پیر, ستمبر 28, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کو پٹری سے اتارنے کی مہم

    عرب جمہوریات کا اتحاد

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(10)۔الزام غداری اور وفاداری کا مطالبہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد (5) جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور اس کا متحدہ راشٹرواد کا نظریہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کو پٹری سے اتارنے کی مہم

    عرب جمہوریات کا اتحاد

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(10)۔الزام غداری اور وفاداری کا مطالبہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد (5) جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور اس کا متحدہ راشٹرواد کا نظریہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home متفرق مضامین دیگر مضامین

عرب جمہوریات کا اتحاد

by Admin
ستمبر 28, 2026
in دیگر مضامین, قومی و بین الاقوامی, متفرق مضامین
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

حوالہ جات و تحقیقات کا شعبہ
وزارتِ ثقافت و اطلاعات — عمان

مورخہ: 24/5/1971

عرب جمہوریات کا اتحاد

20 سے 27 دسمبر 1969 کے عرصے میں تینوں صدور، جمال عبدالناصر، جعفر النمیری اور معمر قذافی نے طرابلس، لیبیا میں ملاقات کی۔

ان کی رائے یہ تھی کہ صہیونی چیلنجز اور اسرائیلی جارحیتوں کا مقابلہ کرنے کی ذمہ داری ایک مشترکہ مسئلہ ہے، جس میں تمام عرب ممالک کو اپنا حصہ لینا چاہیے، تاکہ عرب قوم کو درپیش فیصلہ کن معرکے کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ان رہنماؤں کی ملاقات دراصل فلسطینی انقلاب اور اس کے جائز حق کے لیے مکمل مادی حمایت کا اظہار تھی، نیز مقبوضہ علاقوں میں عرب عوام کی مسلح جدوجہد کی تائید بھی تھی۔

تینوں صدور نے اپنے اجلاسوں میں درج ذیل امور پر اتفاق کیا:

1. تینوں صدور کے درمیان ہر چار ماہ بعد باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں، تاکہ اپنے عوام کے مشترکہ مقاصد، اپنے انقلابات کے اصولوں، اور آزادی، اتحاد اور اشتراکیت سے متعلق امنگوں اور آرزوؤں کے حصول کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔

2. تمام شعبوں میں مشترکہ کمیٹیاں قائم کی جائیں، تاکہ مصر، سوڈان اور لیبیا کے درمیان تعاون اور باہمی یکجہتی و انضمام کے حصول کے لیے ضروری بنیادیں فراہم کی جا سکیں، جس سے تینوں ممالک کو باہمی فائدہ پہنچے۔

13 فروری 1970 کو صدر النمیری، قذافی اور جمال عبدالناصر نے قاہرہ میں اپنا دوسرا سہ فریقی اجلاس منعقد کیا، جس میں درج ذیل امور پر غور کیا گیا:

طرابلس کانفرنس کے اختتام کے بعد سے ان تینوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سماجی شعبوں میں تعاون کو مربوط کرنے اور کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اس کے بعد تینوں ممالک کے سربراہان نے 5 نومبر 1970 سے 8 نومبر 1970 کے درمیان خرطوم میں ملاقات کی۔ اس وقت عرب سیاست کے منظرنامے سے صدر جمال عبدالناصر رخصت ہو چکے تھے اور ان کے جانشین صدر انور السادات تھے، جنہوں نے صدر النمیری اور صدر قذافی کے ساتھ خرطوم کانفرنس کے اجلاسوں میں شرکت کی۔

تینوں صدور نے تینوں عرب ممالک کے درمیان اتحاد قائم کرنے کے لیے ایک عملی منصوبے پر اتفاق کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ تینوں ممالک تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے اس امر کے لیے تیار ہیں کہ عرب اتحاد کے لیے ایک بنیادی وحدت اور مرکز (نواة) تشکیل دیں۔

اس مقصد کے نفاذ کے لیے تینوں ممالک کے رہنماؤں نے درج ذیل فیصلے کیے:

– تینوں صدور پر مشتمل ایک متحدہ قیادت قائم کی جائے، جو مصر، سوڈان اور لیبیا کے درمیان باہمی انضمام اور روابط کو تیز کرنے، مضبوط بنانے اور فروغ دینے کے لیے کام کرے۔

– ایک منصوبہ بندی کمیٹی قائم کی جائے…
فالو اَپ کمیٹی کا قیام

قومی سلامتی کونسل کا قیام

مختلف شعبۂ ہائے کار سے متعلق ذیلی کمیٹیوں کا قیام

اس کے بعد شام میں 13 نومبر 1970ء کو ایک تحریک رونما ہوئی، جس کی قیادت جنرل حافظ الاسد نے کی۔ اس تحریک کے نتیجے میں بعث پارٹی کی شہری قیادت، یعنی صلاح جدید، یوسف زعین اور ان کے ساتھیوں کی قیادت ختم ہوگئی، جن کی عرب پالیسی کو تنہائی، انغلاق اور انتہاپسندی سے متصف قرار دیا جاتا تھا۔ جنرل حافظ الاسد شام کی نئی حکومت کے سربراہ بن کر سامنے آئے، جس سے زیادہ وسیع اور مؤثر عرب اتحاد کی نئی امیدیں پیدا ہوئیں۔

واقعی جنرل حافظ الاسد 26 نومبر 1970ء کو ایک شامی وفد کے سربراہ کی حیثیت سے قاہرہ پہنچے، جہاں انہوں نے صدر انور سادات کے ساتھ مذاکرات کیے۔ جنرل الاسد اور صدور انور سادات، جعفر النمیری اور معمر قذافی کے درمیان براہِ راست رابطوں کے بعد سب اس بات پر متفق ہوئے کہ عرب قوم کے مشترکہ مقدر کی عظیم حقیقت کو مستحکم کرنے میں شام کی حکومت اور عوام اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، اور اس مقصد کے لیے شام کو قاہرہ اعلامیے کے تینوں ممالک میں شامل کیا جائے۔

ان مذاکرات کے بعد 27 نومبر 1970ء کو جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں اہم نکات یہ تھے:

– چاروں ممالک کے سربراہان پر مشتمل متحدہ چار رکنی قیادت تشکیل دی جائے۔
– سیاسی، عسکری اور اقتصادی تمام شعبوں میں تعاون کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
– ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے اپنے فیصلہ کن معرکے میں عرب قوم کی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جاسکے۔

اس کے بعد 19 جنوری 1971ء کو طرابلس معاہدے کے ممالک کی دفاعی کونسل، جس میں وزرائے دفاع اور وزرائے خارجہ شامل تھے، نے شام کی شمولیت کے بعد طرابلس معاہدے کے ممالک کی پہلی سربراہی کانفرنس کی تیاری کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا۔ کانفرنس نے 20 جنوری 1971ء کو اپنے اجلاس شروع کیے۔ اس میں بالخصوص فوجی اور سیاسی صورتِ حال، عرب دنیا کی صورتِ حال اور مزید وحدت پسندانہ اقدامات کے لیے کوششوں پر غور کیا گیا۔

اس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں اہم نکات یہ تھے:

– عرب قوم کے تمام وسائل اور صلاحیتوں کو مجتمع کرنا۔
– مشرقی محاذ کو مضبوط بنانے کے لیے دشمن کے مقابل صفِ اوّل پر تمام قوتوں کو جمع کرنا۔
– فلسطینی مزاحمت کی حمایت جاری رکھنا۔

اس کے بعد شام میں آئینی سطح پر اہم اقدامات کا آغاز ہوا۔ ایک عوامی ریفرنڈم منعقد کیا گیا، جس کے نتیجے میں جنرل حافظ الاسد کو 13 مارچ 1971ء کو بھاری اکثریت سے جمہوریۂ شام کا صدر منتخب کیا گیا۔
دمشق میں ایک اجلاس منعقد ہونے والا تھا، جس میں چاروں صدور شرکت کرنے والے تھے۔

لیکن سیاسی حالات میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں نے اس منصوبے کو تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔ 18 اور 19 مارچ 1971ء کو صدر سادات نے خفیہ طور پر لیبیا کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر قذافی سے ملاقات کی۔ اس کے بعد انہوں نے 27 مارچ 1971ء کو سوڈان کا دورہ کیا، جہاں صدر نمیری سے ملاقات کی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد صدر سادات اور صدر اسد کے درمیان بھی اسی نوعیت کے رابطے ہوئے، جن کے دوران چاروں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کا آئندہ اجلاس قاہرہ میں منعقد کیا جائے۔

روزنامہ ’’الاہرام‘‘ نے ان اجلاسوں کے بارے میں لکھا کہ عرب سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں بنیادی طور پر دو امور شامل تھے:

1. طرابلس کے اتحاد کے منصوبے کی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے وحدت پسندانہ اقدامات۔
2. عرب دنیا کو درپیش اہم مسائل۔

تاہم، سربراہی اجلاس سے قبل چاروں ممالک کے باہمی تعلقات میں جو ماحول پایا جاتا تھا، وہ کشیدگی سے عبارت تھا۔ شام اور لیبیا کے درمیان اختلافات اس مرحلے تک پہنچ چکے تھے کہ دونوں جانب سے اخبارات میں کھلی تنقید ہونے لگی تھی۔ لیبیا کے اخبار ’’البلاغ‘‘ نے 11 اپریل 1971ء کو شام کی اس پہل پر تنقید کی جو 8 اپریل 1971ء کو جنرل علامر کے عمان کے دورے کی صورت میں سامنے آئی تھی۔ اخبار نے شام اور مملکتِ اردن کے درمیان دوستانہ تعلقات اور تعاون کے روابط مضبوط کرنے پر بھی تنقید کی۔

دوسری جانب لیبیا اور سوڈان کے تعلقات بھی معمول کے مطابق نہیں تھے، جس کی ایک وجہ سوڈانی کمیونسٹ پارٹی کے بارے میں قذافی کا موقف تھا۔ اس کے علاوہ اتحاد کے سلسلے میں بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافِ رائے تھا۔ قذافی کا خیال تھا کہ اتحاد کی طرف پیش قدمی تیز رفتاری سے ہونی چاہیے، جبکہ نمیری کا موقف تھا کہ سوڈان کی عمومی صورتِ حال کے پیشِ نظر مزید وحدت پسندانہ اقدامات کے اعلان میں عجلت نہیں کرنی چاہیے۔

اسی دوران مراکش کی جانب سے عرب سربراہی کانفرنس بلانے کی دعوت کے جواب میں قذافی کی طرف سے اپنے طور پر ایک اعلان کیا جانا بھی ایک نئی حیرت کا باعث بنا۔ ان حالات کے درمیان چاروں صدور نے 13 اپریل 1971ء کو قاہرہ میں اپنے پہلے مشترکہ اجلاس کا آغاز کیا۔ اس سے پہلے صدور کے درمیان متعدد دو طرفہ اور ضمنی ملاقاتیں ہو چکی تھیں۔

لیکن جلد ہی چار رکنی کانفرنس کا اختتام ایسے غیر متوقع واقعات اور حیرت انگیز فیصلوں کے ساتھ ہوا جن کی توقع نہیں کی گئی تھی۔

پہلی حیرت: صدر نمیری کا اختتامی اجلاس سے علیحدہ ہو جانا، جبکہ بعد میں ہونے والے اس اجلاس میں صرف تین ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔

دوسری حیرت: صدر نمیری کے کسی غیر معلوم سمت روانہ ہونے کا اعلان؛ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی منزل سوویت یونین تھی۔

تیسری حیرت: صدر سادات، صدر اسد اور صدر قذافی کا اچانک اور غیر متوقع طور پر بنغازی پہنچ جانا۔

اس دوران صدور نے کئی اجلاس کیے اور ایک ایسے ماحول میں باہمی مذاکرات جاری رکھے جس سے پیدا ہونے والی کشیدگی نے اخبارات میں بھی مختلف ردِعمل کو جنم دیا۔
احتمالِ اعلانِ کسی نئی وحدت کے پیش نظر، نُمَیری کو اس سے آگاہ کیا گیا، خصوصاً اس لیے کہ مصر، شام اور لیبیا کے پاس ایسے حالات و وسائل موجود تھے جن کی مدد سے وہ اتحاد کے قیام کی کوششوں میں مزید پیش رفت کر سکتے تھے، جبکہ یہ رائے ظاہر کی گئی کہ سوڈان کو اس وقت اسی انداز میں آگے بڑھنے کے لیے ایسے حالات میسر نہیں ہیں۔ اسی بنا پر نُمَیری کے موقف اور ان کے ماسکو کے سفر کی دو وجوہ بیان کی گئیں:

1. سوڈان کے داخلی حالات کے باعث نُمَیری کا فوری طور پر کسی تیز رفتار وحدت کے عمل میں شامل ہونے سے گریز کرنا۔

2. سوڈان کے کمیونسٹوں کی کسی چار ملکی اتحاد کی مخالفت۔ اسی امر نے یہ قیاس آرائیاں بھی پیدا کیں کہ نُمَیری ماسکو اس کوشش کے لیے گئے تھے کہ سوویت رہنماؤں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ سوڈانی کمیونسٹوں پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ وحدت کی ان کوششوں کی مخالفت سے باز آ جائیں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی خبر رساں ایجنسی نے ایک بیان جاری کیا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ کانفرنس کا اجلاس کسی وحدتی نتیجے کے حصول کے بغیر ختم ہو گیا ہے۔ تاہم اسی ایجنسی نے بعد میں اپنی سابقہ خبر کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے وضاحت کی کہ اجلاس ابھی جاری ہیں۔ یہ خبر دراصل اس اعلان کی تمہید ثابت ہوئی کہ اتحاد قائم کر دیا گیا ہے، کیونکہ اس سے پہلے مذاکرات کسی وحدتی فارمولے تک پہنچنے میں دشواریوں کا شکار تھے۔

بالآخر 17 اپریل 1971ء کی رات ٹھیک نو بجے صدر انور السادات، معمر قذافی اور حافظ الاسد نے بیک وقت مختلف ریڈیو اسٹیشنوں سے ’’عرب جمہوری وفاق‘‘ (اتحادِ جمہوریاتِ عربیہ) کے قیام کا اعلان کیا۔ بیان میں اہم باتیں یہ تھیں:

– یہ ریاست وسیع تر عرب اتحاد کا نقطۂ آغاز ہو۔
– یہ عرب عوام کے لیے ایک متحد عرب سوشلسٹ معاشرہ قائم کرنے کے مقصد کے حصول کا ذریعہ ہو۔
– یہ ریاست آزادی کی جدوجہد میں عرب قوم کا بنیادی آلہ ہو۔

ان اصولوں کی بنیاد پر تینوں صدور نے متفقہ طور پر درج ذیل فیصلے کیے:

– عرب سرزمین کی آزادی ہی مقصد ہے۔
– عرب سرزمین کے کسی بھی حصے پر نہ صلح کی جائے گی، نہ مذاکرات کیے جائیں گے اور نہ کسی چیز سے دست برداری اختیار کی جائے گی۔
– فلسطینی مسئلے میں کسی قسم کی کوتاہی یا سودے بازی نہیں کی جائے گی۔

بنیادی سیاسی اصولوں کے تحت یہ طے کیا گیا کہ ’’اتحادِ جمہوریاتِ عربیہ‘‘ کے نام سے ایک وفاقی ریاست قائم کی جائے۔

وفاق کی علامتیں مشترک ہوں گی: ایک پرچم، ایک قومی نشان، ایک ترانہ اور ایک صدر؛ اور یہ وفاق جمہوری اور سوشلسٹ نظام پر قائم ہوگا۔

وفاق کے لیے درج ذیل امور مقرر کیے گئے:

الف۔ خارجہ پالیسی کا تعین۔

ب۔ جنگ اور امن کے معاملات کا فیصلہ۔
اتحاد کے دفاع کا انتظام

اتحاد کے قیام کے بعد پیدا ہونے والی کسی فوجی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ دفاعی قیادت قائم کی جائے گی۔ جمہوریاؤں کے درمیان افواج اور دفاعی قوتوں کے استعمال کا فیصلہ مجلسِ صدارت یا اس کی طرف سے مجاز شخص کی منظوری سے کیا جائے گا، خواہ وہ فیصلہ جنگی کارروائیوں کے دوران ہی کیوں نہ ہو۔

قومی سلامتی کا تحفظ

اتحاد کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اگر کسی ایک جمہوریہ کے اندرونی حالات یا بیرونی خطرات سے اس کی سلامتی یا اتحاد کی مجموعی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو تو متعلقہ جمہوریہ کی حکومت وفاقی حکومت سے مدد طلب کرے گی تاکہ وفاقی حکومت اپنی حدودِ اختیار کے اندر ضروری اقدامات کر سکے اور امن و نظام کو برقرار رکھ سکے۔

اور اگر کسی رکن جمہوریہ کی حکومت ایسی حالت میں ہو کہ وہ وفاقی حکومت سے مدد طلب کرنے کے قابل نہ ہو، یا اگر اتحاد کی سلامتی کو خطرہ درپیش ہو، تو مجاز وفاقی حکام کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ کسی درخواست کے بغیر بھی مداخلت کریں، تاکہ امن و اتحاد کو برقرار رکھا جائے اور حالات کو معمول پر لایا جا سکے۔

اتحاد کے ادارے

اتحاد کے چار بنیادی ادارے ہوں گے۔ ان میں سب سے پہلا ادارہ مجلسِ صدارتِ اتحاد ہوگا۔ اسے اتحاد کی اعلیٰ اتھارٹی تصور کیا جائے گا۔ یہ تینوں جمہوریاؤں کے صدور پر مشتمل ہوگی۔ مجلس اپنے ارکان میں سے ایک کو اپنا صدر منتخب کرے گی اور اس کے فیصلے اکثریت سے کیے جائیں گے۔

بین الاقوامی معاہدے

اتحاد کے قیام سے ان بین الاقوامی معاہدوں اور سمجھوتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جو اتحاد میں شامل جمہوریاؤں کے درمیان یا ان میں سے کسی ایک جمہوریہ اور دوسری ریاستوں کے درمیان پہلے سے موجود ہوں۔

سیاسی سرگرمیاں

شق نمبر ۱۳

جب تک اتحاد کے اندر ایک متحدہ عرب سیاسی تحریک کا قیام عمل میں نہیں آتا، ہر جمہوریہ میں سیاسی سرگرمیوں کے انتظام اور ان کی نگرانی کی ذمہ داری اسی جمہوریہ کی سیاسی قیادت کے پاس رہے گی۔

اتحاد کی کسی ایک جمہوریہ میں قائم سیاسی تنظیم کو دوسری جمہوریاؤں میں براہِ راست کوئی سیاسی سرگرمی انجام دینے کی اجازت نہیں ہوگی، سوائے اس کے کہ وہ اتحاد کی مشترکہ سیاسی محاذ میں اپنے نمائندوں کے ذریعے ایسا کرے۔ اس سیاسی محاذ میں اتحاد کی تمام جمہوریاؤں کی سیاسی تنظیموں کی قیادت شامل ہوگی۔

بنیادی دفعات پر ریفرنڈم

صدور نے اتفاق کیا کہ اتحاد کی بنیادی دفعات کے بارے میں تینوں جمہوریاؤں میں عوامی ریفرنڈم یکم ستمبر ۱۹۷۱ء کو منعقد کیا جائے گا۔

اتحاد کے اعلان کی تاریخ

اتحاد کے اعلان کی تاریخ ہمیں ۱۷ اپریل ۱۹۷۱ء کے واقعے کی یاد دلاتی ہے، جب قاہرہ میں مصر، شام اور لیبیا کے درمیان سہ فریقی اتحاد کے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔

اس تاریخ کے حوالے سے ایک حقیقت واضح طور پر سامنے آتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ متحدہ عرب ریاستوں میں سیاسی تنظیموں کا اختلاف ان اہم عوامل میں سے ایک تھا جو اس اتحاد کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بنے۔

نئے اتحاد کے اعلامیے کی دفعات کے مطالعے سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بنیادی مسئلہ اب بھی اپنی جگہ موجود ہے، اور حقیقی معنوں میں وحدت، بلکہ وفاقی اتحاد کی سمت میں حقیقی اقدامات کی راہ میں رکاوٹیں بھی بدستور قائم ہیں۔ اعلامیے کی حیثیت سے صرف اتنا ہوا ہے کہ ایک متحدہ عرب تحریک کے قیام تک کے مرحلے کے لیے، جو اتحاد کی ریاستوں کے لیے ایک واحد سیاسی وجود کی حیثیت رکھتی ہو، اس مسئلے کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔

اور اس کے حصول کا امکان، اگر خوش گمانی سے کام لیا جائے، تو کم از کم مستقبل قریب کی حدود میں ہی نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شام میں بعثیوں اور ناصریوں کے درمیان روایتی کشمکش، حتیٰ کہ کرنل حافظ الاسد کی تحریک کے بعد بھی، بدستور شدید ہے، اگرچہ مشترکہ کام کے کچھ مظاہر بعث پارٹی کی قیادت میں قائم ترقی پسند محاذ کے ذریعے سامنے آئے ہیں۔

جس شخص نے کرنل الاسد کے شام کے مختلف صوبوں کے دوروں کا مشاہدہ کیا ہو، اس پر بعثیوں اور ناصریوں کے درمیان موجود شدید کشمکش کی صورتِ حال ان کے نعروں اور مظاہروں کے ذریعے بالکل واضح ہو جاتی ہے۔

یہی مسئلہ، جسے اعلامیے نے دفعہ ۱۳ میں بیان کیا ہے، اتحاد کی ریاستوں کے سیاسی نظاموں کے درمیان، جن کے صدور اپنی اپنی ریاستوں میں اعلیٰ ترین سیاسی قیادت کی نمائندگی کرتے ہیں، ایک دوسرے پر عدم اعتماد کی واضح علامت بھی ہے۔ اس دفعہ میں کسی ایک ریاست کی سیاسی تنظیم کو اتحاد کی دوسری ریاست میں اپنی سرگرمیاں منظم کرنے سے بھی روکا گیا ہے۔

خصوصاً دفعہ ۱۳ ہی وہ راستہ تھا جس نے، اگر روزنامہ النہار ۲۰/۴/۱۹۷۱ء کی رپورٹ کو سمجھا جائے، اتحاد کے اعلان کو ممکن بنایا؛ ورنہ شاید اس اتحاد کا اعلان ممکن نہ ہوتا۔ تاہم اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس اتحاد کی کیا قدر و اہمیت رہ جاتی ہے، جب کہ ایک واحد سیاسی تنظیم—جو مشترکہ عمل کی بنیادی اور حقیقی ضمانت ہے—موجود ہی نہیں؟

بلاشبہ دفعہ ۱۳ کی یہ عبارت کرنل الاسد کے تحفظات کو ملحوظ رکھتے ہوئے تیار کی گئی اور بیک وقت شام اور مصر، دونوں جانب کی باہمی خواہشات کے مطابق بنائی گئی ہے۔ خصوصاً اس لیے کہ شامی بعث پارٹی نے ایک مرحلے میں مصر میں بھی اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی کوشش کی تھی۔

اس کے علاوہ یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ سیاسی تنظیموں کے اختلاف نے اتحاد کی اس شکل کو وفاقی اتحاد اور کنفیڈریشن کے درمیان ایک درمیانی صورت کے زیادہ قریب کر دیا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ سابقہ وحدتی تجربات کے اثرات اس اتحاد کے قیام پر نمایاں طور پر پڑے ہیں۔

تاہم اتحاد کے قیام کے ممکنہ محرکات اتنے اہم ہو سکتے ہیں کہ انہوں نے اتحاد کے اعلان کو مختلف اہم حقائق اور الگ الگ ضروریات کے ساتھ جوڑ دیا، اور یہی حقائق اپنی جگہ اس انداز میں اتحاد کے اعلان کے حقیقی محرکات بنے۔ ان محرکات کو کئی نکات کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے:

— لیبیا کو بالخصوص ایک مضبوط تحفظ کی ضرورت تھی، جو اس کے داخلی حالات اور فوجی انقلابات کے اندیشے کی وجہ سے ناگزیر محسوس ہوتی تھی۔ غالباً قومی سلامتی سے متعلق دفعہ میں شام کے مقابلے میں لیبیا ہی زیادہ پیشِ نظر تھا، کیونکہ شام کے بارے میں اس ضرورت کی شدت کا جواز اتنا واضح نہیں تھا، جیسا کہ ۱۹۶۱ء میں مصر سے شام کی علیحدگی کے دوران ظاہر ہوا تھا۔

— ممکن ہے کہ اس اتحاد کا مقصد امریکہ اور اسرائیل پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی کام کرنا ہو، کیونکہ…
اعلان میں یہ کہا گیا ہے کہ ’’مقبوضہ عرب علاقوں کے ایک انچ سے بھی دست برداری، صلح اور مصالحت کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘ اگر ہم اس بات کو مدنظر رکھیں کہ اس اتحاد کی دفعات اس وقت تک نافذ العمل نہیں ہوں گی جب تک کہ ۱/۱/۱۹۷۱ کو اتحادی ممالک میں عوامی ریفرنڈم کے لیے پیش نہ کر دی جائیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو اپنے موقف پر نظرِ ثانی کا ایک آخری موقع دیا جا رہا ہے، خصوصاً اس لیے کہ اسرائیل نے اپنے سرکاری ترجمان کے ذریعے ۱۸/۴/۱۹۷۱ کو اعلان کیا تھا کہ جاری کردہ بیان میں جو کچھ کہا گیا ہے، وہ یارنگ کی یادداشت کے جواب میں اس کے موقف اور اسرائیل کے ساتھ امن قائم کرنے کی آمادگی سے کسی طرح متصادم نہیں ہے۔
(یہاں مقصود یہ ہے کہ ۱/۱/۱۹۷۱ کو ہونے والے ریفرنڈم سے پہلے اتحاد کا قیام عملی طور پر مؤثر نہیں ہوگا۔)

اور چونکہ اس اعلان کو ایک دباؤ کے ذریعہ استعمال کیا جا رہا ہے، اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایک ایسا راستہ ثابت ہو جس کے ذریعے شام بھی جنگ کے اثرات کے خاتمے کے لیے پُرامن تصفیوں کے دائرے میں داخل ہو سکے، اور اس طرح امن مذاکرات کے دوران عرب موقف کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

اس سلسلے میں اتحاد کے اسرائیل پر فوجی دباؤ کے عامل کی حیثیت سے اثرات کے موضوع کی طرف بھی اشارہ ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اتحاد نے کوئی ایسی نئی فوجی صلاحیت پیدا نہیں کی جو اس سے پہلے دستیاب نہ تھی۔ حتیٰ کہ لیبیا کے طیاروں کے بارے میں بھی اتحاد کی دفعات نے اتحادی ممالک کو ان معاہدوں کا پابند کر دیا تھا جو انہوں نے اتحاد سے پہلے کیے تھے، اور ان شرائط کا بھی جن کی پابندی کا انہوں نے پہلے ہی عہد کیا تھا۔

اگرچہ فرانس میں اس امکان پر احتجاج کی ایک لہر دیکھی گئی کہ لیبیا کے میراج طیارے مصر پہنچ سکتے ہیں، تاہم اس مسئلے پر لیبیا اور فرانس، دونوں کے معلنہ موقف میں کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی۔ یہاں تک کہ لیبیا کی انقلابی قیادت کونسل کے نائب صدر میجر عبدالسلام جلود نے ۲۴/۴/۱۹۷۱ کو اپنی آخری پریس کانفرنس میں اپنے جوابات دیتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کیا اور کہا کہ:

’’ہم ان طیاروں کو اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے استعمال کریں گے۔‘‘

معاہدے کے بارے میں چند ملاحظات

۱۔ سوڈان کی عدم شمولیت

سوڈان کی عدم شمولیت دراصل لیبیا کے صدر کے عمومی طور پر کمیونسٹ جماعتوں اور بالخصوص سوڈانی کمیونسٹ پارٹی کے بارے میں موقف کا ایک فطری نتیجہ تھی۔ قذافی کے جماعتی سیاست کے بارے میں معروف خیالات ہیں؛ وہ جماعت بندی کو خیانت سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک اس کے اندر مشرق یا مغرب میں سے کسی ایک کی طرف وابستگی پوشیدہ ہوتی ہے۔

لہٰذا سوڈان کی عدم شمولیت کوئی تعجب کی بات نہیں، کیونکہ نمیری اور سوڈانی کمیونسٹ پارٹی کے درمیان کشمکش اب تک اس معاملے میں کسی واضح کامیابی پر منتج نہیں ہوئی کہ حکومتی اداروں کے اندر کمیونسٹ اثر و رسوخ کو ختم کیا جا سکے، باوجود اس کے کہ نمیری نے کھلے عام اور پوری شدت کے ساتھ اس کے خلاف ایک بھرپور مہم چلائی۔

شاید نمیری کا ۱۴/۲/۱۹۷۱ کو ماسکو کا آخری دورہ بھی اس بات کی سنجیدہ کوشش کی عکاسی کرتا ہے کہ ماسکو کو اس امر پر آمادہ کیا جائے کہ وہ سوڈانی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے سوڈان کے میثاقِ طرابلس کے ممالک کے ساتھ اتحاد کی مخالفت کو ختم کرنے کی کوشش کرے، اور اس جماعت کو ایک ایسے متحدہ سیاسی نظام میں مسلح طور پر شامل کرنے کی راہ ہموار کی جائے جو عرب اتحاد کی طرز پر ہو۔
مصر۔ اگرچہ مصری کمیونسٹ پارٹی عرب سوشلسٹ یونین میں ضم ہو چکی ہے، اور شامی کمیونسٹ پارٹی بھی رسمی طور پر تسلیم کیے بغیر محض ظاہری طور پر حکومت میں شریک ہے، لیکن سوڈانی کمیونسٹ پارٹی ایسی سیاسی قوت ہے جسے مصری یا شامی طریقے سے اپنے اندر جذب کرنا ممکن نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عرب کمیونسٹ جماعتوں میں سب سے زیادہ وسیع اور منظم جماعتوں میں سے ایک ہے اور یہ اپنی واضح خودمختاری برقرار رکھنے پر مصر ہے، جبکہ اسے اپنے اندر ضم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اس کے علاوہ اندرونی استحکام کے فقدان کا مسئلہ بھی موجود ہے، جو جنوبی مسئلے کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ صدر نمیری نے اتحاد کے قیام کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سوڈان کے لیے مستقل دستور وضع کرنا اور عوامی تنظیم کا قیام، سوڈان کے اتحاد میں شامل ہونے کی دو بنیادی شرطیں ہیں، تاکہ یہ آئینی ادارے اتحاد کے معاہدوں اور قوانین کی منظوری دے سکیں۔

دوسری طرف قذافی نے کہا کہ: ’’ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ سوڈان کو ان مشکل حالات پر قابو پانے کی توفیق دے، جو اسے 25 مئی کے انقلاب سے ورثے میں ملے ہیں، تاکہ اس سے ہماری طاقت میں اضافہ ہو۔‘‘

پھر لیبیا کی انقلابی کونسل کے نائب صدر میجر جلود نے اپنی پریس کانفرنس (24-4-1971ء) میں ان خصوصی حالات کی طرف اشارہ کیا جنہوں نے سوڈان کو اتحاد میں شامل ہونے سے روک رکھا ہے۔ انہوں نے کہا:

’’سوڈان اپنے خصوصی حالات کو بخوبی سمجھتا ہے اور ہمیں اس کے وحدت پسند رجحانات پر کوئی شک نہیں۔ طرابلس معاہدے کے پیچھے سوڈان ایک محرک قوت رہا ہے، اور ہمیں یقین ہے کہ وہ بہت جلد اتحاد میں شامل ہو جائے گا۔‘‘

بلاشبہ اس طرح کے بیانات یا تو نمیری کی ماسکو میں ہونے والی بات چیت کی کامیابی پر مبنی ہیں، یا پھر محض خواہشات کے اظہار کے سوا کچھ نہیں!

اتحاد کی صدارتی کونسل میں فیصلے اکثریت سے کیے جانے کی شرط کے نتیجے میں صدر انور سادات، جو نسبتاً زیادہ معتدل نقطۂ نظر رکھتے ہیں، اپنے دونوں ساتھیوں حافظ الاسد اور معمر قذافی کے خیالات کے باعث زیادہ انتہا پسند دکھائی دے سکتے ہیں، کیونکہ ان دونوں کے سخت گیر خیالات معروف ہیں۔

یہاں لندن کے اخبار ’’ٹائمز‘‘ کے ایک تبصرے کا ذکر بھی مناسب ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ اگرچہ اتحاد اپنے نتائج کے اعتبار سے علامتی نوعیت کا ہے، تاہم یہ اپنے اراکین کے لیے کچھ عملی فائدے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ سادات کا دو نسبتاً زیادہ سخت گیر حکومتوں کے ساتھ وابستہ ہونا ان لوگوں کے لیے خوشی کا باعث ہوگا جو یہ سمجھتے تھے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مفاہمت کی طرف بہت دور اور بہت تیزی سے آگے بڑھ چکے ہیں۔

اس معاہدے سے صدر سادات کو سیاسی سرگرمی کے لیے ایک وسیع تر جغرافیائی اور تزویراتی میدان میسر آئے گا، اور اگر اسرائیل کے ساتھ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو یہ ایک ایسی بنیاد بھی فراہم کرے گا جس پر وہ انحصار کر سکتے ہیں۔ جہاں تک صدر اسد کا تعلق ہے، تو یہ ان کے لیے شام کی تنہائی کے خاتمے کی حیثیت رکھتا ہے۔

جہاں تک صدر قذافی کا تعلق ہے، تو بظاہر وہ معاملات کے فیصلے اور ان کی سمت متعین کرنے میں نمایاں اثر و رسوخ حاصل کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں ’’ٹائمز‘‘ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اتحاد نے قذافی کو معاملات انجام دینے کی ایک نادر صلاحیت کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

اتحاد میں شامل ہر ریاست کا اپنی سیاسی حیثیت، اپنی فوج اور اپنے قوانین کو برقرار رکھنا، نیز ہر ریاست کے صدر کا اپنے ملک کی مسلح افواج کی اعلیٰ کمان اپنے پاس رکھنا، اور باہمی تعاون کو برقرار رکھنا۔۔۔

فوجی سطح پر انضمام کے بجائے باہمی رابطے اور ہم آہنگی، نیز فوجی دستوں کی منتقلی اور نقل و حرکت کے لیے واضح اور دقیق ضوابط مقرر کرنا، دراصل ان حساسیتوں کا نتیجہ تھا جو ۱۹۵۸ء میں مصر اور شام کے اتحاد سے پیدا ہوئی تھیں، خصوصاً شامی فوج کی صفوں میں۔

عرب ردِّعمل

عرب افریقہ میں:
اس اتحاد کا وسیع پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا۔

عرب ایشیا میں:
صدر التل نے اتحاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے قدرتی وحدتوں کے قیام کی دعوت دی۔ عراق نے بھی اس کے اعلان سے پہلے ہی اتحاد کا خیرمقدم کیا تھا۔ عراقی مجلسِ قیادتِ انقلاب کے نائب صدر، جناب صدام تکریتی نے ۲۰ مارچ ۱۹۷۱ء کو کہا:

«’’کیا یہ ممکن ہے کہ اتحاد وجود میں آئے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے پیدا ہو؟‘‘»

باقی عرب ممالک میں بھی سعودی عرب کے تحفظات کے ساتھ مجموعی طور پر اس اتحاد کا خیرمقدم کیا گیا۔

یاسر عرفات کی سربراہی میں فلسطینی تنظیمِ آزادی نے بھی اس اتحاد کی تائید اور خیرمقدم کیا۔

عالمی ردِّعمل

امریکہ:
امریکہ نے اعلان کیا کہ یہ اتحاد متعلقہ ممالک کا داخلی معاملہ ہے، تاہم اس نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اتحاد اسرائیل کے ساتھ صلح سے انکار کا اظہار کرتا ہے۔

سوویت یونین:
سوویت یونین نے اپنے سرکاری اخبار پراودا کے ذریعے اتحاد کا خیرمقدم کیا اور سامراج کا مقابلہ کرنے اور سماجی تبدیلیاں لانے میں اتحاد کے کردار پر زور دیا۔

فرانس:
فرانسیسی اخبارات نے رائے ظاہر کی کہ اس اتحاد کے پسِ پشت دو محرکات کارفرما ہیں:

1. عالمی برادری کو متنبہ کرنا، کیونکہ مسٹر یارنگ کا مشن تعطل کا شکار ہو چکا تھا۔
2. شاہ حسین کو فدائیوں کے سلسلے میں متنبہ کرنا۔

جہاں تک سرکاری موقف کا تعلق ہے، فرانس نے اعلان کیا کہ اگر لیبیا اسرائیل کے ساتھ جنگی محاذ پر طیاروں کا استعمال کرے گا تو وہ لیبیا کو طیاروں کی ترسیل روک دے گا۔

اسرائیل:
موشے دایان نے کہا کہ یہ اتحاد اسرائیل اور مصر کے درمیان نہر سویز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق کسی معاہدے کے امکانات پر اثر انداز نہیں ہوگا اور اس اتحاد سے کوئی بنیادی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔

اسی طرح اسرائیلی سیاسی تبصروں میں بھی اتحاد کو ایسا کوئی عنصر نہیں سمجھا گیا جس سے ایسی نئی امکانات پیدا ہوں جو پہلے سے موجود نہ ہوں۔

عمومی طور پر عرب ممالک میں یہ رائے پائی جاتی تھی کہ اس اتحاد کی کامیابی کے امکانات گزشتہ مصر-شام اتحاد کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

اس سلسلے میں مصری اخبارات نے ۲۰ اپریل ۱۹۷۱ء کو اتحاد کے اعلان کی دستاویزات، ان ترامیم کے بعد شائع کیں جو ان میں کی گئی تھیں، اور بتایا گیا کہ لیبیا اور شام دونوں نے ان ترامیم سے اتفاق کر لیا ہے۔
[25-09-2026 10:43] Rehan Hasan Monger juh: ۱۰

نئی عبارتوں کے مطالعے اور ان کا پرانی عبارتوں سے موازنہ کرنے سے درج ذیل امور سامنے آتے ہیں:

1۔ جہاں کہیں لفظ ’’دولت‘‘ (ریاست) استعمال ہوا تھا، اسے حذف کر دیا گیا ہے، تاکہ مثلاً ’’دولتِ اتحاد‘‘ کے بجائے صرف ’’اتحاد‘‘ کہا جائے۔

2۔ اتحاد کی مجلسِ صدارت کے فیصلے اب اکثریت کے بجائے اس کے تمام ارکان کے اتفاقِ رائے سے کیے جائیں گے۔

اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تینوں ممالک یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ نیا اتحاد کوئی نئی ریاست قائم نہیں کرتا جس میں موجودہ ممالک کی الگ الگ حیثیتیں ختم ہو جائیں۔ اسی طرح تینوں صدور ایسا اتحاد چاہتے ہیں جو ایک طرف ہر ملک کے علاقائی رجحانات سے ہم آہنگ ہو، اور دوسری طرف اس کے جاری رہنے اور برقرار رہنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔

Admin

Admin

Next Post

اسلامی ریاست ایک انسانی ریاست

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

مولانا توقیر رضا خان اور دیگر تمام گرفتار شد گان کو فی الفور رہا کیا جائےیوپی حکومت پوری ریاست کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونک رہی ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

مولانا توقیر رضا خان اور دیگر تمام گرفتار شد گان کو فی الفور رہا کیا جائےیوپی حکومت پوری ریاست کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونک رہی ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

12 مہینے ago

تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

4 مہینے ago

مقبول

  • اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بھارت کو پٹری سے اتارنے کی مہم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • اسلام کا ہمہ گیر نظام حیات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • اسلامی ریاست ایک انسانی ریاست

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • عرب جمہوریات کا اتحاد

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.