مفتی خالد حسین نیموی قاسمی:
قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے.
(فتاویٰ عالمگیریہ کے مرتبین میں سے ایک ممتاز فقیہ قاضی سید رضی الدین کے جد امجد قاضی سید کمال الدین ثانی. ایک تعارف )
از مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی
ریاست بہار کا ضلع بیگوسرائے علمی،ادبی روحانی اور تاریخی لحاظ سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔اسے خطہ کو شیخ المشائخ شاہ سلطان لکھمنیاوی، قطب دوراں شاہ علاءالدين بخاری شطاری، محدث کبیر مولانا یارعلی محدث برونوی اور عظیم محدث علامہ شیخ محمد محسن بن یحییٰ ترہتی رحمہم اللہ نے اپنے فیضان سے معمور کیا؛ اس ضلع کا ایک نہایت معروف و تاریخی قصبہ "صاحب پور کمال” ہے؛ لیکن یہ بات کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس قصبہ اور علاقے کی آبادی اور نام کی نسبت ایک عظیم علمی و روحانی خاندان کے صاحبِ کمال بزرگ سید کمال الدین ثانی کی طرف ہے، یہ بزرگ فتاویٰ عالمگیری کے نامور مرتب و مؤلف علامہ قاضی شیخ رضی الدین بھاگلپوری کے گرامی قدر دادا ہیں۔نام کا وقار عام طور پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے؛ لیکن اس حوالے سے دستیاب تحقیقی معلومات کا فقدان منزل تک پہنچنے میں مانع بنتا ہے.
قاضی سید کمال الدین ثانی کا خاندانی سلسلۂ نسب علمی و روحانی عظمت کا ایک درخشندہ باب ہے۔ تاریخ و تذکرہ کی کتابوں کے مطابق یہ ساداتِ کرام چوبیسویں (24) پشت میں حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے جا ملتے ہیں۔
اس خاندان کے جدِ اعلیٰ سید محمد خوارزمی، سلطان الاولیاء حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانیؒ کے مرید تھے۔
چنگیز خان اور تاتاریوں کے فتنے سے پریشان ہو کر سید محمد خوارزمی کے صاحبزادے سید جمال الدین خوارزمی نے لاہور ہجرت کی۔
ان کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے مخدوم سید ابوالغفار حسینی مسندِ سجادگی پر رونق افروز ہوئے۔
مخدوم سید ابوالغفار حسینیؒ نے اپنے فرزند سید کمال الدین لاہوری کو مانڈو (گجرات) کی ولایت دے کر روانہ کیا، جہاں انہوں نے خانقاہ کی بنیاد رکھی اور تاحیات تبلیغِ دین کا مہتم بالشان فریضہ انجام دیتے رہے ۔
سید کمال الدین لاہوری کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے مخدوم سید علاء الدین مانڈوی گجرات سے ہجرت کر کے صوبہ بہار کے مشہور شہر مرکزِ علماء ومشائخ "بہار شریف” تشریف لائے اور سلطان محمد تغلق کے دور میں "قاضی القضاۃ” کے عہدے پر فائز ہوئے۔
ان کے بعد ان کے صاحبزادے سید حسام الدین کو یہ منصب ملا، جنہیں حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین یحییٰ منیریؒ سے بڑی عقیدت و ارادت تھی۔
سید حسام الدینؒ کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے سید سجاد الدین احمد بہار شریف سے ہجرت کر کے قصبہ لکھیسر پور (ضلع مونگیر) میں آباد ہوئے۔
سید سجاد الدین احمد نے اپنے بڑے صاحبزادے سید کمال الدین ثانی کو بیگوسرائے کی ولایت عطا کی۔اور انہیں اس خطہ میں آباد کیا.
حضرت سید کمال الدین ثانی اپنے اہل و عیال کے ساتھ اس علاقے میں تشریف لائے جو دریائے گنگا کے دکھن سمت آباد تھا حضرت اس سرسبز و شاداب خطہ میں مستقلاً مقیم ہوگئے ۔ اسی عظمت، سیادت اور صاحبِ کمال شخصیت کی نسبت سے بیگوسرائے کی یہ مشہور بستی "صاحب پور کمال” کے نام سے موسوم ہوئی اور آباد ہوئی اور آج تک اسی نام سے جانی وپہچانی جاتی ہے، اسی نام سے بلاک بھی ہے اور اسی نام سے اسٹیشن بھی ہے جسے جنکشن کی حیثیت حاصل ہے، مونگیر جانے والی ٹرین یہیں سے رخ بدلتی ہے اور مونگیر، جمال پور ہوتے ہوئے بھاگل پور تک جاتی ہے.
گاؤں میں مشہور روایت کے مطابق یہ بستی شاہ مخدوم کی نسبت سے شاہ پور کے نام سے جانی جاتی تھی اور کثرت استعمال سے صاحب پور ہوگئی، لیکن درست بات یہی ہے جو اس عاجز نے بعد از تحقيق وجستجوئے بسیار درج کی ہے. شاہ مخدوم کے نام سے جو بزرگ محلہ کے درگاہ پر مدفون ہیں وہ بزرگ درحقیقت قاضی سید کمال الدین ثانی ہیں، وہی عوام میں مخدوم شاہ کے نام سے مشہور ہیں.
حضرت سید کمال الدین ثانی کے صاحبزادے کا نام قاضی سید محی الدین تھا ۔
سید قاضی محی الدین کی ولادت شاہپور کمال (صاحب پور کمال)، بیگوسرائے میں ہوئی۔ انہوں نے اپنے والد سید کمال الدین ثانی سے تعلیم و تربیت اور تفقہ فی الدین کی صفات حاصل کیں، امور فتویٰ وقضا کی باریکیوں کو سیکھا اور اپنے وقت کے عظیم عالم، فاضل، قاضی اور مفتی ہوئے۔
بادشاہ جہانگیر کے زمانے میں شاہپور کمال/صاحب پور کمال علاقہ کا دینی وعلمی مرکز تھا وہاں حکومت مغلیہ کی طرف سے "دار القضاء” قائم تھا. جہاں پہلے قاضی سید کمال الدین ثانی اور ان کے بعد ان کے صاحبزادے قاضی محی الدین قاضی کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ۔ بعد میں بادشاہ جہانگیر کے حکم سے آپ بھاگلپور میں "قاضی القضاۃ” کے منصب پر فائز ہوئے۔
بھاگلپور کے جس خطے میں ان کی رہائش تھی اور ان کی قبرِ مبارک موجود ہے، وہ جگہ آج بھی ان کی مناسبت سے "قاضی پورہ” کے نام سے مشہور ہے۔
سید محی الدین کے صاحبزادے علامہ قاضی شیخ رضی الدین بھاگلپوری (متوفی: 1092ھ) تھے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی قاضی سید محی الدین سے ہی حاصل کی۔
بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے خانقاہ شہبازیہ (بھاگلپور) کا رخ کیا اور حضرت شیخ شہباز محمد بھاگلپوریؒ (متوفی 1050ھ) کے پاس علوم وفنون کی تکمیل کی۔
علامہ رضی الدین بھاگلپوری فضل و کمال، حکمت و شجاعت اور فقہ و دانائی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔
شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی نظرِ انتخاب جب ہندوستان کے منتخب ترین فقہاء اور علماء پر پڑی، تو ان میں علامہ رضی الدین بھاگلپوری کو خصوصی مقام حاصل ہوا اور وہ فتاویٰ عالمگیری کی تدوین و ترتیب کی عظیم الشان کمیٹی کے ممتاز رکن و مؤلف منتخب ہوئے۔
قاضی رضی الدین کے بارے میں میں اہل علم وتحقيق نے بلند وبالا کلمات کا اظہار کیا ہے. جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ، بہار کے ممتاز عالم اور فقیہ تھے، اعلیٰ خاندانی وجاہت کے کے ساتھ اپنے دور کے اکابر و فحول علما میں سے تھے۔ تاحیات ترویج علوم میں مشغول رہے آپ علوم و فنون میں اس درجہ ممتاز تھے کہ ان کی شہرت چاروں طرف پھیل گئی اور حلقہ علماء میں ان کی فضیلت کا علم بلند ہو گیا۔ اور نگ زیب عالم گیر نے انہیں ” فتاوی عالم گیری “ کی تالیف میں شامل کیا۔ فقہ وفتاوی کے علاوہ بھی آپ کو اکثر علوم و فنون میں بھی دسترس تھی۔ جیسے سپہ گری ، علم داری، ندیمی و غیره، محتسب قاضی محمد حسن جون پوری اور مرآة العالم کے مصنف بختاور خان نے اور نگ زیب کو قاضی رضی الدین کے کمالات و ہمہ گیر قابلیت سے آگاہ کیا اور بادشاہ اور نگ زیب عالم گیر 1670 ھ میں ان کو ” یک صدی ” منصب دار مقرر کیا. یہ منصب انتہائی ممتاز اور جلیل القدر شخصیات کو ہی عطا کیا جاتا تھا.
رفتہ رفتہ حسن علی خان کی اعانت وامداد اور اپنی سلیقہ شعاری و ہنر مندی سے رتبہ امارت خانی پر فائز ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے۔ جب تک زندہ رہے اپنے کام میں ممتاز رہے ۔ قواعد حرب اور سیاسیات ملکی میں مہارت تامہ رکھتے تھے.
خلاصہ یہ بیگوسرائے ضلع کا صاحب پور کمال نامی خطہ ضلع کے اٹھارہ بلاک میں سے ایک بلاک ایک بڑی مسلم آبادی ہونے کے ساتھ علم و معرفت، سیادت اور فقہ و افتاء کی ایک شاندار تاریخ کا امین ہے، اس خطہ کو قاضی سید کمال الدین ثانی نے اپنی روحانی وعلمی خدمات سے معمور کیا، یہیں ان کے وہ باکمال فرزند پیدا ہوئے جو بعد میں بھاگل پور کے قاضی القضاۃ کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ سید کمال الدین ثانی کی تشریف آوری اور آباد کاری سے اس علاقے کو جو شرف حاصل ہوا، اسی کی کڑی کے طور پر ان کے فرزند قاضی سید محی الدین اور پوتے مرتب فتاوی عالمگیریہ علامہ رضی الدین بھاگلپوری جیسے یکتائے روزگار علماء و قضاۃ پیدا ہوئے، جنہوں نے عالمی سطح پر اسلام کی فقهی و علمی تاریخ (فتاویٰ عالمگیری) میں دیارِ بہار اور صاحب پور کمال کا نام روشن کیا۔اللہ تعالیٰ اس خطہ کو آباد رکھے آمین.
(مستفاد :از فقہاء ہند، نزھۃ الخواطر، ماہنامہ زبان وادب، پٹنہ،جون2015، سلطان العارفين، عہد اورنگزیب میں علماء کی خدمات، ماہنامہ سہیل، گیا 1968. مآثر عالمگیری، فتاویٰ عالمگیریہ کے مرتبین بہار)
بندہ محمد خالد حسین نیموی قاسمی صدر جمعیت علماء بیگوسرائے بہار ورکن الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین
















