اعلامیہ اجلاس مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند منعقدہ ۳۰-۳۱ اکتوبر ۲۰۲۶ء بمقام نوح، میوات، ہریانہ
میوات وہ تاریخی سرزمین ہے جہاں سے کبھی دعوت و تبلیغ کی صدائیں بلند ہوئی تھیں۔ آج اسی سرزمین سے ہم رسولِ رحمت، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغامِ امن و سلامتی عام کرنے کا عہد کر رہے ہیں۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ I Love Muhammad کا نعرہ I Follow Muhammad کے بغیر ادھورا ہے۔ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی تقاضا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی بجا آوری، عدل و انصاف، عفو و درگزر اور تمام انسانوں کے ساتھ رحمت اور خیر خواہی ہے۔
جمعیۃ علماء ہند ہر طرح کی فرقہ پرستی کو ملک کے لیے نقصان دہ اور خطرناک سمجھتی ہے۔ جمعیۃ کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے جس طرح ہندو فرقہ پرستی کی مذمت کی، اسی طرح وہ مسلم فرقہ پرستی کی بھی ڈٹ کر مخالفت کرتی رہی ہے۔ کیوں کہ اس کی نظر میں اقلیتی فرقہ پرستی کے رجحان سے اکثریتی فرقہ پرستی کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے۔ اور یہ دونوں طبقے اگرچہ باہم متعارض ہوں لیکن دراصل ایک دوسرے کے معاون قرار پاتے ہیں۔ اس لیے جمعیۃ علماء ہند فرقہ بندی کے بجائے قومی اتحاد کا پیغام دیتی ہے، اسی میں ملک و ملت کی بھلائی مضمر ہے۔
جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ اپنے ہم وطنوں کے درمیان اتحاد، باہمی احترام اور مشترکہ قومی زندگی کی وکالت کی ہے۔ مذہب کے نام پر ملک کو تقسیم کرنا نہ کل ہمارے لیے قابلِ قبول تھا، نہ آج ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔
جمعیۃ علماء ہند کے کارکنان اور وابستگان کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ہماری شناخت صرف مسلمانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیم کی نہیں ہے۔ ہماری اصل فکری بنیاد رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تعلیمات ہیں جو پوری انسانیت کے لیے رحمت، عدل اور خیر خواہی کا پیغام دیتی ہیں۔
ہم ملک کے ہر مظلوم، محروم اور کمزور انسان کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ کسانوں کے جائز مطالبات، طلبہ کے حقوق، دلتوں کے مسائل اور دیگر اقلیتوں کی آواز ہماری آواز ہے۔ آئیے، آج ہم عہد کریں کہ ہم سب کے لیے کھڑے ہوں گے اور انصاف کی ہر جدوجہد میں مظلوموں کا ساتھ دیں گے۔
ہم اپنی نئی نسل کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مایوسی، خوف اور بزدلی مومن کا شیوہ نہیں۔ بہادری، شجاعت، غیرت، حوصلہ اور ثابت قدمی ہماری دینی و ملی روایت ہے۔ ظلم کے سامنے سر جھکانا نہیں بلکہ حکمت اور جرات سے اس کا مقابلہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو خوف سے مرعوب نہ ہو، اشتعال میں بے قابو نہ ہو، کسی حال میں بے قابو نہ ہو، ظلم کے آگے جھکے نہیں اور حق و انصاف کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار رہے۔
















