افسانہ نگارمدثراحمدشیموگہ
۔9986437327
بشیر انکل ریلوے اسٹیشن پر کھڑے ایسے مسکرا رہے تھے جیسے برسوں کی مزدوری نے آخرکار ان سے ہار مان لی ہو۔ چال کے لوگ انہیں چھوڑنے آئے تھے۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ اب آرام کرو گے، کوئی کہہ رہا تھا کہ اپنے ملک کی مٹی ہی اصل ہوتی ہے۔
میں خاموش تھا۔ میں بھی اسی مٹی سے کٹا ہوا ایک اور آدمی تھا، فرق صرف یہ تھا کہ میری واپسی ابھی خواب میں تھی۔
بشیر انکل نے کہا تھا۔۔ بس ارشد۔۔ اب پردیس نہیں۔ اب اپنے لوگوں میں جینا ہے۔
ٹرین چلی گئی۔ انکل بھی۔
چار دن بعد فون آیا۔ آواز میں خوشی تھی، مگر وہ خوشی ایسی تھی جیسے کسی نے ادھار لی ہواورلوٹانی ابھی باقی ہو۔
پھر ایک شام، میں فیکٹری سے لوٹا تو کمرے میں بشیر انکل بیٹھے تھے۔
وہی انکل۔۔۔ مگر آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی جو اسٹیشن پر تھی۔ وہ چمک شاید سرحد پار رہ گئی تھی۔
انکل؟ آپ واپس…؟
انہوں نے مجھے دیکھا، کھڑے ہوئے اور ایسے لپٹے جیسے کوئی ڈوبتا ہوا آدمی آخری تنکے سے لپٹتا ہے۔رونا شروع کیا تو لگا جیسے برسوں کا جمع کیا ہوا صبر ایک ساتھ بہہ نکلا ہو۔ کچھ دیر بعد بولے،ارشد۔۔۔ وہ میرا گھر نہیں رہا۔
ان کے چار بچے تھے۔ دو بیٹے، دو بیٹیاں۔
بیٹے شہر میں نوکری کرتے تھے اور باپ ان کے لیے ایک بوجھ تھا۔۔ ایسا بوجھ جو عزت کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے، محبت کے ساتھ نہیں۔
بیٹیاں سارا دن فون میں گم رہتی تھیں۔
ہنستی تھیں، سرگوشیاں کرتیں، اور باپ نصیحت کرتا تو طنز اتر آتا۔ ابا! یہ سب آج کل چلتا ہے۔
ایک رات انکل نے سناکہ فون کے اُس پار اجنبی ہنسی۔ دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا ہو۔
بیوی نے کہا،وہ فیملی فرینڈ ہیں۔ اب سماج بدل گیا ہے۔
انکل چپ ہو گئے۔ وہ سمجھ گئے کہ اب وہ باپ نہیں رہے بلکہ ایک پرانی سوچ بن چکے ہیں۔
چھوٹا بیٹانشے کاعادی ہو چکا تھا۔ آنکھیں خالی، باتوں میں بدحواسی۔انکل نے سمجھایا تو ہنسی آئی۔بس پیسے بھیجے ہیں آپ نے۔۔ اب حکم نہ چلائیں۔
ایک رات بڑے بیٹے کو دیر سے آنے پر صرف اتنا کہا،وقت کا خیال رکھا کرو۔
جواب آیا،آپ مہمان ہیں۔ مہمانوں کو سوال نہیں کرنے چاہئیں۔
مہمان۔۔ اپنے ہی گھر میں۔
چند دن بعد وہ جملہ سناجو زندہ انسان کو لاش بنا دیتا ہے۔۔
ابا بس کچھ دن کے مہمان ہیں چلے جائیں گے تو سکون ہوگا۔۔
انکل وہیں بیٹھے بیٹھے گر پڑے۔
جب ہوش آیا تو گھر خالی تھا۔بیوی کہیں،
بیٹے باہر،۔ بیٹیاں فون میں زندہ۔
وہ دیواروں سے باتیں کرنے لگے۔میں نے کیا کم کیا؟
کیا پیسہ بھی باپ نہیں بناتا؟۔۔
اسی رات انہوں نے خاموشی سے ٹکٹ لیا۔
کسی کو بتایا نہیں۔
واپسی سے پہلے میرے کمرے میں آئے۔
میں نے چائے رکھی۔ وہ دیر تک کپ کو دیکھتے رہے، جیسے اس میں اپنا عکس ڈوبتا دیکھ رہے ہوں۔
بولے،ارشد۔۔میں نے اپنوں کے لیے اپنی زندگی قربان کر دی۔اور آخر میں۔۔ اپنے ہی پرائے ہو گئے۔
میں نے کچھ کہنا چاہا،مگر لفظ میرا ساتھ چھوڑ گئے۔
انہوں نے آہستہ سے کہا،میں اب کبھی واپس نہیں جاؤں گا۔جب میں نہ رہوں مجھے یہیں دفن کر دینا۔
میں ان سے لپٹ گیا۔ان کے کندھے ہلکے تھے،
سانس مدھم۔
اچانک وہ خاموش ہو گئے۔
میں نے آواز دی،انکل۔۔۔؟۔
کوئی جواب نہیں۔ بشیر انکل کی آنکھیں بند تھیں۔۔ہمیشہ کے لیے۔
چائے ٹھنڈی ہوچکی تھی۔کمرہ خاموش تھا۔ اور مجھے پہلی بار شدت سے محسوس ہوا۔۔
کہ کچھ لوگ پردیس میں کماتے کماتےاپنے ہی گھروں میں مرجاتے ہیں۔
اور جو واپس آتے ہیں وہ صرف دفن ہونے آتے ہیں۔





















