دیوبند(ولادت۱۳۵۳ھ،فراغت۱۳۷۶ھ وفات۱۴۳۳ھ)بات ۲۰۰۸ءکی ہے،سال دروۂ حدیث شریف کا،راقم جامعہ خادم الاسلام ہاپوڑ سےموقوف علیہ (مشکوۃ شریف) پڑھ کر، دیوبندآگیا، دارالعلوم وقف کی جماعت’’ دورۂ حدیث شریف ‘‘میں داخلہ لیا،اس دوران جن شخصیات سے استفادے کاموقع ملا،ان میں حضرت مولانامحمدسالم قاسمی ؒ،حضرت مولاناسید انظر شاہ کشمیریؒ،حضرت مولانامحمد اسلم قاسمیؒ،حضر ت مولانا خورشید عالم ؒ،حضرت مولانامحمدحسن باندویؒ ،اور حضرت مولانامحمد اسلام قاسمیؒ،حضرت مولاناغلام نبی کشمیریؒ، حضرت مولاناقمر عثمانی مدظلہ‘،حضرت مولانافریدالدین قاسمی مدظلہ‘،حضرت مولاناسید احمد خضرشاہ کشمیری مدظلہ‘،حضرت مولانامفتی محمداحسان قاسمی ندوی مدظلہ‘ خاص طور پر قابل ذکرہیں۔ان میں سے سات ایسے باکمال اور روشن ضمیراساتذہ ٔ کرام جوعلم وعمل اور شریعت وطریقت کے حسین سنگم تھےداغ مفارقت دے گئے اورچاراساتذۂ کرام بحمداللہ ابھی باحیات ہیںجو بڑی خوبیوں کے حامل ہیں،ان میں سے ہرایک کاانداز درس جداگانہ ہے:کسی کا محققانہ ، کسی کا محدثانہ،اور کسی کا فقیہانہ اور کسی کا مفسرانہ رنگ لئےہوئے۔اگر صاحب قلم ان میںسے کسی پر لکھناچاہے گاتو سیکڑوں صفحات درکارہوں گے،دارالعلوم وقف کی فضا میں جن حضرات کی تدریس کا بہت چرچہ تھا ان میں سے ایک حضرت مولانا خورشید عالم صاحبؒ کی ذات گرامی بھی تھی۔حضرت الاستاذ سے مسلم شریف جلداول ،اور بخاری شریف جلدثانی پڑھنے کاموقع ملا،آپ کا طریقۂ تدریس نہایت عمدہ اورعام اساتذہ ٔ کرام سے جداگانہ تھا،آپ کا درس حشووزوائد سے پاک،نپی ،تلی باتیں،اندازبیان سہل اورآسان،مقدمۂ مسلم جسے ہم طلبہ کے درمیان مشکل ترین تصورکیا جاتاہے،یہی وجہ ہے کہ شراح حضرات نے مقدمۂ مسلم کی مستقل الگ شروحات لکھیں:کئی ایک شرح راقم کی نظر سے گزریں ، جیسے مفتی سعید احمد پالن پوریؒ کی ’’فیض المنعم ‘‘مولاناعثمان غنیؒ کی ’’نصرالمنعم ‘‘اسی طرح مولانا نعمت اللہ اعظمی مدظلہ‘ کی ’’نعمت المنعم وغیرہ۔لیکن حضرت الاستاذکےافہام وتفہیم نےمشکل کتاب کو با لکل آسان اور سہل کردیا۔یہ کاروان علم وعمل کسی ناگہانی اندیشہ کے بغیر، سفرکے ابتدائی مرحلہ سے گزررہا تھا ۔البتہ وقفہ وقفہ سے حضرت الاستاذ مولانا سید انظر شاہ صاحب کشمیری کی صحت اور خرابیٔ صحت کی بہ زبان ترجمان اعلان ہوتااوردعائیں بھی ہوتی اور کبھی حضرت شاہ صاحب اچانک سبق پڑھا نے آجاتے یکم محرم ۱۴۲۹ھ کودارالعلوم وقف دیوبندکی جدیدمرکزی لائبریری(المکتبۃ القاسمیۃ) کےافتتاح کے موقع سےفاضلانہ تقریرکی ،جوان کی زندگی کی آخری تقریرثابت ہوئی ۔اس کےکچھ دنوںبعد۲۶؍اپریل ۲۰۰۸ءکو حضرت شاہ صاحب کاوصال ہوگیااناللہ وناالیہ راجعون، بعدہ‘ انتظامیہ نےحضرت مولانا خورشید عالم صاحب کوشیخ الحدیث جیسے باوقارمنصب کےلیے منتخب فرمایا ۔آپ کےمنصب مشیخیت کا دورانیہ پانچ سال ہےاورزمانۂ تدریس بہ شمول دارالعلوم وقف۴۹ سال پر مشتمل ہے۔آپ انتہائی باکمال اورمستند اساتذہ میں سےایک تھے ۔ فقہی خدمات ۲۶؍رمضان المبارک ۱۴۱۷ھ مطابق۱۹۹۷ءمیں جب حضرت مولانامفتی سید احمد علی سعید صاحبؒ کا انتقال ہوگیا توصدرمفتی کے منصب پر حضرت مولاناخورشید عالم صاحب فائز کیےگیےاگرچہ فتوی نویسی سے عملی طورپروابستہ نہیں تھے،لیکن فقہ وفتاوی پر آپ کی نظر گہری تھی اورآپ ہی کی مراجعت وتصدیق کے بعد دارالافتاسے فتاوی جاری کیے جاتے تھےچناں چہ دارالافتاء کی اس عظیم ذمہ داری کو آخری دم تک آپ بہ حسن خوبی انجام دیتے رہے۔ کارخوددست خودآپ اپنا کام خود کرتےکام خواہ چھوٹا ہو یا بڑا،بازارسے دوائیاں لانے کا ہو یا سبزیاںاوردیگر ضروریات زندگی سے متعلق جوبھی کا م ہو،کارخوددست خودکے عادی تھے کام کے سلسلہ میں کبھی عار محسوس نہیں کرتے،ہم نےبارہا دیکھا کہ بازار میںطلبہ کا ازدہام ہے اس کے باوجود کسی کو کام کےلیے حکم نہیں دیتےاوراگر کسی نے کہا بھی لائیے یہ سامان میں گھر پہنچادیتاہو ں توآپ اس کا شکریہ اداکرتے اورکہتے یہ کا م میں خود کرلوں گایہ سب باتیں اسلاف کی کتابوں میں پڑھی تھی لیکن ہم نے حضرت مولانا خورشید عالم صاحبؒ کو اسلاف کاعملی نمونہ پایا۔ مختصرسوانح حیات(ولادت۱۳۵۳ھ،فراغت۱۳۷۶ھ وفات۱۴۳۳ھ)نام ونسب:(مولانا)خورشید عالم بن ظہور احمد بن منظور احمد بن تحسین علی بن امام علی بن کریم اللہ بن خیر اللہ بن شکر اللہ ۔تاریخ ولادت :۱۵؍ ذی قعدہ ۱۳۵۳ھ /۲۱؍جنوری ۱۹۳۵ء میں(منظورمنزل ،محلہ ’’بڑے بھائیان ‘‘دیوبندجو جامع مسجد سے جانب شرق شمال میں اونچائی پر واقع ہے) ہوئی۔آپ نے ایک ایسے سعادت مند گھرانے میں آنکھیں کھولیں جن میں کئی پشتوں سے حصول علم دین اور حفظ کلام اللہ کا بابرکت مشغلہ چلاآرہاتھا،جدّامجدحضرت مولانامنظور احمد ؒ دارالعلوم دیوبند کے شعبۂ فارسی میں ریاضی کے باکمال استاذ تھے،والد ماجد حضرت مولانا ظہور احمد ؒ علامہ کشمیری ؒ کےشاگرد تھےاور دارالعلوم میں حدیث وفقہ کے بڑے اساتذہ میں سےتھے ۔دارالعلوم دیوبند کے سابق مفتی اور برّصغیر کے عظیم الشان عالم ،مفید ترین دینی واسلامی کتابوں کے مصنف ،بانیـ دارالعلوم کراچی حضرت مفتی محمد شفیع دیوبندی ؒ بن مولانا محمد یٰسین دیوبندیؒ مولانا خورشید عالم ؒ کے والد مولانا ظہوراحمد ؒ کے چچازاد بھائی تھے،کیوں کہ مولانا خورشید عالم ؒ کے دادا مولانا منظور احمد ؒ اور حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ کے والدمولانا محمدیٰسین دیوبندیؒ دونوں سگے بھائی تھے۔بّرصغیر کے عالم گیر شہرت کے یکتائے روزگار،جہاں دیدہ عالم وفقیہ واہل قلم واہل دل حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ‘ اسی عظیم المرتبت گھرانے کے فرد اور مولانا خورشید عالمؒ کے ابنائے عم میں سے ایک ہیں۔ تعلیم وتربیت : پانچ سال کی عمر میں تعلیم کا آغازکیااوردیوبندکی رشتے کی ایک بابرکت خاتون دادی محترمہ ’’امۃ الحنان‘‘سے قرآن پاک ناظرہ پڑھا،یہ سعادت مند خاتون حروف کی تصحیح اور مخارج کی ادائیگی میں اپنی مثال آپ تھیں،اس کے بعدحفظ قرآن پاک آپ نے دارالعلوم دیوبندمیں قاری محمد کامل صاحبؒ سے کیااور حفظ کے بعد یک سالہ دوراپنے نانا جناب حافظ ناظم علیؒ سے کیا،حضرت مولانا خورشید عالم صاحبؒ قرآن پاک کے مثالی حافظ تھےآپ کو جب بھی موقع ملتا قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہتے،دہلی کے سفر میں آتے جاتے عموماًایک قرآن پاک پڑھ لیتے۔آپ کی ساری تعلیم ،حتی کہ حفظ قرآن پاک بھی ،دارالعلوم دیوبند ہی میں ہوئی،گویا آپ خالص دیوبندی اور خالص قاسمی تھے،اردوفارسی اورریاضی کی تعلیم بھی آپ نے دارالعلوم دیوبندہی میں مکمل کی ،اس کے بعد ۱۳۷۰ھ/۱۹۵۱ء میں آپ درجۂ عربی اول میں داخل ہوئے۔صرف ونحو اور عربی قواعد کی کتابیں آپ کو حضرت مولانااعزازعلی صاحب امروہویؒنے ازراہ عنایت خارج اوقات میں پڑھائیں ،دوسری طرف منطق اور علوم عقلیہ کی کتابیں آپ کے والدرحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو علاحدہ سے پڑھائیں،نیز دارالعلوم کے درجات عربیہ کی اونچی کتابوں میں سے جواہم کتابیں آپ کے درجے میں ہوتیںوہ کوشش کرکے اپنے نام کرالیتے،تاکہ آپ مزید توجہ اور انہماک سے ان کتابوں کوپڑھیں۔۱۳۷۶ھ/۱۹۵۷ء میں آپ نےدورۂ حدیث شریف کا امتحان دیا۔ازعربی اول تا دورۂ حدیث شریف آپ نے ہر کتاب میں عموماً امتیازی نمبرات حاصل کیے۔(نوٹ:۱۴۳۱،۱۴۳۲ھ کے امتحان شش ماہی سے پہلے تک ۱۰۰نمبرکے بہ جائے آخری نمبر ۵۰ ہواکرتاتھا)اساتذۂ دورۂ حدیثبخاری شریفحضرت مولانا سید حسین احمد مدنی صاحبؒمسلم شریفحضرت مولانا فخرالحسن صاحب مرادآبادیؒترمذی شریفحضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب بلیاویؒابوداؤد شریفحضرت مولانا بشیر احمد خان صاحب بلندشہریؒنسائی شریفحضرت مولانا ظہور احمد صاحب دیوبندیؒابن ماجہ شریفحضرت مولانا ظہور احمد صاحب دیوبندیؒطحاوی شریفحضرت مولاناسید حسن صاحب دیوبندیؒشمائل ترمذی شریفحضرت مولاناعبدالاحدصاحب دیوبندیؒمؤطاامام مالکحضرت مولاناعبدالاحدصاحب دیوبندیؒمؤطا امام محمدحضر ت مولانا جلیل احمد صاحب کیرانویؒدرس وتدریس :۱۳۷۶ھ/۱۹۵۷ء میں تحصیل علم سے فراغت کے بعد آپ نے دارالعلوم کراچی ،پاکستان میں تدریسی خدمت انجام دیں ،جوآپ کے عم محترم،ممتاز عالم وفقیہ ومفسر حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب عثمانی دیوبندیؒ نے ۱۳۷۰ھ/۱۹۵۱ء میں کراچی میں قائم کیاتھا۔۱۳۸۳ھ/۱۹۶۳ء میں والد ماجد حضرت مولانا ظہور احمد صاحبؒ کے انتقال کے بعد آپ کراچی سے ہندوستا ن واپس آگئےاور اسی موقع سے شش ماہی امتحان کے بعد آپ کا بہ حیثیت استاذ دارالعلوم دیوبند میں تقررہوا،لیکن تعلیمی خدمت آپ نے شوال ۱۳۸۳ھ؍جنوری ۱۹۶۴ء سے انجام دینی شروع کی۔اور ۱۴۰۲ھ تک یعنی اٹھارہ سال کےعرصہ میںعلاوہ بخاری شریف اور ترمذی شریف کے تمام علوم فنون کی چھوٹی بڑی کتابیں پڑھانے کا موقع ملا۔دارالعلوم دیوبند میں زیردرس کتابیںکون سی کتاب کس سال میںپڑھائی بہ اعتبار سنین ملاحظہ فرمائیں1384ھصغریٰ کبریٰ،مقامات حریری،شرح وقایہ،سلم العلوم ،مرقات1385ھمقامات حریری،شرح وقایہ،سلم العلوم ،قطبی تصدیقات،ترجمۂ ثانی1386ھمقامات حریری ،شرح عقائد نسفی،ہدایہ اولین ربع اول،سلم العلوم ،مقامات حریری خارج1387ھترجمۂ ثانی،شرح عقائد نسفی،ہدایہ اولین ربع اول،مختصرالمعانی مع تلخیص1388ھمختصرالمعانی مع تلخیص،شرح عقائد نسفی،قدوری ،ہدایہ اولین 1389ھہدایہ اولین ،صغریٰ کبریٰ،جلالین،مختصرالمعانی مع تلخیص1390ھمختصرالمعانی مع تلخیص المفتاح ،شرح تہذیب ،قطبی ، جلالین ،الفوزالکبیر،ہدایہ اولین 1391ھہدایہ جلد اول،ہدیہ سعیدیہ،میبذی،جلالین نصف ثانی،ترجمۂ قرآن اول1392ھشرح عقائد نسفی،عقیدۃ الطحاوی،ہدایہ اولین ربع اول،ہدایہ الین مع ثانی،توضیح تلویح،جلالین نصف اول،الفوزالکبیر1393ھتوضیح تلویح،جلالین نصف اول،الفوزالکبیر،میبذی،حسامی،شرح عقائدنسفی،عقیدۃ الطحاوی1394ھشرح عقائدنسفی،عقیدۃ الطحاوی،ہدایہ رابع ثانی،توضیح تلویح،شرح عقائد جلالی1395ھہدایہ ربع اول،مشکوۃ شریف جلدثانی،نخبۃ الفکر،شرح عقائدنسفی،عقیدۃ الطحاوی،توضیح تلویح1396ھمؤطا امام ملک،شرح عقائد نسفی،عقیدۃ الطحاوی،مشکوۃ شریف جلدثانی،نخبۃ الفکر،توضیح تلویح1397ھشرح عقائد نسفی،مشکوۃ شریف جلدثانی،نخبۃ الفکر،مؤطا امام مالک1398ھمشکوۃ شریف جلداول،شرح عقائدنسفی،طحاوی شریف،ہدایہ آخرین ربع رابع،تفسیر مظہری پارہ۱۶تا۲۰1399ھہدایہ رابع،شرح عقائدنسفی،طحاوی شریف،مشکوۃ شریف جلداول،نخبۃ الفکر،شمائل ترمذی1400ھمشکوۃ شریف جلداول،نخبۃ الفکر،شرح عقائد نسفی،طحاوی شریف،ابوداؤد شریف جلدثانی1401ھشرح عقائد نسفی،طحاوی شریف، ابوداؤد شریف 1402ھطحاوی شریف، ابوداؤد شریف جلد اولنوٹ :اسباق سے متعلق تمام تفصیلات محافظ خانہ دارالعلوم دیوبندسے حاصل کی گئی ہیںبیعت و سلوک:آپ کا پورا خانوادہ،صرف علم و فضل میں ہی نہیں بلکہ تصوف و سلوک میں بھی اعلی مقام رکھتا تھا ۔ مفتی عزیزالرحمان عثمانی، علامہ شبیر احمد عثمانی اور مفتی شفیع صاحب عثمانی جیسے اوصاف حمیدہ کے حامل افراد کے زیرِ سایہ آپ نے زندگی کا وہ دور گزارا تھا جس میں عموما لاابالی پن اور بے توجہی عام ہوتی ہے۔ آپ فطرتا اس قدر سنجیدہ اور کم گو تھے کہ لغویات اور لہو و لعب کے کام کاج آپ سے سرزد نہیں ہوا کرتے تھے اور نہ کبھی ایسے امور کی جانب طبیعت کا میلان ہوتا تھا۔ کھیل کود اور دیگر وقت گزاری کے بجائے آپ کا بہترین مشغلہ کتابوں کی ورق گردانی اور بڑوں کی مجالس میں پابندی سے شرکت کرنا تھا، اسی وجہ سے ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ باطنی علوم پر بھی بھر پور توجہ رہی تھی۔ ابتداء میں آپ اپنے عمِ محترم مفتی شفیع صاحب کی تربیت میں رہے اوروہیں سے تزکیہ قلب کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا ۔ حضرت مفتی شفیع صاحبؒ کے بعد یہ سلسلہ حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب ؒکے ساتھ قائم ہوا، اور پھر مسیح الامت حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحبؒ کے دامنِ ارادت سے وابستہ ہوئے۔ یہ تینوں حضرات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃاللہ علیہ کے تربیت یافتہ اور اجل خلفا میں سے تھے۔ ان تینوں حضرات کی نظر اور توجہ نے آپ کو ولایت کے اعلی درجہ پر فائز کردیا تھا۔ آپ کو یکے بعد دیگرے ایسے تین بزرگوں کی صحبت نصیب ہوئی تھی کہ جن کی نگاہِ ناز مٹی کو بھی کندن بنادیا کرتی تھی۔ تواضع و انکسا ری کی وجہ سے مفتی صاحب نے خود کو اس باب میں اہلِ دنیا سے مخفی رکھا تھا۔ لیکن ذکر و اذکار کے باب میں آپ تلاوتِ کلام اللہ کے اس درجہ عاشق تھے کہ روزانہ چلتے پھرتے دس بارہ پارے قرآن کی تلاوت کرلیا کرتے تھے۔ گھریلو کام کاج کے دوران بھی تلاوت کا اہتمام فرماتے تھے۔ سفر کی صعوبتوں سے حتی الامکان دور رہا کرتے تھے لیکن اگر کبھی سفر در پیش ہوتا تو دورانِ سفر تلاوت کلام الٰہی میں مشغول رہتے تھے۔ دہلی آنے جانے کے درمیان عموما قرآن پاک مکمل کرلیا کرتے تھے۔ تلاوت کا اس درجہ اہتمام تھاکہ اس کی برکت سے اللہ نے آپ کی زبان کو غیبت، چغل خوری، دروغ گوئی اور کذب بیانی سے ہمیشہ محفوظ رکھا تھا۔انتظامی صلاحیت: جس طرح بہترین اور نادر انداز کی تدریسی صلاحیت اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطافرمائی تھی،اسی طرح مبدأ فیاض سے نظم وانتظام کی بھی اعلیٰ صلاحیت آپ کو عطا ہوئی تھی،چناں چہ ابتداہی سے تمام علمی اور انتظامی شعبہ جات کی نظامت اور نگرانی سے وابستگی رہی۔ناظم دارالاقامہ،نگراں مطبخ کمیٹی،رکن کمیٹی دارالافتا،رکن کمیٹی دارالقضا،رکن مجلس تعلیمی اور رکن اہتمام کمیٹی کی حیثیت سے ہمیشہ بہ حسن خوبی خدمت انجام دیتے رہے،نیز حضرت مولانا سید اختر حسین میاں ؒ کے دور نظامت میں درجات عربیہ کے علاوہ دیگر درجات کی نگرانی بھی آپ سے متعلق رہی۔اسی طرح ماہ رمضان میں حضرت حکیم الاسلام اور حضرت نائب مہتمم کے سفر میں چلے جانے کی صورت میں عارضی طور پر قائم مقام مہتمم کی حیثیت سے خدمت انجام دیتے ۔(خصوصی شمارہ ،ماہ نامہ ’’ندائے دارالعلوم وقف دیوبند،ربیع الآخر،جمادی الاول۱۴۳۳ھ/ مارچ، اپریل ۲۰۱۲ء، جلدنمبر ۳؍ شمارہ نمبر۲۳،۲۴)دارالعلوم وقف میں تدریسی خدمات: ۱۴۰۲ھ؍ ۱۹۸۲ء میں دارالعلوم دیوبند میں شوریدگی کے ماحول کے بعدجامع مسجد دیوبند میں دارالعلوم وقف دیوبندکا قیام عمل میں آیا ،اس وقت طلبہ کا قیام وطعام کا نظم مختلف جگہوں پر تھا۔دارالعلوم وقف کے قیام سے لے کر اس کے استحکام تک بنیادی سرگرمیوں میں مولانا خورشید عالم صاحبؒ کاخاصامرکزی اور فعّال کردار رہاہے،حضرت حکیم الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی انتظامی صلاحیت کے مدنظر نیابت اہتمام کی ذمہ داری آپ کے سپردفرمائی،حضرت حکیم الاسلام نوراللہ مرقدہ‘کےانتقال کے بعد خطیب الاسلام حضرت مولانا محمدسالم قاسمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اہتمام کی ذمہ داری دی گئی تو انہوں نے بھی نیابت اہتمام پر باقی رکھا ۔اس طر ح آپ نے مسلسل دس سال یعنی۱۹۹۲ء تک خدادصلاحیت کی بنا پر اہتمام ،تعلیمات ،مطبخ ،محاسبی،تنظیم وترقی، کتب خانہ ،گویا تمام ہی دفاتر کا انتظام بہت باوقار انداز میں قائم رکھا،ان نازک حالات میں ایک نئے ادارے کا پروان چڑ ھانا جوےشیر لانے کے مترادف ہے۔ ۱۴۲۱ھ مطابق۲۰۰۰ءمیں آپ انتظامی ذمے داریوں سے مستفی ہوگئے، کیوں کہ آپ کی صحت اس لائق نہیں رہی تھی کہ انتظامی اور تدریسی دونوں محاذوں پر متحرک رہیں ،اس لیے آپ نے صرف تدریسی ذمہ داری کو ترجیح دی۔(خصوصی شمارہ ،ماہ نامہ ’’ندائے دارالعلوم وقف دیوبند،ربیع الآخر،جمادی الاول۱۴۳۳ھ/ مارچ، اپریل ۲۰۱۲ء،جلدنمبر۳؍شمارہ نمبر۲۳،۲۴)۱۴۲۹ھ مطابق ۲۰۰۸ء میں آپ کو دارالعلوم وقف کا شیخ الحدیث مقرر کیا گیا۔اورابتداسے ہی مسلم شریف جلد اول کا سبق آپ سے متعلق کیاگیااور بخاری شریف جلدثانی کے اسباق آپ سے متعلق کئے گئے۔آپ کی خدمات پر حیات طیب جلداول میں کچھ اس طر ح روشنی ڈالی گئی ہے۔حضرت شاہ صاحب کے بعد دار العلوم دیو بند کے قدیم ترین اور مایہ ناز استاذ حضرت مولانا خورشید عالم صاحب شیخ الحدیث مقرر ہوئے ۔ حضرت مولانا خورشید عا لم صاحب پختہ کار ، سنجیدہ اور مثالی استاذ تھے ۔ دارالعلوم میں بھی ان کی مقبولیت کا شہرہ رہا۔ دار العلوم میں شرح عقائد اور مسلم شریف کے اسباق ان سے متعلق رہے اور نیابت تعلیمات کے منصب پر بھی فائز رہے۔ قضیہ دارالعلوم کے بعد جامع مسجد میں دار العلوم وقف کے نیابت اہتمام کے عہدہ پر فائز ہوئے اور طویل مدت تک بڑی خوش اسلوبی اور حسن تدبیر سے اپنی ذمہ داریوں کو انجام دیا۔ پریشان ملازمین اگرکبھی آپ سے الجھتے تو بڑی متانت اور بردباری سے کام لیتے ، یہ کارکنوں کا دکھ درد بانٹنے، حوصلہ دینے اور جمائے رکھنے میں حضرت مولانا خورشید عالم صاحب کا کردار کتنا نمایاں ہے اس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ مسلم شریف کا درس بھی دیتے رہے، جچےتلے اور منظم انداز میں بولتے ، متعینہ وقت میں جتنا پڑھانا ہوتا اتنے ہی حصہ کی عبارت بھی پڑھواتے ، ادھر مضمون ختم ، اُدھر گھنٹہ تمام مسلم شریف کا مقدمہ جتنا دقیق اور مشکل ہے اس کو اتنا ہی سہل اور خوشگوار انداز میں سمجھاتے ۔ ایمانیات اور عقائد پر ان کی درسی تقریر یں بڑی تحقیقی اور معیاری سمجھی جاتی تھیں ۔ جسمانی عوارض کے باوجود تدریسی ذمہ داریوں کی پابندی ان کا ہمیشہ امتیاز رہا۔ تصنیفی خدمات: (۱)ترجمہ فتاوی عبدالحئی(۲) ترجمہ ابوداد (۳)شمس الفوائد شرح اردوشرح عقائد النسفی۔ یہ تینوں کتابیں ہندوستان وپاکستان سے شائع ہوچکی ہیں۔وفات : ۱۴؍ربیع الاول ۱۴۳۳ھ/۷؍فروری۲۰۱۱ءبہ روز منگل رات تقریباً پونے ایک بجےآپ نےجان جاں آفریں کی سپرد کی ۔بہ روز بدھ بعد نماز ظہر خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحبؒ کی اقتدامیں نماز جنازہ اداکی گئی اور مزار قاسمی میں تدفین عمل میں آئی۔رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃً انعام الحق قاسمی ناظم لائبریری دارالعلوم وقف دیوبند ۱۷؍ربیع الاول ۱۴۴۷ھ مطابق ۱۰؍ستمبر۲۰۲۵ء





















