جمعہ, فروری 13, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑجائیں گی

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال خط نمبر تین

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا خط نمبر دو

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا پہلاخط

    غالب نامہ کا متن

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کے خدو خال

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑجائیں گی

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال خط نمبر تین

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا خط نمبر دو

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا پہلاخط

    غالب نامہ کا متن

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کے خدو خال

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

همیں خود اپنا احتساب كرنا چاهئے!

by Md Yasin Jahazi
جنوری 8, 2026
in اسلامیات
0
الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات
0
SHARES
14
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بسم الله الرحمٰن الرحیم

شمع فروزاں2026.01.09

مولانا خالد سیف الله رحمانی

درخت جب اندر سے کھوکھلا ہو کر سوکھ جائے تو اس کو گرانے میں نہ دیر لگتی ہے اور نہ دشواری پیش آتی ہے ، درخت کاٹنے والا بہت آسانی سے اور کم وقت میں اس کو کاٹ دیتا ہے ؛ بلکہ جڑیں تک اکھیڑ دیتا ہے ، یہی حال قوموں اور گروہوں کا ہے ، جو قوم خود اپنے نظریہ پر عمل نہیں کرتی ، جو گروہ خود اپنے اُصول پر عمل پیرا نہیں ہوتا ، جس کے قول و فعل میں کھلا ہوا تضاد ہوتا ہے ، جو الفاظ کے دریا تو بہا سکتا ہے ؛ لیکن عملی دنیا میں اس کی بساط ایک قطرہ سے زیادہ نہیں ہوتی ، وہ قوم اپنی بقاء کی لڑائی نہیں لڑ سکتی اور نہ اپنے چابک دست دشمن کا مقابلہ کرسکتی ہے ، قرآن مجید نے یہودیوں کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے یہی بات کہی ہے کہ ان کے قول وفعل میں یکسانیت نہیں ہے ۔اس وقت مسلمان اسی صورت حال سے دوچار ہیں ، وہ دشمنوں کی دشمنی کا رونا روتے ہیں ؛ لیکن حقیقت میں یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا رونا رویا جائے ، جن لوگوں کو آپ کی فکر، آپ کے عقیدہ ، آپ کے طرزِ زندگی ، آپ کی تہذیب و ثقافت ، آپ کے تاریخی ورثہ ؛ یہاں تک کہ آپ کے وجود اور آپ کے نام سے بھی نفرت ہے ، ان سے اس بات کے سوا اور کس بات کی توقع رکھی جاسکتی ہے ؛ ان سے یہ اُمید رکھنا کہ وہ آپ کے دین کا تحفظ کریں گے اورآپ کی شریعت کو محفوظ رکھیں گے ، ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص آگ سے پیاس بجھانے کی اوربرف سے ایندھن کے کام آنے کی توقع رکھے ؛ اس لئے ہندوستان کے موجودہ حالات میں ضرورت ہے کہ جہاں ہم عوامی رائے عامہ کے ذریعہ پُرامن احتجاج کریں ، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمان پوری جرأت اور اعترافِ حقیقت کے ساتھ آپ اپنا محاسبہ کریں اوراپنے طرزِ عمل میں ایک بنیادی تبدیلی لائیں ۔اسلام نے نکاح کو بہت آسان رکھا ہے ، مسلمان عید ، بقرعید میں جتنا خرچ کرتے ہیں ، نکاح میں اتنا خرچ کرنا بھی ضروری نہیں ، صرف ایجاب و قبول سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے اوررسول اللہ ﷺ نے مسجد میں نکاح کرنے کی ترغیب دی ہے ، جس میں نہ کوئی کرایہ خرچ ہوتا ہے اور نہ سجاوٹ کی گنجائش ہوتی ہے ، نکاح کے ساتھ صرف ایک دعوت ، ’’دعوتِ ولیمہ‘‘ رکھی گئی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے جو سب سے قیمتی ولیمہ فرمایا وہ اس طور پر کہ ایک بکرا ذبح کیا ؛ البتہ نکاح میں ایک لازمی ذمہ داری مہر کی ہے اور اس کو عقد کے وقت ہی ادا کردینا مسنون ہے ۔لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ برادرانِ وطن کا اثر قبول کرتے ہوئے نکاح کو نہایت ہی مشکل عمل بنا دیا گیا ہے ، جس میں بعض اوقات لڑکی والے اپنا گھر تک بیچ دیتے ہیں ، لڑکی والوں پر جہیز کا بار گراں تو ہے ہی ، ایک بڑی نقد رقم کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے ، فنکشن ہال اورکھانے کے مینو تک کی تعیین ہوتی ہے اور یہ سارا بوجھ لڑکی والوں کے سر ڈالا جاتا ہے ، دوسری طرف مہر ایک رسمی چیز بن کر رہ گئی ہے ، لوگ سمجھتے ہیں کہ اگرطلاق کی نوبت آئی تب مہر ادا کیا جائے گا ، اس طرح اسلام کا تصور نکاح مسخ ہو کر رہ گیا ہے اور اس کے نتیجہ میں اُمت کی لاکھوں بیٹیاں سسک سسک کر تجرد کی زندگی گزار رہی ہیں ، اس غیر اسلامی اور غیر اخلاقی عمل پر ہمیں حکومت یا قانون نے مجبور نہیں کیا ہے ؛ بلکہ یہ ہمارا اپنا بگاڑ ہے ۔شریعت کے خاندانی زندگی سے متعلق قوانین میں مرد کو ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت دی گئی ہے ، یہ گنجائش اس لئے ؛ کہ معاشرہ میں اخلاقی پاکیزگی اور صفائی ستھرائی باقی رہے ، بہت سی دفعہ یہ اجازت ایک سماجی ضرورت بھی بن جاتی ہے ؛ لیکن قرآن نے یہ شرط بھی لگائی ہے کہ شوہر دونوں بیویوں کے درمیان عدل سے کام لے ، اگر وہ عدل قائم نہ کر سکے تو اس کے لئے دوسرا نکاح کرنے کی گنجائش نہیں ’’وَ اِنْ لم تعدلوا فواحدۃ‘‘ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ دوسری شادی کے جو واقعات پیش آتے ہیں ، ان میں نوے فیصد واقعات میں دوسرا نکاح کسی ضرورت اور سنجیدہ جذبے کے ساتھ نہیں کیا جاتا ؛ بلکہ پہلی بیوی کو تکلیف پہنچانے کے لئے انتقامی جذبہ سے کیا جاتا ہے اور انصاف کی شرط کو اس طرح بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے کہ ایک بیوی کے ساتھ تو محبوبہ اور معشوقہ کا معاملہ کیا جاتا ہے اور دوسری کو اس طرح زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ نہ اسے بیوی کے حقوق ملتے ہیں اور نہ وہ شوہر کی زندگی سے آزاد ہوتی ہے ، اس کو لٹکا کر رکھا جاتا ہے ، اس طرزِ عمل سے اسلام کی بدنامی ہوتی ہے ، لوگ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ یہ ایک درست حکم کا غلط استعمال ہے ؛ اس لئے وہ خود اسلام کو اس خدا ناترس شخص کی غلطی کا مجرم سمجھنے لگتے ہیں ؛ حالاںکہ شریعت نے نہ صرف یہ کہ عدل کی شرط کے ساتھ دوسرے نکاح کی اجازت دی ہے ؛ بلکہ اس بات کو بہتر قرار دیا گیا ہے کہ اگر ضرورت نہ ہو تو ایک ہی بیوی پر اکتفاء کیا جائے ، ایک بیوی کی موجودگی میں بلا ضرورت دوسرا نکاح کرنے سے گریز کیا جائے ۔نکاح کا رشتہ محبت و سکون کا رشتہ ہے ؛ تاکہ شوہر و بیوی پُر سکون زندگی گزار سکیں ، اسی رشتہ سے نسل انسانی کا بقاء اور خاندانی نظام کا استحکام متعلق ہے ؛ اسی لئے شریعت کا منشا یہ ہے کہ جب ایک بار رشتۂ نکاح قائم ہوجائے تو اسے استوار رکھا جائے اور حتی المقدور اس کو ٹوٹنے سے بچایا جائے ، شوہر کی طرف سے رشتۂ نکاح کے ختم کر دینے کو طلاق کہتے ہیں اور بیوی کے مطالبہ پر شوہر کے رشتہ ختم کردینے کو خلع، شریعت میں طلاق کو بھی ناپسند کیا گیا ہے ، یہاں تک کہ اس کو تمام جائز چیزوں میں سب سے مبغوض اور ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے، آپ ﷺ نے اس عورت پر بھی لعنت بھیجی ہے ، جو کسی نامعقول سبب کے بغیر خلع کا مطالبہ کرے ، پھر اگر طلاق دینی ہی پڑے تو ایک اور زیادہ سے زیادہ دو فعہ دینی چاہئے ، ایک ساتھ تین طلاقیں دینا سخت گناہ ہے ، اس سے قطع نظر کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین شمار کی جائیں گی یا ایک ؟ اس بات پر تمام ہی اہل علم متفق ہیں کہ ایک ساتھ تین طلاق دینا گناہ ہے ۔ لیکن مسلم سماج میں طلاق کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو نوے فیصد طلاق کے واقعات غصہ ، وقتی رنجش یا شوہر کے رشتہ داروں کی طرف سے چڑھانے اور اُکسانے کی بنا پر پیش آتے ہیں ، اور اس سے بھی بڑا ستم یہ ہے کہ بہت سے واقعات میں ایک ساتھ تین طلاقیں دے دی جاتی ہیں ، اسی طرح عورتوں کی طرف سے خلع کے مطالبات بعض دفعہ بہت ہی معمولی اسباب اور قوتِ برداشت کی کمی کی بنا پر کئے جاتے ہیں ، مسلمانوں کا یہ عمل برادرانِ وطن کے درمیان اسلام کی غلط تصویر پیش کرتا ہے اور یہی تصویر ذریعہ ابلاغ کے ذریعہ پھیلائی جاتی ہے ، اس میں شبہ نہیں کہ اس میں ذرائع ابلاغ کی مبالغہ آمیزی کا بھی دخل ہوتا ہے ؛ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارا سماج ہی اس کے لئے بنیاد فراہم کرتا ہے ۔شریعت ِاسلامی نے مرحومین کے ترکہ کی تقسیم کا ایک جامع ، مربوط اور عادلانہ نظام پیش کیا ہے ، اس میں کچھ رشتہ دار وہ ہیں جو’’ اصحاب الفروض‘‘ کہلاتے ہیں ، یہ وہ حضرات ہیں جن کے حصے خود قرآن مجید میں پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں ، ان میں بیٹوں کے ساتھ بیٹیاں بھی ہیں ، شوہروں کی طرح بیویاں بھی ہیں اور اولاد کی طرح ماں باپ بھی ہیں ؛ لیکن صورت حال یہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں اس تقسیم پر بہت کم عمل کیا جاتا ہے ، اکثر و بیشتر ماں باپ کے ترکہ پر بیٹے قبضہ کرلیتے ہیں ، یعنی اپنی بہنوں کو ان کے حق سے محروم رکھتے ہیں ، بعض دفعہ خود والدین کی بھی یہی سوچ ہوتی ہے کہ مکان ، کاروبار اور زمین دار گھرانوں میں زرعی اراضی پر بیٹیوں کو حق نہ دیا جائے ، انھیں تھوڑا بہت نقد رقم دے کر کہہ دیا جاتا ہے کہ ان کی شادیوں پر پہلے کافی اخراجات ہوچکے ہیں ، اسی طرح مرنے والے کا پورا ترکہ لڑکے آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں ، ماں باپ کا حصہ نہیں دیتے اور کہہ دیا جاتا ہے کہ ماں کی پرورش کے لئے ہم لوگ کافی ہیں ، اب انھیں ترکہ میں حصہ کی کیا ضرورت ہے ؟ ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں کہ اگر کوئی جواں سال یا ادھیڑ عمر شخص کا انتقال ہوگیا ، اس نے بوڑھے والدین بھی چھوڑے اور جواں بیوی اور بچے بھی ، تو بیوی بچے پورے ترکہ پر قابض ہوجاتے ہیں ، اور وہ بوڑھے ماں باپ جنھوں نے اپنے خونِ جگر سے ان کی پرورش کی تھی اور چھوٹے سے بڑا کیا تھا ، ان کو بالکل نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔یہ سب ظلم کی مختلف صورتیں ہیں ، جو ہمارے سماج کا معمول بن چکی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے میراث کو بے جا تصرف سے روکنے کے لئے صراحت فرمائی ہے کہ یہ ’’فریضۃ من اللہ‘‘ ہے یعنی یہ اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا حصہ ہے ، یہ انسان کا مقرر کیا ہوا حصہ نہیں ہے کہ اس کو اس میں کمی بیشی کا اختیار ہو ، اسلام کے علاوہ کوئی مذہب نہیں جو عورت کو حق میراث دیتا ہو ، دنیا کے دوسرے قوانین نے بھی اسلام کے قانون میراث سے استفادہ کیا ہے ؛ لیکن بجائے اس کے کہ ہم دوسروں کے لئے روشنی فراہم کرتے ، ہم نے خود اپنی زندگی میں شریعت کا چراغ بجھا دیا ہے ۔اسلام نے تقسیم میراث کی بنیاد اس اُصول پر رکھی ہے کہ قریب ترین رشتہ دار کی موجودگی میں دُور کا رشتہ دار ترکہ کا مستحق نہیں ہوگا ؛ اس لئے اگر مرنے والے کے بیٹے بھی موجود ہوں اور ایسے پوتے بھی جن کے والد دنیا سے گزر چکے ہیں تو چچائوں کے مقابلہ میں باپ سے محروم پوتوں کو ترکہ میں حصہ نہیں ملے گا ؛ لیکن شریعت نے ان کے لئے دوسرا راستہ کھلا رکھا ہے ، ایک یہ کہ دادا ترکہ سے محروم ہونے والے پوتوں کے لئے وصیت کردے ؛ تاکہ دادا کی وفات کے بعد ان کو بھی کچھ مل جائے ، اور اس ایک تہائی ترکہ تک وصیت کرنے کی گنجائش ہے ، دوسری گنجائش یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی ہی میں پوتوں کو کچھ ہبہ کردے ، اس طرح وہ اپنے ضرورت مند پوتوں ، پوتیوں اور نواسوں ، نواسیوں کی مدد کر سکتے ہیں ؛ لیکن افسوس کہ اس جانب بہت کم توجہ کی جاتی ہے ۔اسلام کا قانون نفقہ ایک جامع قانون ہے ، جو انسان کو پیش آنے والی تمام صورت حال کا احاطہ کرتی ہے ؛ اس لئے جیسے اولاد کا نفقہ باپ پر اور باپ نہیں ہو تو دادا پر واجب ہوتا ہے اور بیوی کا نفقہ شوہر کے ذمہ ہے ، اسی طرح بعض حالات میں بھائیوں ، بہنوں اور چچائوں وغیرہ پر بھی بے سہارا خواتین اور یتیم بچوں کا نفقہ واجب ہے ؛ لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ اگر کوئی عورت مطلقہ یا بیوہ ہوجائے تو بھائی سمجھتا ہے کہ اس پر اس کی بہن کے نفقہ کی ذمہ داری نہیں ، یا بچے یتیم ہوجائیں تو چچا یہ نہیں سمجھتے کہ اب ہمارے اپنے بچوں کی طرح ہمارے بھائی کے بچوں کی بھی ہم پر ذمہ داری ہے ؛ بلکہ اگر کبھی کچھ حسن سلوک کرد یا تو اس کو ایک احسان خیال کرتے ہیں ، اس کا نتیجہ ہے کہ غیرمسلم معاشرہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کے یہاں بے سہارا عورتوں اور بچوں کی کفالت و پرورش کا کوئی مستحکم نظام نہیں ہے ، غلط تصور پر مبنی اس تصویر میں میڈیا کے لوگ رنگ بھر کر اسے اور خوفناک بنادیتے ہیں اور اسلام کو نعوذ باللہ ایک بے رحم اورغیر منصف مزاج مذہب کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت عدالتیں ایسے فیصلے کر رہی ہیں جو واضح طور پر شریعت سے متصادم ہیں ؛ لیکن یہ بھی ایک سچائی ہے کہ اس کی نوبت اسی وقت آتی ہے جب خود مسلمان اپنے مقدمات سرکاری عدالتوں میں لے کر جاتے ہیں ، اپنے علماء اور قاضی و مفتی سے رُجوع کرنے کے بجائے ان لوگوں سے اپنا معاملہ طے کرانے کی کوشش کرتے ہیں جو نہ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ، نہ رسول پر ، قرآن کے بیان کے مطابق یہ ایک منافقانہ طرز عمل ہے کہ زبان سے تو ہم اللہ اور اس کے رسول کی بات مانیں اور عملی طور پر ہم اسے نظر انداز کردیں ۔اگر ہمیں ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ کرنا ہے اور اپنے دینی تشخص کو بچانا ہے تو سر کٹانے کا جذبہ کافی نہیں ، پہلے ہمیں اپنے اندر سر جھکانے کا جذبہ پیدا کرنا چاہئے ، شریعت کے احکام خواہ ہماری چاہت اور مفادات کے خلاف ہوں ؛ لیکن ہم اس کے سامنے جھک جائیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کو اپنی خواہشوں اور چاہتوں پر غالب رکھیں ؛ کیوںکہ جس قول کے پیچھے عمل کی طاقت نہ ہو ، وہ دوسروں کو قائل نہیں کرسکتا ، جو شخص اندر سے کھوکھلا ہوگیا ہو اوراس کا جسم زندگی کی حرارت سے محروم ہو ، اس کے لئے ممکن نہیں کہ وہ باہر کے دشمنوں کا مقابلہ کرسکے ۔

0 0 0_________Khalid Saifullah RahmaniGen.Secretary : Islamic Fiqh Academy,India Director : Al Mahadul A’ali Al Islami Hyderabad.E-mail :ksrahmani@yahoo.comWebsite: www.khalidrahmani.in

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post

جناب پرواز رحمانی کی وفات

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

اورنگ زیب عالمگیرؒ سچائی اور پروپیگنڈه(۲)

اورنگ زیب عالمگیرؒ سچائی اور پروپیگنڈه(۲)

4 مہینے ago

سلف صالحین سے بدگمانی سے بچیں

4 مہینے ago

مقبول

  • جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • پاکی

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.