محمد یاسین جہازی
جمعیت علمائے ہند کی گائے کی قربانی اور ذبیحہ سے متعلق ایک صدی کا کردار
بیسویں صدی کے آغاز میں جب تحریکِ آزادی کے لیے ہندو مسلم اتحاد کی راہیں تلاش کی جا رہی تھیں، تو گائے کی قربانی اور ذبیحہ کا قضیہ ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آیا۔ اس نازک موڑ پر جمعیت علمائے ہند نے شریعت کے تحفظ، شہری آزادی اور باہمی رواداری کا متوازن راستہ اختیار کیا کہ مسلمان شرعاً جائز جانوروں کی قربانی کا حق رکھتے ہیں، لیکن اس حق کو اشتعال انگیزی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
22؍اگست 1920ء کو حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے فتوے کی صورت میں بنیادی رہنمائی دی کہ اصل ترجیح اسلام اور ملک کے بڑے دشمن کا مقابلہ کرنا ہے ؛ اگر برادرانِ وطن گائے کی قربانی روکنے پر اصرار نہ کریں، تو مسلمان از خود دوسرے جانور ذبح کر سکتے ہیں، لیکن دباؤ اور رکاوٹ کی صورت میں اپنے شرعی استحقاق سے پیچھے نہیں ہٹیںگے۔ اس کے بعد 13؍جولائی 1923ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کے اجلاس نے یہ اصولی موقف طے کیا کہ ہر مسلمان کو شریعت کے دائرے میں اپنی پسند کا جانور منتخب کرنے کا حق ہے ، البتہ قربانی میں ریا کاری، نمائش اور اشتعال انگیزی شرعاً ممنوع ہے۔
ستمبر 1924ء میں ملک گیر فسادات کے بعد جب مہاتما گاندھی نے دہلی میں اکیس روزہ برت رکھا ، تو مولانا محمد علی جوہرؒ کی دعوت پر سنگم تھیٹر میں پنڈت موتی لال نہرو کی صدارت میں 26 ستمبر تا 2؍اکتوبر 1924ء ’’ملاپ کانفرنس‘‘ ہوئی۔ اس کانفرنس میں صدر جمعیت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ نے پنڈت مدن موہن مالویہ کی اس مصالحتی قرارداد پر اتفاق کیا کہ ’’جہاں پہلے سے قربانی کا رواج ہے وہاں نہ روکی جائے اور جہاں نیا آغاز ہو وہاں نہ کی جائے ۔‘‘
اس کے بعد جب 29؍اکتوبر 1925ء کو ریاست میسور کے مہاراجہ کرشنا راجا وڈیار چہارم نے ذبیحہ پر پابندی کا فرمان جاری کیا، تو ناظم عمومی مولانا احمد سعیدؒ نے تار بھیج کر اسے مسلمانوں کی صریح حق تلفی قرار دیتے ہوئے منسوخی کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح جون 1927ء (بالخصوص 18 جون) میں دہلی کے ڈپٹی کمشنر نے بقرعید کے موقع پر حوض قاضی اور گلی بتاشہ جیسے قدیم علاقوں میں گائے کی قربانی پر پابندی لگائی اور جانور ضبط کیے ، جس پر مولانا احمد سعیدؒ نے وائسرائے لارڈ ارون کو یکے بعد دیگرے تار بھیجے اور قانونی چارہ جوئی کا انتباہ دیا۔
7 تا 22؍ستمبر 1927ء کو شملہ اتحاد کانفرنس میں مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا حسین احمد مدنیؒ اور حکیم اجمل خانؒ نے مسلمانوں کے 12؍مطالبات میں ذبیحہ کا حق شامل رکھا، لیکن ہندو نمائندوں کے اصرار کی وجہ سے یہ کانفرنس بے نتیجہ رہی۔ اس کے بعد 28-27؍اکتوبر 1927ء کو کلکتہ اتحاد کانفرنس نے طے کیا کہ مسلمانوں کو کھلی جگہوں، شاہراہوں اور مندروں کے سامنے نمائش کیے بغیر ذبیحہ کی مکمل آزادی ہوگی۔ 2 تا 5؍دسمبر 1927ء کو پشاور میں جمعیت کے آٹھویں اجلاسِ عام کے خطبۂ صدارت میں حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے اس فیصلے کا گہرا علمی تجزیہ کیا اور دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ملک میں امن صرف استیفائے حق یا مساوی رواداری کے اصول پر ہی ممکن ہے ؛ اگر ہندوؤں کو سڑکوں پر باجے کا حق ہے تو مسلمانوں کو بھی گائے کے ذبیحے اور قربانی کا برابر حق حاصل ہے۔
26؍مئی 1928ء کو دہلی، جودھپور اور پنجاب میں گائے کے ذبیحہ پر دوبارہ رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جس پر مولانا احمد سعیدؒ نے وائسرائے اور جودھپور کے مہاراجہ امید سنگھ کو تار بھیج کر کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ اسی سال 16 اور 17؍جون 1928ء کی درمیانی شب مسجد فتح پوری دہلی میں حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی صدارت میں ایک جلسۂ عام ہوا، جس میں مولانا احمد سعیدؒ، مولانا مظہر الدینؒ، امام جامع مسجد دہلی اور حافظ رحیم الدینؒ نے گائے کے حوالے سے موضع سوختہ (گوڑگانوہ)، جنگ پورہ دہلی اور جودھپور کے مظالم کے خلاف چار اہم تجاویز منظور کرائیں۔
اس کے جب 16؍اگست 1928ء کو نہرو رپورٹ شائع ہوئی، تو مسلم حقوق کے تحفظ کی عدم موجودگی پر 27؍اگست 1928ء کو مجلس عاملہ نے اسے مسترد کرتے ہوئے آئین میں ذبیحہ گاؤ کی آزادی کی دفعہ شامل کرنے کی شرط رکھی۔
موضع کڑاؤلی (فرید آباد) میں 20؍جولائی 1929ء کے پرتشدد واقعے کے بعد مولانا احمد سعیدؒ، مولانا بشیر احمدؒ اور مولانا حفظ الرحمانؒ کی مساعی سے پنجاب حکومت پر دباؤ ڈالا گیا اور 12-11؍اگست 1929ء کے اجلاس میں ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی تجویز منظور کی گئی۔
17؍جنوری 1930ء کو باڑہ ہندو راؤ سے جامع مسجد دہلی تک مولانا مفتی کفایت اللہؒ، مولانا احمد سعیدؒ اور مولانا حسین احمد مدنیؒ کی قیادت میں نکلنے والے جلوس نے اسمبلی میں پیش کردہ ’’تحفظِ مویشیان بل‘‘ کے خلاف زبردست احتجاج کیا؛ مولانا احمد سعیدؒ نے واضح کیا کہ معاشی مسائل کی آڑ میں شریعت پر حملہ قبول نہیں، جس کے نتیجے میں 22؍جنوری 1930ء کو راجہ رگھونندن پرشاد کا پیش کردہ بل اسمبلی میں 34 کے مقابلے 47 ووٹوں سے گر گیا۔ 12؍جولائی 1930ء اور 8؍جون 1931ء کو ریاست میسور کے انسدادِ گاؤ کشی قانون کے خلاف مولانا احمد سعیدؒ نے دیوان سر مرزا اسماعیل ، یا مہاراجہ کو احتجاجی تار بھیجے۔ اپریل 1934ء میں اجودھیا کی بابری مسجد اور محلہ شاہ جہاں پور کے فساد کی حضرت مفتی کفایت اللہؒ نے خود 18اپریل1934ء کو موقع پر پہنچ کر تحقیقات کیں اور یک طرفہ گرفتاریوں پر 19-18؍اپریل 1934ء کی عاملہ میں آواز اٹھائی۔
8؍مارچ 1935ء کو اجودھیا میں گائے کی قربانی پر لگی پابندی کے خلاف حضرت مفتی کفایت اللہؒ نے گورنر یوپی سر ہیری گراہم ہیگ کو تار ارسال کیا۔
اس کے بعد 30؍اگست 1937ء کو مدراس اسمبلی میں کانگریسی ممبر گھنشیام گپتا کے امتناعِ ذبیحہ بل پر مولانا احمد سعیدؒ نے وزیر اعظم سی راج گوپال آچاری کو تار دیا، جس پر وہ بل رکوا دیا گیا؛ بعد ازاں 24؍ستمبر 1937ء کو مولانا موصوف نے ہندو سبھا متھرا کے صدر ڈاکٹر ورشوپال شرما کے خط کا دلائل کے ساتھ جواب دیتے ہوئے اس کی معاشی اہمیت ثابت کی۔
4؍جون 1938ء کوہندو مسلم اتحاد کے مطالبات کی فہرست میں مسلم لیگ کی عاملہ نے بھی جناح کے 12مطالبات میں ذبیحہ گاؤ کی اجازت کو شامل کیا۔
24 تا 27؍جنوری 1942ء کو ضلع گورکھپور کے موضع بھٹئی اور اعظم گڑھ کے موضع حسین آباد میں بقرعید 1941ء کے فسادات کی تحقیقات مولانا سید حسین احمد مدنیؒ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے خود کیں اور اسے برطانوی حکومت کی تفرقہ انگیز پالیسی قرار دیا۔ 20 تا 22؍مارچ 1942ء کو تیرھویں اجلاسِ عام کی ایک تجویز میں ریاست کشمیر میں گائے کے ذبح پر 81؍فی صد مسلم آبادی کو دی جانے والی سزاؤں پر احتجاج کیا گیا۔ 29؍جولائی 1942ء کو ریاست دیواس جونیئر کی جانب سے بھینس اور پاڑے کے ذبیحے پر پابندی کے خلاف مفتی کفایت اللہؒ نے گیارہ مفتیانِ کرام (مولانا محمد شفیق، مولانا سجاد حسین، مولانا عتیق الرحمان عثمانی، مولانا ادریس وغیرہ) کی تائید کے ساتھ فتویٰ دیا کہ یہ مسلمانوں کے غذائی اور مذہبی معاملات میں صریح مداخلت ہے ، جس کے خلاف جدوجہد لازم ہے۔
آزادی کے بعد، جب 6؍اکتوبر 1949ء کو پولیس نے بقرعید کے اشتہار کو بنیاد بنا کر دارالعلوم دیوبند کی تلاشی لی، تو ناظم عمومی مولانا محمد حفظ الرحمان سیوہارویؒ نے وزیر اعلیٰ یوپی گووند ولبھ پنت کو احتجاجی خطا لکھ کر دارالعلوم دیوبند کے وقار کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
18؍ستمبر 1950ء کو یوپی کے حکام کی جانب سے مرادآباد اور بہرائچ میں گائے کے علاوہ بھینس اور کٹڑے کی قربانی پر عائد پابندی کو مولانا حفظ الرحمانؒ نے غیر آئینی قرار دیا۔ 27؍ستمبر 1950ء کو موضع چلمل (بھاگلپور، بہار) میں گائے کی ہڈیوں کی افواہ پر بارہ مسلمانوں کی شہادت پر مولانا محمد میاںؒ اور مولانا نورالدین بہاریؒ نے 10؍اکتوبر1950ء کو تحقیقات کیں، اور مولانا حفظ الرحمانؒ نے 12؍اکتوبر 1950ء کو یہ رپورٹ وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو پیش کی۔
29؍نومبر 1953ء کو ناگپور پریس کانفرنس میں مولانا حفظ الرحمانؒ نے واضح کیا کہ گائے کے حوالے سے مسلمانوں پر زبردستی قدغن نہ لگائی جائے ، البتہ حکومت کا کوئی عمومی قانون ہو تو الگ بات ہے۔
13-11؍فروری 1955ء کو مجلس عاملہ میں مولانا سید شاہد فاخریؒ کے استفسار پر مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے فرمایا کہ گائے ذبح کرنا واجب نہیں، لیکن اقتصادی لحاظ سے مفید ہے ، اور حکومت کی جبری بندش کے خلاف ہیں۔ 18 تا 24؍اکتوبر 1955ء کو کاسگنج (یوپی) میں بچھڑے کے ذبیحے کی سازش اور چودھری مہدی حسن پر جھوٹے الزام کے بعد مولانا محمد قاسمؒ، مولانا ابوالبیانؒ، مولانا عبدالرؤفؒ اور مرکزی وفد کے مولانا فقیہ الدینؒ و مولانا انیس الحسنؒ نے صورتِ حال کا جائزہ لے کر حقائق سامنے لائے۔
28؍فروری 1965ء کوگائے ذبیحہ کا الزام لگا کر جانکی نگر ہاٹ (پورنیہ، بہار) میں 60؍مسلم گھرانوں کی تباہی پر مولانا محمد وحید الدین قاسمیؒ نے 13؍مارچ1965ء کو وزیر اعظم لال بہادر شاستری کو مکتوب بھیج کر کارروائی کا مطالبہ کیا۔
7؍اکتوبر 1966ء کو ناظم عمومی مولانا اسعد مدنیؒ اور مولانا وحید الدین قاسمیؒ نے اکولہ اور باسم (مہاراشٹر) کا دورہ کر کے جمعہ کے وقت انسدادِ گاؤ کشی جلوس کے ذریعے کی گئی غارت گری کو طشت از بام کیا۔
9؍جون 1968ء کو اورنگ آباد فساد کے سلسلے میں مولانا اسعد مدنیؒ نے مرکزی وزیر داخلہ وائی بی چوہان سے ملاقات کی۔
عہد حاضر میں، 9؍ مارچ 2003ء کے ستائیسویں اجلاس عام کی منظور کردہ تجویز نمبر 15 کے ذریعے گئو کشی کے نام پر مسلمانوں کے خلاف چلائی جانے والی مہم کو بے بنیاد قرار دیا گیا اور واضح کیا گیا کہ گوشت و چمڑے کی تجارت میں بڑی تعداد برادرانِ وطن کی ہے۔
2؍جولائی 2008ء کو مولانا حیات اللہ قاسمی کی قیادت میں جمعیت کے بارہ رکنی وفد نے بلند شہر کے قصبہ ککوڑ کے فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔وفد کی رپورٹ میں سنپیڑہ گاؤں میں ٹرک میں گائیں ذبح کرکے اور گوشت ککوڑ چوراہے پر پھینک کر مسلمانوں کے خلاف اشتعال پھیلانے کا الزام سامنے آیا؛ جمعیت نے فسادیوں کے خلاف کارروائی اور متاثرین کے نقصانات کی تلافی کا مطالبہ کیا۔
7-6؍مارچ 2011ء کو مجلس منتظمہ نے گئو رکشا کے نفرت انگیز پمفلٹوں پر تشویش جتائی۔ 4؍مارچ 2015ء کو مہاراشٹر میںحکومت نے بیل اور سانڈ کے ذبیحے پر پابندی عائد کی، جس پر 15-14؍مئی 2015ء کو مجلس عاملہ نے کسانوں اور مزدوروں کی بے روزگاری کے تناظر میں شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
18؍جنوری اور 29؍جولائی 2016ء کو دادری، مدھیہ پردیش اور دیگر مقامات پر گائے کے بہانے ہجومی تشدد کے خلاف بیانات جاری ہوئے ،جب کہ 9؍ستمبر 2016ء کو مولانا حکیم الدین قاسمی اور مولانا یحییٰ کریمی کی قیادت میں میوات میں نام نہاد گئو رکشکوں کی طرف سے بریانی چیکنگ اور ہراسانی کے خلاف ڈی سی کو میمورنڈم دیا گیا۔ 13؍نومبر 2016ء کو تینتیسویں اجلاس عام میں گئو رکشکوں کے تشدد پر لگام لگانے کا مطالبہ کیا گیا۔
یکم اپریل 2017ء کو گائے خرید کر واپس آتے ہوئے الورکے قریب پہلو خان کی شہادت کے بعد 12؍اپریل 2017ء کو جمعیت کے وفد نے جے سنگھ پور پہنچ کراہل خانہ سے ملاقات کی اور مقدمہ لڑنے کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں 3؍مئی 2017ء کو راجستھان ہائی کورٹ نے عظمت خان وغیرہ کی گرفتاری پر روک لگائی۔اس کے 29-28؍اکتوبر 2017ء کو امن و ایکتا سمیلن میں صدرجمعیت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوریؒ اور ناظم عمومی مولانا محمود مدنی نے ہجومی حملوں کے خلاف سخت قوانین بنانے کا مطالبہ کیا۔
10؍نومبر2017ء کو عمر خان کو گاؤ رکشکوں کے حملے میں قتل کردیا گیا۔ 23؍نومبر 2017ء کو جمعیت نے ان کے مقدمے کی پیروی کرنے کا فیصلہ کیا اور 9؍فروری 2018ء کو ان کے ساتھی جاوید کو ضمانت دلانے میں کامیابی حاصل کی۔
21؍جولائی 2018ء کو گائے کے نام پراکبر خان کے ہجومی قتل پر مولانا محمود مدنی نے سپریم کورٹ کی روشنی میں سخت قانون کا مطالبہ کیا، جب کہ 5؍دسمبر 2018ء کو بلند شہر میں انسپکٹر کے قتل پر مولانا قاری محمد عثمان منصورپوریؒ نے حکومت کی سست روی کی مذمت کی۔ 12؍ستمبر 2019ء کو منعقد اجلاس میں مولانا محمود اسعد مدنی نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے مکالمے اور سماجی رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔ اورگئو کشی جیسے نزاعی مسائل سلجھانے کے لیے ’’جمعیت سدبھاؤنا منچ‘‘ قائم کرنے کی تجویز منظور کی گئی۔
10 تا 14؍جولائی 2021ء کو کالول (گجرات) میں گائے کے گوشت کے شبہ میں معمر شخص پر تشدد اور 110؍افراد کی گرفتاری پر وزیر اعلیٰ وجے روپانی سے داد رسی کی اپیل کی گئی، جب کہ 17؍ستمبر 2021ء کو گجرات میں زیرِ حراست قاسم عبداللہ حیات کی موت پر ملوث پولیس اہل کاروں پر قتل کے مقدمے کا مطالبہ کیا گیا۔
22؍جون 2024ء کو چھتیس گڑھ کے ارنگ میں گائے کے نام پر شہید کیے گئے تین نوجوانوں (گڈو، چاند، صدام) کے لواحقین سے ملاقات کر کے قانونی لڑائی لڑنے کا اعلان کیا۔
28؍جنوری 2025ء کو پلول میں دودھ کی گائے لے جاتے ہوئے شہید کیے گئے محمد یوسف کے گھر مولانا یحییٰ کریمی اور قاری اسلم نے پہنچ کر دادرسی کی، اور 25؍مئی 2025ء کو علی گڑھ میں گوشت تاجروں پر تشدد کے بعد جمعیت نے متاثرین کے علاج اور قانونی کارروائی کا اعلان کیا۔ بالآخر 18؍اکتوبر 2025ء کو الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے (راہل یادو بنام اترپردیش) کا خیر مقدم کرتے ہوئے صدرجمعیت مولانا محمود مدنی نے مطالبہ کیا کہ تحسین پونا والا کیس (2018ئ) کی روشنی میں گئو رکشا کے نام پر ہونے والے ہجومی تشدد کی روک تھام کے لیے سپریم کورٹ کی تمام ہدایات پر فی الفور مکمل عمل درآمد کیا جائے۔
اس تاریخی تسلسل سے واضح ہوتا ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے گائے کے ذبیحے کے مسئلے پر محض بیانات جاری نہیں کیے ، بلکہ مختلف ادوار میں مجلس منتظمہ اور مجلس عاملہ کی قراردادوں، اجلاس ہائے عام، احتجاجی تاروں اور خطوط، تحقیقاتی وفود، حکومتی نمائندوں سے ملاقاتوں، متاثرین کی اعانت اور قانونی پیروی کے ذریعے اپنا کردار ادا کیا۔ اس جدوجہد میں مذہبی آزادی اور شہری حقوق کا تحفظ، معاشی زندگی کی بقا، قانون کی بالادستی، ہجومی تشدد کی مخالفت اور ہندو مسلم ہم آہنگی کا فروغ بنیادی اصول پیش نظر رہے۔















