اتوار, نومبر 8, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ کا خلاصہ

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ کا خلاصہ

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں منظور کردہ تجاویز

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں منظور کردہ تجاویز

    IMG-20261019-WA0106

    مدرسہ دارالعلوم انوارِ صحابہ، مکتاپور، چندن کیاری، بوکارو: ایک مختصر تعارف اور یادگار حاضری

    جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

    جمعیت کے اعلامیہ کاظلم کے آگے نہ جھکنے کا اعلان

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ کا خلاصہ

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ کا خلاصہ

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں منظور کردہ تجاویز

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں منظور کردہ تجاویز

    IMG-20261019-WA0106

    مدرسہ دارالعلوم انوارِ صحابہ، مکتاپور، چندن کیاری، بوکارو: ایک مختصر تعارف اور یادگار حاضری

    جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

    جمعیت کے اعلامیہ کاظلم کے آگے نہ جھکنے کا اعلان

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
No Result
View All Result
Home متفرق مضامین

آئینی روایت کا امتحان کرناٹک میں گورنر کا طرزِ عمل اور جمہوریت

by Md Yasin Jahazi
جنوری 24, 2026
in متفرق مضامین
0
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟
0
SHARES
8
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

از : عبدالحلیم منصور

جمہوریت میں بعض واقعات محض وقتی یا رسمی نہیں ہوتے، بلکہ وہ ریاستی نظام کی سمت، نیت اور آئینی توازن کو پوری طرح عیاں کر دیتے ہیں۔ کرناٹک میں ریاستی اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے مشترکہ اجلاس کے دوران گورنر کی جانب سے حکومت کے تیار کردہ خطاب کو مکمل طور پر نہ پڑھنا اور عجلت میں ایوان سے روانہ ہو جانا بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ یہ محض پروٹوکول کی خلاف ورزی یا ذاتی اختلاف کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک ایسا آئینی لمحہ ہے جو وفاقی ڈھانچے، ریاستی خودمختاری اور جمہوری روایت پر براہِ راست سوال کھڑا کرتا ہے۔ریاستی گورنر کا منصب آئینِ ہند میں طاقت کے مرکز کے طور پر نہیں بلکہ توازن کے ستون کے طور پر تصور کیا گیا تھا۔ آئین سازوں کا واضح تصور یہ تھا کہ گورنر منتخب حکومت کا متبادل نہیں ہوگا اور نہ ہی مرکز کی سیاسی ترجیحات کا نمائندہ، بلکہ وہ ایک غیر جانبدار آئینی نگران کے طور پر ریاست اور مرکز کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرے گا۔ مگر عملی سیاست میں، بالخصوص گزشتہ برسوں میں، یہ منصب بتدریج ایک ایسے کردار میں ڈھلتا دکھائی دیتا ہے جو آئینی غیر جانبداری کے بجائے سیاسی تنازع کا محور بنتا جا رہا ہے۔آئینِ ہند کے تحت گورنر ریاست کا آئینی سربراہ ہوتا ہے، جس کا کردار کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے حامی یا مخالف کے طور پر نہیں بلکہ غیر جانبدار نگران کے طور پر متعین کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 176(1) کے مطابق مشترکہ اجلاس میں گورنر کا خطاب دراصل ریاستی حکومت کی پالیسیوں اور ترجیحات کا آئینی اظہار ہوتا ہے، جسے کابینہ تیار کرتی ہے۔ اس خطاب کا مقصد ذاتی رائے یا اختلاف کا اظہار نہیں بلکہ منتخب حکومت کی اجتماعی ذمہ داری کو ایوان اور عوام کے سامنے رکھنا ہوتا ہے۔ ایسے میں خطاب کو ادھورا چھوڑ دینا اس روایت سے انحراف کے مترادف ہے جو برسوں سے پارلیمانی نظام کا حصہ رہی ہے۔یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ گورنر کو آئین بعض صوابدیدی اختیارات دیتا ہے، مگر یہ اختیارات محدود اور غیر معمولی حالات کے لیے ہوتے ہیں۔ آئین کی روح یہ نہیں کہ ان اختیارات کو سیاسی اختلاف یا عدم اتفاق کے اظہار کا ذریعہ بنایا جائے، بلکہ یہ کہ وہ نظام کے تسلسل اور توازن کو برقرار رکھنے میں معاون ہوں۔ اگر گورنر کو حکومت کے کسی اقدام یا پالیسی پر اعتراض ہو تو اس کے لیے آئینی راستے موجود ہیں، جیسے تحریری نوٹ، مکالمہ، مشاورت یا ضرورت پڑنے پر عدالتی تشریح طلب کرنا۔ ایوان کے وقار کو مجروح کرنے والا طرزِ عمل نہ صرف ادارہ جاتی روایت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتا ہے۔کرناٹک کا یہ واقعہ کوئی منفرد مثال نہیں۔ تمل ناڈو، کیرالہ، مغربی بنگال اور تلنگانہ جیسی ریاستوں میں گزشتہ برسوں کے دوران گورنر اور منتخب حکومت کے درمیان اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔ کہیں سرکاری بلوں کی منظوری میں غیر معمولی تاخیر ہوئی، کہیں اسمبلی خطاب کے متن پر اعتراضات اٹھائے گئے، اور کہیں آئینی اختیارات کے استعمال کو سیاسی زاویے سے دیکھا گیا۔ ان تمام مثالوں میں ایک قدرِ مشترک یہ رہی ہے کہ جہاں مرکز اور ریاست میں مختلف سیاسی جماعتیں برسرِ اقتدار ہوں، وہاں گورنر کے کردار پر سوالات زیادہ شدت سے ابھرے ہیں۔ یہ صورتحال وفاقی نظام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا ایسے اقدامات سے واقعی آئین مضبوط ہوتا ہے یا پھر اداروں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ جمہوریت کی بنیاد صرف قانونی دفعات پر نہیں بلکہ ان روایات پر بھی ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی ہیں۔ جب آئینی عہدوں پر فائز افراد ان روایات سے ہٹ کر عمل کریں تو اس کا اثر محض ایوان تک محدود نہیں رہتا بلکہ عوام کے ذہنوں میں بھی جمہوری نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے منتخب نمائندوں کی آواز آئینی طریقے سے سنی جائے گی اور ریاستی ادارے ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ کام کریں گے۔یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ گورنر کے عہدے پر خطیر سرکاری وسائل خرچ کیے جاتے ہیں، جو براہِ راست عوامی خزانے سے آتے ہیں۔ اگر یہ منصب عوامی مفاد کے بجائے سیاسی کشمکش کا ذریعہ بن جائے تو اس کی اخلاقی اور آئینی افادیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ اسی لیے متعدد آئینی ماہرین اس امر پر زور دیتے رہے ہیں کہ یا تو گورنر کے اختیارات کو واضح اور محدود کیا جائے، یا اس عہدے کے کردار پر سنجیدہ قومی سطح کی بحث کی جائے تاکہ وفاقی توازن کو برقرار رکھا جا سکے۔اس پورے معاملے میں متوازن نقطۂ نظر یہی ہے کہ نہ تو گورنر کے ہر اقدام کو محض سیاسی سازش قرار دیا جائے اور نہ ہی منتخب حکومت کو مکمل طور پر بے قصور سمجھا جائے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ آئینی حدود کو واضح طور پر تسلیم کیا جائے، اختلاف کی صورت میں مکالمے اور آئینی ذرائع کو ترجیح دی جائے، اور ایسے طرزِ عمل سے گریز کیا جائے جو ادارہ جاتی وقار کو نقصان پہنچائے۔ گورنر کا منصب طاقت کے اظہار کے لیے نہیں بلکہ آئینی توازن کے تحفظ کے لیے ہے، اور اسی میں اس عہدے کا حقیقی وقار مضمر ہے۔آخرکار سوال یہ نہیں کہ کسی ایک دن ایوان میں کیا ہوا، بلکہ یہ ہے کہ ہم مستقبل میں آئینی روایت کو کس سمت لے جانا چاہتے ہیں۔ اگر آئین کو واقعی ایک زندہ اور متحرک دستاویز مانا جاتا ہے تو اس کی روح کا تقاضا ہے کہ اختلاف بھی شائستگی، حدود اور جمہوری اقدار کے ساتھ کیا جائے۔ جمہوریت کی اصل طاقت انتخابات سے آگے بڑھ کر آئینی اقدار کے احترام میں پوشیدہ ہے، اور اس احترام کا سب سے بڑا امتحان انہی عہدوں پر فائز افراد کا ہوتا ہے جو خود کو آئین کا نگہبان کہتے ہیں۔اگر اس طرح کے واقعات کو معمول سمجھ کر نظر انداز کیا گیا تو آئینی روایت کمزور ہوگی، اور اگر ان پر سنجیدہ، متوازن اور اصولی مکالمہ ہوا تو یہی واقعات مستقبل میں ادارہ جاتی حدود کو واضح کرنے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ جمہوریت کی بقا اسی میں ہے کہ آئین کو محض اقتدار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی اخلاقی ذمہ داری سمجھا جائے۔haleemmansoor@gmail.com

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

تہذیب کا جنازہ اور اسٹیج کی چکاچوند

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

عقیدهٔ توحید اور توهم پرستی

سود كی لعنت اور اس كا علاج

1 مہینہ ago

مفتی نظام الدین قاسمی جمعیت بلاک بسنت رائے کا بلا مقابلہ صدر منتخب

1 سال ago

مقبول

  • بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جمعیت علمائے بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ کا خلاصہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جمعیت علمائے بسنت رائے کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں منظور کردہ تجاویز

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ارتداد کی روک تھام کے لیے دو اہم اور قابلِ عمل طریقے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تجاویز: آٹھواں فقہی سیمینار مجلس تحقیقات شرعیہ ندوة العلماء، لکھنؤ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.