راشٹرواد (15)
محمد یاسین جہازی
جہازی فارمولا
راقم محمد یاسین جہازی کا عندیہ ہے کہ ہندستان کے موجودہ حالات کوئی ایسے حالات نہیں ہیں، جو تاریخ میں پہلی مرتبہ پیش آیا ہو، بلکہ یہ ایام اللہ ہیں جو رنگ بدل بدل کر آتے رہتے ہیں ۔ ایسے ہی حالات جب اکابر کے سامنے آئے تھے، تو انھوں نے بھی اپنے تجربے اور تدبر سے حالات کا مقابلہ کیا، جو ہمارے لیے روشنی اور رہنمائی کے سامان بہم پہنچاتے ہیں ۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس کا مطالعہ کریں اور اس سے روشنی حاصل کرتے ہوئے اپنے مستقبل کے تحفظ کا سامان فراہم کریں،لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم اکابر کو پڑھنے کے بجائے، خود سے شروعات کرتے ہیں اور نئے تجربوں میں طویل وقت اور کثیر سرمایہ خرچ کرکے بالاخر اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں، جہاں ہمارے اکابر بہت پہلے پہنچ چکے تھے اور ہماری کوششوں کا اس کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں نکلتا کہ
چل چل کے پھٹ چکے ہیں قدم اس کے باوجود
اب تک وہیں کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے ہم
اس لیے آئیے ذیل میں پہلے ہم اپنے اکابر کے طریقے کو ہی پیش کرتے ہیں ۔
ابو المحاسن حضرت مولانا محمد سجاد بہاری علیہ الرحمہ کا فارمولا
انھوں نے ایک موقع پر فرمایاکہ:
چھوٹی چھوٹی مسلم آبادیاں ایک جگہ آبادہوجائیں
(۳)یہی وجہ ہے کہ میں مسلمان زمین داروں سے کہتا ہوں کہ تم بکھرے
ہو ئے مسلمانوں کو یک جا کر لو اور چھوٹی چھوٹی مسلم آبادی کو اپنے یہاں بلالو
، اس طرح تمھاری بھی حفاظت ہو جائے گی اور ان غریب مسلمانوں کی
بھی ، مگر میری یہ باتیں کسی کی سمجھ میں ابھی نہیں آرہی ہیں ، مگر وقت
آنے پر دیکھو گے کہ یہ پچھتائیں گے اور ان کا بہت بڑا جانی و مالی نقصان
ہو گا۔
(محاسن التذکرہ، ص؍980۔ مرکزی عنوان:مولاناسجادؒکی بعض سیاسی پیش گوئیاں–اورزندۂ جاویدنظریات۔ تصنیف: مولانا اخترامام عادل قاسمی
مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف)
اس سے اکثریت کے درمیان رہنے والے مسلم اقلیت جہاں اپنے مذہبی فرائض کو بہتر طور پر انجام دے سکیں گے، وہیں اکثریت کے ظلم و زیادتی کے خوف سے بھی آزاد رہ سکیں گے۔
لیکن ہندستان میں مسلمانوں کے جینوسائڈ کا جو طرزِ عمل اختیار کیا جارہا ہے، اس کے پیش نظر یہ فارمولا نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے، غزہ کی آبادی کو وسائل حیات پر بندش لگا کر اور انھیں گھیر کر فنا کرنے کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ یہی عمل ہندستان میں بھی دوہرانے کے سلسلہ کا آغاز ہوچکا ہے، جس کی تازہ نظیر آسام کے پانچ ہزار مسلمانوں کے کھانا پانی بند کرنے کی آرہی مسلسل خبریں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ رحم و کرم فرمائیں ۔
جہازی فارمولا
یہ ظاہر سی بات ہے کہ موجودہ جمہور طرز فکر میں انقلاب ووٹ کے ذریعے ہی لایا جاسکتا ہے ۔ مسلم لیگ نے پاکستان ووٹ کے ذریعے ہی حاصل کیا تھا۔ موجودہ ہندستان دھیرے دھیرے ہندو راشٹر کی طرف ووٹ چوری ہی سے بڑھ رہا ہے، اس لیے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی عظمت رفتہ کو حاصل کرنے کے لیے ووٹنگ طاقت کو مضبوط کرنا ہوگا۔ لیکن محض سیاسی قوت کی وجہ سے مسلمانوں کو تحفظ حاصل ہو جائے گا، ایسا ممکن نہیں ہے۔ راقم کے عندیے میں مسلمانوں کو سردست درج ذیل طریقوں پر عمل کرنا ہوگا:
- مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت و فتح ایمان کے ساتھ مشروط ہے، اس لیے سب سے پہلے مسلمانوں کو اپنے ایمان و عقائد کے تحفظ پر کام کرنا ہوگ۔
- تعلیم ہی تمام پس ماندگی کی بنیادی وجہ ہے، اس لیے تعلیم کی طرف مسلمانوں کو انقلابی قدم بڑھانا ہوگا۔ ہمارے نزدیک تعلیم میں کوئی تفریق نہیں ہے ۔ عصری اور دینی دونوں تعلیمات ضروری ہیں ۔
- مشترک سماج میں بہتر اسلامی اخلاق کا مظاہرہ کرنا تحفظ کے نقطہ نظر سے بھی ضروری ہے ۔ اور اسلام کے تبلیغی مزاج کے لیے بھی معاون ہے، اس لیے ہر ایک مسلمان کو اخلاق حسنہ کا مکمل نمونہ بن جانا چاہیے ۔
- ہندستان کے مشترک سماج میں کچھ عناصر ایسے بھی ہیں،جو صرف غنڈئی اور لمپٹی زبان ہی سمجھتے ہیں، ان سے گاؤں سماج، قوم اور شعائر کے تحفظ کے لیے کسی کل ہند سطح پر اجتماعی نظام بننے کے انتظار کے بغیر محلہ وار ہندو مسلم سبھی افراد پر مشتمل امن کمیٹی بنائیں، تاکہ مقامی ہندو مسلم افراد ایک دوسرے کے تعاون سے باہری فسطائی عناصر کی تخریب کاری سے محفوظ رہیں ۔
یہ موجودہ حالات میں تحفظ کے لیے بنیادی اصول ہے۔ امت مسلمہ جب یہاں تک پہنچ جائے گی، تو اس کے بعد دوسرا مرحلہ پیش کیا جائے گا ان شاءاللہ تعالیٰ ۔
آپ سے ایک گزارش
مجھے یقین ہے کہ ہندستانی مسلمانوں کے موجودہ نازک اور پُردرد حالات نے آپ کو ان قسطوں کے مطالعے کے ساتھ ساتھ سنجیدگی سے غور کرنے پر بھی مجبور کیا ہوگا۔
اب سوال صرف یہ نہیں کہ حالات کیسے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟
آپ سے مخلصانہ گزارش ہے کہ آپ بھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے بتائیں کہ ملت اسلامیہ ہندیہ کو زوال سے عروج کی طرف لے جانے کے لیے ہمیں کن عملی فارمولوں کو اختیار کرنا چاہیے؟
کیو ں کہ تاریخ کے فیصلے صرف بڑے قائدین نہیں کرتے؛ بیدار قومیں اپنے اجتماعی شعور، مسلسل جدوجہد اور درست فیصلوں سے اپنا مستقبل خود تعمیر کرتی ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
تمت بعون اللہ تعالیٰ
محمد یاسین جہازی
2 اکتوبر 2026















