اس موقع پر ہمیں جہاد حریت کے سپہ سالار حضرت شیخ الہندؒ کی وداعی تقریر کے وہ تاریخی جملے یاد Èرہے ہیں، جو حضرت مرحوم نے جمعیت علمائے ہند کے دوسرے اجلاس عام میں اسی دلّی کے اندر علمائے کرام کو مخاطب کرکے فرمائے تھے:
’’آپ رنجیدہ نہ ہوں، تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ Èپ کا علم و تدین اگر اب بھی عالم اسلامی کے خوف ناک مصائب سے Èنکھ بند کیے رکھنے کی اجازت دیتا ،تو Èج دنیا ہماری غیرت ایمانی اور شرافت انسانی، دونوں کے بیک وقت دفن کیے جانے پر ماتم کناں ہوتی۔‘‘
’’اور اب بھی اگر ہم چند تجاویز پاس کرکے اور صرف چند ساتھیوں کی گرمی محفل کو اپنی تمام تقریروں اور خطبوں کا ماحصل سمجھ کر منتشر ہوگئے، تو ہماری مثال ٹھیک اس مریض کی سی ہوگی، جو ایک اکسیر شفا کی تکرار بار بار کرتا رہا؛ لیکن اس کا استعمال ایک دفعہ بھی نہ کرے۔‘‘
حضرت شیخ کا یہ خطاب علمائے کرام سے تھا۔برادرانِ وطن اور ملک کی قومی قیادت کو خطاب کرتے ہوئے حضرت شیخ نے جو کچھ فرمایا تھا وہ یہ تھا:
’’آج پھر کہتا ہوں کہ ان اقوام (ہندو مسلمان) کی باہمی مصالحت اور Èشتی کو اگر Èپ خوشگوار اور پائدار دیکھنا چاہتے ہیں، تو اس کی صورت بجز اس کے کچھ نہیں کہ فریقین کے مذہبی امور میں کسی ادنیٰ امر کو بھی ہاتھ نہ لگایا جائے اور دنیوی معاملات میں ہرگز کوئی ایسا طریقہ اختیار نہ کیا جائے، جس سے کسی فریق کی ایذا رسانی اور دل آزاری متصور ہو۔‘‘(جمعیت علمائے ہند کیا ہے دوم )
ماخوذ از خطبہ استقبالیہ 23واں اجلاس جمعیت علمائے ہند، از حاجی محمد فاروق صاحب صدر مجلس استقبالیہ تئیسواں اجلاس عام جمعیت علمائے ہند















