جمعہ, اکتوبر 23, 2026
  • Login
  • Register
No Result
View All Result
NEWSLETTER
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
No Result
View All Result
Home اسلامیات

کامل ایمان والوں کی پانچ صفات

by Admin
اگست 24, 2026
in اسلامیات
0
0
SHARES
198
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

مفتی شفیق بڑودوی ناظم اصلاح معاشرہ بڑودہ کا دفتر جمیت علما ہند کے مرکزی دفتر میں واقع مسجد عبدالنبی کی تفسیر قران کی مجلس سے خطاب

بتاریخ 24 اگست 2026 بروز پیر بعد نماز عصر

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَّهُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ
اللہ رب العزت و الجلال نے قرآنِ کریم کی سورہِ انفال میں ان شروع کی آیاتِ مبارکہ میں مومنینِ کاملین کی پانچ صفات بیان فرمائی ہیں۔
یعنی ایمان اگر اللہ رب العزت نے کسی کو عطا کر دیا تو یہ اس کی رضا کی ایک بہت بڑی نشانی تو ضرور ہے۔ مشکات میں وہ روایت ہے، ہمارے علماءِ کرام کے ہاں یہی ہے، ہمارے امام المفسرین امام العصر حضرت علامہ محمد یوسف بنوری نور اللہ مرقدہ کا فرمانِ مبارک خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالی دنیا کی دولت، دنیا کی حکومت، دنیا کی عزت اور دنیا کی شہرت کو ہر کس و ناکس کو عطا کر دیتے ہیں۔ یہ رضائے الہی کی دلیل نہیں ہے۔ لیکن اللہ تبارک و تعالی جس سے محبت فرماتے ہیں، جس سے راضی ہوتے ہیں، اسی کو ایمان عطا فرماتے ہیں۔ پھر ایمانِ کامل یہ اس کی رضائے کامل کی علامت ہے، یہ جملہ یاد رکھیے! ایمانِ کامل اللہ کی رضائے کامل کی علامت ہے، اور رضوان من اللہ اکبر۔ اللہ کی رضا اگر کسی کو مل گئی تو اس سے بڑی کوئی دولت ہو سکتی ہے؟ چنانچہ آپ دیکھیں تو جنت میں بھی سب سے بڑی دولت اللہ کی رضا۔ خیر اس تفصیل میں نہیں جانا۔
رضا ایمانِ کامل کب نصیب ہوگا؟ قرانِ کریم میں اس کی مختلف باتیں بیان، اس سلسلے میں مختلف باتیں بیان ہوئی ہیں۔ یہاں ان آیاتِ مبارکہ میں پانچ صفات بیان ہوئی ہیں۔ اگر یہ پانچ صفات اپنے اندر لانے کی کوشش کریں تو آخر کرنے والے ہم ہو، میں ہو، مرد ہو، عورت ہو، کوئی ہو اس زمانے کے آئندہ زمانے کے، پرانے زمانے کے بہرحال پانچ صفات اپنے اندر اگر پیدا کر لیں۔
ایمانِ کامل کی پانچ صفات

  • پہلی صفت: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ۔ یعنی صفت یہ ہے ایمانِ کامل جن کے پاس ہے ان کی پہلی علامت اور پہلی نشانی اور پہچان یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ رب العزت کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں۔ یہاں علماءِ مفسرین اور محققین نے بہت کچھ لکھا ہے۔ اس تفسیر کا بالکل موقع نہیں ہے۔ ایک جملہ جو ہمارے علماءِ مفسرین نے یا اس کا ایک مطلب جو بیان کیا مفتی شفیق صاحب نور اللہ مرقدہ نے ہمارے اعقام میں بھی اس کو یوں فرمایا۔ فرماتے ہیں اس طرح ایک مطلب تو یہ ہے ایمان والے کے سامنے جب اللہ کا ذکر لایا جائے تو اس کا دل کانپ جاتا ہے۔ اگرچہ یہ آیتِ کریمہ (أَلَّا بذكر الله تطمئن القلوب) سے ذرا سی ایک قسم ٹکرا رہی ہے۔ علماء نے یہاں ذکر اللہ سے مراد یہ بات بیان فرمائی ہے کہ جب کوئی ایمان والا نفس کی شرارت کی وجہ سے، شیطان کے بہکاوے کی وجہ سے، کسی وجہ سے گناہ کا ارادہ کر لیتا ہے، عین گناہ کے وقت اچانک اس کے سامنے اللہ کا ذکر آ جاتا ہے۔ تب تو اللہ تبارک و تعالی از خود اس کے دل میں اپنی یاد پیدا کر دیتے ہیں، اپنا دھیان اور اپنا استحضار پیدا کر دیتے ہیں۔ یہ خیال اور یہ تصور کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے یہ قرآن ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اگر ہم رسمی انداز میں (معذرت کے ساتھ) رسمی انداز میں مراقبہ کرنے کے بجائے قرآنِ کریم کی اس آیتِ کریمہ کا مراقبہ کر لیں (ألم يعلم بأن الله يرى)۔ یعنی یہ احساس اگر ہم نے اس آیت کریمہ کا مراقبہ، اس کو بار بار غور کرنا اس پہ اس پہ اس پہ غور و فکر سے کام لینا بہت ممکن ہے کہ ہمارے دل میں یہ احساس پیدا کرنے کا سبب بن جائے یہ ایک آیتِ کریمہ میں غور و فکر کرنا کہ میرا رب مجھے بازار میں بھی دیکھ رہا ہے، مسجد میں بھی دیکھ رہا ہے، تنہائی میں بھی دیکھ رہا ہے، ہر وقت ہر حال میں میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے تو گناہ سے بچنا آسان ہے۔ بہرحال تو ایک مطلب تو یہ بھی ہے (إذا ذكر الله وجلت قلوبهم) کہ گناہ کے وقت میں جب اللہ رب العزت کا ذکر آ جاتا ہے، اللہ رب العزت کی یاد آ جاتی ہے، اللہ رب العزت کا دھیان اور استحضار پیدا ہو جاتا ہے یا کوئی اور اسے جیسے شوہر تو بیوی نے کہا کہ کم از کم اللہ سے ڈرو۔ بیوی کو شوہر نے شوہر کو بیوی نے ڈرا دینا۔ تو جب اللہ رب العزت کا ذکر آ جاتا ہے، اس کا نام آ جاتا ہے بس تب دل کانپ جاتا ہے، گناہ سے بریک لگا دیتا ہے، وہ اپنے آپ کو بچا لیتا ہے۔ (إذا ذكر الله وجلت قلوبهم) یہ کامل ایمان والوں کی ایک نشانی، ایک علامت۔
  • دوسری صفت: (وإذا تليت عليهم آياته زادتهم إيمانا) تب اس کی آیاتِ مبارکہ اس کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں۔ اس کا ایک مطلب ظاہر یہ بھی ہے کہ جب قرآنِ کریم کی آیات ایمانِ کامل جس میں ہوتا ہے نا ان کے سامنے جب اللہ کا قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ قرآنِ کریم کو سرسری طور پر نہیں سنتے۔ یہاں ایک بات میں عرض کرتا ہوا چلوں کسی نے بہت قیمتی بات بیان فرمائی تھی۔ قرآنِ کریم کے تعلق سے تین باتوں پر عمل کر لیا، اندر کر لیا جائے تو وہ بھی بہت کافی ہے ہماری ہدایت کے لیے۔ پہلی بات تو یہ ہے (يتلونه حق تلاوته) پر عمل کرنے کے لیے کوشش کریے۔ علماء ہیں موجود اس لیے وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآنِ کریم میں تعارف جو تین باتیں پہلی بات تو یہ ہے (يتلونه حق تلاوته) پر عمل کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔ اب اس کی وضاحت کی تو ضرورت نہیں ہے، یہ (يتلونه حق تلاوته) کیا ہے؟ یہاں بھی آگے جا کر (أولئك هم المؤمنون حقا) (يتلونه حق تلاوته) (أولئك يؤمنون به) ایمانِ کامل کی علامت میں سے یہ بھی۔
    قرآنِ کریم کے تعلق سے پھر دوسرا، دوسری ہدایت اگر (يتلونه حق تلاوته) پر عمل کسی وجہ سے دشوار ہو، ایمان کا لیول اس اعلیٰ درجے کا نہیں ہے۔ تو پھر تو قرآنِ کریم کی اس دوسری ہدایت پر عمل کر کے دیکھ لیا جائے (فاقرءوا ما تيسر من القرآن) سمجھے کہ نہیں جس قدر آسانی سے ہم تلاوت کر سکتے ہیں کرنی چاہیے۔ میں تو کام کرتا ہوں جیسے آج کل کوئی دن ہمارا موبائل کے بغیر نہیں گزرتا۔ ساتھیوں! ایسے ہی کوئی دن ہمارا قرآنِ کریم کی تلاوت کے بغیر کیوں گزرے؟ کوشش کیجیے انشااللہ۔ اچھا (فاقرءوا ما تيسر من القرآن) یہ دوسری ہدایت اور اگر کسی وجہ سے اس پر بھی عمل کرنا خدانخواستہ ایمان اتنا کمزور ہے، اس پر بھی عمل کرنا دشوار ہو تو پھر قرآنِ کریم کے کام کی تیسری ہدایت یہ ہے (وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا لعلكم ترحمون) جب بھی تمہارے سامنے قرآن پڑھا جائے تو خود تم گاڑی چلاتے چلاتے قرآنِ کریم کی کوئی بہترین قاری کی تلاوت آپ نے لگا دی یا آپ نے اپنے گھر میں یا سوتے ہوئے بہتر طریقہ یہ ہے موبائل میں چھیڑی چھیڑی کرتے ہوئے سونے سے اچھا یہ ہے کوئی بہترین قاری کی طرح سنتے سنتے سننے پر بھی ایمان۔ اگر قرآنِ کریم پڑھا جا رہا ہے چاہے موبائل کے ذریعے ہو یا کسی اور طرح یا لائی ہو تو کم سے کم اس کو عظمت کے ساتھ سنا جائے۔ اگر قرآنِ کریم کو عظمت کے ساتھ سنا جائے گا تو پھر اس کا اثر یہ ہوگا (وإذا تليت عليهم آياته زادتهم إيمانا)۔ ایمانی قوت میں ایمانی کیفیت میں اضافہ ہوگا۔ ایمانِ کامل کی دوسری علامت۔ اچھا جب ایمانی کیفیت میں اضافہ ہوگا تو اس کا ثمرہ اور نتیجہ کیا ظاہر ہوگا؟ علماءِ مفسرین اس کو بھی بیان فرماتے ہیں۔ ثمرہ اور نتیجہ یہ ظاہر ہوگا پھر نیک اعمال کا شوق اس کی رغبت پیدا ہوگی۔ اور گناہوں کا خوف دل میں پیدا ہو یہ ایمان ایمان میں بڑھوتری اور ایمانی کیفیت میں اضافے کا ثمرہ یہ ظاہر ہوگا۔ بہرحال دوسری علامت (وإذا تليت عليهم آياته زادتهم إيمانا)۔
  • تیسری صفت: (وعلى ربهم يتوكلون) جو کامل ایمان والے ہیں نا اللہ رب العزت نے دنیوی زندگی میں جو ظاہری اور جائز اسباب بنائے ہیں ان اسباب کو بھی اختیار تو ضرور کرتے ہیں لیکن نظر مسبب الاسباب پر رکھتے ہیں۔ (وعلى ربهم يتوكلون) کا یہی مطلب ہے۔ اگرچہ اور بھی مطالب مفسرین نے بیان کیے ہیں اس اس پر بھی اگر عمل ہو جائے تو بہت ہے۔ ہم روزی کے کمانے کے جو اسباب ہیں، حصولِ رزق کے جو اسباب ہیں جو بھی ہو سکتا ہے ایک سبب شوق بھی ہو سکتی ہے ایک سبب آپ ضرور اختیار کیجیے لیکن اسے مسبب الاسباب مت بنائیے۔ مسبب الاسباب اللہ ہے۔ بہرحال (وعلى ربهم يتوكلون) اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں، دنیوی اسباب پر اور دنیوی تعلقات پر حتی کہ اپنے اولاد پر بھی بھروسہ کرنا کوئی عقلمندی نہیں ہے۔ ہمارا سارا بھروسہ سارا تعلق اللہ ہی سے ہو (وعلى ربهم يتوكلون)۔
  • چوتھی صفت: اور پھر (الذين يقيمون الصلاة) نماز اب چوتھی علامت ایمانِ کامل کی یہ ہے نماز قائم کرتے ہیں۔ صرف سرسری طور پر پڑھ نہیں لیتے ہیں بلکہ خشوع و خضوع کے ساتھ، لاس کے ساتھ، دھیان اور رکوع کے ساتھ۔ اب یہ نماز میں دھیان کیسے پیدا ہو تو مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے مختلف طریقے بیان کیے۔ من جملہ اس میں سے ایک طریقہ میرے عزیزو یہ بھی ہے حضور کی اس ہدایت پر اگر عمل کر لیا جائے (صلوا كما رأيتموني أصلي) اس کیفیت کے ساتھ پڑھیے، اس کیفیت کے ساتھ پڑھیے، اس سوچ کے ساتھ پڑھیے کہ یہ میری زندگی کی آخری نماز ہے۔ اب دیکھیے اللہ کرے اگر ہم اس ترقی سے اس کیفیت اور اس سوچ کے ساتھ نماز پڑھنے والے بن جائیں تو کیا نماز میں دھیان نہیں پیدا ہوگا؟ یہی تو مطلوب ہے کہ اسی کو تو احسانی کیفیت کہتے ہیں (أن تعبد الله كأنك تراه)۔ چوتھی علامت۔
  • پانچویں صفت: اور پانچویں علامت (ومما رزقناهم ينفقون)۔ اللہ پاک نے جو کچھ دیا، اللہ پاک نے صرف مال ہی نہیں دیا خرچ کرنے کی چیز صرف مال ہی نہیں جیسا کہ عام طور پر لوگوں کے ذہنوں میں ہے، یہاں (رزقناهم) ہم نے جو کچھ دیا اسے وہ خرچ کرتے ہیں۔ اگر مال دیا تو پھر مال خرچ کرتے ہیں، اگر علم دیا تو پھر علم کو خرچ کرتے ہیں۔ یعنی وہ سراپا نفع اگر اس کا نتیجہ تو یہی نکلے گا نا وہ سراپا نفع بخش بن جاتے ہیں۔ یہ ایمانِ کامل کی پانچ علامتیں جو پائی جاتی ہیں قرآن کے اندر ہیں۔ (أولئك هم المؤمنون حقا) یہی حقیقی ایمان والے ہیں۔ (لهم درجات) اللہ تعالی یہ صفات اپنے فضل و کرم سے ہم تمام میں کامل اور مکمل طور پر پیدا فرما دیں۔ جن میں جن میں یہ صفات پائی جائیں گی (لهم درجات عند ربهم) ان کے رب کے پاس ان کے لیے بڑے عالیشان درجات ہیں۔ اور (ومغفرة ورزق كريم) مغفرت کتنا بڑا انعام ہے ایمان کے ضمن میں یہاں آپ کی بات کو سمیٹنا چاہوں گا۔ میرے عزیزو! قرآنِ کریم کے حوالے سے مجھے یاد آیا علماءِ مفسرین نے عجیب بات بیان فرمائی۔ فرمایا کہ مغفرت سے بڑی کوئی نعمت نہیں تھی، دولت نہیں تھی، ساری دنیا کی دولت سے بڑی چیز مغفرت ہے۔ دلیل کیا ہے؟ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو دعا مانگی تھی نا حکومت کی تو حکومت مانگنے سے پہلے مغفرت کو مانگا (رب اغفر لي وهب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي إنك أنت الوهاب) اس سے مفسرین نے ایک بات لکھے سلیمان علیہ السلام اللہ پاک سے مثالی حکومت مانگ رہے ہیں (وهب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي) ایسی حکومت اے اللہ مجھے دیجیے کہ میرے بعد کسی کو میرے علاوہ کسی کو ایسی حکومت نہ ملے۔ اس سے ایک بات تو یہ ثابت ہوئی کہ اللہ ہی سے سب کچھ مانگنا ہے اور ہمیں اللہ ہی سے ہر چھوٹی بڑی چیز مانگنی ہے اور ہمیں اللہ تبارک و تعالی سے اس سے بڑی سے بڑی دعا مانگی جا سکتی ہے۔ اگر ہم مفسر ہیں تو ہم یہ مانگ سکتے ہیں اے اللہ مجھے سب سے بڑا مفسر بنا دیجیے۔ ہم مفتی ہیں تو مانگ سکتے ہیں اے اللہ مجھے سب سے بڑا مفتی بنا دیجیے۔ ہم اصلاحِ معاشرے کے ذمہ دار ہیں تو مانگ سکتے ہیں اے اللہ اصلاحِ معاشرے کا سب سے بڑا مصلح بھی مجھے بنا دیجیے اور سب سے بڑا صالح بھی بنا دیجیے۔
    ایک تکلیف کی بات یہ ہے مصلح تو سب بننا چاہتے ہیں صالح ہونے کی فکر بہت کم لوگوں کو یہ نہ کرے یہ فرق بھی ہمیں سمجھ میں آ جائے، صالح ہونا اصل چیز ہے، مصلح لوگ صالح کو پسند کرتے ہیں مصلح کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ میرے عزیزو! اسی اسی مصلح کی اصلاح کا اصل چونکہ اصلاحِ معاشرے کے عنوان سے ہم بہت قیمتی موقعوں کے ہمارے اکابرین کی فکروں کے نتیجے میں جمع ہوئے کئی بار تو میرے عزیزو! اسی مصلح کی اصلاح چاہے وہ انفرادی اصلاح ہو، اجتماعی اصلاح ہو، اسی مصلح کی اصلاح تبھی ہو سکتی ہے جو ذاتی طور پر صالح بھی ہو۔ بہرحال مغفرت کتنا بڑا انعام ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے حکومت کو بعد میں مانگا پہلے (رب اغفر لي وهب لي ملكا لا ينبغي) تو یہ مغفرت اللہ تعالی کی ان پانچ صفات پر عطا کرنے کا وعدہ فرماتے ہیں (لهم مغفرة ورزق كريم)۔ اللہ تعالی یہ صفات ہم سب میں محض اپنے فضل و کرم سے پیدا فرما دیں۔ ہمارے اکابرین کے سائے عافیت کے ساتھ باقاعدہ سلامت باقاعدہ رکھے۔ ان کی فکروں کو ہمارے لیے، ساری امتِ مسلمہ کے لیے، سارے عالم کے لیے اللہ پاک قبول فرما لے۔ آمین یا رب العالمین۔ والحمد للہ رب العالمين۔
Admin

Admin

Next Post

نئی زبان سکھانے کے نفسیاتی اور فطری طریقے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

1 مہینہ ago
جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

جمعیت علمائے ہند کا 6 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ

4 مہینے ago

مقبول

  • عربی زبان سیکھنے کی اہمیت اور مسلمانوں کی غیر عربی زبانوں کو لاطینی حروف میں لکھنے کے خطرات

    عربی زبان سیکھنے کی اہمیت اور مسلمانوں کی غیر عربی زبانوں کو لاطینی حروف میں لکھنے کے خطرات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تدریس کے اصول یا کلیات” (Maxims of Teaching)

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • 360ڈگری تشخیص کیا ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • چھ سات سال کے بچوں کو زبان سکھانے کا طریقہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • طلبہ اور اساتذہ کے درمیان تدریسی روابط

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • رجسٹر
  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.