آل انڈیامسلم پرسنل لائ کنونشن ممبئی
مسلم پرسنل لائ کنونشن کا (27-28/دسمبر1972)دو روزہ اجلاس آج یہاں ختم ہوگیا۔ اجلاس نے پانچ تجاویز منظور کی ہیں۔ پہلی تجویز مسلم پرسنل لائ کے سلسلے میں ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری مداخلت برداشت نہیں کی جاسکتی۔ دوسری تجویز اڈپشن آف چلڈرن کے ایکٹ سے متعلق ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مسلمان اس سے مستثنیٰ کیے جائیں۔ تیسری تجویز پبلک ٹرسٹ ایکٹ کے بارے میں ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اوقاف کے یکساں قانون سے مستثنیٰ کیا جائے۔ چوتھی تجویز کے ذریعہ ان خواتین کو مبارک باد دی گئی ہے، جنھوں نے مسلم پرسنل لائ کی حمایت و تائید میں اسلامی جذبات کا اظہار کیاہے۔ پانچویں تجویز کے ذریعہ اس کنونشن نے ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ‘‘ بنایا جائے، جو مسلمانوں کے ہر فرقہ و خیال پر مشتمل ہوگا۔ جس کی جنرل کونسل کے ارکان پانچ ہوںگے۔ جس کے بنیادی ارکان وہ ہوں گے، جو اس کنونشن کی اسٹیرنگ کمیٹی کے ممبر ہیں۔ اس کی مجلس عاملہ چار افراد پر مشتمل ہوگی۔ اس بورڈ کے دائرہ¿ کار میں مسلمانوں کے عائلی قانون کا خاکہ تیار کرنا بھی شامل ہے۔
(روزنامہ الجمعیۃ،30/ دسمبر1972ئ)
اس میں منظور کردہ اہم تجاویز درج ذیل ہیں:
تجویز نمبر(۱)
مسلم پرسنل لائ میں مداخلت ناقابل برداشت
مسلمانانِ ہند اس صورتِ حال سے شدید تشویش اور اضطراب میں مبتلا ہیں، جو مختلف قانون ساز اسمبلیوں اور قوانین کے ذریعہ اُن کے پرسنل لائ کو ختم کرنے اور مشترکہ سول کوڈ کی راہ ہموار کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ لہٰذا مسلمانانِ ہند کا یہ نمائندہ اجتماع منعقدہ بمبئی، بتاریخ: 28-27/دسمبر 1972ئõجو مسلمانانِ ہند کے تمام مکاتبِ فکر اور مسالک کے علاوہ ان کی تمام دینی، سیاسی، سماجی اور تہذیبی انجمنوں، جماعتوں اور اداروں کا نمائندہ ہےõ کامل اتفاق اور قطعیت کے ساتھ اپنے اس متفقہ موقف کا اعلان کرتا ہے کہ شریعتِ اسلامیہ کے احکامِ وحیِ الٰہی پر مبنی ہیں، ان میں نہ تو کوئی کمی ہے، جسے پورا کرنے کی ضرورت ہو اور نہ زیادتی جسے کم کرنے کی حاجت پیش آئے۔
(۱) یہ کنونشن اس امر پر بھی اپنے یقین کا اظہار کرتا ہے کہ مسلم پرسنل لائ مسلمانوں کے دین و مذہب کا ایک جزو ہے اور کسی مسلمان کے لیے احکامِ شرعیہ اسلامی سے گریز جائز نہیں اور نہ وہ کسی ایسے فیصلہ کو کسی حال میں قبول کر سکتا ہے، جو اللہ کے حلال کیے ہوئے کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے۔ یہ کنونشن اس امر پر بھی اپنے محکم فیصلے کا اعلان کرتا ہے کہ پارلیمنٹ، یا ریاستی مجالسِ قانون ساز کو شریعتِ اسلامیہ میں کسی ترمیم و تنسیخ کا حق حاصل نہیں ہے اور کون سے قوانین شرعِ اسلامی کے مطابق، یا متعلق ہیں اور کون سے نہیں، اس کے بارے میں ہر فرقہ و مسلک کے مستند و معتبر علمائے شریعت ہی کا فیصلہ آخری اور قطعی حیثیت رکھتا ہے۔
(۲) یہ کنونشن اُن چند افراد کی مذموم کوششوں سے اپنی بیزاری کا اظہار کرتا ہے، جو مسلم پرسنل لائ کنونشن کی اصلاح کے نام پر قانونِ شریعت میں مداخلت کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں۔
(۳) اگر دورِ غلامی میں کچھ مذہبی قوانین میں ترمیمات کی گئی ہوں، یا کسی مسلم ملک میں عائلی قوانین میں کوئی تبدیلی عمل میں آئی ہو، تو یہ عائلی قانونِ شریعت میں ترمیم و تنسیخ کے لیے وہ جواز نہیں بن سکتا۔
(۴) یہ کنونشن اس امر پر بھی یقین رکھتا ہے کہ شخصی اور عائلی قوانین امت کے تشخص، اس کی امتیازی شان اور اس کی تہذیبی اور ثقافتی خصوصیات کے ضامن ہیں اور کوئی مسلمان اپنی ملی انفرادیت، دینی امتیازات اور تہذیبی و ثقافتی تشخص سے کسی قیمت پر دست بردار نہیں ہو سکتا۔
(۵) مہذب دنیا کایہ مسلمہ اصول ہے کہ ہر تہذیبی اور مذہبیاکائی کو اپنی تہذیب و مذہب کے تحفظ کا نہ صرف پورا پورا حق حاصل ہے؛ بلکہ اگر کسی گروہ کی تہذیبی اور مذہبی خصوصیات کو مٹانے کی کوششیں کی جائیں، تو اسے نسل کشی کا ہم معنی سمجھا گیا ہے۔ اسی لیے آزاد ہندستان کے معماروں نے بھی دستورِ ہند کے بنیادی حقوق میں مذہبی آزادی اور اس کے قیام و بقا کی بھرپور ضمانت دی ہے۔ اس لیے یہ کنونشن کو یقین ہے کہ ہندستانی عوام ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیںگے، جو دستور کی روح کو پامال کرنے اور کسی گروہ کو اس کے دستوری حق سے محروم کر دینے والی ہو۔
یہ کنونشن مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں اپنے اس فیصلے کا اعلان کرتا ہے کہ:
(الف) مسلمانوں کے شخص اور عالی قوانین جو دراصل ان کے دین و مذہب کا لازمی جزو ہیں، انھیں ختم کر کے ان کی جگہ یکساں سول کوڈ کا اجرا یا بالواسط قانون سازی کے ذریعہ مسلم پرسنل لائ میں ترمیم، یا متوازی قانون سازی کے ذریعہ اسے بے اثر بنانا انسانی حقوق کے بین الاقوامی منشور کے منافی، تہذیبی نسل کشی کے ہم معنی اور دستور ہند کے بنیادی حقوق کے معارض ہو گا اور اس طرح کے کسی بھی اقدام کا مطلب مسلمانوں کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے انحراف پر مجبور کرنا ہوگا جوکسی بھی مسلمان کے لیے کسی حال میں قابل برداشت نہیں ہو سکتا۔
(ب) یہ کنونشن اس امر کا یقین رکھتا ہے کہ دستور ہند کے رہنما اصولوں کا آرٹیکل 44 بنیادی حقوق کی دفعات کے تابع ہے اس لیے مسلم پرسنل نے آرٹیکل 44 کے دائرے سے خارج ہے۔
(ج) یہ کنونشن پارلیمنٹ اور ریاستی مجالس قانون ساز میں پیش ہونے والے ان بلوں کو نا قابل قبول قرار دیتا ہے جو بالواسطہ مسلم پرسنل لائ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
(د) یہ کنونش اس امر کی بھی ضرورت محسوس کرتا ہے کہ مسلمانوں کو عائلی اور معاشرتی زندگی کے شرعی احکام و آداب سے واقف کرایا جائے تاکہ وہ پوری طرح شرعی احکام پر عمل کر کے معاشرہ کو صالح بنیادوں پر استوار کر سکیں۔
تجویز نمبر (۲)
قانون تبنیت موجودہ شکل میں نامنظور
یہ اجلاس ADOPTION OF CHILDREN BILL 1972 (قانون تنبیت 1972ئ) اور PUBLIC TRUST BILL کو اپنی موجودہ شکل میں قانون شریعت میں مداخلت سمجھتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ مسلمانوں کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
تجویز نمبر (۳)
آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کی تشکیل
آل انڈیا مسلم پرسنل لائ کنونش اپنے فیصلوں کو بروئے کار لانے کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کی تشکیل کرتا ہے جو ہمیشہ ہر فرقہ و ہر مسلک کے مسلم علما، ماہرین شریعت مسلم قانون دانوں اور ملت کے دیگر ارباب حل و عقد پر مشتمل ہوگا۔ نیز مختلف فرقہ اور مسلک کی نمائندگی بورڈ کی ضمنی کمیٹیوں میں بھی ملحوظ رہے گی۔
(الف) یہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ قوانین شرع کی بقاو تحفظ کے لیے ہر طرح کی ضروری تدابیر عمل میں لانے اور ہر طرح کی جد و جہد منظم کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ یہ بورڈ علما و ماہرین قانوں پرمشتمل ایک ایسی مستقل کمیٹی بنانے کا ذمہ دار ہوگا جو موجودہ قوانین، نیز پارلیمنٹ اور مختلف ریاستی مجالس قانون ساز میں پیش ہونے والے مسودات قانون (بلوں اور گشتی احکام (سرکلر کا جائزہ اس نقطہ نظر سے لے گی اور لیتی رہے گی کہ اس کا کیا اثر مسلم پرسنل لاپرپڑتا ہے۔ یہ بورڈ شریعت اسلامی کے عائلی قوانین کی اشاعت اور مسلمانوں پر اس کے نفاذ کے لیے ہمہ گیر خاکہ تیار کرے گا۔ یہ اور مسلم پنل لاکے تحفظ کی تحریک کے لیے بوقت ضرورت مجلس عمل بھی بنا سکتا ہے جس کے ذریعہ بورڈ کے فیصلہ پر عمل درآمد کے لیے پورے ملک میں جد وجہد منظم کی جائے گی۔
(ب) اس بورڈ کی ایک جنرل کونسل ہوگی جو 151 ارکان پرمشتمل ہوگی اور کنونشن کی اسٹیرنگ کمیٹی ارکان اس کے بنیادی رکن (FOUNDER MEMBER) ہوں گے. باقی ارکان کو جنرل کونسل کواپٹ کرے گی اور 41 افراد پر مشتمل ایک مجلس عاملہ ہوگی جسے بورڈ منتخب کرے گا۔
(ج) عہدے داروں کا تعین ، اُن کا انتخاب اور دیگر ضوابط اپنے لیے خود یہ بورڈ تیار کرے گا۔
(تعمیر فکر،مارچ و اپریل 1973،خصوصی شمارہ مسلم پرسنل لائ ممبئی جنرل سیشن ص/17-16)















