ڈاکٹرراحتؔ مظاہری قاسمیسہ روزہ’’ دعوت‘‘
دہلی کے سابق ایڈیٹر جناب پرواز رحمانی کی وفات پر ہندوستان ہی نہیں بلکہ اردوکی نئی پرانی بستیوںخصوصاً میدان صحافت میں ایک قسم کاسناٹاساچھایااورماتم کے گھنے بادل دکھائی پڑتے ہیں کہ آج جناب عبدالحق بہ تخلص پروازؔ رحمانی کی صورت میں اردوکی ایماندارانہ اورعادلانہ صحافت کے ایک عہدکاخاتمہ ہوگیاہے،اللہ تعالیٰ سےدعاہے کہ رب غفوران کواپنے شایان شان سایہ عاطفت میںخلدبریں میں مقام عطافرمائے۔اس رنج کی گھڑی میں ہر چار چھ گھنٹے کے وقفہ وقفہ سے کسی نہ کسی قلم کار، اردو کے سپاہی، صحافت وعلم وادب کے دلدادہ کامرحوم کو خراج عقیدت یاتعزیتی پیغام واٹس ایپ ،نیز دیگر سوشل میڈیا پر دیکھنے کو مل رہاہے ،احقر نے بھی موصوف کی الفت کے تقاضہ سے سرشار ایک قطعہ تاریخ وفات کہاہے، حالانکہ مرحوم کے حق میں محترم دوست اورمشہور قطعہ تاریخ وفیات کے ماہر شاعر جناب مظفرنایابؔ صاحب کاشاندارخراج تحسین قطعہ تاریخ کی صورت میں کل ہی موصول ہوگیاتھا۔بہرحال! محترم پروازرحمانی کی وفات کسی عام آدمی کی وفات نہیں بلکہ ان کی وفات اردوزبان وادب کے ایک قلندرکی وفات ہے، بظاہر جس کی تلافی ممکن نہیں ،حالانکہ کہایہ بھی جاتاہے کہ لوگ کہتےہیں ’’کسی کی جگہ خالی نہیں رہتی‘‘یہ بات سچ ہے جگہ توخالی نہیں رہتی، مگر جس قسم کی صلاحیتیں ونوعیتیں گذرنے والے آدمی میں ہوتی ہیں، اس دورانحطاط میں اس کے کسی جانشیں فرد دیگرکوکہاں نصیب ہوسکتی ہیں؟ اسی لئے میرے محترم اوران کے پرانے رفیق وشناسا جناب مولاناڈاکٹرسرج ندوی (مدیر’’اچھاساتھی‘‘ بجنور)کایہ فرمانا کہ ’’ چھ جنوری کی صبح جب میں نے واٹس ایپ کھولا تو ایک افسوس ناک خبر نے دل کو دہلا دیا، ہمارے دیرینہ دوست، معتبر صحافی اور مخلص رفیقِ کار جناب پروازؔ رحمانی صاحب گزشتہ رات ساڑھے نو بجے الشفا ہاسپٹل دہلی میں خالقِ حقیقی سے جا ملے‘‘۔ اسی طرح مرحوم کوامیر جماعت جناب محترم انجینئرسیدسعادت اللہ حسینی کا خراج عقیدت واقعی جذباتی اور رونگٹے کھڑاکردینے والاہے ’’جناب پرواز رحمانی صاحب کا انتقال نہ صرف صحافت کے شعبے میں بلکہ مجموعی طور پر ملک و ملت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ سہ روزہ دعوت کے مدیر کی حیثیت سے پرواز صاحب کی خدمات مثالی صحافت کا اعلی نمونہ ہیں، صحافتی دیانت، فکری گہرائی و متانت، جراءت و بے باکی اور اخلاص و درد مندی کی اعلیٰ قدروں کو اپنی اصول پسند صحافت میں انہوں نے جس طرح برتا وہ ہمیشہ صحافیوں کے لیے ایک نمونہ ہوگا۔ صحافت ان کے لیے محض ایک پیشہ نہیں تھا بلکہ اعلیٰ مقاصد حیات اور انسانوں کی ہمہ گیر فلاح و بہبود کا ایک طاقت ور ذریعہ تھاـ،ان کی آواز اصولی، متوازن اور حقائق پر مبنی ہوتی تھی، جس نے انہیں قارئین اور اہلِ قلم میں یکساں طور پر مقبول بنایاـ خاص طور پر سہ روزہ دعوت میں’’ خبر و نظر ‘‘کے کالم کے تحت شائع ہونے والے آپ کے مختصر مضامین نے سہ روزہ دعوت کی مقبولیت اور تاثیر میں اضافے میں کلیدی رول ادا کیا، صحافت کے علاوہ، پرواز رحمانی صاحب نے تحریک اسلامی ہند کے لیے بھی مختلف میدانوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں، آپ جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس نمائندگان کے بھی رکن رہے،دعوت دین، اصلاح امت اور ملکی و ملی مسائل کے حل کی کوشش، تحریک میں ان کے خاص میدان تھے۔ـان کی شخصی خوبیاں بھی قابلِ تقلید تھیں، علمی عظمت کے باوجود وہ نہایت منکسرالمزاج، مخلص، نرم خو اور خورد نواز شخصیت کے مالک تھے، اپنی ان خوبیوں کے ذریعے انہوںنے بلند پایہ صحافیوں کی ایک پوری نسل کی تربیت کی ـ ،نیزطویل عرصے تک مرکزی مجلس شوری اور مجلس نمائندگان میں ان کا ساتھ رہا، ان سے میں نے بہت کچھ سیکھاـ مرکزی مجلس شوریٰ کی قراردادوں کی کمیٹیوں میں بارہا ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے صحافت اور قرارداد نویسی کے متعدد رموَز سیکھنے کو ملےـ ۔اسی طرح جماعتِ اسلامی ہند دہلی کے امیرِ حلقہ سلیم اللہ خان نے پرواز رحمانی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک اصول پسند اور بے باک صحافی تھے جنہوں نے ہمیشہ صحافت کے اخلاقی تقاضوں کو مقدم رکھا، انہوں نے کہا کہ سہ روزہ دعوت کے ذریعے اسلامی اور سنجیدہ اردو صحافت کو استحکام ملا۔انہوں نے مرحوم کے معروف کالم “خبر و نظر” کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کالم ان کی گہری صحافتی بصیرت اور حالاتِ حاضرہ پر مضبوط گرفت کا مظہر تھا۔ خبر و نظر اپنی نوعیت کا منفرد کالم تھا جسے قارئین بے حد دلچسپی سے پڑھتے اور ہر اشاعت کا انتظار کرتے تھے۔ یہ کالم وقت کے ساتھ سہ روزہ دعوت کی شناخت بن چکا تھا۔’’واقعی ان کا انتقال اردو صحافت بالخصوص ملت کے فکری و صحافتی حلقوں کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے‘‘ ان خیالات کا اظہار مشاورت کے صدر فیروزاحمد( ایڈوکیٹ) نے جماعت اسلامی ہند کے ترجمان سہ روزہ دعوت کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کے انتقال پر کیا ہے، انہوں نے کہا کہ مرحوم ایک باوقار، سنجیدہ اور اصول پسند صحافی تھے، انہوں نے اپنے طویل صحافتی سفر میں قلم کو امانت، خبر کو ذمہ داری اور صحافت کو سماجی و اخلاقی فریضہ سمجھا، اخبار دعوت کی ادارت کے دوران انہوں نے حق گوئی، فکری توازن اور ملت کے اجتماعی مسائل کو باوقار انداز میں اجاگر کرنے کی روشن روایت قائم کی۔ ان کی تحریروں میں نہ اشتعال تھا نہ سطحیت، بلکہ بصیرت، درد مندی اور ذمہ دارانہ اظہار نمایاں تھا۔بہرحال! بقول مشہورصحافی بھائی معصوم مرادآبادی’’ بلاشبہ پرواز رحمانی جتنے ذہین، سنجیدہ اورباوقار صحافی تھے، اتنے ہی اچھے اور بااخلاق انسان بھی تھے۔ انھوں نے نصف صدی پر محیط اپنی صحافتی زندگی میں ہمیشہ صحافت کی اعلیٰ اقدار کی پاسبانی کی اور کبھی سنسنی خیزی یا زرد صحافت کو منہ نہیں لگایا۔ وہ اردو صحافیوں کی اس نسل کے آخری آدمیوں میں سے تھے جن کے نزدیک صحافت ایک پروفیشن سے زیادہ ایک مشن کا درجہ رکھتی تھی ‘‘۔ان کی ایماندارانہ صحافت کی ایک مشہور اوربڑی وجہ یہ تھی کہ موصوف کسی بھی مثبت یامنفی خبر کوبغیر تحقیق کے خبر شائع کرنے کے سخت مخالف تھے،جب تک کسی خبر کی مکمل تصدیق نہ ہو جاتی، وہ اسے اپنے اخبار میں جگہ دینے کے قائل نہ تھے، جبکہ آج کے دور میں بغیر تحقیق خبریں شائع ہو جانا عام بات بن چکی ہے،اسی لئے ان کی تحریروں میں جذباتیت کے بجائے صداقت اور حقیقت پسندی نمایاں تھی۔ وہ قارئین کے جذبات سے زیادہ ان کی عقل و شعور کو مخاطب کرتے تھے، ان کی تحریریں سوقیانہ پن سے پاک، فکر کی گہرائی اور حقائق کی روشنی سے مزین ہوتی تھیں۔ صفحہ دویہ حقیقت بھی صحافتی دنیامیں مشہورہے کہ جناب پرواز رحمانی کا ادارتی اسلوب اردو صحافت میں وقار، توازن اور فکری شائستگی کی ایک نمایاں مثال تھا، ان کے اداریے شور و غوغا یا جذباتی نعروں کے بجائےخاموش استدلال کے ذریعے قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے تھے،ان کے اسلوب کی سب سے بڑی خصوصیت اعتدال تھی، وہ نہ تو بے جا مصلحت کا شکار ہوتے اور نہ ہی تلخی و شدت پسندی کی طرف مائل۔ قومی، ملی یا بین الاقوامی معاملات ہوں، پرواز رحمانی مسئلے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے، پس منظر واضح کرتے اور پھر نہایت سلیقے سے اپنا نقطۂ نظر پیش کرتے۔ یہی سبب تھا کہ ان کے اداریے محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ دستاویزی حیثیت رکھتے تھے۔معصوم بھائی نے اپنے ذاتی تجربہ اورتجزیہ کی بنیادپر بہت ہی پتے کی بات کہی ہے کہ ’’زبان کے اعتبار سے ان کا ادارتی اسلوب سلیس، شستہ اور باوقار اردو کا نمونہ تھا، مشکل تراکیب، ثقیل الفاظ یا خطیبانہ جوش سے وہ شعوری طور پر گریز کرتے تھے، جملے متوازن، مفہوم واضح اور لہجہ شائستہ ہوتا، اختلاف بھی کرتے تو اخلاقی دائرے میں رہ کر، دلیل کے ساتھ، نہ کہ طنز و تمسخر کے ذریعےــ‘‘معصوم بھائی کےتجزیہ کی بنیادپرہم یہاں مرحوم کےمشہورعنوان’’خبرونظر‘‘سے صرف دواقتباس بطور مشتے نمونہ ازخروارے پیش کرناچاہتے ہیں(الف)خبر و نظر’’ایک حقیقت کا اعتراف:اور اس حقیت کا اعتراف اسی ادارئے میں خود سامنا (شیوسیناممبئی کانمائندہ اخبار)کے ایڈیٹر نے کیا ہے’’جب اتحاد المسلمین جیسی پارٹیاں بنتی ہیں تو ہمیں بے حد خوشی ہوتی ہے، کیونکہ ہندو اُن کے زہرا گلنے سے مشتعل ہو کر ووٹ ڈالتے ہیں، جب ملائم سنگھ اور لالو پرساد یا دو مسلمانوں کی خوشامد کرتے ہیں تو ہندو تو وادی پارٹیوں کے چہرے کی خوشی چھپ نہیں پاتی ،جامع مسجد(دہلی کے شاہی) کے امام اور یوپی کے اعظم خاں(سماج وادی مسلم رہنما) جب بالواسطہ طور پر پاکستان کی چمچہ گیری کرتے ہیں تو اُس وقت دُکھی ہونے کی بجائے ہم خوش ہوتے ہیں کہ اچھا ہوا پر چار کا ایک بڑا مدعا ہاتھ لگ گیا۔ ہم اس کی خوشی مناتے ہیں۔۔۔۔۔۔ “۔ بہر حال ، سامنا کے اداریے کی بات ایسی نہیں تھی کہ اس پر سنجیدہ تبصرے کئے جاتے بس یہ نوٹ کیا جاتا کہ (1) ان لوگوں کے پاس اِن باتوں کے سوا کچھ نہیں ہے، اگر ملک اور یہاں کے انسانوں کی بھلائی کا کوئی معقول پروگرام ہوتا تو وہ سنجیدگی کے ساتھ اسے پیش کرتے۔ (۲) مسلم آبادی سے ان لوگوں کے خوف کے لئے خود ہم مسلمان بھی ذمہ دار ہیں کہ ہم نے اپنے قول و عمل سے ان کے سامنے یہ کیوں نہیں ثابت کیا کہ ہم خیر امت ہیں، اس ملک اور یہاں کے تمام باشندوں کی فلاح و نجات کا ایک ٹھوس پروگرام رکھتے ہیں، اگر ایسا ہوا ہوتا تو آج صورت حال دوسری ہوتی ۔ (پ ر)۔آپ نے غورکیاکہ انھوںنے شیوسیناکی سطحی کا سوچ کا اپنے کالم میں کس طرح کچومرنکال کررکھدیا،حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ لوگ خودہی اپنے ہاتھوںاپنے حریفوںکو ان کے من چاہے مدعے پروسنے کے ذمہ دارہیں۔(ب)خبر و نظر:پھر وہی آواز،یہ بات کہ انتخابات میں مسلمانوں کا حق رائے دہی منسوخ کر دیا جائے ، سب سے پہلے شیوسینا کے بانی لیڈر بالا صاحب ٹھاکرے نے کہی تھی، جس کے لئے اُن پر چوطرفہ تنقید بھی ہوئی تھی ، اب پندرہ سال بعد وہی بات’ سینا ‘کے اخبار’ سامنا ‘کے ایڈیٹر سنجے راوت نے باقاعدہ ادارے میں دہرائی ہے،البتہ لہجہ قدرے نرم ہے ۔ ۱۲ /ا پریل کے شمارے میں لکھا ہے مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے،جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور خود مسلمانوں کی ترقی بھی نہیں ہو پارہی ہے، اس رائے پر بھی ہر جانب سے شدید تنقید ہوئی ہے، بی جے پی نے جو شیو سینا کی حلیف ہے، اسے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ خود نیلم گوڈسے ایم ایل سی شیوسینا نے وضاحت کی ہے کہ رادت کی بات کا مطلب وہ نہیں ہے جو لیا جا رہا ہے بلکہ یہ ہے کہ صرف دوٹوں کے لئے مسلمانوں کا استحصال کیا جا رہا ہے جو اُن کی پسماندگی کا ایک بڑا سبب ہے۔ (انڈین ایکسپریس ۱۳/ اپریل ) بعد میں خود سنجے رادت نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ انہوں نے صرف بالا صاحب ٹھاکرے کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے۔ مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کئے جانے سے نہ ملک کا فائدہ ہو رہا ہے نہ مسلمانوں کا، جب تک یہ صورت رہے گی مسلمان ترقی نہیں کر سکیں گے، اس ووٹ بینک پالیسی کا مقصد ہمیشہ مسلمانوں کو مین اسٹریم سے دور رکھنا رہا ہے(پ ر)اسی طرح ہمیں یادہے کہ جب’’ سہ روزہ دعوت دہلی‘‘واقعی اپنے سابق مدیروںجناب محفوظ الرحمٰن، مولانامحمدمسلم اور مرحوم پروازؔ رحمانی کی ڈگر پرتھا، تو ا س وقت پرواز صاحب نے اپنے کالم ’’خبرونظر‘‘ کی ایک قسط کوآرایس ایس کے سابق سربراہ آنجہانی رَجُّوبھیّا کے حوالے سے ایک عجیب ،غریب خبرکواپناموضوع سخن بنایاتھا ۔خبریہ تھی کہ رَجُّوبھیّا نے اپنی عمرکے آخری پڑاؤ پر رمضان المبارک کے آخری عشرہ میںنماز عیدمیں شرکت اورنماز بعد کسی مسلمان کے گھرعیدکی سوَیّاں کھانے کی خواہش کا اظہارکیاتو ساری کی ساری آرایس ایس مع بی جے پی سکتے میںآگئی، جس کاحلبہت غوروفکر کے بعد یہ نکالاگیاکہ آرایس ایس کے ذمہ دار اُن کو عیدگاہ کی نماز میں شرکت سے توکسی طرح روکنے میں کامیاب ہوگئے، مگر کسی مسلمان کے گھرعیدکی سوَیّاں کھانے کی خواہش پوری کرنے کے لئے بی جے پی کی کسی معمولی مسلمان کوپریس کرکے ان کی خواہش پوری کرادی گئی، اس طرح یہ بلاٹالی گئی۔جس پر پروازؔ صاحب نے اپنے بھرپورتیکھے اندازمیں شری مان جی کی خوب کھلّیاںاڑائی اورلکھاکہ شایدموصوف کو اپنی عمرکے آخری پڑاؤکابخوبی اندازہ ہوچلاہے،ا ب شاید ان کی روح حق کی تلاش میں بھٹکتی پھررہی ہے، کاش ان کے رفیق کاراُن کے دل کی آوازکو سن پاتے تو کوئی راستہ ان کی تسلی یعنی آتماکی شانتی کانکل آتا‘‘۔بہرحال پرواز صاحب توچلے گئے مگرا ن کے تعلق سے کسی قاری کے ذہن میں یہ سوال آنابھی ناگزیرہے کہ مرحوم کایہ اندازتحریر خود اُن کی اختراع وخودساختہ تھایاکسی کے حسن تربیت کا نتیجہ تھااس لئے وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے کہ مذکورہ اسلوب تحریر ان کے مربی ،مشہورقلم کار اوراسلام کی سادگی وشرافت کے مظہر جناب مولانامحمدمسلم کی تربیت کانیک پھل تھا۔جس کااعتراف پروازؔ مرحوم نے بطورفخر بقلم خود’دعوت‘ میں لکھے گئے ان کے مستقل کالم ’خبرونظر‘ کا انتخاب( 1996 ) کی اشاعت کے وقت کیاتھا۔معلوم ہو کہ وہ1989 سے 1993 تک کے ‘ خبر و نظر ” کے کالموں کا مجموعہ ہے، اسی مجموعہ کے انتساب میں لکھاہے’’مرحوم مسلم صاحب 1982 تک تقریباً 25 سال ’دعوت‘ کے ایڈیٹر رہے اور اسے خون جگر سے صفحہ تینسینچا، ویسے صحافت کے میدان میں وہ بہت پہلے سے سرگرم تھے، بات کہنے کا ایک خاص اور دلکش انداز رکھتے تھے اور ’دعوت‘ کاکالم ان کے اسی اسلوب کا آئینہ دار تھا۔ مجھے مرحوم کی رہنمائی اور سرپرستی میں کام کرنے کا شرف کئی برس حاصل رہا، خاص طورسے ان کی ادارت کے آخری دور میں ایمرجنسی کے بعد 1977 میں جب ’دعوت‘ کی اشاعت بحال ہوئی تو ’خبرونظر‘ لکھنے کا زیادہ موقع مجھے ہی ملا، جو ہنوز جاری ہے،قدردانوں اور قارئین ’دعوت‘ کے مشوروں پر میں نے اس کا یہ مختصر انتخاب ترتیب دیا ہے، جسے مرحوم مسلم صاحب کی نذر کرتا ہوں۔“ ہم کوبھی پروازصاحب مرحوم کی زیارت کاشرف اس وقت میسرہوا کہ جب ہم روزنامہ صحافت (دہلی)کے سب ایڈیٹرکی حیثیت سے سابق صدر محترم مولانا سیدجلال الدین عمری کے زمانے میں سہ روزہ دعوت کے ایک خصوصی ضمیمہ کی اشاعت پر ان کی پریس کانفرنس کی کوریج کے لئے حاضرتھے، تب مرحوم کے ساتھ ایک بریفنگ کے بعد عشائیہ پرخصوصی ملاقات کا نیازبھی حاصل ہوسکا۔ جس کی شکل یہ بنی کہ عام پروگرام کے بعد اعلان ہوا صحافی حضرات تشریف رکھیں ، دعوت کے مدیراعلیٰ کی پریس کانفرنس ہے۔ یہ سن کر ٹھہرنالازمی تھاکہ تب دیکھا کہ میانہ قد،گندمی رنگ، خشخاشی ڈاڑھی، متین لہجہ،حسن اخلاق سے مرصّع،نستعلیقی شخصیت کرسی پر سیدھے ہاتھ میں مائک لئےاپنے منفردانداز میں بامعنیٰ گفتگوکرکے سلام کرنے کے بعد رخصت کی اجازت لیتے ہوئے ہال سے تشریف لے گئے۔وہی نستعلیقی شخصیت جس کااسم گرامی عبدالحق پروازرحمانی تھا6جنوری2025 مطابق:17رجب 1447ھ کواس دارفانی سے دارالبقاء کی طرف کوچ کرگئی، سناہے کہ مرحوم کافی عرصے سے علیل تھے۔ برین ہیمرج اور فالج کی تکلیف میں مبتلا آئی سی یو میں زیرِ علاج تھے، اللہ مغفرت کرے۔آپ میری آخری لائن کو غیرضروری بھی قراردے سکتے ہیں مگریہ میراہی نہیں بلکہ مجھ جیسے کتنے ہی پرانے قارئین دعوت کادردہے کہ آج دعوت اخبار زندہ توہے مگروہ دعوت نہیں جس کے لئے مولانامحمدمسلم نے اس وقت کے امیرجماعت کی اس قرارداد کو ٹالدیاتھاجس میں انھوںنے مالیہ کی پریشانی کے باعث اخبارکو بندکرنے کاتہیہ کرلیاتھا۔تب اس وقت کے ایڈیٹرمولانامحمدمسلم نے امیرجماعت کی تجویزسے اختلاف کرتے ہوئے برسرمحفل یہ چیلنج کردیاتھا’’اگرآپ اخبارکا فنڈروکناچاہتے ہیںتو بصدشوق روک لیجئے ،مجھے کچھ مت دیجئے، لیکن جب تک میرے دَم میں دَم ہے ،میں دعوت کو بھیک مانگ کرچلاتارہوںگا کہ میری نظرمیں دعوت ایک اخبارنہیں بلکہ مِشن ہے۔اورحقیقت بھی یہی ہے ،احقرنے بھی چندماہ پہلے جب اس کی اشاعت سیاہ سے رنگین ، کاغذ اپنی معمولی کوالٹی سے چکنااوردبیزدیکھ کرتب یہی کہاتھاکہ دعوت تو باقی ہے مگرجناب محفوظ الرحمٰن ، مولانامسلم اورپروازرحمانی والادعوت نہیں رہا،کہ یہ بصرنوازضرورہے مگربصیرت نواز نہیںرہا۔ بقول ایک مبصرآج ’دعوت‘ میں فکر انگیز مضامین اور تحریروں کی جگہ طویل اور بوجھل مضامین شائع ہوتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ یہ اخبار کسی ایڈیٹر کے بغیر شائع ہورہا ہو، ظاہر ہے جس اخبار کی ادارت کے فرائض محمد مسلم، محفوظ الرحمن اور پرواز رحمانی جیسے جیدصحافیوں نے انجام دی ہو، اس کا یوں بے ادارت ہوجانا ہم جیسے اردو صحافت کے طالب علموں کے لیے تکلیف کا باعث ہے،بہرحالبقول مرزاغالب رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف آ ٓج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

















