حمد قمر الزماں ندوی مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رح اپنی نجی مجلسوں میں ،جلسوں اور تقریروں میں فرمایا کرتے تھے ،سلف پر اعتماد اور بھروسہ رکھو، ان سے بدگمانی سے بچو، ان کے بارے میں تمہارا رویہ شرح صدر اور اعتراف حق کا ہونا چاہیے، مولانا علی میاں ندوی رح قرآن مجید کی سورہ حشر کی اس آیت کی تلاوت کرتے ،، و الذین جاءو من بعدھم یقولون ربنا اغفرلنا ولاخواننا الذین سبقونا بالایمان و لا تجعل فی قلوبنا غلا للذین آمنوا ربنآ انک رؤف رحیم،، (سورہ حشر آیت 20)
اور (ان کے لیے بھی) جو ان( مہاجرین) کے بعد آئے اور دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں، گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ و حسد نہ پیدا ہونے دے ،اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے ۔
مولانا اس آیت کی روشنی میں فرمایا کرتے تھے مندرجہ بالا آیت میں مسلمانوں کی آئندہ نسلوں سے اس بات کا مطالبہ کیا جارہا ہے کہ گزشتہ نسلوں کے بارے میں ان کا رویہ شرح صدر اور اعتراف حق کا ہونا چاہیے ،صدق و اخلاص اطاعت رب، خوف و انابت ،دین کی خدمت اور اسلامی سرحدوں اور قلعوں کی پاسبانی و حفاظت کے میدان میں جو سبقت و تقدم اور فضیلت ان کو حاصل ہے ،اس کو دل سے تسلیم کرنا چاہیے ،ان کی طرف سے نئی نسلوں کے دلوں میں کوئی کینہ اور نفرت نہ ہو ،ان کی خدمت کے اعتراف میں اس کو انقباض اور تکلیف محسوس نہ ہو ،اسکی زبان ان کے لیے دعا گو اور ثنا خواں رہے ،ان کے عذر اور مجبوریاں اس کے لیے قابل قبول ہوں ،اور ان فروگزاشتوں سے جن سے کوئی فرد بشر محفوظ نہیں رہتا،در گزر سے کام لے ،اس لئے کہ جو اجتہاد کرتا ہے ،اس کے ساتھ خطا و صواب کا احتمال رہتا ہے ،گرنے کا اندیشہ اسی سے ہوتا ہے جو چلنے اور دوڑنے کا ارادہ کرے ،اس کے علاؤہ یہ بھی حقیقت ہے کہ نبی معصوم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و ہدایت کے سوا دوسرے تمام لوگوں کے احکامات و تعلیمات میں رد و قبول دونوں کی گنجائش ہے ۔
اس آیت کا ہم سے مطالبہ ہے کہ ہم سلف صالحین اور ایمان و احسان کے شعبہ کے امام و پیشوا و بزرگوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے ، ان کے بارہ میں کوئی رائے قائم کرنے اور ان پر کسی قسم کا حکم لگانے میں احتیاط سے کام لیں، اور اس میں کسی عجلت اور جذباتیت کا مظاہرہ نہ کریں،اور جب تک پوری طرح کسی مسئلہ کا اطمینان نہ ہو جائے اس پر قطعی حکم لگانے سے باز رہیں ۔ (مستفاد مقدمہ از کتاب/ تزکیہ و احسان یا تصوف و سلوک)
،،ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین آمنوا ،، اس میں ایک لطیف اس اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اپنے مقابل میں ان کے بہتر حالات دیکھ کر شیطان ہمارے دلوں میں کوئی کینہ و حسد کا جذبہ پیدا کرے ، بلکہ تو اپنی شفقت و عنایت اور لطف و کرم سے ان کے حق میں ہمارے دلوں کو مہر و محبت اور صدق و صفا سے معمور رکھنا ۔ یہاں منافقین کے دلوں کے اس روگ پر نظر رہے جو اوپر شح کے لفظ سے بیان ہوا ہے ، مطلب یہ ہے کہ ان اصحاب صدق و صفا کے دل ہر قسم کے امراض سے بالکل پاک صاف ہیں ۔
اس آیت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت کا واجب ہونا ثابت ہوتا ہے اور یہ تعلیم بھی ملتی ہے کہ مشاجرات صحابہ کے موضوع پر سکوت اختیار کرنا چاہیے اور صحابہ میں سے کسی کے لیے بھی دل میں کینہ و بغض نہیں رکھنا چاہیے ۔
تاریخ شاہد ہے کہ جن لوگوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر انگلیاں اٹھائیں ، ان کو مطعون کیا ، ان کے بارے بے اعتمادی برتی اور مشاجرات صحابہ کے موضوع پر قلم اٹھایا اور ان کے بارے میں فیصل اور حاکم بن گئے، امت نے ان سب کو دھتکار دیا اور وہ سب دنیا والوں کی نظروں میں بھی بے حیثیت اور ڈش ویلو ہوگئے ،آخرت کا حال اور علم تو بس اللہ کو ہے ۔
یہ آیت اصلا تو مہاجرین متاخرین کی تحسین میں ہے کہ انصار و مہاجرین کا رویہ بیان کرنے کے بعد متاخرین کا رویہ بیان کیا گیا ہے کہ ان کے دلوں میں اپنے سابق الایمان اور سابق الھجرت بھائیوں کے لیے بڑا اخلاص اور بڑی محبت ہے ، ان کو یہ حسد نہیں ہے کہ انہوں نے پہلے پہنچ کر تمام میسر وسائل و اسباب پر قبضہ جما لیا اور گھر در والے بن گئے ،جب کہ یہ ابھی ہر چیز سے محروم ہیں، بلکہ یہ نہایت اخلاص کے ساتھ اپنے اور اپنے ان بھائیوں کے لیے دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم کو بھی بخش اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش جن کو ایمان و ہجرت میں ہم پر سبقت کی سعادت حاصل ہوئی اور اے ہمارے رب ہمارے دلوں کے اندر ہمارے با ایمان بھائیوں کے خلاف کوئی کدورت نہ پیدا ہونے دے ،اے ہمارے رب تو نہایت شفیق و مہربان ہے ۔
یہ آیت کریمہ صرف صرف خیر القرون کے لیے ہی گائڈ لائن اور رہنما اصول نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے لیے اصول بیان کر دیا گیا کہ خلف اپنے سلف کے بارے میں اچھا گمان رکھیں ، ان کے بارے میں بلا تحقیق کے بدگمانی کا شکار نہ ہوں اور ان کی نجات اور اپنی نجات کے لیے دعا کرتے رہیں اور ان کےبارے میں دل صاف رکھیں ، کسی مسلمان کے دل میں کسی دوسرے مسلمان کے لئے بعض نہ ہونا چاہیے اور مسلمانوں کے لیے صحیح روش یہ ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے بارے میں دعائے مغفرت کرتے رہیں ،نہ کہ ان پر لعنت بھیجیں اور تبرا کریں ۔ مسلمانوں کو جس رشتہ نے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا ہے وہ در اصل ایمان کا رشتہ ہے ۔اگر کسی شخص کے دل میں ایمان کی اہمیت دوسری تمام چیزوں سے بڑھ کر ہو تو لا محالہ وہ ان سب لوگوں کا خیر خواہ ہوگا جو ایمان کے رشتہ سے اس کے بھائی ہیں، ان کے لیے بد خواہی اور بعض و نفرت اس کے دل میں اسی وقت جگہ پاسکتی ہے، جبکہ ایمان کی قدر ان کی نگاہ میں گھٹ جائے اور کسی دوسری چیز کو وہ اس سے زیادہ اہمیت دینے لگے ۔لہذا عین ایمان کا تقاضا ہے کہ ایک مومن کا دل کسی دوسرے مومن کے خلاف نفرت و بغض سے خالی ہو ۔
(مستفاد از کتب تفسیر)
غرض یہ آیت ایک عظیم دعائیہ جملہ ہے، جو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زبان سے نکلا، اور قرآن نے اسے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ اس میں وہ اللہ تعالیٰ سے دلوں کی پاکیزگی، باہمی محبت، اور مسلمانوں کے درمیان اخوت کی دعا کر رہے ہیں ۔
اسلام صرف عبادات کا دین نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے، نفرتوں کو مٹانے اور باہمی الفت کو بڑھانے کا دین ہے۔ یہ دعا اسی اصل تعلیم کی ترجمان ہے۔
غِل یعنی دل کی وہ بیماری ہے جو حسد، بغض، نفرت اور دشمنی کو جنم دیتی ہے۔
آج کے دور میں، امتِ مسلمہ کی زبوں حالی کی بڑی وجہ یہی باہمی اختلافات، تعصب، گروہ بندی اور دلوں کی دوری ہے۔
آج جب امت مختلف فقہی، مسلکی، لسانی اور سیاسی گروہوں میں بٹی ہوئی ہے، یہ دعا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ:
اختلافِ رائے کو دشمنی نہ بنائیں
دلوں کو صاف رکھیں
باہمی احترام، حسنِ ظن، اور اخوت کو فروغ دیں۔
یہ آیت انسان کو اپنے دل کی اصلاح کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ ظاہری اعمال کے ساتھ دل کی صفائی بھی ضروری ہے، کیونکہ دل کا فساد پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔
اگر ہم واقعی امت کی فلاح چاہتے ہیں تو ہمیں دلوں سے کینہ، بغض اور تعصب کو نکال کر، اس قرآنی دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا:
،،ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین آمنوا ،،
"اے اللہ! ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ۔” یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں باہمی نفرتوں سے نکال کر، محبت، اخوت اور اجتماعیت کی طرف لے جا سکتا ہے، اور سلف صالحین کے بارے میں دلوں کو ہمیشہ کے لیے صاف رکھ سکتا ہے اور ان سے بدگمانی اور بے اعتمادی سے بچا سکتا ہے۔

















