بارھویں قسط
محمد یاسین جہازی
سعودی عرب، فلسطین اور عرب کاز کے سلسلے میں ہندستانی مسلمانوں کی سرگرمیاں۔ تیل ہتھیار کے استعمال کا مشورہ
22 و 23 اگست 1969 کو منعقدہ مجلس عاملہ کے اجلاس میں جمعیت علمائے ہند نے حجاز ریلوے کے متعلق اسرائیل اور سامراجی طاقتوں کی ہر قسم کی مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ حجاز ریلوے وقفِ اسلامی ہے، اس لیے اس پر پوری امت مسلمہ کا حق ہے۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر مقبوضہ علاقے سے دست بردار ہو تاکہ حجاز ریلوے کی تکمیل ممکن ہو سکے۔اسی پس منظر میں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر جمعیت کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا سید اسعد مدنی کے اظہارِ ہمدردی کے جواب میں 26 ستمبر 1969 کو شاہ فیصل نے خط ارسال کیا، جس میں ہندستانی مسلمانوں کے جذبات پر شکریہ ادا کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کے اتحاد اور مقدسات کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ خط 29 ستمبر 1969 کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوا۔23 نومبر 1969 کو دفتر جمعیت، نئی دہلی میں عرب ممالک کے سفیروں اور عرب لیگ کے نمائندوں کے اعزاز میں افطار کا اہتمام کیا گیا، جس میں متعدد عرب سفرا، حکومتِ ہند کے وزیر فخر الدین علی احمد اور مسلم ارکانِ پارلیمنٹ نے شرکت کی۔21 اگست 1970 کو جامع مسجد دہلی میں یومِ مسجد اقصیٰ کے موقع پر جمعیت کے زیر اہتمام عظیم الشان جلسہ¿ عام منعقد ہوا، جس میں اسرائیلی جارحیت اور مسجد اقصیٰ میں آتش زنی کی مذمت کرتے ہوئے عرب کاز کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔ سعودی عرب کے ناظم الامور سید یوسف محمد مطبقاتی اور عرب جمہوریہ کے سفیر نے بھی اس موقف کی تائید کی، جبکہ جمعیت کی اپیل پر ملک کے مختلف حصوں میں بھی احتجاجی اجتماعات منعقد ہوئے۔5، 6 اور 7 مئی 1972ئ کو جمعیت علمائے ہند کے تیئسویں اجلاس عام میں سعودی سفیر شیخ انس یوسف یاسین نے ہندستانی مسلمانوں اور حکومتِ ہند کی عربوں سے ہمدردی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عربوں اور ہندوستانیوں کے تعلقات تاریخی ہیں اور اسرائیل کے 1967ئ کے قبضے کے خلاف ہندستان کی آواز ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔یکم ستمبر 1973 کو سعودی عرب کے دینی و ثقافتی وفد کا دفتر جمعیت میں استقبال کیا گیا، جہاں جمعیت کی دینی و ملی خدمات کا تعارف کرایا گیا اور وفد نے ان خدمات کو سراہا۔3 نومبر 1973 کو ہندستان کو تیل کی فراہمی میں ممکنہ کمی کی خبروں کے بعد مولانا سید اسعد مدنی نے شاہ فیصل کو برقیہ بھیج کر ہندوستان کو عرب دوست ممالک میں شامل رکھنے کی اپیل کی۔ اس سلسلے میں سعودی ناظم الامور سے ملاقات اور یادداشت بھی پیش کی گئی۔ بعد ازاں 9 نومبر 1973 کو شاہ فیصل کی جانب سے ہندستان کو تیل کی سپلائی برقرار رکھنے کے فیصلے پر مولانا اسعد مدنی نے شکریہ کا برقیہ بھیجا.6 تا 25 اکتوبر 1973 کی جنگِ اکتوبر (جنگِ کپور) کے بعد 24 نومبر 1973 کو مجلس منتظمہ نے قرارداد منظور کر کے عرب ممالک کی تیل پالیسی کو سراہا اور مشورہ دیا کہ مقبوضہ عرب علاقوں کی آزادی اور فلسطینیوں کے حقوق کی بحالی تک تیل کو سیاسی و اقتصادی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔ ساتھ ہی شاہ فیصل کا شکریہ ادا کیا گیا کہ انہوں نے ہندوستان کو تیل کی سپلائی میں کسی کمی سے مستثنیٰ رکھا۔(جاری)۔۔۔۔۔@all





















