تعلیم میں تفریح کی آڑ میں تعلیم کا زوال
از قلم مدثراحمد شیموگہ ۔9986437327
تعلیم کا مقصد صرف کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ بچوں کی صلاحیتوں کو ابھارنا، علم میں اضافہ کرنا اور ان میں سیکھنے کی دلچسپی پیدا کرنا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اسکولوں میں یہ کام بڑی اچھی طرح ہوتا تھا۔ سالانہ بنیاد پر طلباء کو تعلیمی اور تفریحی دوروں پر لے جایا جاتا تھا۔ یہ دورے تاریخی مقامات، سائنسی مراکز، فیکٹریوں اور ایسے جگہوں کے ہوتے تھے جہاں بچے نئی باتیں سیکھتے، اپنے علم کو بڑھاتے اور مستقبل کے لیے تیار ہوتے۔ اس سے طلباء میں تعلیم کی طرف رغبت بڑھتی تھی اور وہ عملی طور پر چیزوں کو سمجھتے تھے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج یہ سب کچھ بدل چکا ہے۔ اب اسکول اور کالج ان مفید جگہوں کو نظر انداز کر کے صرف تفریحی پارکوں، ناچ گانے کی جگہوں جیسے ونڈرلا، فن ورلڈ اور واٹر ورلڈ جیسے مقامات پر لے جاتے ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف غلط ہے بلکہ ہماری نئی نسل کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔اب دیکھیں کہ اس تبدیلی کی وجہ سے کیا ہو رہا ہے۔ طلباء کو تعلیم کی بجائے صرف تفریح اور انٹرٹینمنٹ کی عادت پڑ رہی ہے۔ وہ پارکوں میں کھیلتے، پانی میں کودیں اور گانے بجانے میں وقت ضائع کرتے ہیں، لیکن ان کی ذہنی نشوونما کچھ نہیں ہوتی۔ یہ دورے تعلیم کو فروغ دینے کی بجائے بچوں کو سستی اور کاہلی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اسکولوں میں اب فلمی ڈانس، فیشن شو اور ناچنے کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں جو بالکل غیر ضروری ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر لگتا ہے کہ ہماری تعلیمی ادارے تعلیم دینے کی بجائے تفریحی کلب بن گئے ہیں۔ یہ رجحان سخت مذمت کے لائق ہے کیونکہ یہ نئی نسل کو کمزور کر رہا ہے۔ اگر بچے سائنس اور ٹیکنالوجی کی بجائے صرف ناچ گانے میں دلچسپی لیں گے تو ہمارا ملک ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔اب ذرا دوسرے ممالک کی طرف دیکھیں تو فرق واضح ہو جاتا ہے۔ جاپان، چین، کوریا اور یورپ کے کئی ممالک میں بچوں کو بچپن سے ہی سائنس، ٹیکنالوجی، لائف سائنسز اور عملی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں۔ وہاں اسکول دورے سائنسی لیبارٹریوں، فیکٹریوں اور تحقیقاتی مراکز کے ہوتے ہیں۔ بچے روبوٹ بنانا، کمپیوٹر پروگرامنگ اور ماحولیات کی حفاظت سیکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ ممالک تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور ان کے بچے دنیا میں سب سے آگے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں کیا ہو رہا ہے؟ طلباء کو فیشن شو اور ڈانس مقابلوں میں الجھایا جا رہا ہے۔ یہ فرق دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہماری تعلیمی نظام اس قدر کمزور اور غلط سمت میں جا رہا ہے کہ یہ ہمارے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ یہ تنقید نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔اس رجحان کے نتائج بہت خطرناک ہیں۔ طلباء میں تعلیمی دلچسپی ختم ہو رہی ہے، وہ پڑھائی کو بوجھ سمجھتے ہیں اور تفریح کو سب کچھ۔ نتیجہ میں ہمارے نوجوان بے روزگار اور کمزور ذہن کے مالک بن رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہمارا ملک پسماندہ رہے گا اور دوسرے ممالک کی غلامی میں پھنس جائے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اصلاح کی جائے۔ اسکولوں کو چاہیے کہ وہ تعلیمی دوروں کو دوبارہ مفید بنائیں۔ تاریخی مقامات، سائنسی مراکز اور انڈسٹریوں کے دورے لازمی کیے جائیں۔ مقابلوں میں سائنس پروجیکٹس، ٹیکنالوجی ورکشاپس اور مہارتوں کی تربیت شامل کی جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ تعلیمی پالیسیاں سخت بنائے اور اسکولوں پر نگرانی کرے۔ والدین بھی اپنے بچوں کو تفریح کی بجائے تعلیم کی طرف راغب کریں۔ اگر ہم اب نہیں بدلیں گے تو کل پچھتائیں گے۔خلاصہ یہ ہے کہ تعلیم تفریح کی غلام نہیں بلکہ ترقی کی بنیاد ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام کو سخت اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ ہماری نئی نسل مضبوط اور علم سے بھرپور بنے۔ یہ وقت کی پکار ہے کہ ہم غلط رجحانات کو روکیں اور اصل تعلیم کی طرف لوٹیں۔ صرف اسی طرح ہمارا ملک ترقی کی راہ پر چل سکتا ہے۔

















