نظامِ تعلیم
میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے میں ان دانش وروں کی تعریف و تحسین کرسکوں،جو ہندستان میں نظامِ تعلیم کے ذمہ دار ہیں۔ پچیس برس گزر گئے؛ مگر تعلیم کا ڈھانچہ جس طرح پہلے غیر متوازن تھا، Èج بھی وہ اسی طرح ناہموار ہے۔
ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہونی چاہیے، یہ تقاضائے فطرت ہے اور اسی میں سہولت اور کامیابی ہے؛ کیوںکہ مادری زبان میں بچّہ بات کو بے تکلف سمجھتا ہے اور تھوڑے سے وقت میں زیادہ معلومات حاصل کرلیتا ہے۔ مگر ہندستان میں کروڑوں ہندو، مسلمان ہیں ،جن کی مادری زبان اُردو ہے۔ ان کے لیے اس سہولت کو حاصل کرنا روز بروز مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔
یہ تو وہ پریشانی ہے جس کا تعلّق زیادہ تر مسلمان بچوں سے ہے۔ اس کے علاوہ ایک وہ پریشانی ہے، جس کا تعلّق ہر ہندستانی بچہ سے ہے۔ یہ نصاب کی غیر معمولی طوالت ہے۔ بچوں کے ابتدائی درجات میں بچوں کی صلاحیت اور برداشت کا لحاظ کیے بغیر ایسے مضامین بھردیے گئے ہیں کہ ان سب پر حاوی ہونا نہ صرف بچوں کے لیے؛ بلکہ بڑوں کے لیے بھی بہت مشکل اور تقریباً ناممکن ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے۔ ’’من طمع الکل فات الکل‘‘یعنی جو حرص کرتا ہے کہ بیک وقت سب کچھ حاصل کرلے، وہ کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتا۔ ظاہر ہے جب ابتدائی تعلیم ناقص ہو،تو انتہائی تعلیم بھی ناقص ہوگی۔ ؎
خشتِ اوّل چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رَوَدْ دیوار کج
ماخوذ از خطبۂ صدارت تئیسواں اجلاس عام منعقدہ: 5-6-7؍مئی 1972ء، صدر اجلاس حضرت مولانا عبدالوہاب آروی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند
















