ہمارا ملک سیکولر ہے، ہمارا نظام حکومت سیکولر ہے۔ سیکولرزم کا مطلب ہے کہ حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوگا، سب لوگوں کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تعلیم دلانے کا حق ہوگا۔ سیکولرزم کا مطلب یہ ہے کہ حکومتوں کو مذہبی معاملات سے کوئی تعلق نہ ہوگا؛ لیکن اگر حکومت نے ایسے معاملات میں مداخلت کی، جن کو کہ لوگ اپنے دین کا حصہ سمجھتے ہیں، تو نظام حکومت سیکولر نہ رہے گا۔ اگر ہمارے نجی مذہبی معاملات کو قانون و اکثریت کی طاقت سے بدلنے کی کوشش کی گئی اور حکومت نے قانون ساز اداروں کے ذریعہ اکثریت کے بل پر اس کوبد لنا چاہا، تو سیکولرزم کا مطلب مذہب دشمن حکومت ہوجائے گا۔ اگر ایسی کوئی بڑی تبدیلی کی گئی، تو سیکولرزم کا کوئی مطلب نہ رہے گا ۔اگر ایسا کیا گیا، تو ہم کہہ دیں گے کہ ملک ’’ہندو اسٹیٹ‘‘ بن گیا ہے اور ہمارے مسائل پر نئے سرے سے غور کیا جائے۔ اس سلسلہ میں مداخلت ہمارے بنیادی حق کو توڑنے کے مرادف ہوگی۔ ایک مفاہمت کی بنا پر ہمارے بزرگوں نے کانگریس کی تائید کی ہے، اس کے بعد وہ مفاہمت ختم ہو جائے گی، اس کا اثر دستور کی بنیاد پر پڑے گا ،اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ ایسے کچھ لوگوں سے حکومت اپنے مقاصد کو پورا کرائے گی، تو ملک میں بہت خراب حالات پیدا ہوں گے۔ یا درکھو! ہم نے نگاہوں کو نہیں دیکھا، اصولوں کو دیکھا ہے۔ حکومت اس کو محسوس کرے۔ اگر حکومت نے محسوس نہ کیا، تو بھر پورجو اب ملے گا ان شائ اللہ۔
ناظم عمومی مولانا اسعد مدنی صاحب کی تقریر۔ بر موقع: تئیسواں اجلاس عام جمعیت علمائے ہند، منعقدہ: 5-6-7؍مئی 1972















