راشٹر واد(11)
محمد یاسین جہازی
لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟
جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ ہمارے اکابر نے مذہبی آزادی اور تمام حقوق میں مکمل مساوات کی شرائط کے ساتھ جمہوری حکومت کی حمایت کی تھی،اور اسی متحدہ قومیت نظریے کی بنیاد پر نظریہ پاکستان کی مخالفت کی تھی ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت ہندستان میں جمہوریت اپنی حقیقی روح کے ساتھ باقی ہے؟
قوموں اور ملکوں کے عروج و زوال کا تجزیہ کرنے والے ماہرین کے مطابق دس پوائنٹس ایسے ہیں، جن کو معیار بناکر حالات کا تجزیہ کرنے سے کسی قوم کے عروج وزوال کا نتیجہ مرتب کرسکتے ہیں۔ وہ 10 پوائنٹس درج ذیل ہیں :
1۔ روٹی کا مسئلہ
2۔حفاظت جان و مال
3۔عدل و انصاف
4۔ مذہبی حقوق کی حفاظت
5۔ تہذیب و زبان کی حفاظت
6۔تعلیم
7۔حقوق ملازمت
8۔یکساں شہری حقوق اور مساوات
9۔حقوق ملکیت میں آزادی
10۔سیاسیات
ان دس پوائنٹس کے تناظر میں ٹو دہ پوائنٹ بات کی جائے، تو مختصر لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ:
1۔ٹھیلہ وغیرہ پر نام لکھوانے کی تحریک چلاکر، یا صرف اپنے ہم مذہب سے خریداری کی اپیل کرنے جیسے معاملات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا کرنے کی منظم کوشش کی جارہی ہے۔
2۔ ملک میں بڑھتے ہیٹ ریٹ، سفر وغیرہ میں مسلم شناخت والوں کے ساتھ تشدد، بعض بعض جگہوں پر مسلمانوں کے داخلے کی پابندی، خود ہی فرقہ وارانہ فسادات کر اکے ان کا الزام مسلمانوں پر ڈال کر بے قصور نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاری اور رہائی کے لیے وصولی کرنا، یا طول طویل عدالتی کارروائیاں اور بعد ازاں حکومت کا جبری بلڈوزر جیسی دہشت گردانہ حرکتیں اور مآب لنچنگ کے واقعات شاہد ہیں کہ مسلمانوں کے سامنے جان و مال کے تحفظ کا معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔
3۔ بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، دہلی اور پورے ملک میں آثار قدیمہ کے نام پر بند پڑی مساجد، گیان واپی مسجد،عیدگاہ متھرا اور تقریباً تین ہزار مساجد پر قانونی شکنجہ کسنے کے بعد عدالتوں کے فیصلے، اسی طرح تین طلاق اور شرعی محکمہ قضا کے فیصلوں کے متعلق حالیہ دنوں کے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں، نیز جدید وقف ایکٹ میں ظالمانہ ترمیمات پر اصرار سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے ملک میں کتنا عدل و انصاف بچا ہوا ہے۔
4۔وقف ایکٹ ،فتوی پر پابندی (ہماچل پردیش میں) مدارس اسلامیہ کو نوٹس، قربانی اور غیر قربانی کے مواقع پر گائے کے ذبح پر پابندی،یا ہنگامہ اور کسی بھی مسجد کو غیر قانونی تعمیرات کے بہانے شہید کردینے کے متواتر واقعات سے مسلمانوں کے مذہبی حقوق کس درجہ محفوظ ہیں، دانش ور خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔
5۔ داڑھیوں کے خلاف مقدمے، تعلیم گاہوں میں برقعہ پوش خواتین کے ساتھ مسائل پیدا کرنا اور اردو زبان کے ساتھ تعصب انگیز رویہ سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی تہذیب اور زبان کو مٹانے میں وہ کس حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔
6۔ تعلیم کی بات کریں ،تو مسلمان کے اندر 42 فی صد جہالت ہے۔ آزاد مدارس کے سامنے تو مسائل پیدا کیے ہی جارہے ہیں ؛لیکن سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستگی سے بھی ان کو چڑھ ہے، جیسا کہ کچھ دن پہلے جمعیت اسٹڈی سینٹر کے تحت نوائس سے امتحان دینے والے طلبہ و طالبات کی بڑھتی کامیابی کو دیکھتے ہوئے این سی پی سی آر کے چئیرمین نے زہر اگلتے ہوئے اسے ٹرر فنڈنگ کہا تھا۔ اس طرح کے اور بھی معاملات ہیں، جہاں مسلمانوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کی مکمل سازش کی جارہی ہے۔
7۔حقوق ملازمت کی بات کریں، تو سیکڑوں ایسے واقعات سامنے آچکے ہیں، جہاں مسلمانوں کے ساتھ ڈس کرمنیشن یعنی امتیازات سے کام لیا جارہا ہے۔
8۔ یکساں شہری حقوق اور مساوات سے مراد حکومت کے جملہ وسائل میں بلا امتیاز مذہب وغیرہ یکساں شرکت ہے۔ سی اے بی، گجرات میں ڈسٹربڈ ایریا کا قانون اور نچلی ذاتوں اور مسلمان سمجھ کر بعض محکمہ جیسے ڈفنس میں مسلمانوں کو ملازمت، یا اعلی ملازمت نہیں دی جاتی۔گویا یکساں شہری حقوق اور مساوات پر بھی ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔
9۔ حقوق ملکیت میں تو اب تک آزادی ہے، لیکن بعض مخدوش علاقوں میں محض مسلمان کا گھر ہونے کی وجہ سے جس طرح بغیر عدالتی کارروائی کے بلڈوزر چلادیا جاتا ہے، یہ بھی اس سے کم ظلم نہیں ہے کہ مسلمانوں کو ان کی ملکیت سے محروم کردیا جائے۔ اس سے واضح معاملہ یہ ہے کہ ایک خاص سازش کے تحت مسلمانوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سے محرومی تقریباً تمام حقوق سے محرومی کا باعث بن جائے گی۔
10۔البتہ سیاست میں مسلمان اب تک آزاد ہیں ،لیکن مسلم آبادی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حلقہ ہائے انتخاب کی جس طرح حدبندی کی جاتی ہے، اس سے اس سازش کا اندازہ لگانا کوئی خاص مشکل نہیں ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی طاقت کو بے وزن کرنے کی لگاتار کوشش کی جارہی ہے۔
علاوہ ازیں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی کے علاوہ بھی کئی پارلیمنٹ کے بڑے لیڈربیان دے چکے ہیں کہ ہندستان میں جمہوریت بچی نہیں ہے۔
ان نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا شاید خلاف واقعہ نہیں ہوگا کہ بھارت ہندو راشٹر بن چکا اور جمہوریت اور دستور ایک قصہ پارینہ بن چکا ہے۔
انھیں حقائق کو دیکھتے ہوئے کچھ حضرات یہ دلیل دیتے ہیں کہ اکابر جمعیت کے نظریات کو موجودہ حالات نے غلط ثابت کر دیے ہیں اور سر سید اور مسٹر جناح کی پیش قیاسیاں حرف بہ حرف پوری ہو رہی ہیں ۔
سرسید مرحوم کی پیش قیاسی
جیسا کہ عرض کیا جاچکاہے کہ
18/ دسمبر 1887ء کو لکھنؤ میں سر سید نے ایک تقریر میں کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، اگر انگریز چلے گئے تو تخت پر دونوں نہیں بیٹھ سکتے۔ انتخابی حکومت میں ہندو ہندو کو اور مسلمان مسلمان کو ووٹ دیں گے تو تین چوتھائی اکثریت ہندوؤں کی ہوگی اور مسلمان دائمی غلام بن جائیں گے۔ اس لیے مسلمانوں کو کانگریس میں شریک نہیں ہونا چاہیے اور انگریزی حکومت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
مسٹر جناح کی پیشین گوئی
23 /مارچ 1940ء کے لاہور اجلاس میں محمد علی جناح نے پاکستان کے مطالبے کی ایک بنیادی دلیل یہ پیش کی کہ متحدہ ہندستان میں عددی ہندو اکثریت کے تحت مسلمان مستقل سیاسی اقلیت بن کر رہیں گے اور ان کے حقوق و مفادات اکثریتی غلبے سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے؛ اسی لیے انھوں نے کہاکہ : “Muslim India cannot accept any constitution which must necessarily result in a Hindu majority government.” ان کے نزدیک پاکستان کا مقصد مسلمانوں کو اپنی سیاسی، معاشی، تہذیبی اور مذہبی زندگی اپنے اصولوں کے مطابق محفوظ رکھنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔
اسی طرح 6 /دسمبر 1945ء کے خطاب میں مسٹر جناح نے متحدہ ہندستان میں مسلمانوں کو “at the mercy of the perennial Hindu majority domination” قرار دیتے ہوئے پاکستان کو اس صورتِ حال سے نجات کا راستہ بتایا۔
اس کے علاوہ ہندستان کے آزاد ہونے کے بعد
25 اکتوبر 1947ء کو محمد علی جناح نے رائٹرز کے نمائندے ڈنکن ہوپر سے کہا کہ ہندستانی مسلمانوں سے “certain tests and standards of loyalty” یعنی ’’وفاداری کے مخصوص امتحانات اور معیار‘‘ طلب کیے جا رہے ہیں؛ یعنی تقسیم کے بعد بھی انھیں اپنی وفاداری ثابت کرنی پڑ رہی ہے۔
ان تمام تاریخی حالات، دلائل اور پیش قیاسیوں کے تناظر میں آج کا نوجوان یہ سوال اٹھاتا ہے کہ:
- کیا جمعیت علمائے ہند کا ’’متحدہ قومیت‘‘ کا نظریہ غلط ثابت ہوا؟
- کیا اس کے بالمقابل سر سید احمد خان کا موقف زیادہ درست تھا کہ مسلمانوں کو انگریزوں کا وفادار رہنا چاہیے
- یا مسٹر جناح کے دو قومی نظریہ پر عمل کرتے ہوئے، تقسیم کے وقت ہندستان چھوڑ کر ہمارے آباؤ اجداد کو پاکستان چلے جانا چاہیے تھا؟
بہ الفاظ مختصر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج جب ہندستان میں بعض مقامات پر فرقہ وارانہ کشیدگی، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات اور امتیازی رویوں کے واقعات سامنے آتے ہیں تو مسلم نوجوان یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا سرسید احمد خان اور محمد علی جناح کا یہ موقف درست تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں اور مسلمانوں کا سیاسی تحفظ ایک الگ مملکت میں ہے؟ اور کیا جمعیت علمائے ہند کا متحدہ قومیت کا نظریہ تاریخی طور پر غلط ثابت ہوگیا؟
تو جوابات یہ ہیں ۔۔
اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ تاریخ کے پورے پس منظر کو سامنے رکھ کر تلاش کرنا چاہیے۔
















