راشٹر واد(13)
محمد یاسین جہازی
قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟
(2)
جہاں تک مسٹر جناح کے اس نظریے کا تعلق ہے کہ ہندو اکثریت کے غلبے کے خوف سے مسلم اقلیت کے سیاسی تحفظ کا واحد حل ایک علاحدہ اسلامی مملکت کا قیام ہے اور پاکستان بننے کے بعد تمام مسلمانوں کو وہاں ہجرت کر جانی چاہیے، تو اس کے جواب میں چند بنیادی سوالات سامنے آتے ہیں:
(1) کیا تقسیم ہند کے ذریعے اقلیت کا مسئلہ واقعی حل ہوگیا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ مسئلہ ختم ہونے کے بجائے دو طرفہ صورت اختیار کرگیا: پاکستان میں ہندو اقلیت اور ہندستان میں مسلم اقلیت کے لیے نئے مسائل پیدا ہوئے۔
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد حفظ الرحمن سیوہاروی رح نے ایک بیان میں فرمایا کہ:
تقسیم ہند کی عملی شکل نے پانچ کروڑ مسلمانوں، یعنی نصف مسلم آبادی کو جس طرح ہندوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، اس سے مسلم اقلیت کے صوبوں کے مسلمان بے حد مضطرب اور پریشان ہیں۔ اور مسلمانان ہند کی وحدت کو پارہ پارہ کرکے جس طرح تین تیرہ بنادیا ہے، اس کے تاریک مستقبل سے بچنے کی تدابیر کا ہر درد مند قلب خواہش مند نظر آتا ہے۔
(روزنامہ انقلاب، لاہور، 28/ جولائی 1947ء)
(2) کیا تبادلۂ آبادی اس مسئلے کا عملی حل ہوسکتا ہے؟ ہندستان اور پاکستان میں اقلیتیں صدیوں سے اپنے اپنے معاشروں کا مشترک حصہ بن چکی تھیں؛ کروڑوں لوگوں کو ان کے گھروں، زمینوں،مذہبی مقامات، مساجد، مدارس، خانقاہیں، مزارات وغیرہ، رشتوں اور سماجی جڑوں سے اکھاڑ کر ایک دوسرے کے ملکوں میں منتقل کرنا عملاً ممکن نہیں تھا۔ تقسیم کے زمانے میں جب بڑے پیمانے پر آبادی کی منتقلی ہوئی تو اس کے نتیجے میں ہونے والے فسادات، قتل و غارت اور انسانی المیے نے اس تجربے کی سنگینی واضح کردی۔ اسی لیے جمعیت علمائے ہند کے اکابر نے تبادلۂ آبادی کی مخالفت کی اور ان لوگوں کے مطالبے کی بھی تردید کی جو مسلمانوں کو ہندستان سے پاکستان منتقل ہونے کا مشورہ دیتے رہے۔
چند حوالے درج ذیل ہیں
تبادلہ ابادی
تبادلۂ آبادی کے خلاف جمعیت علمائے ہند کا موقف محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ابتدا ہی سے واضح تھا۔
12 مارچ 1950ء کو جمعیت علمائے ہند کے ناظمِ عمومی مولانا محمد حفظ الرحمن سیوہاروی نے مشرقی و مغربی بنگال کے فسادات کے پس منظر میں تبادلۂ آبادی کو مسئلے کا حل تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ ہندستانی مسلمان اس ملک کے باشندے اور یہی ان کا وطن ہے۔ (روزنامہ الجمعیۃ، 16 مارچ 1950ء)
اس کے تقریباً چودہ سال بعد، 7-8 مارچ 1964ء کو مجلسِ عاملہ جمعیت علمائے ہند نے اسی موقف کو مزید دوٹوک انداز میں دہراتے ہوئے اعلان کیا کہ "تبادلۂ آبادی کی آواز سراسر غلط ہے”؛ یہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید نازک اور خطرناک پیچیدگیوں کا سبب بنے گا، اس لیے اس کی مخالفت اور مذمت جمعیت علمائے ہند کا قومی فرض ہے۔
پھر اسی سال 9 ستمبر 1964ء کو جمعیت علمائے ہند کے ناظمِ عمومی مولانا اسعد مدنیؒ نے مجلسِ منتظمہ ضلع دینی تعلیمی بورڈ سہارن پور سے خطاب کرتے ہوئے ہندو مہاسبھا کے تبادلۂ آبادی کے مطالبے کو "لغو” قرار دیا اور واضح کیا کہ مسلمان دستوری، اخلاقی اور قانونی حیثیت سے ہندستان کے شہری ہیں۔ (روزنامہ الجمعیۃ، 10 ستمبر 1964ء)
29نومبر 2025 کو بھوپال میں منعقد مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کے سوال جواب سیشن میں مولانا امین الحق عبداللہ اسامہ صاحب نے سوال کیا کہ جمعیت علمائے ہند نے تقسیم ہند کی مخالفت کیوں کی؟
مولانا محمد سلمان بجنوری صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی تقسیم نہیں تھی؛ بلکہ مسلمانوں کی تقسیم تھی، اس لیے جمعیت علمائے ہند نے اس کی مخالفت کی۔ دراصل ہمارے اکابر یہ چاہتے تھے کہ ہم صرف ایک مخصوص حصے پر نہیں؛ بلکہ پورے ملک ہندستان میں رہیں۔ اس لیے جمعیت علما اور مسلمانوں نے تقسیم کرنے والے لیڈروں کی مخالفت کی۔
مولانا محمود اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے کہا کہ مسلم لیگ یہ فیصلہ کرکے ہندستان سے گئی تھی کہ یاتو ہندستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کو مرتد بنالیا جائے گا، یا پھر قتل کردیے جائیں گے۔ اور چوں کہ اتنی بڑی آبادی کا تبادلہ ممکن نہیں تھا کہ سب لوگ پاکستان چلے جائیں، اس لیے یہیں رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند نے ایسے ہوش ربا حالات میں میدان عمل میں آکر مسلمانوں کو قتل سے بھی بچایا اور ارتداد سے تحفظ کے لیے بھی مسلسل کوشاں ہے۔
ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا
یہی وجہ رہی کہ جب 23؍مارچ 1940 کو مسلم لیگ نے قرار داد لاہور بعنوان قرار داد پاکستان منظور کی، تو اس کے فورا بعد 14 اپریل 1940 کو ابوالمحاسن حضرت مولانا محمد سجاد بہاری رحمۃ اللہ علیہ نے ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا کے عنوان سے ایک جامع مقالہ لکھ کر پاکستان کا سیاسی، اقتصادی اور مذہبی ہر اعتبار سے جائزہ لے کر اس کے مسلمانوں کے حق میں شدید نقصان دہ ہونے کو اجاگر کردیا۔ مولانا کے مقالہ کا خلاصہ درج ذیل ہے:
آبادی کے حوالے سے مرکزی نکتہ – جسے مولانا نے نمایاں کیا کہ جناح صاحب اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کو 2 کروڑ بتاتے ہیں، حالاں کہ وہ تقریباً 3 کروڑ ہیں۔اکثریتی صوبوں کے مسلمان 6 کروڑہیں۔ تو لیگ کی اسکیم کا مطلب ہے کہ 3 کروڑ اقلیتی مسلمانوں کو ہندو اکثریت کی غلامی پر راضی رہنے اور قربان ہونےکو کہا جا رہا ہے تاکہ 6 کروڑ کے لیے الگ فیڈریشن بن سکے۔ان 3 کروڑ کے حقوق کی ضمانت صرف دو خیالی نظریوں پر ہے:
(1) اکثریتی صوبوں میں ہندوؤں سے بدلہ لیا جائے گا۔
( 2) مسلم فیڈریشن ہندو انڈیا پر حملہ کر دے گی۔ مولانا کہتے ہیں یہ دونوں نظریے شرعاً ناجائز اور عقلاً ناممکن ہیں۔
مولانا کا دوسرا بڑا سوال: اگر 6 کروڑ کی آزادی کے لیے 2 کروڑ کی قربانی جائز ہے، تو 20-25 کروڑ عالم اسلام کی آزادی کے لیے پورے8 کروڑ ہندستانی مسلمانوںکی قربانی کیوں جائز نہیں؟ پھر تو مکمل آزادی کی تحریک میں شامل ہونا چاہیے۔
مسلم اسٹیٹ کی حقیقت: جناح کی مسلم ریاست میں بھی غیر مسلم رہیں گے اور حکومت میں شریک ہوں گے، تو وہ خالص اسلامی ریاست کیسے ہوئی؟ آج بھی پنجاب، بنگال، سندھ مسلم اکثریتی صوبے ہیں۔
الگ فیڈریشنوں کے بعد بھی دفاع، خارجہ اور کسٹم کے لیے ایک مرکزی فیڈریشن یا پھر برطانیہ کی بالادستی لازمی ہوگی، جس میں پھر ہندو اکثریت ہی ہوگی۔ اس لیے یہ حل مسلمانوں کو معاشی طور پر تباہ اور پھر بھی ہندو اکثریت کے خوف میں رکھے گا۔
اسی طرح دسمبر 1945 میں مولانا محمد حفظ الرحمن صاحب سیوہاروی نور اللہ مرقدہ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے تحریک پاکستان پر ایک نظرکے عنوان سے اپنے مقالے میں جامع تجزیہ پیش کیا، جس کے سیاسی تجزیہ والے حصہ کا خلاصہ یہاں پیش کیا جارہا ہے۔
1. لیگ کا دعویٰ: مسلمان ہندستان میں اقلیت نہیں؛ بلکہ ایک قوم ہیں، اس لیے جہاں وہ اکثریت میں ہیں وہ حصے الگ کر کے پاکستان بنایا جائے، تاکہ وہ ہندو اکثریت کے ماتحت نہ رہیں۔
2. آبادی کا اصل حساب – مولانا کا مرکزی نکتہ:روزنامہ منشور 27 اکتوبر 1945 اور 1941 مردم شماری کی روشنی میں:
پاکستانی صوبے: کل آبادی: 10 کروڑ 70 لاکھ۔
مسلمان: 5 کروڑ 90 لاکھ۔
غیر مسلم: 4 کروڑ 79 لاکھ۔
فرق صرف: 1 کروڑ 11 لاکھ یعنی 10%، یعنی مسلمان 60% ، اورغیر مسلم 40%
صوبہ وار اعداد وشمار:
پنجاب 57% مسلم، سرحد 91.8%، سندھ 73%، بلوچستان 87.5%، بنگال 54.7%، آسام 33.7%۔
ہندو ہندستان: کل آبادی تقریباً 30 کروڑ۔مسلمان: پونے 3 کروڑ یعنی 10% سے بھی کم** – یو پی 3.15%، بمبئی 2.9%، مدراس 9.7% وغیرہ۔
تو کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ پاکستان کا مطلب ہے10 کروڑ مسلمانوں کو دو ٹکڑوں میں بانٹنا۔
ایک تہائی [پونے 3 کروڑ] کو ہندو ہندستان میں غیر مؤثر اقلیت بنا کر ہندوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا۔
اسی طرح پاکستان کی بات کریں ، تو دو تہائی کے لیے بھی ایسی حکومت بنے گی، جس میں 38-40% غیر مسلم انتہائی مؤثر اور سیاسی و معاشی طور پر طاقتور اقلیت ہوگی، جس کو راضی کیے بغیر یورپی جمہوری نظام میں حکومت چل ہی نہیں سکتی۔
اس کے برعکس ہندوؤں کو 30 کروڑ کا مضبوط ہندستان مل جائے گا، جہاں مسلمان بالکل غیر مؤثر ہوں گے۔
بدلہ والا منطق باطل ہے: یہ کہنا کہ یو پی بہار کے مسلمانوں پر ظلم کا بدلہ پنجاب بنگال کے ہندوؤں سے لیا جائے گا، مذہباً، اخلاقاً اور قانوناً غلط اور ناقابل عمل ہے۔
بہ الفاظ مختصر یہ کہا جاسکتا ہے کہ متحدہ ہندستان کی ہندو مسلم کی کل آبادی 40 کروڑ 70 لاکھ میں سے مسلم کی کل آبادی 10 کروڑ 70 لاکھ 4 ہزار 783، اور ہندوں کی کل آبادی تقریباً 30 کروڑ کو دو حصوں میں بانٹا جائے گا، تو پاکستان میں مسلمانوں کی کل تعداد 5 کروڑ 90 لاکھ ہوگی، جب کہ ہندوں کی کل تعداد 4 کروڑ 79 لاکھ ہوگی۔ جس کا مطلب یہ ہوگا مسلمان 60% ، اورغیر مسلم 40% ہوں گے، یعنی صرف20 فی صد کا فرق ہوگا۔
اس کے بالمقابل ہندستان میں ہندووں کی کل آبادی 27 کروڑ 25 لاکھ ہوگی اور مسلمانوں کی کل تعداد 2 کروڑ 75 لاکھ یعنی تقریباً 9% سے بھی کم رہ جائے گی، جو ہمیشہ ہندووں کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔
اس کے علاوہ پاکستان کی اسکیم دراصل انگریزوں کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کی سازش کا حصہ تھی، جس کا تذکرہ سابقہ قسط میں آچکا ہے۔
یہی سب وہ حقائق ہیں، جن کی بنیاد پر جمعیت علمائے ہند نے شدت کے ساتھ اسلامی مملکت کے نام پر بنائے جانے والے ملک کی مخالفت کی۔اور جناح کے نظریے کو مسترد کردیا۔
آخری اور فیصلہ کن بات!
ذرا تاریخ کا پہیہ ایک لمحے کے لیے الٹا گھما کر دیکھیے!
اگر جمعیت علمائے ہند متحدہ قومیت کا نظریہ اختیار نہ کرتی، اور سر سید مرحوم کے تصور کے مطابق مسلمان انگریزوں کے وفادار بن کر جنگِ آزادی سے الگ رہتے، یا مسلم لیگ کے دو قومی نظریے کو مکمل طور پر قبول کرکے تقسیمِ ہند اور پاکستان کے مطالبے کے ساتھ کھڑے ہو جاتے، تو آج ہندستان میں مسلمانوں کے پاس اپنے حقِ وطنیت کا کون سا تاریخی جواز باقی رہتا؟
آج جب جنگِ آزادی میں مسلمانوں کی برابر کی شرکت اور قربانیوں کے باوجود فرقہ پرست عناصر مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے ہیں، تو ذرا تصور کیجیے کہ اگر مسلمان آزادی کی جنگ سے الگ رہتے اور ہندستان کی تقسیم کے علم بردار بن جاتے، تو آج مسلمان کس منھ سے کہتے کہ ’’ہم اس ملک کے حقدار بھی ہیں اور وفادار بھی‘‘؟
فافہم و تدبر۔
ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا ہے؟















