ملاحظات،
عبدالحمید نعمانی،
گزشتہ دنوں معروف دانش ور پروفیسر اپوروا نند نے کہا تھا کہ بھارت فاشسٹ اور غنڈہ راج میں بدل گیا ہے، خاص طور سے مسلمان اور عیسائی اقلیت کے لیے، یہ تجزیہ و تبصرہ حقیقت پر مبنی ہے، بی جے پی اقتدار والی ریاستیں تو پوری طرح فاشزم اور جبر و زور زبردستی کی راہ پر گامزن ہیں، وہاں کی سرکاریں اور ان کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہے فاشسٹ عناصر کی ملی بھگت سے مسلم و عیسائی اقلیتیں جبر و زبردستی کی شکار ہیں، ان کے وجود کا کوئی مطلب نہیں رہ گیا ہے، ان کا جینا حرام کر دیا گیا ہے، مذہبی عبادت گاہوں، ماثر و معابد، مدارس و مساجد اور مزارات کے ساتھ ذرائع معاش، قسطوں میں مختلف بہانوں سے تباہ کیے جا رہے ہیں، اسلامی مظاہر و علائم پر جس طرح منصوبہ بند طریقے پر حملے اور ان سے مسلمانوں کو جبرا الگ اور ان کو ختم کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، اس سے جبر و زبردستی اور فاشزم کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے، السلام علیکم، جزاک اللہ، ان شا۶ اللہ، خدا حافظ، آئی لو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہنے کو جس طور سے فرقہ پرستی،امن و امان اور قومی و وطنی سلامتی کے لیے خطرہ بتا کارروائیاں کی جا رہی ہیں ان سے ہندوتو اور برہمن وادی مکروہ چہرے کی شناخت میں کوئی رکاوٹ نہیں رہ گئی ہے، اس سنگین صورت حال نے سنگھ سربراہ ڈاکٹر بھاگوت اور دیگر ہندو دھرم گروؤں کے دعوے، ایک میں سب اور سب میں ایک کو دیکھ کر پوجا کرنے اور تمام انسانوں کے وجود کی وحدت کے فلسفے کو بے معنی اور تردید و تغلیط کرنے کا کام کیا ہے، امریکہ اور بھارت میں مختلف مواقع پر ڈاکٹر بھاگوت ، ہندو مسلم کے ڈی این اے ایک ہونے اور ساتھ ساتھ زندگی گزارنے اور رہنے کی باتیں کرتے رہے ہیں ،اور مسلمانوں کے بغیر ہندو، ہندوتو کے ادھورے اور بے معنی ہونے کا اظہار کرتے رہے ہیں، اسے یا تو آر ایس ایس کی معاون تنظیموں/پارٹیوں سے وابستہ لوگ اپنے فاسد و کاسد ذہنیت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے سمجھنے سے قاصر ہیں اور برسوں تک فاشسٹ اور دوسروں کے وجود کو ختم کرنے کی شیطانی سوچ میں رہنے کے سبب بھارت کی متنوع روایات و افکار کو سمجھنے کی اہلیت کھو چکے ہیں، یا ڈاکٹر بھاگوت انسانی وجود کی وحدت کے اپنے نظریے کو سمجھانے میں ناکام ہیں یا پھر راون کی طرح دس سروں کی طرح مختلف سروں میں باتیں کر کے سماج کو بھرم میں رکھ کر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اندرون خانہ، سیاسی و سماجی تفوق کو بنائے رکھنے کی خاطر کوئی گہرا کھیل کیا جا رہا ہے، ایک موقع پر ڈاکٹر بھاگوت نے ایک بڑی بات کہی تھی کہ گرو گولولکر سے وقت آگے نکل گیا ہے، ہم ڈاکٹر بھاگوت کی نیت کو زیر بحث لانے کے حق میں نہیں ہیں، جو بیان ریکارڈ پر موجود ہے اسی کے حوالے سے بات نتیجہ خیز ہو سکتی ہے، ڈاکٹر بھاگوت نے گرو گولولکر کے تعلق سے بڑی بات کہہ کر یہ تو تسلیم کر لیا ہے کہ ان کے فکر و عمل میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو فرقہ وارانہ اتحاد اور بھارت کے تنوعات سے غیر ہم آہنگ ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آر ایس ایس نے گرو گولولکر کے فکر و عمل میں کوئی جوہری و بنیادی تبدیلی کی ہے یا ان کے افکار و خیالات پر تشریحی نوٹس لکھ کر وقت اور بدلتے حالات کے مطابق بنانے کی کوئی موثر سنجیدہ کوشش کی ہے، سنگھ نے 2018 میں خود کو ملکی و عالمی برادری کے سامنے کبھی کبھار ویدانت کے نظریہ وحدت کے حوالے سے قابل قبول کردار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن بھارت کے سیاسی و سماجی مسائل کے معاملے میں کوئی خاص تبدیلی نہیں کی ہے، Bunch of Thoughts, کے 2019 کے اڈیشن میں بھی ساری قابل اعتراض و زیر بحث آنے والی باتیں جوں کی توں موجود ہیں ،مختلف اڈیشنوں میں محولہ باتوں کے صفحات کے ادھر ادھر، آگے پیچھے ہونے کی وجہ سے،کچھ مغالطہ ہو گیا ہے کہ گرو گولولکر کی تحریروں/کتابوں میں بدلتے حالات میں ضروری تبدیلیاں کی گئی ہیں، جب کہ ایسا بالکل نہیں ہے، ان کی دستیاب کتابیں، Bunch of Thoughts, We Or Our Nation hood defined اور بارہ جلدوں پر مشتمل شری گرو سمگر میں تمام باتیں سابقہ صورتوں میں موجود ہیں، ہندوتو کے نظریہ سازوں میں شمار ڈاکٹر مونجے، ساورکر، ڈاکٹر ہیڈ گیوار، گرو گولولکر وغیرہم کسی نہ کسی طور سے جرمنی کے ہٹلر اور اٹلی کے مسولینی کے کلیت پسندی، ڈکٹیٹر شپ اور فاشزم سے متاثر تھے، انھوں نے جبر اور فاشسٹ فکر و عمل کو بھارت میں در آمد کر کے ایسے ہندو راشٹر قائم کرنے کی راہ ہموار کی، جس میں اس کی مخصوص دائرے سے باہر کمیونٹیز اور مذہبی اکائیوں کے اپنی شناخت اور مذہبی و تہذیبی آزادی کے زندگی گزارنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس پر گرو گولولکر نے We Or Our Nation hood defined میں بہت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، 1937 سے 1939 کے دور میں مولانا آزاد رح، مولانا حسین احمد مدنی رح، ڈاکٹر اقبال، مولانا مودودی اور گرو گولولکر وغیرہم کے قومیت و وطنیت کے الگ الگ نظریات سامنے آئے تھے لیکن گرو گولولکر کے سوا کسی اور دانش ور و رہنما نے جرمنی، اٹلی کے ڈکٹیٹر شپ، کلیت پسندی اور فاشزم کو نمونہ بنا کر بھارت میں "خالص ہندو نسل "کے تحفظ کے لیے ملک کی اکثریت کو آمادہ کرنے کی جارحانہ ترغیب نہیں دی ہے، اس کے ہندوتو وادی سماج پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، فرقہ وارانہ اتحاد کے لیے تمام تر کوششوں کے باوجود، مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں کے خلاف جارحانہ سرگرمیوں، انہدامی اقدامات اور اشتعال انگیز بیانات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اس کے متعلق اگر کوئی تشویش و تنقید کرتا ہے تو اس کی شبیہ کو مکروہ شکل میں پیش کر کے معاملے کا رخ کا کام شروع کر دیا جاتا ہے، اس میں مختلف ذرائع ابلاغ، جبر اور فاشسٹ طاقتوں کا ساتھ دینے کے علاوہ، ان کے جارحانہ اقدامات کو جائز قرار دینے کے لیے الٹے سیدھے دلائل گھڑنے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایسی ایسی باتیں لکھی اور بولی جاتی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ ہندوتو وادی اکثریتی سماج میں وسیع پیمانے پر جہالت اور من گھڑت کہانیاں پھیلی ہوئی ہیں، ان کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ مسلم سماج کے اہل علم افراد سچ کو ملک کے سامنے لانےکا کام کریں، مثلا یہ کہ مسلمانوں کی پانچ بیویاں اور پچیس بچے ہوتے ہیں، ،جب کہ یہ نہ شریعت میں ہے اور نہ سماج میں لیکن نریندر مودی جیسے بڑے منصب پر فائز لیڈر اور دوسری تیسری صف کے ہندوتو وادی اور بی جے پی کے لیڈر پانچ بیویاں اور پچیس بچے کی جھوٹی تھیوری کا بے شرمی کے ساتھ پرچار کرتے رہتے ہیں، مدھیہ پردیش کے ایک بی جے پی لیڈر نے بھوپال کے محلہ قاضی کیمپ پر میزائل حملے کی بات کہی تھی، اعتراض ہونے پر کہا کہ ہماری مراد اسلام آباد کے محلہ قاضی کیمپ ہے، حالاں کہ اسلام آباد میں اس نام کا کوئی محلہ نہیں ہے، اویسی صاحب کے تبصرے کے بعد معافی مانگنے کے بجائے مسلمانوں کی وطنی وابستگی پر سوال اٹھاتے ہوئے ان کی آبادی میں اضافہ اور پانچ بیویاں اور پچیس بچے کی جھوٹی کہانی سنا کر ہندو اکثریتی سماج کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے، مسلمانوں اور اسلامی شعائر و آثار کے خلاف جس طرح نفرت اور بیزاری کا دائرہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے کوئی شک و شبہ نہیں رہ جاتا ہے کہ بھارت جبری نظام حکومت اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا ہے، خاص طور سے بی جے پی اقتدار والی ریاستیں، ،سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کے پنڈت نہرو کے حوالے سے اس تبصرے میں خاصا دم ہے کہ بھارت کو ہندو دائیں بازو کی فرقہ واریت سے خطرہ ہے، لیکن بھارت نے نظام جبر اور فاشزم کو زیادہ وقت تک انگیز نہیں کیا ہے،



















