طلحہ نعمت ندوی
مولانا تھانوی علیہ الرحمہ کی کتابیں جس توجہ کے ساتھ اشاعت کی مستحق ہیں وہ انہیں حاصل نہیں ہورہی ہے۔ مولانا کی کتابوں کو قدیم اشاعت کے مطابق عربی فارسی اور اردو کے کسی ماہر فن سے تصحیح کے بعد شائع کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ان میں اتنی اغلاط باقی رہ جاتی ہیں کہ مبتدی طلبہ کیا بڑوں کے لیے بھی سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ مولانا کی کلید مثنوی ضخیم جلدوں میں ہے، اس کا نیا ایڈیشن چند سال قبل نئی کتابت کے ساتھ شائع ہوا ہے لیکن قدیم سے زیادہ غیر مستند ہوگیا ہے۔ ایک تو اغلاط کی تصحیح کما حقہ نہیں ہو سکی ہے، دوسرے معاصر مذاق کے مطابق نہ اس میں رموز و اوقاف ہیں نہ پیراگراف۔ تیسرے اشعار کے سلسلے میں بہت بڑی غلطی یہ ہوئی ہے کہ مولانا نے اپنے دور کے عام مذاق کو پیش نظر رکھتے ہوئے فارسی اشعار کی صرف تشریح کی تھی ارود میں ترجمہ نہیں کیا تھا، اور ان میں بڑا حصہ ایسا تھا جو ایک فارسی داں ہی سمجھ سکتا تھا، زمانہ حال کے مطابق اس کی ضرورت تو تھی کہ ہر شعر کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی شائع کیا جائے، اور اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے قاضی سجاد حسین میرٹھی کا ترجمہ مثنوی مکمل متن کے ساتھ شامل کر دیا گیا لیکن ناشر صاحب یہ نہیں سمجھ سکے کہ مولانا تھانوی کے درج کردہ اشعار کلید مثنوی قاضی صاحب کے ترجمہ کردہ متن مثنوی سے بہت مختلف ہیں، حضرت تھانوی نے وضاحت فرمائی ہے کہ اشعار مثنوی کے اختلاف کی صورت میں ہم نے شیخ سعدی کے روایت کردہ متن کو ترجیح دی ہے کیوں کہ ان کا اعلم علمائے مثنوی ہونا سب کے نزدیک مسلم ہے، ضرورت تھی کہ مولانا تھانوی کے متن کے مطابق ترجمہ اشعار کا انتخاب کیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوسکا، اس طرح مولانا کی اصل محنت ہی نگاہوں سے مخفی ہوگئی ہے۔ کچھ یہی صورت ان کی دوسری کتاب التشرف بمعرفۃ احادیث التصوف کی بھی ہے، ایک ضرورت سے اس کتاب کی طرف مراجعت کا اتفاق ہوا، نئی طباعت میں کچھ غلطی کا احساس ہوا تو قدیم طباعتوں کی تلاش ہوئی، دو قدیم طباعتیں ملیں، سب کا ایک دوسرے سے مقابلہ کرکے دیکھا تو عجیب وغریب صورت حال نظر آئی۔ حضرت تھانوی یہ کتاب جس قدر تحریر فرماتے تھے ماہنامہ الہادی دہلی میں اشاعت کے لیے پیش کردیتے تھے جو ان کے علوم و افادات کی نشر واشاعت کا خاص اہتمام کرتا تھا۔ یہ کتاب بھی اسی طرح کئی سالوں تک وقفہ وقفہ سے بالاقساط شائع ہوتی رہی، جب اس کے تین حصے مکمل ہوگئے تو ناشر محمد عثمان مالک مطبع محبوب المطابع (جو شاید ماہنامہ الہادی کے مالک بھی تھے) نے انہیں قسطوں کو یکجا کرکے کتابی شکل میں شائع کردیا، اس کے لیے الگ سے کتابت بھی نہیں کروائی گئی، اسی لیے ہر ورق بلکہ صفحہ پر شمارہ نمبر بھی موجود ہے۔ راقم کے خیال شاید حضرت تھانوی کی ایما سے ہی ایسا کیا گیا ہوگا، اور اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ اگلا حصہ ایک نئی بحث سے شروع بھی کرنے کا ارادہ تھا اور بیچ میں کچھ عرصہ کا وقفہ بھی تھا، لیکن جب کتاب مکمل ہوئی تو اس کے بعد پھر اس مطبع سے مکمل کتاب کی کوئی طباعت سامنے نہیں آسکی۔ کئی سال کے بعد حیدر آباد میں اللجنۃ العلمیہ کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ قائم ہوا جس کے علمی نگراں جناب ڈاکٹر ضیاء الدین شکیب تھے جو مولانا سید مناظر احسن گیلانی کے شاگرد تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ مولانا ہی نے ان کو حضرت تھانوی رحمة الله عليه کی کتابوں کی اشاعت کی طرف توجہ دلائی چنانچہ انہوں نے پہلے حضرت تھانوی کی التکشف فی مہمات التصوف شائع کی اس کے بعد التشرف کی اشاعت کی طرف توجہ کی، الہادی کے تمام شمارے بقول خود ان کے بہت محنت اور تلاش کے بعد جمع کیے اور اس کتاب کی تمام قسطیں ان سے منتخب کرکے یکجا کیا، اس پر ایک جامع مقدمہ بھی لکھا جس میں الہادی کے تمام شماروں اور مشمولات کی تفصیل لکھی، لیکن اس پر سنہ اشاعت درج نہیں ہے، اغلب یہ ہے کہ یہ ۱۳٦٠ه کے قریب شائع ہوئی ہوگی۔ مجموعی طور پر یہ ایڈیشن بہتر ہے، انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس طباعت کو مولانا تھانوی کے مذاق کے مطابق مرتب کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس لیے انہوں نے تمام ضمنی عبارتوں کو اپنی جگہ سے ہٹادیا تھا لیکن مقدمہ میں ان کو شامل کر دیا تھا، البتہ اس میں ایک تو عربی اور اردو عبارتوں میں بھی کچھ اغلاط اس طرح رہ پاگئی ہیں کہ پہلے ایڈیشن کی طرف مراجعت کے بغیر سمجھنا مشکل ہے، ایک جگہ متن حدیث ہی ساقط ہوگیا ہے، اور الہادی کے آخری دور کے شمارے دستیاب نہیں کہ ان کی طرف مراجعت کرکے اس کی تصحیح کی جائے۔ نیز ایک کمی یہ رہ گئی ہے، جو دونوں طباعتوں کو سامنے رکھنے سے ظاہر ہوئی، کہ انہوں نے لکھا ہے کہ ہم نے حضرت تھانوی کے عناوین ہی باقی رکھے ہیں، اگر وہ اردو میں نہیں تھے تو ان کا ترجمہ کر دیا ہے، لیکن دونوں کو سامنے رکھنے سے بہت سے عناوین پہلی طباعت میں نہیں ملے، نہ بہ ظاہر مرتب وناشر کو کوئی ایسا نسخہ ملا ہوگا جس پر حضرت مصنف کے قلم حذف واضافہ ہو ورنہ وہ اس کا ذکر ضرور کرتے۔ نئی طباعت میں اس کی وضاحت ضروری تھی کہ کیا اضافہ کیا گیا ہے، کیوں کہ کسی کی کتاب میں حذف واضافہ یا مذاق جدید کے مطابق ڈھال کر پیش کرنا کوئی جرم نہیں ہے لیکن مقدمہ میں اس کی صراحت ضروری ہے ورنہ قاری ہر جملہ اور لفظ کو مصنف کی تحریر سمجھ کر پڑھتا ہے۔ اس کے بعد چند سال قبل ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان سے نیا ایڈیشن شائع ہوا ہے جس میں عربی متن نہیں ہے صرف اردو پر اکتفا کیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس میں جو اصلاحات ہیں وہ تو مت پوچھیے، حضرت تھانوی نے عربی متن کا اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے ایک چوتھائی تک تخریج احادیث کا بھی ترجمہ کیا تھا اس کے بعد چھوڑ دیا تھا اس میں ان تخریجات کو متن سے ہٹا کر حاشیہ میں درج کر دیا گیا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس طباعت میں احادیث کی تخریج بھی کی گئی ہے۔ ضیاء الدین شکیب صاحب نے جو مقدمہ لکھا تھا اس کے آخری حصہ میں کتاب کی بہت سی عبارتیں اور کتاب سے متعلق تفصیلات تھیں، اس مقدمہ کا آدھا ہی حصہ شائع کیاگیا اور یہ وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ کس طباعت کا مقدمہ ہے اور اس کو ملخص لکھا گیا، جس سے حضرت تھانوی کی بہت سی عبارتیں درج کتاب ہونے سے رہ گئیں۔ اس طرح یہ کتاب اب بھی نظر ثانی وتحقیق کی محتاج ہے۔





















