنے آئے تھے لیکن گرو گولولکر کے سوا کسی اور دانش ور و رہنما نے جرمنی، اٹلی کے ڈکٹیٹر شپ، کلیت پسندی اور فاشزم کو نمونہ بنا کر بھارت میں "خالص ہندو نسل "کے تحفظ کے لیے ملک کی اکثریت کو آمادہ کرنے کی جارحانہ ترغیب نہیں دی ہے، اس کے ہندوتو وادی سماج پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، فرقہ وارانہ اتحاد کے لیے تمام تر کوششوں کے باوجود، مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں کے خلاف جارحانہ سرگرمیوں، انہدامی اقدامات اور اشتعال انگیز بیانات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اس کے متعلق اگر کوئی تشویش و تنقید کرتا ہے تو اس کی شبیہ کو مکروہ شکل میں پیش کر کے معاملے کا رخ کا کام شروع کر دیا جاتا ہے، اس میں مختلف ذرائع ابلاغ، جبر اور فاشسٹ طاقتوں کا ساتھ دینے کے علاوہ، ان کے جارحانہ اقدامات کو جائز قرار دینے کے لیے الٹے سیدھے دلائل گھڑنے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایسی ایسی باتیں لکھی اور بولی جاتی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ ہندوتو وادی اکثریتی سماج میں وسیع پیمانے پر جہالت اور من گھڑت کہانیاں پھیلی ہوئی ہیں، ان کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ مسلم سماج کے اہل علم افراد سچ کو ملک کے سامنے لانےکا کام کریں، مثلا یہ کہ مسلمانوں کی پانچ بیویاں اور پچیس بچے ہوتے ہیں، ،جب کہ یہ نہ شریعت میں ہے اور نہ سماج میں لیکن نریندر مودی جیسے بڑے منصب پر فائز لیڈر اور دوسری تیسری صف کے ہندوتو وادی اور بی جے پی کے لیڈر پانچ بیویاں اور پچیس بچے کی جھوٹی تھیوری کا بے شرمی کے ساتھ پرچار کرتے رہتے ہیں، مدھیہ پردیش کے ایک بی جے پی لیڈر نے بھوپال کے محلہ قاضی کیمپ پر میزائل حملے کی بات کہی تھی، اعتراض ہونے پر کہا کہ ہماری مراد اسلام آباد کے محلہ قاضی کیمپ ہے، حالاں کہ اسلام آباد میں اس نام کا کوئی محلہ نہیں ہے، اویسی صاحب کے تبصرے کے بعد معافی مانگنے کے بجائے مسلمانوں کی وطنی وابستگی پر سوال اٹھاتے ہوئے ان کی آبادی میں اضافہ اور پانچ بیویاں اور پچیس بچے کی جھوٹی کہانی سنا کر ہندو اکثریتی سماج کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے، مسلمانوں اور اسلامی شعائر و آثار کے خلاف جس طرح نفرت اور بیزاری کا دائرہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے کوئی شک و شبہ نہیں رہ جاتا ہے کہ بھارت جبری نظام حکومت اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا ہے، خاص طور سے بی جے پی اقتدار والی ریاستیں، ،سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کے پنڈت نہرو کے حوالے سے اس تبصرے میں خاصا دم ہے کہ بھارت کو ہندو دائیں بازو کی فرقہ واریت سے خطرہ ہے، لیکن بھارت نے نظام جبر اور فاشزم کو زیادہ وقت تک انگیز نہیں کیا ہے،

Admin

Admin

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

6 مہینے ago
وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک

4 مہینے ago

مقبول

  • وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • راشٹرواد (7 ) راشٹر کی غلامانہ حیثیت بدلنے کے لیے ہندستان کی شرعی حیثیت کا معاملہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • راشٹر واد (5) جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور اس کا متحدہ راشٹرواد کا نظریہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • راشٹرواد (4)۔ متحدہ قومیت کے خلاف فرقہ پرستانہ ذہنیت کے فروغ کے لیے برطانوی حکومت ہند کی سازشیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.