جمعرات, اکتوبر 1, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(12) انگریزوں کی وفاداری کے بجائے آزادی کی راہ کیوں اختیار کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کو پٹری سے اتارنے کی مہم

    عرب جمہوریات کا اتحاد

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(10)۔الزام غداری اور وفاداری کا مطالبہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(12) انگریزوں کی وفاداری کے بجائے آزادی کی راہ کیوں اختیار کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کو پٹری سے اتارنے کی مہم

    عرب جمہوریات کا اتحاد

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(10)۔الزام غداری اور وفاداری کا مطالبہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اہم خبریں دیگر ریاستیں

راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

by Admin
ستمبر 30, 2026
in دیگر ریاستیں, قومی و بین الاقوامی, متفرق مضامین
0
راشٹرواد(01)
0
SHARES
9
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

راشٹر واد(13)

محمد یاسین جہازی

قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

(2)
جہاں تک مسٹر جناح کے اس نظریے کا تعلق ہے کہ ہندو اکثریت کے غلبے کے خوف سے مسلم اقلیت کے سیاسی تحفظ کا واحد حل ایک علاحدہ اسلامی مملکت کا قیام ہے اور پاکستان بننے کے بعد تمام مسلمانوں کو وہاں ہجرت کر جانی چاہیے، تو اس کے جواب میں چند بنیادی سوالات سامنے آتے ہیں:
(1) کیا تقسیم ہند کے ذریعے اقلیت کا مسئلہ واقعی حل ہوگیا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ مسئلہ ختم ہونے کے بجائے دو طرفہ صورت اختیار کرگیا: پاکستان میں ہندو اقلیت اور ہندستان میں مسلم اقلیت کے لیے نئے مسائل پیدا ہوئے۔
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد حفظ الرحمن سیوہاروی رح نے ایک بیان میں فرمایا کہ:
تقسیم ہند کی عملی شکل نے پانچ کروڑ مسلمانوں، یعنی نصف مسلم آبادی کو جس طرح ہندوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، اس سے مسلم اقلیت کے صوبوں کے مسلمان بے حد مضطرب اور پریشان ہیں۔ اور مسلمانان ہند کی وحدت کو پارہ پارہ کرکے جس طرح تین تیرہ بنادیا ہے، اس کے تاریک مستقبل سے بچنے کی تدابیر کا ہر درد مند قلب خواہش مند نظر آتا ہے۔
(روزنامہ انقلاب، لاہور، 28/ جولائی 1947ء)
(2) کیا تبادلۂ آبادی اس مسئلے کا عملی حل ہوسکتا ہے؟ ہندستان اور پاکستان میں اقلیتیں صدیوں سے اپنے اپنے معاشروں کا مشترک حصہ بن چکی تھیں؛ کروڑوں لوگوں کو ان کے گھروں، زمینوں،مذہبی مقامات، مساجد، مدارس، خانقاہیں، مزارات وغیرہ،  رشتوں اور سماجی جڑوں سے اکھاڑ کر ایک دوسرے کے ملکوں میں منتقل کرنا عملاً ممکن نہیں تھا۔ تقسیم کے زمانے میں جب بڑے پیمانے پر آبادی کی منتقلی ہوئی تو اس کے نتیجے میں ہونے والے فسادات، قتل و غارت اور انسانی المیے نے اس تجربے کی سنگینی واضح کردی۔ اسی لیے جمعیت علمائے ہند کے اکابر نے تبادلۂ آبادی کی مخالفت کی اور ان لوگوں کے مطالبے کی بھی تردید کی جو مسلمانوں کو ہندستان سے پاکستان منتقل ہونے کا مشورہ دیتے رہے۔
چند حوالے درج ذیل ہیں

تبادلہ ابادی

تبادلۂ آبادی کے خلاف جمعیت علمائے ہند کا موقف محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ابتدا ہی سے واضح تھا۔
12 مارچ 1950ء کو جمعیت علمائے ہند کے ناظمِ عمومی مولانا محمد حفظ الرحمن سیوہاروی نے مشرقی و مغربی بنگال کے فسادات کے پس منظر میں تبادلۂ آبادی کو مسئلے کا حل تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ ہندستانی مسلمان اس ملک کے باشندے اور یہی ان کا وطن ہے۔ (روزنامہ الجمعیۃ، 16 مارچ 1950ء)

اس کے تقریباً چودہ سال بعد، 7-8 مارچ 1964ء کو مجلسِ عاملہ جمعیت علمائے ہند نے اسی موقف کو مزید دوٹوک انداز میں دہراتے ہوئے اعلان کیا کہ "تبادلۂ آبادی کی آواز سراسر غلط ہے”؛ یہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید نازک اور خطرناک پیچیدگیوں کا سبب بنے گا، اس لیے اس کی مخالفت اور مذمت جمعیت علمائے ہند کا قومی فرض ہے۔

پھر اسی سال 9 ستمبر 1964ء کو جمعیت علمائے ہند کے ناظمِ عمومی مولانا اسعد مدنیؒ نے مجلسِ منتظمہ ضلع دینی تعلیمی بورڈ سہارن پور سے خطاب کرتے ہوئے ہندو مہاسبھا کے تبادلۂ آبادی کے مطالبے کو "لغو” قرار دیا اور واضح کیا کہ مسلمان دستوری، اخلاقی اور قانونی حیثیت سے ہندستان کے شہری ہیں۔ (روزنامہ الجمعیۃ، 10 ستمبر 1964ء)

29نومبر 2025 کو بھوپال میں منعقد مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کے سوال جواب سیشن میں مولانا امین الحق عبداللہ اسامہ صاحب نے سوال کیا کہ جمعیت علمائے ہند نے تقسیم ہند کی مخالفت کیوں کی؟
مولانا محمد سلمان بجنوری صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی تقسیم نہیں تھی؛ بلکہ مسلمانوں کی تقسیم تھی، اس لیے جمعیت علمائے ہند نے اس کی مخالفت کی۔ دراصل ہمارے اکابر یہ چاہتے تھے کہ ہم صرف ایک مخصوص حصے پر نہیں؛ بلکہ پورے ملک ہندستان میں رہیں۔ اس لیے جمعیت علما اور مسلمانوں نے تقسیم کرنے والے لیڈروں کی مخالفت کی۔
مولانا محمود اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے کہا کہ مسلم لیگ یہ فیصلہ کرکے ہندستان سے گئی تھی کہ یاتو ہندستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کو مرتد بنالیا جائے گا، یا پھر قتل کردیے جائیں گے۔ اور چوں کہ اتنی بڑی آبادی کا تبادلہ ممکن نہیں تھا کہ سب لوگ پاکستان چلے جائیں، اس لیے یہیں رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند نے ایسے ہوش ربا حالات میں میدان عمل میں آکر مسلمانوں کو قتل سے بھی بچایا اور ارتداد سے تحفظ کے لیے بھی مسلسل کوشاں ہے۔

ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا

یہی وجہ رہی کہ جب 23؍مارچ 1940 کو مسلم لیگ نے قرار داد لاہور بعنوان قرار داد پاکستان منظور کی، تو اس کے فورا بعد  14 اپریل 1940  کو  ابوالمحاسن  حضرت مولانا محمد سجاد بہاری رحمۃ اللہ علیہ نے ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا کے عنوان سے ایک جامع مقالہ لکھ کر پاکستان کا سیاسی، اقتصادی اور مذہبی ہر اعتبار سے جائزہ لے کر اس کے مسلمانوں کے حق میں شدید نقصان دہ ہونے کو اجاگر کردیا۔ مولانا کے مقالہ  کا خلاصہ درج ذیل ہے:

 آبادی کے حوالے سے مرکزی نکتہ – جسے مولانا نے نمایاں کیا کہ جناح صاحب اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کو 2 کروڑ بتاتے ہیں، حالاں کہ وہ تقریباً 3 کروڑ ہیں۔اکثریتی صوبوں کے مسلمان 6 کروڑہیں۔ تو  لیگ کی اسکیم کا مطلب ہے کہ 3 کروڑ اقلیتی مسلمانوں کو ہندو اکثریت کی غلامی پر راضی رہنے اور قربان ہونےکو کہا جا رہا ہے تاکہ 6 کروڑ کے لیے الگ فیڈریشن بن سکے۔ان 3 کروڑ کے حقوق کی ضمانت صرف دو خیالی نظریوں پر ہے:

 (1) اکثریتی صوبوں میں ہندوؤں سے بدلہ لیا جائے گا۔

( 2) مسلم فیڈریشن ہندو انڈیا پر حملہ کر دے گی۔ مولانا کہتے ہیں یہ دونوں نظریے شرعاً ناجائز اور عقلاً ناممکن ہیں۔

مولانا کا دوسرا بڑا سوال: اگر 6 کروڑ کی آزادی کے لیے 2 کروڑ کی قربانی جائز ہے، تو 20-25 کروڑ عالم اسلام کی آزادی کے لیے پورے8 کروڑ ہندستانی مسلمانوںکی قربانی کیوں جائز نہیں؟ پھر تو مکمل آزادی کی تحریک میں شامل ہونا چاہیے۔

مسلم اسٹیٹ کی حقیقت: جناح کی مسلم ریاست میں بھی غیر مسلم رہیں گے اور حکومت میں شریک ہوں گے، تو وہ خالص اسلامی ریاست کیسے ہوئی؟ آج بھی پنجاب، بنگال، سندھ مسلم اکثریتی صوبے ہیں۔

الگ فیڈریشنوں کے بعد بھی دفاع، خارجہ اور کسٹم کے لیے ایک مرکزی فیڈریشن یا پھر برطانیہ کی بالادستی لازمی ہوگی، جس میں پھر ہندو اکثریت ہی ہوگی۔ اس لیے یہ حل مسلمانوں کو معاشی طور پر تباہ اور پھر بھی ہندو اکثریت کے خوف میں رکھے گا۔

اسی طرح دسمبر 1945  میں مولانا محمد حفظ الرحمن صاحب سیوہاروی نور اللہ مرقدہ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے تحریک پاکستان پر ایک نظرکے عنوان سے اپنے مقالے میں جامع تجزیہ پیش کیا، جس کے سیاسی تجزیہ والے حصہ کا خلاصہ یہاں پیش کیا جارہا ہے۔

1. لیگ کا دعویٰ: مسلمان ہندستان میں اقلیت نہیں؛ بلکہ ایک قوم ہیں، اس لیے جہاں وہ اکثریت میں ہیں وہ حصے الگ کر کے پاکستان بنایا جائے، تاکہ وہ ہندو اکثریت کے ماتحت نہ رہیں۔

2. آبادی کا اصل حساب – مولانا کا مرکزی نکتہ:روزنامہ منشور 27 اکتوبر 1945 اور 1941 مردم شماری کی روشنی میں:

پاکستانی صوبے: کل آبادی: 10 کروڑ 70 لاکھ۔

مسلمان: 5 کروڑ 90 لاکھ۔

غیر مسلم: 4 کروڑ 79 لاکھ۔

فرق صرف: 1 کروڑ 11 لاکھ یعنی 10%، یعنی مسلمان 60% ، اورغیر مسلم 40%

    صوبہ وار اعداد وشمار:

    پنجاب 57% مسلم، سرحد 91.8%، سندھ 73%، بلوچستان 87.5%، بنگال 54.7%، آسام 33.7%۔

ہندو ہندستان: کل آبادی تقریباً 30 کروڑ۔مسلمان: پونے 3 کروڑ یعنی 10% سے بھی کم** – یو پی 3.15%، بمبئی 2.9%، مدراس 9.7% وغیرہ۔

تو کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ   پاکستان کا مطلب ہے10 کروڑ مسلمانوں کو دو ٹکڑوں میں بانٹنا۔

ایک تہائی [پونے 3 کروڑ] کو ہندو ہندستان میں غیر مؤثر اقلیت بنا کر ہندوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا۔

اسی طرح پاکستان کی بات کریں ، تو دو تہائی کے لیے بھی ایسی حکومت بنے گی، جس میں 38-40% غیر مسلم انتہائی مؤثر اور سیاسی و معاشی طور پر طاقتور اقلیت ہوگی، جس کو راضی کیے بغیر یورپی جمہوری نظام میں حکومت چل ہی نہیں سکتی۔

اس کے برعکس ہندوؤں کو 30 کروڑ کا مضبوط ہندستان مل جائے گا، جہاں مسلمان بالکل غیر مؤثر ہوں گے۔

بدلہ والا منطق باطل ہے: یہ کہنا کہ یو پی بہار کے مسلمانوں پر ظلم کا بدلہ پنجاب بنگال کے ہندوؤں سے لیا جائے گا، مذہباً، اخلاقاً اور قانوناً غلط اور ناقابل عمل ہے۔

بہ الفاظ مختصر یہ کہا جاسکتا ہے کہ متحدہ ہندستان کی ہندو مسلم کی کل آبادی 40 کروڑ 70 لاکھ میں سے مسلم کی کل آبادی 10 کروڑ 70 لاکھ 4 ہزار 783، اور ہندوں کی کل آبادی تقریباً 30 کروڑ کو دو حصوں میں بانٹا جائے گا، تو پاکستان میں مسلمانوں کی کل تعداد 5 کروڑ 90 لاکھ ہوگی، جب کہ ہندوں کی کل تعداد 4 کروڑ 79 لاکھ ہوگی۔ جس کا مطلب یہ ہوگا مسلمان 60% ، اورغیر مسلم 40% ہوں گے، یعنی صرف20 فی صد کا فرق ہوگا۔

اس کے بالمقابل ہندستان میں ہندووں کی کل آبادی 27 کروڑ 25 لاکھ ہوگی اور مسلمانوں کی کل تعداد 2 کروڑ 75 لاکھ  یعنی تقریباً 9% سے بھی کم رہ جائے گی، جو ہمیشہ ہندووں کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔

اس کے علاوہ  پاکستان کی اسکیم دراصل انگریزوں کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کی سازش کا حصہ تھی، جس کا تذکرہ سابقہ قسط میں آچکا ہے۔

یہی سب وہ حقائق ہیں، جن کی بنیاد پر جمعیت علمائے ہند نے شدت کے ساتھ اسلامی مملکت کے نام پر بنائے جانے والے  ملک کی مخالفت کی۔اور جناح کے نظریے کو مسترد کردیا۔

آخری اور فیصلہ کن بات!

ذرا تاریخ کا پہیہ ایک لمحے کے لیے الٹا گھما کر دیکھیے!

اگر جمعیت علمائے ہند متحدہ قومیت کا نظریہ اختیار نہ کرتی، اور سر سید مرحوم کے تصور کے مطابق مسلمان انگریزوں کے وفادار بن کر جنگِ آزادی سے الگ رہتے، یا مسلم لیگ کے دو قومی نظریے کو مکمل طور پر قبول کرکے تقسیمِ ہند اور پاکستان کے مطالبے کے ساتھ کھڑے ہو جاتے، تو آج ہندستان میں مسلمانوں کے پاس اپنے حقِ وطنیت کا کون سا تاریخی جواز باقی رہتا؟

 آج جب جنگِ آزادی میں مسلمانوں کی برابر کی شرکت اور قربانیوں کے باوجود فرقہ پرست عناصر مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے ہیں، تو ذرا تصور کیجیے کہ اگر مسلمان آزادی کی جنگ سے الگ رہتے اور ہندستان کی تقسیم کے علم بردار بن جاتے، تو آج مسلمان کس منھ سے کہتے کہ ’’ہم اس ملک کے حقدار بھی ہیں اور وفادار بھی‘‘؟

فافہم و تدبر۔

ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا ہے؟

Tags: جہازیراشٹروادقومیتمحمد یاسین جہازی
Admin

Admin

Next Post
شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

اکثریت واد کا بڑھتا دباؤ و رجحان

2 ہفتے ago
اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودیہ عربیہ) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط

بیسویں صدی سے متحدہ عرب ممالک اور جمعیت علمائے ہند کے روابط: چوتھی قسط

1 مہینہ ago

مقبول

  • شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • راشٹر واد(12) انگریزوں کی وفاداری کے بجائے آزادی کی راہ کیوں اختیار کی گئی؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بھارت کو پٹری سے اتارنے کی مہم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.