محمد یاسین جہازی
آسام اور جمعیت علمائے ہند
آسام کے مسلمانوں کے حوالے سے جمعیت علمائے ہند کے تین طرح کے کردار سامنے آتے ہیں:
(۱) شہری حقوق کا تحفظ۔
(۲) فسادات متاثرین کے لیے لیگل ایکشن، اور
(۳)سیلاب و قحط زدگان کے لیے تعاون و باز آباد کاری۔
انھی تناظر میں جمعیت علمائے ہند کی کارکردگیوں کا اختصارملاحظہ فرمائیں۔
جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں ریاست آسام کا پہلا تذکرہ1922ئ سے ملتا ہے۔ چنانچہ 24 تا 26/دسمبر 1922ئ کے چوتھے اجلاس عام میں آسام کے گورکھوں کی طرف سے قرآنِ پاک کی بے حرمتی کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اپنی جارحانہ پالیسی ترک کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
آزادی کی تحریک میں بھی آسام کی جمعیت نے فعال کردار ادا کیا؛ 8/جنوری 1931ئ کو سلہٹ پولیس نے جمعیت علمائے آسام کے دفتر پر چھاپہ مار کر کاغذات ضبط کیے اور ناظم اعلیٰ مولانا مرتاض جوہری کو گرفتار کرلیا۔ 13/جولائی 1930ئ کو قائم ہونے والے دائرہ¿ حربیہ کی جدوجہد کے تسلسل میں 29/فروری تا 2 مارچ 1932ئ جمعیت نے ڈکٹیٹر شپ کا نظام قائم کیا، جس میں مولانا عبد الحق، صدر جمعیت علمائے آسام، بارھویں اور آخری ڈکٹیٹر مقرر ہوئے ۔
آسام کے لائن سسٹم کے خلاف جمعیت کی جدوجہد :
لائن سسٹم 1920ئ میں کامروپ اور ناگا¶ں میں متعارف ہوا۔ اس کے تحت مشرقی بنگال (میمن سنگھ) سے آنے والے مسلمانوں کو مقامی آبادی سے الگ بسایا جاتا تھا۔ یہ ضلعی سطح کے بعض برطانوی افسروں کا بنایا ہوا نظام تھا، سرکاری پالیسی نہیں۔ جمعیت کے 11/ویں اجلاس عام، 3 تا 6 /مارچ 1939ئ میں اسے بنیادی حقوق کے منافی قرار دے کر منسوخی کا مطالبہ کیا گیا۔ انڈیا ایکٹ 1935ئ کے بعد مہاجرین کے رہنما عبدالحمید خاں بھسانی کے ساتھ جمعیت نے بھی یہ مسئلہ اٹھایا۔
فروری 1945ئ کے کوا ئیماری فائرنگ واقعے اور مسلم کسانوں کے ساتھ زیادتی پر 14 و15/اپریل 1945ئ کی مجلس عاملہ نے لائن سسٹم کو انسانی بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، جسے 4 تا 7/مئی 1945ئ کے چودھویں اجلاس میں بھی دہرایا گیا۔ 10 تا 12/جون 1946ئ کی مجلس عاملہ نے غیر قانونی طور پر آباد لوگوں کی بے دخلی روکنے اور مزید غیر قانونی آبادکاری پر پابندی کی سفارش کی۔ اسی سلسلے میں مولانا سید محمد میاںؒ کی قیادت میں جمعیت کا ایک وفد 12 تا 25/جون 1946ئ آسام گیا اور 28/جولائی 1946ئ کو اس کی رپورٹ مجلس عاملہ میں پیش ہوئی؛ جمعیت نے حکومت آسام سے منصفانہ حل اور کانگریس ہائی کمانڈ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
16 /اگست 1946ئ کو مسلم لیگ کے ڈائریکٹ ایکشن ڈے کے نتیجے میں سلہٹ میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور فسادات ہوئے ، جن پر 21 تا 24/ستمبر 1946ئ کی مجلس عاملہ نے شدید افسوس اور غیظ و غضب کا اظہار کرتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات، مجرموں کی سزا اور نقصانات کی تلافی کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران مسلم لیگ نے 12/مئی 1946ئ کو پنجاب، سرحد، بلوچستان، سندھ، بنگال اور آسام کو ایک مسلم گروپ، یعنی مجوزہ پاکستان، میں شامل کرنے کی تجویز دی؛ لیکن جمعیت نے اس کے برعکس 24 تا 25/جون 1947ئ کو سلہٹ کو آسام ہی میں رکھنے کو مسلم مفاد کے لیے زیادہ مفید قرار دیا۔ 25/جون 1947ئ کو مولانا محمد حفظ الرحمانؒ نے بھی یہی موقف دوہرایا۔ 28/جون 1947ئ کو جمعیت کا ایک وفد سلہٹ ریفرنڈم میں شرکت کے لیے روانہ ہوا۔ تاہم 6 و7/جولائی 1947ئ کے ریفرنڈم میں 2,39,619 ووٹ مشرقی بنگال کے حق میں اور 1,84,041 آسام میں رہنے کے حق میں پڑے ؛ یوں 14/جولائی 1947ئ کو 55,578 ووٹوں کی برتری سے سلہٹ پاکستان میں چلا گیا۔
آزادی کے بعد بھی جمعیت نے آسام کے مسلمانوں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھا۔ 21 تا 26/مئی 1950ئ جمعیت کا ایک وفد، مولانا سید محمد میاںؒ کی قیادت میں، آسام پہنچا اور فسادات سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا۔ 21/جون 1955ئ کو مولانا محمد حفظ الرحمانؒ نے ہاوجانگ کے مسلمانوں اور مساجد کے مسائل پر وزیر اعلیٰ آسام کو مکتوب بھیجا، جب کہ 27/اپریل 1956ئ کو گولپاڑا کے مریچ باری میں مسلم متاثرین کے تقریباً 100/مکانات جلنے ، 12/افراد کے زخمی اور ایک شخص کے جاں بحق ہونے پر حکومت سے امداد اور بازآبادکاری کا مطالبہ کیا۔ 17/فروری 1961ئ کو اوٹنگ پوسٹی، کاکی اور ہا¶زا میں بے دخلی کے خلاف بھی حکومت آسام کو احتجاجی مکتوب ارسال کیا گیا۔
بعد ازاں 3 تا 19/جون 1962ئ کو جمعیت کے وفد نے سیلی گوڑی، مالدہ، کوچ بہار اور جلپائی گوڑی کے فسادات سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ کوچ بہار میں تقریباً 70/گھر لوٹے یا جلائے گئے ، 6/مسلمان قتل اور تقریباً 25/زخمی ہوئے ، جب کہ جلپائی گوڑی میں 6/بالغ اور 3/ بچے قتل اور تقریباً 15/گھر نذرِ آتش ہوئے۔ جمعیت نے متاثرین کو امداد فراہم کی اور تین اضلاع میں تقریباً 2,000/روپے تقسیم کیے۔
تقسیم ہند کے بعد آسام میں مشرقی پاکستان سے آنے والے مسلمانوں اور مقامی بنگالی مسلمانوں کو شہریت، زمین اور رہائش کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ 6/جنوری 1950 کو ناپسندیدہ مہاجرین کی بے دخلی کا آرڈیننس اور 13/فروری 1950 کو Immigrants (Expulsion from Assam) Act نافذ کیا گیا۔اس طرح 1951ئ کی مردم شماری میں آسام میں پہلی بار شہریوں کا قومی رجسٹر (NRC) تیار ہوا، جو بعد میں غیر ملکیوں کی شناخت کا ذریعہ بنا۔
چوں کہ 1950 کے فسادات میں تقریباً 40/ہزار سے ایک لاکھ مسلمان مشرقی پاکستان چلے گئے تھے۔ 8/اپریل 1950 کے نہروõلیاقت معاہدے کے بعد جب واپسی کی راہ کھلی، تو یہ لوگ واپس آنے لگے؛ لیکن درج بالا ایکٹ کی وجہ سے بعض مقامی مسلمانوں کو بھی ’’پاکستانی‘‘ قرار دے کر نکالنے کی کوشش کی گئی۔
1960 میں آسام میں آسامی زبان کو سرکاری زبان بنانے کے مسئلے نے بنگالی مسلمانوں کے خدشات بڑھا دیے۔ 19/مئی 1961 کو سِلچر میں زبان کے احتجاج پر پولیس فائرنگ سے 11/افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد مسلمانوں کی شہریت اور انھیں ’’پاکستانی‘‘ قرار دینے کا مسئلہ مزید سنگین ہوگیا۔
8/ستمبر 1962 کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے آسام میں بھارتی مسلمانوں کو پاکستانی قرار دے کر نکالے جانے کی شکایات پر تشویش ظاہر کی اور تحقیق کے لیے ایک وفد مقرر کیا۔ وفد میں مولانا سید اسعد مدنی، رکنِ پارلیمنٹ محب الحق اور مولانا وحید الدین قاسمی شامل تھے۔ وفد نے یکم اکتوبر 1962 سے تقریباً گیارہ دن تک کامروپ، گوالپاڑا، نوگاوں، سبساگر اور دیگر علاقوں کا دورہ کیا، سرکاری افسران سے ملاقاتیں کیں اور حالات کا جائزہ لیا۔
وفد نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کئی ایسے مسلمانوں کو بھی ‘‘Quit India’’ نوٹس دیے گئے، جو خود کو بھارتی شہری ثابت کرنے کے لیے ووٹر لسٹ، زمین و جائیداد کے کاغذات، سرکاری رسیدیں اور دیگر ثبوت رکھتے تھے۔ بعض افراد کو رات کے وقت گرفتار کرکے پاکستان بھیجنے ، جائیداد نیلام کرنے اور مکانات منہدم کرنے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ 27/اپریل 1962 کی وزارتِ داخلہ کی اطلاع کے تحت پولیس کو غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کا اختیار دیا گیا تھا، مگر ’’پاکستانی شہری‘‘ کی واضح تعریف نہ ہونے سے اختیارات کے غلط استعمال کا خدشہ پیدا ہوا۔
جمعیت نے آئین کے آرٹیکل 5 اور 6(b) کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کسی شخص کو پاکستانی قرار دینے سے پہلے اسے عدالت میں بھارتی شہریت ثابت کرنے کا مکمل موقع دیا جائے۔ 1951 کی ووٹر لسٹ، سرکاری دستاویزات، زمین و جائیداد کے ثبوت اور 19/جولائی 1948 سے پہلے ہندستان میں رہائش کے شواہد کو معتبر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
جمعیت نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان سے غیر قانونی آمد کے واقعات اپنی جگہ، لیکن آسام میں مسلمانوں کی آمد کی بعض وجوہ معاشی بھی تھیں۔ سیلاب، بے آباد زمین، سستی مزدوری اور مقامی زمینداروں کی ضرورت کے باعث مشرقی علاقوں سے مزدور اور کاشت کار آسام آتے رہے تھے۔ اس لیے ہر مسلمان کو ’’پاکستانی‘‘ قرار دینا درست نہ تھا۔
5، 6، 7 اور 13/دسمبر 1962 کو جمعیت نے آسام کے گرفتار افراد، بے دخلی اور پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے بارے میں آسام کے وزیرِ اعلیٰ اور وزیرِ اعظم کو خطوط بھیجے۔ 11/جنوری 1963 کو بھی مولانا اسعد مدنی نے بتایا کہ خصوصاًچچر میں ہزاروں مسلمانوں کو بے دخلی کا خوف لاحق ہے۔ فروری 1963 میں سِلچر کے فسادات میں 9/افراد ہلاک ہوئے ، جس پر جمعیت نے سخت احتجاج کیا۔
22/جون 1963 کو مولانا اسعد مدنی نے دہلی میں پریس کانفرنس میں کہا کہ سرکاری اعداد و شمار میں بے دخل کیے جانے والے مسلمانوں کی حقیقی تعداد پوری طرح ظاہر نہیں ہوتی اور بعض بھارتی شہری بھی کارروائی کا شکار ہوئے ہیں۔ 10/ستمبر 1963 ئ کو جمعیت نے مطالبہ کیا کہ شہریت کے فیصلے انتظامیہ کے بجائے عدالتی طریقے سے کیے جائیں اور 1931، 1941، 1951 اور 1961 کی مردم شماریوں کو سامنے رکھ کر آبادی کا جائزہ لیا جائے۔
28/ستمبر 1963 کو مولانا اسعد مدنی اور مولانا وحید الدین قاسمی نے وزیر اعظم نہرو سے ملاقات کرکے آسام کے مسلمانوں کے مسائل اور دستاویزات پیش کیں۔ بعد ازاں حکومت نے دو جج مقرر کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ متعلقہ افراد بھارتی شہری ہیں یا نہیں؛ جب تک جج مطمئن نہ ہوں، پولیس کو بے دخلی کی اجازت نہ ہو۔ جمعیت نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔
9/نومبر 1963ئ کو جمعیت کی مجلس عاملہ نے مولانا اسعد مدنی کے خلاف شائع کیے گئے مبینہ اشتعال انگیز اور الزام تراش پمفلٹ کی مذمت کی۔
15/جنوری 1964 کو آسام میں مسلمانوں کو خوف زدہ کرکے پاکستانی حیثیت تسلیم کرنے والے بیانات پر دستخط کرانے کی شکایات بھی حکومت تک پہنچائی گئیں۔ 7–8/مارچ 1964ئ کو جمعیت نے غیر قانونی طور پر پاکستان سے آنے والوں کی بے دخلی کی اصولی حمایت کرتے ہوئے بھارتی مسلمان شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک کی مخالفت کی۔
اسی پس منظر میں مجلس عاملہ( 27 تا 29/جون 1964ئ) نے اعلان کیا کہ مسلمانوں کی شہریت کی بنیاد 1951ئ کی مردم شماری کو بنانے کو سخت نقصان دہ قرار دیا، کیوں کہ فسادات کے سبب وہ مردم شماری ناقص تھی اور نہرو لیاقت معاہدے کے تحت لوٹنے والے مسلمان اس وقت موجود ہی نہ تھے۔ اس نے 1961ئ کی مردم شماری کو بنیاد بنانے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ناجائز طور پر آئے پاکستانیوں کا انخلا ضروری ہے۔ 25/جولائی 1964ئ کو مولانا اسعد مدنی نے آسام کے اہل علم سے اپیل کی کہ خوف چھوڑ کر آگے آئیں، لوگوں کو شہریت کی قانونی تعریف سے آگاہ کریں اور ڈومیسائل و شہریت جیسے بنیادی حقوق ترک نہ کریں۔
23/ستمبر 1964ئ کوForeigners (Tribunals) Order, 1964 جاری کرکے غیر ملکی ہونے، یا نہ ہونے کے فیصلے کے لیے ٹریبونل قائم کیے گئے ، مگر ہندستانی مسلمانوں کو ’’کوئٹ انڈیا‘‘ نوٹس، پولیس دبا¶ اور جبری انخلا کی شکایات جاری رہیں۔ 21/ستمبر 1964ئ کو جمعیت نے وزیر داخلہ سے ملاقات اور تحریری احتجاج کرکے کم از کم قانونی مہلت، عدالتی سماعت اور پولیس کی زیادتی روکنے کا مطالبہ کیا۔29/ستمبر تا 3/اکتوبر 1964ئ مولانا اسعد مدنیؒ، ڈاکٹر گوپال سنگھ، گووند ریڈی اور بیگم انیس قدوائی پر مشتمل وفد نے آسام کا دورہ کیا اور ہندستانی مسلمانوں کے خلاف زیادتیوں کی نشاندہی کی۔ 18/اکتوبر 1964ئ کو وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے بھی پولیس کی مبینہ زیادتیوں پر آسام حکومت سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔29–30/نومبر 1964ئ کے نیشنل جمہوری کنونشن میں جمعیت نے مطالبہ کیا کہ ٹریبونل کے عدالتی اختیارات مؤثر طور پر استعمال ہوں اور کسی ہندستانی شہری کو ترکِ وطن پر مجبور نہ کیا جائے۔
13–14/جون 1965ئ کی مجلس عاملہ نے آسام سمیت سرحدی علاقوں میں مسلمانوں کی گرفتاری، پولیس دہشت اور فرقہ پرستانہ پروپیگنڈے کی مذمت کی۔ 10 اور 11 جولائی 1965ئ کو جبل پور میں بھارتیہ جن سنگھ کی مجلس عاملہ نے سرحد پر دس میل کی پٹی خالی رکھنے کی تجویز منظور کی، جس کا پس منظر نانا جی دیش مکھ کی آسام میں مسلم آبادی کے اضافے سے متعلق رپورٹ تھی۔ 14 جولائی 1965ئ کو مولانا اسعد مدنی نے جواب دیا کہ سرحدی مسلمانوں پر بے وفائی کا الزام دراصل ملک کے دشمنوں کی خدمت ہے۔ انھوں نے رن آف کچھ کے تقریباً 98 /فی صد مسلمانوں کی وفاداری کا حوالہ دیا۔
18–19/دسمبر 1965ئ کی مجلس منتظمہ نے مطالبہ کیا کہ 1951ئ کی مردم شماری کو ہندستانی مسلمانوں کی شہریت چھیننے کی بنیاد نہ بنایا جائے اور حقیقی شہریوں کو شہریت کا تحفظ دیا جائے۔ 24/دسمبر 1965ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ کی قیادت میں جمعیت علمائے آسام کے وفد نے وزیر داخلہ گلزاری لال نندا اور وزیر اطلاعات اندرا گاندھی سے ملاقات کرکے میمورنڈم پیش کیا۔
4/جنوری 1966ئ کو وزیر داخلہ نندا نے 21/ستمبر 1964ئ کے خط کے جواب میں لکھا کہ نوٹس ایک ہفتے سے دس دن، اور ٹربیونل آرڈر کے تحت دو ہفتے کا دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ٹربیونل کا فیصلہ آنے تک ملک چھوڑنے کے حکم پر عمل نہیں ہوتا۔
15–17/اپریل 1966ئ کے بائیسویں اجلاس عام میں جمعیت نے واضح کیا کہ 1951ئ میں آسام کے مسلمانوں کی تعداد تقریباً 19/لاکھ اور 1961ئ میں 27/لاکھ تھی؛ اس اضافے کو محض بیرونی دراندازی قرار دینا درست نہیں، کیوںکہ 1950ئ کے فسادات کے بعد واپس آنے والے خاندان اور قدرتی آبادی میں اضافہ بھی اس کے اسباب تھے۔ اجلاس نے ہندستانی شہری مسلمانوں کو شناختی کارڈ دینے اور ان کی شکایات کا فوری ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ 4/جون 1966ئ کو صدر جمعیت مولانا فخرالدین احمدؒ کی قیادت میں وزیر اعظم سے ملاقات کرکے بھی انخلا کی کارروائی مکمل طور پر عدلیہ کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
23–24/ستمبر1967ئ کی مجلس منتظمہ نے دوبارہ شکایت کی کہ 1951ئ کے قومی رجسٹر میں نام موجود ہونے کے باوجود مسلمانوں کو پاکستانی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس نے مطالبہ کیا کہ 1950ئ کے فسادات کے بعد واپس آنے والوں کو ’’نئے داخل ہونے والے‘‘ نہ سمجھا جائے۔ جہاں قومی رجسٹر موجود نہ ہو، وہاں ووٹر لسٹ اور زبانی و دیگر معتبر شہادتوں کو تسلیم کیا جائے ، اور پولیس کی گھر گھر شہریت جانچنے کی مہم بند کی جائے۔
آسام میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ کشیدگی اور شہریت کے مسائل کے خلاف جمعیت علمائے ہند نے مسلسل جدوجہد کی۔ 2/مارچ 1968ئ کو کریم گنج میں فساد کے بعد ناظم عمومی مولانا اسعد مدنیؒ نے مرکزی و صوبائی حکومت کے ذمہ داروں کو برقیے بھیج کر مجرمین کی گرفتاری اور سزا کا مطالبہ کیا۔ 7/مارچ کو انھوں نے اندرا گاندھی سے فسادات کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا اور 8/مارچ کو وزیر داخلہ چوہان سے ملاقات میں کریم گنج کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ اور 9/مارچ 1968ئ کو فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا، جہاں مسلمانوں کے تقریباً 100/مکانات اور 100/دکانیں جلانے و لوٹنے اور مدرسے پر حملے کی اطلاع ملی۔ 31/مارچ 1968ئ کو تین سکیا کے فسادات پر بھی حکومت کو احتجاج کیا گیا۔ 12/جولائی 1968ئ کو جمعیت نے جن سنگھ کے اس الزام کی تردید کی کہ وہ آسام کی تقسیم، یا مسلم اکثریتی یونٹ کا مطالبہ کرتی ہے۔ 23 تا 25/اگست 1968ئ کی مجلس عاملہ میں آسام کے ہندستانی مسلمانوں کو پولیس کی جانب سے ’’پاکستانی‘‘ قرار دینے اور جبری اخراج پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ شہریت کے تمام معاملات عدالتوں کے ذریعے طے کیے جائیں۔
1971ئ میں مشرقی پاکستان کے بحران کے دوران 25/مارچ کو آپریشن سرچ لائٹ شروع ہوا اور 26/مارچ کو بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان ہوا۔انھی حالات کی وجہ سے 13/ اپریل 1971ئ کو بدرپور (کچھار) میں ہندو مسلم فساد ہوا، جس پر مولانا اسعد مدنی نے 15/اپریل 1971ئ کو اندرا گاندھی کو تار بھیج کر مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ مجلس عاملہ 22، 23/دسمبر 1972ئ) نے آسام اور آندھرا کے لسانی فسادات پر تشویش ظاہر کی۔
آسام کے قحط اور سیلاب کے زمانے میں بھی جمعیت نے نمایاں امدادی خدمات انجام دیں۔ 9/نومبر 1974ئ کو ہوجائی میں ریلیف کمیٹی قائم کی گئی؛ نوگا¶ں سے 6,500/روپے فوری جمع ہوئے اور مزید 7,000 /روپے امداد بھیجی گئی۔ 8/مارچ 1975ئ تک مولانا اسعد مدنیؒ قحط زدگان کے لیے 30,000/روپے کی چھٹی قسط لے کر گوہاٹی پہنچے ، جب کہ اس سے قبل 30,000/روپے کے کپڑے اور 6,500/روپے نقد بھیجے جا چکے تھے۔ 9،10/اپریل 1975ئ کی مجلس عاملہ میں امدادی کاموں کا جائزہ لیا گیا اور 5/جولائی 1975ئ تک مرکزی و ریاستی ریلیف کمیٹیوں نے کپڑے ، بیج، نقد امداد اور دو یتیم خانوں کی تعمیر پر 1,18,675 روپے خرچ کیے۔
شہریت اور جبری انخلا کا مسئلہ 1978ئ میں دوبارہ شدت اختیار کرگیا۔ 23،24/ستمبر 1978ئ کی مجلس عاملہ نے ہندستانی شہری مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دے کر سرحد پار بھیجے جانے پر سخت احتجاج کیا اور واضح کیا کہ غیر ملکی ہونے کا فیصلہ صرف عدالت کرسکتی ہے ، پولیس یا انتظامیہ نہیں۔ 15/فروری 1979ئ اور 16/مارچ 1979ئ کو بھی جبری انخلا کے خلاف قراردادیں منظور ہوئیں، جب کہ 18/مارچ 1979ئ کو گوہاٹی کے اجلاس میں مولانا اسعد مدنیؒ نے اعلان کیا کہ جمعیت آسام کے مسلمانوں کو ’’غیر ملکی‘‘ کہہ کر ہندستان سے نکالنا برداشت نہیں کرے گی۔
اسی دوران AASU اور AAGSP کی قیادت میں غیر ملکیوں کے مسئلے پر تحریک شروع ہوئی۔ جولائی 1978ئ میں AASU نے غیر ملکیوں کے اخراج کو اپنے مطالبات میں شامل کیا، 24 تا 26/اکتوبر 1978ئ کو چیف الیکشن کمشنر ایس ایل شاکدھر نے انتخابی فہرستوں میں غیر ملکی ناموں پر تشویش ظاہر کی اور 28/اکتوبر 1978ئ کو احتجاج شروع ہوگیا۔ منگلدوئی ضمنی انتخاب میں تقریباً 47,000/مشتبہ نام سامنے آئے ، جن میں تقریباً 36,000 کی جانچ اور 26,000 (72/فی صد) کو غیر شہری قرار دینے کی اطلاعات نے تحریک کو شدت دی، جب کہ 8/جون 1979ئ کو ریاست گیر احتجاج شروع ہوا۔
9/نومبر 1979ئ کو مولانا اسعد مدنی صاحب کی قیادت میں جمعیت کے پانچ رکنی وفد نے صدر جمہوریہ نیلم سنجیو ریڈی سے ملاقات کرکے مطالبہ کیا کہ غیر ملکی ہونے کے مقدمات انتظامی ٹریبونل کے بجائے خصوصی، یا دیوانی عدالتوں میں چلائے جائیں اور ثبوت کی ذمہ داری حکومت پر ہو۔
7/دسمبر 1979ئ کو جمعیت کے زیر اہتمام کل ہند آسام کنونشن منعقد ہوا، جس میں مولانا اسعد مدنیؒ نے آسام کی آبادی اور تاریخ کے حوالے سے غیر ملکیوں کی تعداد کے مبالغہ آمیز پروپیگنڈے کی تردید کی۔ انھوں نے واضح کیا کہ آسام میں مشرقی بنگال کے لوگوں کی آمد ایک صدی سے زیادہ عرصے سے جاری تھی اور تقسیم کے بعد تقریباً 7,60,000/مشرقی بنگال کے پناہ گزین بھی آسام آئے تھے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ آسام میں ووٹروں کی تعداد میں 18/فی صد اضافہ غیر معمولی نہیں، جب کہ تری پورہ میں 21/فی صد، میگھالیہ میں 19/فی صد اور کرناٹک میں 16/فی صد اضافہ ہوا تھا۔ کنونشن نے جائز شہریوں کی شہریت و انتخابی حقوق کے تحفظ، عدالتی طریقہ¿ کار اور انتظامی ٹریبونل کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
9/ستمبر 1979ئ کو یوگندر ناتھ ہزاریکا وزیر اعلیٰ بنے ، مگر 11/دسمبر 1979ئ کو ان کی وزارت ختم ہوگئی۔ جمعیت کے صدر مولانا اسعد مدنیؒ نے 12/دسمبر 1979ئ کو اس ناکام وزارت کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔
17/دسمبر 1979ئ کو جمعیت نے 28/دسمبر کو ’’یوم آسام‘‘ منانے کی اپیل کی اور آسام کے شہریوں کے تحفظ، عدالتی طریقہ¿ کار، ناجائز اخراج کی روک تھام اور این آر سی کی نقول جمعیت کے دفاتر کو واپس کرنے کے مطالبات کیے۔ 21/دسمبر 1979ئ کی پریس کانفرنس میں مولانا اسعد مدنیؒ نے بھی یہی مطالبات پیش کیے ،جب کہ 28/دسمبر 1979ئ کو ملک بھر میں یوم آسام منایا گیا۔
28،29/جنوری 1980ئ کی مجلس عاملہ نے آسام کی متشدد، علاحدگی پسند تحریک اور گمنام پوسٹروں پر تشویش ظاہر کی گئی اور مطالبہ کیا کہ شہریت کا فیصلہ عدلیہ سے ،جب کہ غیر ملکی ہونے کا ثبوت حکومت و پولیس کی جانب سے پیش کیا جائے۔ 25/مارچ 1980ئ اور 28،29/اپریل 1980ئ کی مجالس میں بھی مسلمانوں اور دیگر غیر آسامی شہریوں کے خلاف گرفتاری، ہراسانی اور جبری اخراج کی شکایات پر احتجاج کیا گیا اور شہری حقوق کے تحفظ کا مطالبہ دہرایا گیا۔ یکم جون 1980ئ کو جمعیت نے 6/جون کو ’’یوم آسام‘‘ منانے کی اپیل کرتے ہوئے واضح کیا کہ غیر ملکیوں کے اخراج کے نام پر تمام غیر آسامی باشندوں کو نکالنے کی کوشش ہندستان کی قومی وحدت کے لیے خطرناک ہے۔چنانچہ اس سرکلر کے مطابق 6/جون کو یوم آسام منایا گیا۔
10/جون 1980ئ کو بیگم عابدہ احمد کی صدارت میں دہلی میں آسام کانفرنس ہوئی، جس میں ریاست سے باہر کے افسروں پر مشتمل ٹربیونل کا مطالبہ ہوا۔ مجلس عاملہ 20/جون 1980ئ نے پولیس کی زیادتیوں کی شکایت کی۔ 11/جولائی 1980ئ کو اندرا گاندھی کو میمورنڈم دیا گیا اور 14/جولائی 1980ئ کو مولانا مدنی نے راجیہ سبھا میں تقریر کی۔ مجلس عاملہ 9،10/دسمبر 1980ئ نے گوہاٹی میں سٹیزن پروٹیکشن کمیٹی کی تشکیل کی توثیق کی، جس کے صدر سید احمد علی، جنرل سکریٹری مولانا عبدالحق اور فنڈ پچاس ہزار روپے مقرر کیا گیا ۔
مجلس عاملہ 7، 8/فروری 1981ئ نے بتایا کہ جنوری 1980ئ کے شمالی کامروپ کے قتل عام سے پہلے وشو ہندو مہاسبھا کے سمیلن ہوئے تھے اور 31/جنوری و یکم فروری 1981ئ کو نل باڑی میں بھی ایسا سمیلن ہوا۔
مجلس عاملہ 7، 8/اگست 1982ئ نے پولیس کی دہشت اور سرکاری زمینوں سے بے دخلی کی مذمت کی۔
18/فروری 1983ئ کو انتخابات کے دوران نیلی اور اس کے گرد تیرہ دیہات میں بنگالی مسلمانوں کا قتل عام ہوا، جس میں سرکاری ریکارڈ کے مطابق 1,819/افراد مارے گئے۔ مولانا مدنی نے 27/فروری 1983ئ کو بیان میں اس کی مذمت کی۔ 2/مارچ 1983ئ کو دو لاکھ روپے لے کر آسام گئے ۔اور مولانا علی احمد کی صدارت میں ریلیف کمیٹی بنائی گئی۔ مجلس عاملہ 5، 6 /مارچ 1983ئ میں آسام کے لیے ایک لاکھ روپے منظور کیے گئے اور قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ 10/مارچ 1983ئ کی پریس کانفرنس میں مولانا مدنی نے اس فساد میں پولیس افسروں کے ملوث ہونے کا ذکر کیا۔
14 تا 17/اپریل 1983ئ کو بغداد کی کانفرنس میں آسام فسادات کے تناظر میںپاکستان اور بنگلہ دیش نے ہندستان کے خلاف تجویز پیش کی،لیکن اسے اندرونی معاملہ بتاکر تجویز کو مسترد کرادی گئی۔اسی خبر کو یو این آئی نے ہندستان میں اس طرح شائع کیا کہ بغداد کانفرنس میں مولانا اسعد مدنی نے آسام فساد پر حکومت کو بری الذمہ قرار دے دیا۔ کانفرنس سے واپسی پر مولانا مدنی نے یو این آئی کی خبر کو گمراہ کن کہا اور واضح کیا کہ ایسی کوئی قرارداد نہیں آئی، البتہ فسادات پر حکومت ہند کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مجلس عاملہ 8، 9/مئی 1983ئ نے دو لاکھ روپے کی مزید دو قسطیں منظور کیں اور مجلس منتظمہ 25، 26 نومبر 1983ئ نے وزیر اعلیٰ ہتیشور سیکیا کی کوششوں کو سراہا۔
تعلیمی و ملی کانفرنس 6 تا 8/اپریل 1984ئ کی تجویز نمبر 9 میں بھی آسام، بہار، گجرات اور راجستھان میں ’’دراندازی‘‘ کے بہانے ہراسانی کی مذمت کی گئی۔
مجلس عاملہ18/جنوری1985ئ اور6،7/مئی 1985ئ میں کہا گیا کہ آسوکے مطالبات نہ مانے جائیں۔ اسی دوران مولانا مدنی نے 28 /مارچ 1985ئ کو وزیر اعظم کو ایک مکتوب اور 12/اپریل 1985ئ کو کیبنٹ سکریٹری بی کے کول سے ملاقات کرکے آسام کے مسائل ان کے سامنے رکھے۔ مجلس عاملہ 12، 13/جولائی 1985ئ میں سیکیا وزارت کے خلاف سازشوں پر تشویش ظاہر کی گئی۔ 2/اگست 1985ئ کو مولانا مدنی نے راجیو گاندھی سے ملاقات کی اور نوٹ دیا کہ انتخابی فہرست میں اضافہ قومی اوسط کے مطابق ہے۔
در اصل آسام میں غیر ملکیوں کی شناخت کا مسئلہ 1979ئ سے پہلے ہی سے زیرِ بحث تھا؛ جولائی 1978ئ میں AASU نے اپنے 16/نکاتی مطالبات میں غیر ملکیوں کے اخراج کو شامل کیا اور 24–26/اکتوبر 1978ئ کو چیف الیکشن کمشنر ایس ایل شاکدھر کے بیان کے بعد 28/اکتوبر 1978ئ سے احتجاج شروع کیا۔ 1979ئ کے منگلدوئی ضمنی انتخاب کی انتخابی فہرستوں میں تقریباً 47/ہزار مشتبہ نام سامنے آنے کے بعد 8/جون 1979ئ کو ریاست گیر تحریک شروع ہوئی، جس کی قیادت AASU اور AAGSP نے کی۔ یہ مظاہرے، ہڑتال اور انتخابی بائیکاٹ 1985ئ تک جاری رہے۔ اسی دوران 18/فروری 1983ئ کو نیلی قتل عام سمیت شدید خون ریزی ہوئی۔ اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق چھ سال میں 855/افراد مارے گئے (آسو کے مطابق 860)۔انھی حالات کے پیش نظر غیر ملکیوں کی شناخت کے لیے 15/ اکتوبر 1983ئ کو Ordinance اور 25/دسمبر 1983ئ کو Illegal Migrants (Determination by Tribunals) Act (IMDT )نافذ کیا گیا، جس میں 25/مارچ 1971ئ کے بعد آنے والوں کی شناخت کے لیے ٹربیونل بنے۔
بالآخر15/اگست 1985ئ کو راجیو گاندھی کی موجودگی میں آسام آندولن کے قائدین آسو، گن سنگرام پریشد اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کے درمیان آسام معاہدہ ہوا۔ اس کے تحت یکم جنوری 1966ئ سے پہلے آنے والوں کو بھارتی شہری تسلیم کیا گیا، یکم جنوری 1966ئ سے 24/مارچ 1971ئ کے درمیان آنے والوں کے نام دس سال کے لیے ووٹر لسٹ سے نکال کر Foreigners Act کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا، جب کہ 25/مارچ 1971ئ کے بعد آنے والوں کو غیر ملکی قرار دے کر نکالنے کی بات طے ہوئی۔ اس معاہدے کے ساتھ آسام کی چھ سالہ تحریک کا اختتام ہوا، لیکن اس کی یہی تاریخ بعد میں NRC کے سلسلے کی بنیاد بنی۔
15/اگست 1985ئ کو معاہدے کے وقت جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا سید اسعد مدنی برطانیہ کے دورے پر تھے۔ اطلاع ملنے پر انھوں نے معاہدے پر شدید تشویش ظاہر کی اور ناظم عمومی مولانا محمد اسرار الحق قاسمی کو آسام جا کر صورت حال کا جائزہ لینے کی ہدایت دی۔ ان کے نزدیک اقلیتوں سے رائے لیے بغیر عجلت میں کیا گیا یہ معاہدہ آسو اور گن سنگرام پریشد کو غیر معمولی طاقت دینے اور لاکھوں اقلیتوں کو حق شہریت سے محروم کرنے کا ذریعہ بن سکتا تھا۔
21/اگست 1985ئ کی شام محمد اسرار الحق قاسمی گوہاٹی پہنچے اور جمعیت علمائے آسام کے جنرل سکریٹری مولانا عبد الحق اور دیگر جماعتی ذمہ داران سے صورت حال پر گفتگو کی۔ 22/اگست کو دیش پور میں ریاستی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس کی صدارت مولانا احمد علی نے کی۔ تقریباً آٹھ گھنٹے کی تفصیلی بحث کے بعد معاہدے کی غیر ملکیوں سے متعلق دفعات اور خصوصاً دفعات 10، 11 اور 41 پر سخت تشویش ظاہر کی گئی اور انھیں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے لیے نقصان دہ قرار دے کر قرارداد منظور کی گئی۔ انتخابی فہرستوں سے اقلیتی ناموں کے اخراج اور انتخابی افسران کی بے ضابطگیوں پر بھی احتجاج کیا گیا۔
23/اگست 1985ئ کو محمد اسرار الحق قاسمی نے کارگزار وزیر اعلیٰ شری ہتیشور سیکیا سے ملاقات کی۔ مولانا احمد علی اور مولانا عبد الحق بھی موجود تھے۔ تقریباً 45 منٹ کی گفتگو میں اقلیتوں کے خدشات، انتخابی فہرستوں کی مشکلات اور معاہدے کے نقصانات سے آگاہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزیر داخلہ شری ایس بی چوہان سے بھی فون پر بات کی اور متعلقہ امور تحریری طور پر بھیجنے کی ہدایت دی۔ چیف الیکٹورل افسر پی این مسرا سے بھی گفتگو ہوئی، جنھوں نے زمین کے ریکارڈ، عدالتی فیصلوں اور دوسرے ثبوتوں کو قبول کرنے کے لیے سرکلر جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی، مگر بعد میں اس پر مؤثر عمل نہ ہوسکا۔
24/اگست 1985ئ کو محمد اسرار الحق قاسمی نے مولانا عبد الحق کے ساتھ ضلع درنگ، کھاروپیٹا اور دیگر علاقوں کا دورہ کیا اور عوام کی مشکلات کا براہ راست مشاہدہ کیا۔ 29/اگست کو آسام سے واپسی کے بعد انھوں نے اخباری بیان کے ذریعے اقلیتوں کی پریشانی، آسو اور آر ایس ایس کی بڑھتی ہوئی قوت اور انتخابی فہرستوں میں دھاندلی کی تفصیلات بیان کیں۔ 4/ستمبر 1985ئ کو وزیر اعظم راجیو گاندھی کو چار صفحات پر مشتمل تفصیلی مراسلہ بھیجا گیا۔
اسی دوران صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی 21/اگست1985 ئ کی رات بیرون ملک سے ہندستان واپس آئے ، 24/اگست کو آسام کے لیے روانہ ہوئے ، 25/اگست کو کلکتہ میں جمعیت علمائے مغربی بنگال کی میٹنگ میں شریک ہوئے اور 26/اگست کو گوہاٹی پہنچ کر ہوجائی، نوگا¶ں اور موئرا باڑی کا دورہ کیا۔ وہاں انھوں نے ان شہریوں کی شکایات سنیں جن کے نام انتخابی فہرستوں سے نکالے جا رہے تھے۔ مقامی ذمہ داران نے بتایا کہ ہزاروں جائز ووٹروں کے نام کاٹے گئے ، 1971ئ کی فہرستیں قبول نہیں کی جارہیں، سماعتوں میں ناانصافیاں ہو رہی ہیں اور پہلے شہری تسلیم کیے جانے والے افراد پر بھی دوبارہ اعتراضات کیے جارہے ہیں۔ بعض علاقوں میں 1957ئ اور 1960ئ کی فہرستوں میں موجود افراد کے نام بھی حذف کیے گئے۔ بعض قبائلی علاقوں میں پوری مسلم آبادی کو انخلا کے نوٹس دیے گئے ،جب کہ NRC کی نقول حاصل کرنے کے لیے رشوت طلب کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ آسام کے لیے NRC کا قانون 1950ئ میں بنایا گیا اور 1951ئ میں NRC تیار ہوا، مگر اس کی باقاعدہ سالانہ نظرثانی نہیں ہوئی۔
28/اگست 1985ئ کو مولانا اسعد مدنی نے آسام کے وزیر مالیات، وزیر قانون اور دیگر وزرا سے ملاقات کی اور ان سے معاہدے کی خوبیوں کی وضاحت طلب کی؛ مگر وہ کوئی مؤثر جواب نہ دے سکے۔ صدر جمعیت نے اس کے نقصانات کے خلاف جدوجہد میں تعاون کی اپیل کی اور وزیر اعلیٰ سے بھی تفصیلی گفتگو کی۔
29/اگست 1985ئ کو گوہاٹی میں کل آسام اقلیتی کنونشن منعقد ہوا، جس کا اہتمام جمعیت علمائے آسام، شہری حقوق تحفظ کمیٹی اور آل آسام مائنارٹی فورم نے کیا تھا۔ مولانا اسعد مدنی نے واضح کیا کہ ہندستان مختلف مذاہب، تہذیبوں اور روایتوں کے ماننے والوں کا ملک ہے ؛ اگر اقلیتوں کے ساتھ انصاف نہ کیا گیا تو ملک تباہ ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ اگر کوئی واقعی غیر ملکی ہے تو اس کے ساتھ ہمدردی نہیں، لیکن کسی ایک شہری کو بھی حق شہریت سے محروم کرنا ناقابل قبول ہے۔ انھوں نے آسام سمجھوتے کو آئین، بین الاقوامی معاہدوں اور انسانیت کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے آندولن کاریوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ جدوجہد پرامن ہوگی، ملک یا قومی املاک کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور مقصد صرف انصاف کا حصول ہے۔
8/اکتوبر 1985ئ کو جمعیت علمائے ہند کے ایک وفد نے مولانا اسعد مدنی کی قیادت میں چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا سے ملاقات کی اور آسام کی صورت حال پر میمورنڈم پیش کیا۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے بھی کئی روز کوشش کی گئی، مگر وقت نہیں ملا۔ 9/اکتوبر 1985ئ کو مولانا اسعد مدنی نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کی اور اپنے آسام دورے کے مشاہدات کی بنیاد پر کہا کہ معاہدے نے مسلمانوں، بنگالی اور نیپالی ہندو¶ں سمیت لاکھوں مذہبی و لسانی اقلیتوں کے لیے ناقابل بیان مشکلات پیدا کردی ہیں۔ ان کے نزدیک یہ معاہدہ قومی اتحاد کے لیے مضر، آئینی حدود سے متجاوز اور لاکھوں شہریوں کے لیے تباہ کن ہے۔
10/اکتوبر 1985ئ کی مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند نے آسام سمجھوتے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے غیر انسانی، غیر آئینی، غیر منصفانہ اور قومی و بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیا۔ جمعیت کے نزدیک 1971ئ کے بجائے یکم جنوری 1966ئ کو عملی کٹ آف بنانا سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے موقف اور ان یقین دہانیوں سے انحراف تھا، جن میں 1971ئ تک آنے والوں کو شہری ماننے کا اصول برقرار رکھا گیا تھا۔ جمعیت نے اس امر پر بھی اعتراض کیا کہ سپریم کورٹ نے 1979ئ کی ووٹر فہرست کو جائز تسلیم کرکے 1983ئ کے آسام انتخابات کو قانونی قرار دیا تھا، مگر نئے سمجھوتے کے نتیجے میں انھی شہریوں کو مشکوک بنا دیا گیا۔
جمعیت نے معاہدے کی مختلف دفعات پر تفصیلی اعتراضات اٹھائے۔ اس کے نزدیک دفعہ 5 سابق ہندستانی و بنگلہ دیشی معاہدوں کے منافی تھی؛ دفعات 5(2) اور 5(3) نے شہریوں کو دو طبقات میں تقسیم کرکے ایک طبقے کو ووٹ کے حق سے محروم کردیا؛ دفعات 5(4) تا 5(9) نے انتظامی مشینری کو آسو اور گن سنگرام پریشد کے اثر میں دینے کا راستہ کھولا؛ دفعہ 8(2) نے تحریک کاروں کو غیر معمولی حیثیت دی؛ دفعہ 9(2) سے بے گھر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا؛ دفعہ 10 سے ہزاروں مسلمانوں سمیت شہریوں کی زمین اور گھروں سے محرومی کا اندیشہ تھا؛ دفعہ 31 کے تحت امن و تعاون کی یقین دہانی کے باوجود تشدد جاری رہنے کی شکایت تھی، جبکہ دفعہ 41 کے تحت تشدد، قتل اور زیادتی کے ذمہ دار عناصر کو فائدہ پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا۔
جمعیت نے مطالبہ کیا کہ 24/مارچ 1971ئ تک آسام میں داخل ہونے والے تمام لوگوں کو شہریت کے مکمل حقوق دیے جائیں؛ کسی شخص کو متبادل سکونت، روزگار اور قابل کاشت زمین دیے بغیر اس کے گھر سے نہ نکالا جائے ؛ الیکشن کمیشن کی گھر گھر جاکر تیار کردہ یکم جنوری 1985ئ کی ووٹر لسٹ کو بنیادی فہرست مانا جائے ؛ اور جن افراد کے پاس مطلوبہ دستاویزات نہ ہوں، انہیں فوراً غیر ملکی قرار دے کر نکالنے کے بجائے قانون شہادت اور دوسرے قوانین کے مطابق شہریت ثابت کرنے کا مناسب موقع دیا جائے۔
اسی 10/اکتوبر 1985ئ کی مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا کہ آسام کے مسئلے پر نومبر میں دہلی میں کل ہند کنونشن بلایا جائے۔ اس کے لیے تیاری کمیٹی میں مولانا سید اسعد مدنی، مولانا محمد اسرار الحق قاسمی، محمد حنیف دائم کمار ایڈووکیٹ، مولانا اسحاق سنبھلی، مولانا عبد الحق گوہاٹی، مولانا قاری محمد میاں اور مولانا سید احمد ہاشمی بطور کنوینر شامل کیے گئے۔
16/نومبر 1985ئ کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں شہری حقوق کنونشن کی قرارداد تیار کرنے کے لیے الگ کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں مولانا محمد اسرار الحق قاسمی، محمد حنیف دائم کمار ایڈووکیٹ، شکیل احمد سید ایڈووکیٹ، مولانا اسحاق سنبھلی اور حاجی عبد الر¶ف شامل تھے۔
17/نومبر 1985ئ کو نئی دہلی میں جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام آل انڈیا شہری حقوق کنونشن منعقد ہوا، جس کی صدارت مولانا سید اسعد مدنی نے کی۔ مولانا سید احمد ہاشمی نے استقبالیہ خطاب میں آسام میں لاکھوں جائز شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جانے کی مذمت کی۔ مولانا اسعد مدنی نے تقریباً 90 منٹ کی صدارتی تقریر میں آسام کے مظلوموں اور مذہبی و لسانی اقلیتوں کے خلاف جاری کارروائیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ظلم جہاں بھی ہوگا، جمعیت شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرے گی۔ پروفیسر بالی مسرا نے اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا، پروفیسر دلیپ چکرورتی نے واضح کیا کہ حملہ صرف مسلمانوں پر نہیں بلکہ بنگالی، نیپالی اور قبائلی اقلیتوں پر بھی ہے ، جب کہ چندرجیت یادو نے اپنی جماعت کی مکمل حمایت اور قربانی کا یقین دلایا۔ کنونشن صبح 10/بجے شروع ہوکر رات 10 بجے تک جاری رہا اور ایک اہم قرارداد منظور کی گئی۔
کنونشن کی قرارداد میں آسام سمجھوتے کو غیر قانونی، غیر انسانی، بین الاقوامی قوانین و معاہدوں اور انسانی حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ اسے منسوخ کرکے ایسا نیا سمجھوتہ کیا جائے جو تمام آسامی باشندوں کے لیے قابل قبول ہو اور جس میں آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے اعلانات، بالخصوص 15/اگست 1983ئ کی یقین دہانی، شامل ہو۔
15/اگست 1985ئ کو حکومت ہند، حکومت آسام، آل آسام اسٹوڈنٹس یونین (AASU) اور آل آسام گن سنگرام پریشد کے درمیان ہونے والے آسام سمجھوتے کے تناظر میں Citizenship (Amendment) Act 1985 کے ذریعے شہریت ایکٹ 1955 میں دفعہ 6A شامل کی گئی۔جمعیت علمائے ہند نے ابتدا ہی سے اس سمجھوتے کو اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
یکم اور 2 جنوری 1986ئ کو جمعیت کی مجلس منتظمہ نے آسام سمجھوتے کو قومی و بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کے خلاف قرار دیا اور لاکھوں شہریوں کو حق شہریت و حق رائے دہی سے محروم کیے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ 21، 22/فروری1986ئ کو مجلس عاملہ نے آسام کی صورت حال پر غور کرکے عدالتی کارروائی، مرکزی و ریاستی حکومتوں سے رابطہ، سیاسی دبا¶، اقلیتوں کے اتحاد اور جمعیتی تنظیم کو مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا۔ فروری 1986 میں 6 سے 13/ فروری تک جمعیت کے دو رکنی وفد نے گوہاٹی، نوگانگ، درنگ، بارپیٹا، گوالپاڑہ، دھوبری، سلچر اور بانس کنڈی سمیت متعدد علاقوں کا دورہ کیا اور عوامی مشکلات کا جائزہ لیا۔ 27/فروری1986ئ کو مولانا اسعد مدنی نے راجیہ سبھا میں آسام کے شہریوں کے ووٹ کے حق سے محرومی اور بے دخلی کے واقعات پر آواز اٹھائی۔ 7 سے 9/مارچ 1986ئ کو انھوں نے دوبارہ آسام کا دورہ کیا اور 19/اپریل 1986ئ کو وزیر اعظم راجیو گاندھی کو اقلیتوں کے جان، مال اور جائداد کے تحفظ کے لیے میمورنڈم دیا۔ 3/مئی 1986 کو مجلس عاملہ نے غیر آسامی شہریوں کی بے دخلی، روزگار اور معاشی حقوق سے محرومی کی شدید مذمت کی۔ 22/جون1986ئ کو مولانا اسعد مدنی نے دوبارہ آسام کا دورہ کیا اور اقلیت دشمن اقدامات پر تشویش ظاہر کی۔یکم نومبر 1986ئ کو مجلس منتظمہ نے حق شہریت کو ناقابل تنسیخ بنیادی حق قرار دیتے ہوئے شہریوں کو غیر ملکی قرار دینے ، زمینوں سے اجاڑنے اور معاشی ذرائع سے محروم کرنے کی مخالفت کی۔ 6 دسمبر1986ئ کو مجلس عاملہ نے بتایا کہ ہزاروں مسلمان بے دخل ہوچکے ہیں اور مزید ڈھائی لاکھ افراد کو نوٹس دیے گئے ہیں؛ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مرکزی قانون اور عدالتی طریقہ¿ کار کی پابندی کی جائے۔
14/جنوری 1987 کو مولانا اسعد مدنی نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر آسام تحریک کے عناصر سے کیے گئے سمجھوتے پر سخت اعتراض کیا۔ 16 سے 25/جنوری 1987ئ کو انھوں نے آسام کا دورہ کیا، بڑے عوامی اجتماعات سے خطاب کیا اور ظلم کے خلاف صبر و استقامت کی تلقین کی۔ 9، 10 فروری کو کچہار اور کریم گنج کا دوبارہ دورہ کیا۔ 27/مئی 1987ئ کو ریاستی جمعیت کے وفد نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کرکے اقلیتوں کے مسائل پر میمورنڈم دیا اور 28/جولائی1987ئ کو جمعیت علمائے آسام کے 13 اضلاع کے 115 عہدے داروں و ارکان نے پارلیمنٹ ہا¶س کے سامنے دھرنا دیا۔ 17، 18/جولائی 1987 کی مجلس عاملہ نے پولیس کو شہریت کے فیصلوں میں اختیار دینے کی مخالفت کی۔7/نومبر1987ئ کو مجلس منتظمہ نے مسلمانوں، قبائلیوں اور دوسری اقلیتوں کو روزگار، لائسنس، پرمٹ اور دیگر معاشی حقوق سے محروم کرنے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ شہریت کے معاملے میں عدلیہ کے اختیارات محدود کرکے پولیس کو مزید اختیار نہ دیا جائے۔
9، 10/جنوری 1988 کو مجلس عاملہ نے اقلیت دشمن پالیسی اور پولیس کو غیر ملکی شناخت کے اضافی اختیارات دینے کی مجوزہ ترمیم کی مخالفت کی۔ 9، 10/اپریل 1988 کو جمعیت نے دوبارہ آسام اکارڈ کو خصوصاً مسلمانوں کے لیے مضرت رساں قرار دیا اور ٹریبونل کے اختیارات کم کرکے پولیس کے اختیارات بڑھانے کی مخالفت کی۔
اگست 1988 کے آخری ہفتے میں آسام میں شدید سیلاب آیا، جس سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے۔ ستمبر 1988 میں مولانا اسعد مدنی نے وزیر اعظم راجیو گاندھی کے ساتھ متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، جب کہ جمعیت نے ڈیڑھ لاکھ روپے کی ابتدائی امداد فراہم کی۔ اکتوبر میں ڈاکٹروں کی ٹیم، ادویات، غلہ اور دیگر سامان بھیجا گیا، 3075 کمبل فراہم کیے گئے اور 22 رضاکار امدادی کام کے لیے روانہ کیے گئے۔ جمعیت نے سیلاب زدگان کی امداد پر مجموعی طور پر تقریباً سات لاکھ روپے خرچ کیے۔ 26، 27/نومبر 1988 کو مجلس عاملہ نے حکومت آسام کی امدادی امتیازی پالیسی کی مذمت کی اور منصفانہ بازآبادکاری کا مطالبہ کیا۔
1989 میں آسام کی ووٹر لسٹ کا مسئلہ دوبارہ شدت اختیار کرگیا۔ 17/مئی 1989 کے سرکلر میں 1966ئ کی ووٹر لسٹ کو بنیاد بنانے کی ہدایت دی گئی، جس سے تقریباً 40 /لاکھ لسانی و مذہبی اقلیتوں کے حق شہریت اور حق رائے دہی کو خطرہ لاحق ہوا۔ جمعیت نے مرکزی حکومت، وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور متعلقہ ذمہ داروں سے ملاقاتیں کرکے 1985 کی ووٹر لسٹ کو بنیاد بنانے کا مطالبہ کیا۔ مولانا اسعد مدنی نے اپنا بیرون ملک سفر مختصر کرکے دہلی پہنچ کر وزیر اعظم سے ملاقات کی اور پانچ صفحات کا میمورنڈم پیش کیا؛ وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ ’ب‘ فہرست میں شامل افراد کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اواخر اگست 1989 میں جمعیت نے آسام کے سیلاب زدگان کے لیے مزید امداد بھیجی۔ 29/ستمبر1989ئ کو وزیر اعظم کو میمورنڈم دے کر شہریت کی تصدیق کے نام پر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ ختم کرنے ، 1985 کی ووٹر لسٹ کو بنیاد بنانے اور شہریت قانون میں ترمیم کا مطالبہ کیا گیا۔ 28/دسمبر 1989ئ کو مولانا اسعد مدنی نے راجیہ سبھا میں مطالبہ کیا کہ منصفانہ ووٹر لسٹ مکمل ہونے تک آسام میں انتخابات نہ کرائے جائیں۔
7/اپریل 1979 کو قائم ہونے والی ULFA نے آسام کو ہندستان سے الگ کرنے کے لیے مسلح جدوجہد شروع کی اور 1990 تک قتل، اغوا، بھتہ خوری اور حملوں کا سلسلہ بڑھ گیا۔ 9/مئی 1990 کو چائے باغان مالک سریندر پال قتل ہوئے اور 1990 میں ULFA سے منسوب 137 /واقعات میں 53 /افراد ہلاک ہوئے۔ 3/جون 1990کو جمعیت علمائے ہند نے ULFA کی متشدد سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہوئے حکومت ہند سے سخت کارروائی اور آسام میں قانون کی بالادستی قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ 13 تا 19/ستمبر 1990ئ کو مولانا محمد اسرار الحق قاسمی نے گوالپاڑہ، جلیسر، دھوبری، بلسی پاڑہ، ہنوئی، بارپیٹا، نلباڑی، گوہاٹی، ناگا¶ں اور دیگر علاقوں کا دورہ کرکے مقامی صورت حال، ووٹر لسٹ اور شہریوں کی مشکلات کا جائزہ لیا۔ اسی دور میں اُلفا کی پرتشدد سرگرمیوں پر بھی جمعیت نے تشویش ظاہر کی۔بالآخر 28/نومبر 1990 کو آسام میں صدر راج نافذ ہوا، ULFA کو غیر قانونی قرار دیا گیا اور فوج نے آپریشن بجرنگ شروع کیا۔
3،4/اکتوبر 1993ئ کی تحفظ شریعت کانفرنس میں بنگلہ دیشی کے نام پر آسام کے مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرنے کی مذمت کی گئی۔ 13/اکتوبر 1993ئ کو مولانا اسعد مدنی نے آسام کے کوکرا جھار اور بنگائی گا¶ں میں بوڈو انتہا پسندوں کے حملوں، مسلمانوں کی ہلاکت، مکانات کی تباہی اور ہزاروں افراد کی بے گھری پر حکومت کی بے حسی کی مذمت کی۔
1994ئ میں حالات مزید سنگین ہوئے۔ 9/ستمبر 1994ئ کو جمعیت علمائے ہند نے آسام کے فسادات کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں رٹ داخل کی، جس میں مقتولین، زخمیوں اور لوٹ و آتش زدگی سے متاثرہ افراد کو معاوضہ، متاثرین کی بازآبادکاری اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی سلسلے میں انسانی حقوق کمیشن سے بھی رجوع کیا گیا۔ 23/اکتوبر 1994ئ کی مجلس عاملہ نے آسام اور کرناٹک کے فسادات کی مذمت کرتے ہوئے آسام میں بنگائی گا¶ں، کوکرا جھار اور بارپیٹا کے مسلسل فسادات، سو سے زائد دیہات کی تباہی اور تقریباً بارہ سو مسلمانوں کی شہادت کا ذکر کیا۔ 8/دسمبر 1994ئ کو مولانا اسعد مدنی نے حقِ شہریت کے مسئلے پر میڈیا سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے واضح کیا کہ جمعیت کسی غیر ملکی کے حق میں نہیں، لیکن کسی ایک بھی ہندستانی شہری کو غیر ملکی قرار دینا برداشت نہیں کرسکتی۔
23/جنوری 1995ئ کی مجلس عاملہ میں آسام کی نئی ووٹر لسٹ کے مسئلے پر غور ہوا اور چوں کہ متعدد مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت تھے ، اس لیے عدالتی فیصلوں کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 2/اپریل 1995ئ کو الیکشن کمیشن کے اقدامات کا جائزہ لے کر ہائی کورٹ میں قانونی کارروائی کا فیصلہ ہوا۔ 27،28،29/اکتوبر 1995ئ کی مجلس منتظمہ نے NRC کے ذریعے حقِ شہریت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا اور D یعنی ڈا¶ٹ فل ووٹر کے نام پر شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے اور غیر ملکی ہونے کے نوٹس بھیجنے پر تشویش ظاہر کی۔
12،13/اکتوبر 1996ئ کو IMDT Act پر مجلس عاملہ میں تفصیلی غور ہوا اور وزیر اعظم و وزیر داخلہ کو میمورنڈم دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ 9/نومبر 1996ئ کو آسام کے مسئلے پر حکومت سے براہِ راست بات چیت کے لیے مولانا اسحاق سنبھلی، شکیل احمد سید اور محمد حنیف دائما کمار کو ذمہ داری دی گئی۔ جمعیت نے اپنے موقف میں یہ بھی واضح کیا کہ IMDT Act کا بنیادی مقصد غیر ملکیوں کی شناخت کے ساتھ حقیقی ہندستانی شہریوں کو جھوٹی شکایات اور پولیس کی زیادتی سے تحفظ دینا ہے۔
18/جنوری 1998ئ کو جمعیت نے سپریم کورٹ میں رٹ داخل کرکے آسام کے 3/لاکھ 70 /ہزار ووٹروں کو مشتبہ قرار دے کر حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا۔ 20/فروری 1998ئ کو مجلس عاملہ نے اس قانونی کارروائی کی تحسین کی اور مقدمے کے تمام اخراجات منظور کیے۔ 24،25/اپریل 1998ئ کی مجلس منتظمہ نے IMDT Act کو منسوخ کرنے کی کوشش کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے آسام میں لسانی و مذہبی اقلیتوں کا تحفظ متاثر ہوگا۔ 26/دسمبر 1998ئ کو مولانا اسعد مدنی نے گورنر ایس کے سنہا کی IMDT Act کو ختم کرنے کی سفارش پر سخت اعتراض کیا۔
28/جنوری 1999ئ کو مولانا اسعد مدنی کی قیادت میں جمعیت کے وفد نے منموہن سنگھ، راجیش پائلٹ اور ترن گوگوئی سے ملاقات کرکے آسام اور IMDT Act کے مسئلے پر گفتگو کی۔ 8/مارچ 1999ئ کی مجلس منتظمہ نے IMDT Act کو ختم کرنے کی کوششوں کی سخت مخالفت کی۔ 6/جون 1999ئ کے اقلیتی کنونشن میں مولانا اسعد مدنی نے کہا کہ غیر ملکی کی موجودگی کی حمایت نہیں، مگر پہلے کسی شخص کا غیر ملکی ہونا ثابت کیا جائے ؛ محض الزام کی بنیاد پر مسلمانوں کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ 29/جولائی 1999ئ کو سپریم کورٹ نے آسام کے 3 لاکھ 17 ہزار ووٹروں سے متعلق جمعیت کی رٹ کو ستمبر کے دوسرے ہفتے میں آخری بحث کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا۔ 10/اگست 1999ئ کو مولانا مدنی نے آسام کے وزیر اعلیٰ کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ 13،14/اکتوبر اور یکم دسمبر 1999ئ کی مجلس عاملہ میں IMDT Act کے خاتمے کی کوششوں کے مضمرات پر دوبارہ غور کیا گیا۔
13/مئی 2000ئ کے جمعیت کے 26/ویں اجلاس عام میں IMDT Act برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 8/جولائی 2000ئ کو مولانا محمود مدنی کی نگرانی میں ایک وفد نے دہلی میں بنگلہ زبان بولنے والے ان افراد کی صورت حال کا جائزہ لیا، جنھیں بنگلہ دیشی قرار دے کر حراست میں رکھا گیا تھا، اور مطالبہ کیا کہ IMDT Act کی طرح ایسا قانونی تحفظ پورے ملک میں فراہم کیا جائے۔ یکم مئی 2002ئ کو بھی جمعیت نے اپنے اسی موقف کا اعادہ کیا۔ 6/اپریل 2005ئ کو آسام میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کے خلاف رائے عامہ بیدار کرنے کی مہم کا فیصلہ ہوا اور 28/جون 2005ئ کو ووٹر لسٹ سے مسلمانوں کے ناموں کے اخراج کی اصلاح کے لیے تربیتی کیمپ لگانے اور 3 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی۔
30/اکتوبر 2008ئ کو گوہاٹی، کوکرا جھار، بارپیٹا روڈ اور بونگائی گا¶ں میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے ، جن میں سرکاری اعداد کے مطابق 89/افراد ہلاک اور 477/زخمی ہوئے۔ یکم نومبر 2008ئ کو جمعیت نے دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے انصاف، غیر جانب داری اور شفاف کارروائی کو امن و شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا۔
2011ئ میں آسام میں 1951ئ کے NRC کو اپ ڈیٹ کرنے کا مسئلہ دوبارہ نمایاں ہوا۔ 2010ئ میں کامروپ اور بارپیٹا کے دو علاقوں میں پائلٹ منصوبہ شروع ہوا، مگر رک گیا؛ جولائی 2011ئ میں آسام حکومت نے طریقہ¿ کار آسان بنانے کے لیے کابینہ کی ذیلی کمیٹی بنائی، جس نے مارچ 2012ئ میں رپورٹ پیش کی، اور 2013ئ میں NRC کی تجدید کا باضابطہ عمل شروع ہونے کی راہ ہموار ہوئی۔ 6،7/مارچ 2011ئ کی مجلس منتظمہ نے شہریوں کو D ووٹر قرار دینے ، شہریت کے ثبوت کے نام پر ہراساں کرنے اور غیر ملکی ہونے کے شبہ کے نوٹس دینے پر تشویش ظاہر کی۔
18،19/مئی 2012ئ کی مجلس منتظمہ نے واضح کیا کہ جمعیت کسی غیر ملکی کو ہندستانی شہری بنانے کے حق میں نہیں، لیکن کسی ہندستانی شہری کو زبان یا مذہب کی بنیاد پر شہریت اور ووٹ کے حق سے محروم کرنا بھی ناقابلِ قبول ہے۔ اس اجلاس نے D ووٹروں کے مسئلے ، پولیس کو شہریت کے فیصلے کا عملی اختیار دینے ، 24/مارچ 1971ئ کی حد کو تبدیل کرکے 1951ئ کرنے کی کوششوں اور شہریوں کے دستوری حقوق کے تحفظ پر تفصیلی مطالبات پیش کیے۔ اسی موقع پر دریا بردگی، بے گھر ہونے والے لوگوں، زمین کے پٹوں، برہم پتر کے پشتوں اور دھوبری میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے کیمپس سمیت متعدد مسائل اٹھائے گئے۔
19/جولائی 2012ئ کو کوکرا جھار میں مسلم طلبہ تنظیموں کے دو رہنما¶ں پر حملہ ہوا اور 20/جولائی 2012ئ کو چار سابق بوڈو عسکریت پسندوں کے قتل کے بعد کوکرا جھار، چِراںگ، باکسا اور دھوبری میں بڑے پیمانے پر تشدد پھیل گیا۔ ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے اور چار لاکھ سے زائد افراد نے ریلیف کیمپوں میں پناہ لی۔ 8/اگست تک سرکاری اعداد کے مطابق 77 افراد ہلاک، 50 زخمی، 7 لاپتہ اور 5,367 مکانات جل چکے تھے۔ 24/جولائی 2012ئ کو جمعیت نے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کو خط لکھ کر بوڈو حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی، متاثرین کے تحفظ اور بازآبادکاری کا مطالبہ کیا۔
آسام میں 2012ئ کے فسادات اور سیلاب کے بعد جمعیت علمائے ہند نے ریلیف، بازآبادکاری، قانونی امداد اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے وسیع سرگرمیاں شروع کیں۔ 29/ستمبر 2012ئ کو جاری بیان کے مطابق اٹھارہ اضلاع میں سیلاب سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ،جب کہ جولائی کے فسادات سے بے گھر پانچ لاکھ افراد کی بازآبادکاری بھی جاری تھی؛ 24/ستمبر 2012ئ کو مولانا حفیظ الرحمان قاسمی اور مولانا محسن اعظم قاسمی پر مشتمل مرکزی وفد آسام پہنچا۔ 16/اکتوبر 2012ئ کو مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری کی قیادت میں وفد نے قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین وجاہت حبیب اللہ سے ملاقات کرکے مسئلہ آسام، بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری، معاوضہ، انسدادِ فرقہ وارانہ تشدد قانون، ریزرویشن اور اوقافی املاک کے تحفظ کے مطالبات پیش کیے۔ 17/اکتوبر 2012ئ کو جمعیت کے لیگل سیل کی کوشش سے گوہاٹی ہائی کورٹ نے فسادات کے الزام میں گرفتار چھ مسلم نوجوانوں کی ضمانت منظور کرکے رہائی کا حکم دیا، جب کہ 20/اکتوبر 2012ئ کو بلاسی پارہ پبلک ہائی اسکول کیمپ میں پولیس زیادتی کی مذمت کی گئی۔ 16/نومبر 2012ئ کو جمعیت نے آسام میں تازہ فرقہ وارانہ تشدد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے شہری مسئلے کے منصفانہ حل کو امن کی بنیادی شرط قرار دیا۔ 28/نومبر 2012ئ کو جمعیت نے سرکاری طور پر پناہ گزینوں کی گھر واپسی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ بہت سے متاثرین محض ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ منتقل ہوئے ہیں، بعض علاقوں میں خوراک، پانی، بجلی اور تحفظ کا فقدان ہے اور واپس جانے والوں کو سماجی و معاشی بائیکاٹ کا سامنا ہے۔ اس دوران جمعیت نے مکانات، کمبل، مکاتب، قربانی، طبی امداد اور قانونی کارروائی کا وسیع انتظام کیا اور تقریباً بیس ہزار ایف آئی آر درج کرانے میں مدد دی۔ 12/دسمبر 2012ئ کی مجلس عاملہ میں آسام کی رپورٹ پیش ہوئی، جس کے مطابق ریلیف کے لیے نقد و اشیا سمیت تقریباً نو کروڑ روپے پہنچ چکے تھے ، 23 ہزار مالی نقصانات کے مقدمات موجود تھے اور بازآبادکاری کے لیے مکانات کی منصوبہ بندی کی گئی۔
14/اپریل 2013ئ کی چشم دید رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2012ئ کے حملوں سے تباہ ہونے والے مسلم دیہات کے متعدد خاندان اب بھی خوف، بے گھری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں؛ جمعیت نے مدنی نگر اور احمد علی نگر کالونیوں، مساجد و مدارس کی مرمت، پانی کے نلوں، مکانات اور تعلیم کے منصوبے شروع کیے ، جب کہ7/مارچ 2013ئ کو مولانا محمود مدنی نے کھوٹاماری، کوکراجھار میں مدرسے کی بنیاد رکھی اور متاثرین کے سو یتیم بچوں کو گود لینے کا فیصلہ کیا۔ 13/مئی 2013ئ کو لکھی گنج، دھوبری میں 110/مسلم جوڑوں سمیت بوڈو، آدی واسی اور برمن برادریوں کے جوڑوں کی اجتماعی شادی کرائی گئی اور انھیں گھریلو سامان و رہائش فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا۔ 6/جولائی 2013ئ کو لکھی گنج میں ریلیف و بازآبادکاری کے کام سے واپس آنے والی جمعیت کی ٹیم کے ساتھ پولیس نے مبینہ مارپیٹ کی، دستاویزات اور موبائل چھین لیے اور گرفتاری کی دھمکی دی، جس پر جمعیت نے قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ 10/جولائی 2013ئ تک جمعیت نے تین مقامات پر کالونیوں کے لیے زمین خریدی، ہزاروں خاندانوں میں خوراک، کپڑے ، کمبل، خیمے اور دیگر ضروری سامان تقسیم کیا، تقریباً 50 ہزار افراد کا علاج کیا، مکاتب و مدارس قائم کیے ، چار زونوں میں لیگل سیل قائم کیے ، دو کالونیاں مکمل کیں اور مزید 500 مکانات، مساجد و مدارس کی تعمیر و مرمت شروع کی؛ طویل مدتی منصوبے میں کم از کم 5000 مکانات، 2000 مکانات کی مرمت، 1000 پانی کی نلیں، 500 کنویں اور 250 بیت الخلا بنانے کا ہدف رکھا گیا۔ 25/نومبر 2013ئ تک 500 مکانات میں سے 188 مکانات متاثرین کے حوالے کیے گئے ، جب کہ 47 مساجد اور پانچ مدارس کی تعمیر نو بھی کرائی گئی۔
4/مئی 2014ئ کو مولانا محمود مدنی نے آسام کے وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی سے ملاقات کرکے بوڈو ایریا کی علاقائی کونسل کی معطلی، ذمہ دار عناصر کی گرفتاری، ناجائز اسلحہ ضبط کرنے ، متاثرین کو مناسب معاوضہ اور فوری بازآبادکاری کے مطالبات کیے ، جب کہ 9/مئی 2014ئ کو متاثرین کو ان کے سابقہ علاقوں میں محفوظ طریقے سے دوبارہ بسانے پر زور دیا گیا۔ 24/مئی 2014ئ کی مجلس عاملہ نے بنگلہ زبان بولنے والے مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرنے کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا کہ شہریت کا فیصلہ پولیس نہیں؛ بلکہ عدالت کرے ؛ 1985ئ کے آسام معاہدے کے مطابق 25/مارچ 1971ئ تک آنے والوں کے شہری حقوق برقرار رکھنے ، NRC کے حصول کو آسان بنانے ، ڈی ووٹرز اور فارنرز سے متعلق مقدمات جلد نمٹانے ، شہریت کے ثبوت کا غیر منصفانہ بوجھ شہریوں پر نہ ڈالنے ، دریائے برہم پتر کے کٹا¶ سے متاثرین کو زمین کے پٹے دینے اور سیلابی علاقوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ اسی عرصے میں 1 تا 3/مئی 2014ئ کو باکسا اور کوکراجھار کے BTAD علاقوں میں مسلح حملوں میں بنگالی النسل مسلمانوں کے قتل، مکانات کی تباہی اور بڑے پیمانے پر بے گھری کے واقعات ہوئے ؛ 25،26/مئی 2014ئ کی مجلس منتظمہ نے 1993ئ سے جاری BTAD تشدد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے غیر بوڈو اکثریتی علاقوں کو BTAD سے الگ کرنے ، ناجائز اسلحہ ضبط کرنے ، مجرموں کو سزا دینے ، مقتولین کو دس لاکھ اور زخمیوں کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ دینے اور بے گھر افراد کی محفوظ واپسی کا مطالبہ کیا۔
5/مارچ 2015ئ کو کریم گنج کے سید فرید خان کو دِماپور، ناگالینڈ میں ہجوم نے جیل سے نکال کر تشدد کرکے قتل کردیا، جس پر 8/مارچ 2015ئ کو جمعیت نے سخت مذمت کرتے ہوئے مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ 16/مئی 2015ئ کے بتیسویں اجلاس عام میں مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری نے جولائی 2012ئ کے بوڈو حملوں کو غیر بوڈو آبادی کو علاقے سے نکالنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ محض ریلیف اور بازآبادکاری کافی نہیں، بلکہ بوڈو مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنا اور بنیادی حالات درست کرنا ضروری ہے ؛ اسی اجلاس نے آسام میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں جاری NRC کی مشکلات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے 16/جولائی 2013ئ کے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 1951ئ کی NRC اور 24/مارچ 1971ئ کی نصف شب تک کے انتخابی ریکارڈ عوام کو فراہم کرنے ، پرانی ووٹر فہرستوں کی عدم دستیابی اور ریکارڈ کی غلطیوں کو دور کرنے ، 1966ئ تا 1971ئ کے دستاویزات رکھنے والوں اور 25/مارچ 1971ئ کے بعد پیدا ہونے یا دوسری ریاستوں سے آسام منتقل ہونے والوں کی شہریت کی قانونی حیثیت واضح کرنے اور NRC کا عمل جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔
13/ستمبر2015ئ کو جاری پریس بیان کے مطابق مولانا حکیم الدین قاسمی، سکریٹری جمعیت علمائے ہند، نے آسام کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ جمعیت علمائے آسام، اجمل فا¶نڈیشن اور مرکز المعارف باہمی تعاون سے متاثرین کی راحت رسانی میں مصروف تھے۔ جمعیت کے وفد میں مولانا بدرالدین اجمل، حافظ بشیر احمد، مولانا محبوب حسن، مفتی محمد یحییٰ، مولانا عبدالمجید، مولانا سلیمان، حاجی عبدالخالق، مولانا ہاشم اور عبد الکریم وغیرہ شامل تھے۔ شدید سیلاب سے آسام کے 30 اضلاع میں سے 18 اضلاع متاثر ہوئے ، 1,814 گا¶ں تباہ ہوئے اور تقریباً 8 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ سڑکیں، پل، مکانات اور فصلیں بھی شدید متاثر ہوئیں۔ جمعیت نے بجنی کے مناکشا میں احمد علی نگر کالونی کے 107 خاندانوں سمیت مدرسہ گرائی ماری کوکری پارک کے 140، ناتھن گوری کے 105، مناکشا کے 52 اور بالاچر کے 48 خاندانوں کو رہائش، کھانے پینے اور ضروری اشیا فراہم کیں۔ سرکاری امداد کی صورت حال یہ تھی کہ ایک خاندان کو 15 دن میں صرف 3 کلو چاول ملے ، جس کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند، اجمل فا¶نڈیشن اور مرکز المعارف نے امدادی سرگرمیاں تیز کردیں۔ اسی دوران مولانا حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں وفد نے کوکراجھار جیل کا بھی دورہ کیا، جہاں بنگلہ دیشی اور برما کے نام پر 121 عورتیں اور بچے اور دیگر جیلوں میں مرد قید تھے۔
18/ستمبر2015ئ کو جمعیت علمائے ہند نے گجرات، مغربی بنگال، آسام اور منی پور کے سیلاب متاثرین کے لیے مجموعی طور پر 54 لاکھ روپے کی امدادی رقم جاری کی، جس میں گجرات کے بناس کانٹھا و پٹن کے لیے 20 لاکھ، مغربی بنگال اور آسام کے لیے 10،10 لاکھ اور منی پور کے لیے 5 لاکھ روپے شامل تھے۔
27/جولائی2016ئ کو جمعیت کے لیگل سیل کی کوششوں سے آسام کے 2012ئ کے بوڈو فساد میں ماخوذ 34/مسلم نوجوانوں کو گوہاٹی ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی۔ ان پر قتل، لوٹ مار، آتش زنی اور ملک کے خلاف جنگ جیسے مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ ایک ملزم اسامہ علی دوران حراست وفات پاچکا تھا، جب کہ باقی افراد کو عدالت نے 20/ہزار روپے کے مچلکے پر ضمانت دیتے ہوئے قرار دیا کہ مزید قید رکھنے کی کافی وجہ موجود نہیں۔
13/نومبر2016ئ کو منعقدہ تینتیسویں اجلاس عام میں آسام میں مذہبی و لسانی اقلیتوں کو غیر ملکی قرار دے کر ہراساں کیے جانے کے مسئلے پر اہم تجویز منظور ہوئی۔ جمعیت نے واضح کیا کہ کسی حقیقی غیر ملکی کے ساتھ اسے کوئی ہمدردی نہیں؛ لیکن کسی ہندستانی شہری کو بنگلہ دیشی یا غیر ملکی قرار دے کر پریشان کرنا بھی ناقابل قبول ہے۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ کسی شخص کو غیر ملکی قرار دے کر عدالت بھیجنے سے پہلے مقامی سطح پر مختلف سیاسی جماعتوں، مذاہب اور قبائل کے نمائندوں پر مشتمل ناگرک کمیٹیاں اس کے دستاویزات کی جانچ کریں۔ ساتھ ہی اب تک بے دخل کیے گئے لوگوں کو معاوضہ، سرکاری زمین پر 20،25 سال سے آباد لوگوں کو قانونی پٹہ اور بے سہارا افراد کو بے دخل کرنے سے پہلے متبادل زمین فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ حافظ بشیر احمد نے تجویز پیش کی اور مولانا محمود اسعد مدنی نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت غیر ملکیوں کی قانونی شناخت کے خلاف نہیں؛ اصل مطالبہ یہ ہے کہ کسی ہندستانی شہری کو غیر ملکی بنا کر ذلیل نہ کیا جائے اور حکومت اگر واقعی مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو جمعیت تعاون کے لیے تیار ہے۔
2017ئ میں NRC کی تجدید کے ساتھ آسام کے باشندوں کے حق شہریت کا مسئلہ مزید اہم ہوگیا۔ 6/اپریل2017ئ کی مجلس عاملہ میں حافظ بشیر احمد نے آسام کے شہریت مقدمات کی تفصیلات پیش کیں، جس پر مجلس نے فیصلہ کیا کہ قانونی مقدمات کی پیروی میں کوئی کسر نہ رکھی جائے گی اور ان کے اخراجات میں جمعیت علمائے ہند ہر ممکن تعاون کرے گی۔ 2/مئی2017ئ کو مفتی کفایت اللہ ہال، نئی دہلی میں آسام کے حق شہریت کے مسئلے پر اہم پریس کانفرنس ہوئی، جس میں مولانا محمود مدنی، مولانا بدرالدین اجمل، ایڈووکیٹ نیاز احمد فاروقی، مولانا حکیم الدین قاسمی، ایڈووکیٹ مظہر بھوٹیا، ایڈووکیٹ امین الاسلام اور ایڈووکیٹ قاسم نے شرکت کی۔ مولانا محمود مدنی نے مطالبہ کیا کہ آسام ایکورڈ 1985ئ کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے شہریت کا فیصلہ کیا جائے اور مذہب کو شہریت کی بنیاد بنانے کی مخالفت کی۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی غیر ملکی غیر قانونی طور پر مقیم ہے تو اسے قانون کے مطابق نکالا جائے ، لیکن کسی حقیقی ہندستانی شہری کو بلا وجہ پریشان نہ کیا جائے۔
جمعیت نے سپریم کورٹ میں آسام ایکورڈ کے دفاع میں اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوئے 25/مارچ1971ئ کو شہریت کی بنیاد تسلیم کرنے کی وکالت کی۔ یکم مئی2017ئ کو جمعیت کی سینئر وکلا ٹیم نے سپریم کورٹ میں تحریری جواب اور متعلقہ دستاویزات داخل کیے۔ آسام کے شہریت مسئلے کی تاریخی سنگینی بیان کرتے ہوئے جمعیت نے 1978ئ تا 1985ئ کی تحریک، 1983ئ کی نیلی نسل کشی اور 1985ئ کے آسام ایکورڈ کا حوالہ دیا، جس کے تحت 25/مارچ1971ئ کو Cut-off date تسلیم کیا گیا تھا۔ بعد ازاں Citizenship Act 1955ئ میں Section 6-A شامل کیا گیا۔ لیکن 2009ئ اور 2012ئ میں بعض تنظیموں کی جانب سے سپریم کورٹ میں مقدمات دائر کرکے 1971ئ کے بجائے 1951ئ کو بنیاد بنانے اور آسام ایکورڈ و Section 6-A کو چیلنج کیا گیا۔ جمعیت نے ان کوششوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور آسام ایکورڈ کے دفاع میں مقدمہ لڑنے والی اہم تنظیموں میں شامل رہی۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ کے سامنے جمعیت نے یکم مئی2017ئ کو 31/ سوالات کے جوابات داخل کیے ،جب کہ حتمی سماعت 8/مئی2017ئ سے شروع ہونے والی تھی۔
اسی دوران 28/فروری2017ئ کے گوہاٹی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف بھی جمعیت نے سپریم کورٹ میں اپیل کی، جس میں پنچایت سکریٹری کے جاری کردہ سرٹیفکیٹ کو شہریت کے ثبوت کے طور پر تسلیم کرنے پر سوال اٹھایا گیا تھا۔ 4/مئی2017ئ کو سپریم کورٹ نے NRC کوآرڈینیٹر سے جواب طلب کیا۔ جمعیت کو خدشہ تھا کہ اس فیصلے سے تقریباً 48 لاکھ افراد، خصوصاً خواتین، کی شہریت متاثر ہوسکتی ہے۔
28/اکتوبر2017ئ کی مجلس منتظمہ نے آسام کے شہریوں کو غیر ملکی قرار دے کر ہراساں کیے جانے کے خلاف سابقہ موقف دہراتے ہوئے کہا کہ معمولی دستاویزی غلطیوں، مثلاً نام کی املا یا عمر کے فرق، کو بنیاد بناکر حقیقی شہریوں کو غیر ملکی قرار دینا ناانصافی ہے۔ اجلاس نے 25/مارچ1971ئ کو بنیاد بناکر NRC تیار کرنے ، تمام حقیقی شہریوں کو غیر جانب دارانہ جانچ کے بعد NRC میں شامل کرنے اور مکمل NRC ایک ساتھ شائع کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس نے غیر ملکی قرار دے کر جیلوں میں بند افراد کے کاغذات دوبارہ جانچنے اور حقیقی شہریوں کو رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اجلاس نے متاثرہ عوام سے اشتعال سے بچنے اور دستور و عدلیہ سے انصاف کی امید رکھنے کی اپیل کی۔
29/نومبر2017ئ کو آسام میں NRC کے اندر Originally Inhabitant اور غیر اصلی مقیم شہری کی الگ الگ درجہ بندی کے خلاف جمعیت علمائے ہند کی پٹیشن پر سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ہوئی اور فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔ اس سے قبل 12/اکتوبر2017ئ کو NRC کوآرڈینیٹر پرتیک ہزیلا نے حلف نامے میں بتایا تھا کہ 48 لاکھ پنچایت سرٹیفکیٹ جمع کرانے والوں میں تقریباً 17 لاکھ 40 ہزار کو Originally Inhabitant قرار دیا گیا ہے ، جب کہ باقی کی جانچ جاری ہے۔ جمعیت نے اس درجہ بندی کو غیر ضروری اور لاکھوں لوگوں کے حق شہریت کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا۔ عدالت نے بھی سوال اٹھایا کہ جب کوئی شخص دستاویزات سے اپنی شہریت ثابت کردے تو اسے اصلی یا غیر اصلی شہری میں تقسیم کرنے کی ضرورت کیا ہے۔ جمعیت کی طرف سے سینئر وکلا بی ایچ مارلاپلے ، راجو رام چندرن، اعجاز مقبول، شکیل احمد اور دیگر نے بحث میں حصہ لیا۔
اسی سلسلے میں 30/نومبر2017ئ کو سپریم کورٹ نے مرکزی و آسام حکومت کی NRC مکمل کرنے کی مقررہ تاریخ 31/دسمبر2017ئ سے بڑھا کر 31/جولائی2018ئ کرنے کی درخواست مسترد کردی اور بار بار مدت بڑھانے پر حکومتوں کو سرزنش کی۔ عدالت نے کہا کہ گزشتہ تین برس سے NRC کی تیاری جاری ہے اور متعدد مرتبہ تاریخیں تبدیل کی جاچکی ہیں۔ اس طرح آسام میں جمعیت علمائے ہند کی جدوجہد محض ریلیف اور فساد متاثرین کی بازآبادکاری تک محدود نہیں رہی؛ بلکہ 2012ئ سے 2017ئ تک اس نے امداد، مکانات، تعلیم، قانونی دفاع، متاثرین کے حقوق، فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف آواز اور سب سے بڑھ کر آسام کے حقیقی باشندوں کے آئینی و شہری حقوق کے تحفظ کو اپنی مسلسل جدوجہد کا اہم حصہ بنائے رکھا۔
12/جون2018ئ کو مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری کی قیادت میں جمعیت کے وفد نے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوال اور ہوم سکریٹری سے ملاقات کی۔ وفد نے ڈی ووٹرز اور ڈکلیئرڈ فارنرس کے رشتہ داروں کی دوبارہ جانچ، پنچایت لنک سرٹیفیکٹ، پرائیویٹ اسکول سرٹیفیکٹ اور ووٹر لسٹ کی مصدقہ نقول کو مسترد کیے جانے سمیت مختلف مسائل اٹھائے اور 22 نکات پر مشتمل یادداشت پیش کی۔ جمعیت نے خبردار کیا کہ اگر ڈی ووٹرز اور ڈکلیئرڈ فارنرس کے رشتہ داروں کو بھی محض رشتہ داری کی بنیاد پر مشکوک قرار دیا گیا، تو متاثرین کی تعداد بہت بڑھ سکتی ہے۔ 30/ جون2018ئ کی مجلس عاملہ میں ضرورت پڑنے پر شہریت کے مقدمات پوری قوت سے لڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔
30/جولائی2018ئ کو این آر سی کا مکمل مسودہ جاری ہوا، جس میں 40/لاکھ سے زائد افراد کے نام شامل نہیں تھے۔ جمعیت نے اسے انسانی اور سماجی اعتبار سے سنگین مسئلہ قرار دیا اور اعلان کیا کہ آسام کے لوگوں کے حق کے لیے قانونی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ جمعیت علمائے صوبہ آسام نے تقریباً 5100 وکلا اور دانش وروں کو مختلف اضلاع میں لوگوں کی مدد کے لیے متحرک کیا۔ 19/ستمبر2018ئ کو سپریم کورٹ میں ان 40 لاکھ افراد کے دعووں اور شہریت ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ دستاویزات کے طریقہ¿ کار پر سماعت ہوئی، جسے جمعیت نے امید افزا قرار دیا۔29/اکتوبر2018ئ کو جمعیت علمائے صوبہ آسام نے سپریم کورٹ کی اجازت سے حلف نامہ داخل کرکے ان پانچ دستاویزات کی حیثیت بحال رکھنے کی وکالت کی، جنھیں این آر سی کوآرڈی نیٹر خارج کرنا چاہتے تھے۔ یکم نومبر2018ئ کو سپریم کورٹ نے یہ سفارش مسترد کرتے ہوئے 1971ئ سے قبل کے راشن کارڈ، ریفیوجی رجسٹریشن سرٹیفیکٹ، 1951ئ کا این آر سی اور 1966ئ و1971ئ کی ووٹر لسٹ سمیت پانچ دستاویزات کو دوبارہ قابل قبول قرار دیا۔
24/جنوری2019ئ کو سپریم کورٹ نے این آر سی کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے دعووں اور اعتراضات میں تمام افراد کو منصفانہ موقع دینے اور غیر ضروری پریشانی سے بچانے کی ہدایت کی۔ این آر سی کوآرڈی نیٹر کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 36 لاکھ 20 ہزار افراد نے دعوے داخل کیے ، تقریباً 2 لاکھ افراد کے نام ہولڈ پر تھے اور تقریباً 2 لاکھ 10 ہزار اعتراضات داخل ہوئے۔ عدالت نے اعتراضات کے ذرائع کی تحقیق، ویری فکیشن عملے میں تبدیلی اور مکمل این آر سی کے لیے 31/جولائی2019ئ کی تاریخ مقرر کی۔ جمعیت نے امید ظاہر کی کہ حقیقی ہندستانیوں کو انصاف ملے گا۔
18/جولائی2019ئ کو مولانا محمود مدنی نے آسام اور بہار کے شدید سیلاب پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ابتدائی طور پر 50 لاکھ روپے کا امدادی فنڈ جاری کیا۔ آسام کے 30 اضلاع میں 50 لاکھ سے زائد افراد متاثر، تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر سے زیادہ فصلیں تباہ اور 82 افراد جاں بحق ہوچکے تھے۔ 31/اگست2019ئ کو این آر سی کی حتمی فہرست جاری ہوئی، جس میں 19 لاکھ سے زائد افراد کے نام شامل نہ ہوسکے۔
12/ستمبر2019ئ کی مجلس منتظمہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ این آر سی کا پس منظر 1985ئ کے آسام معاہدے سے جڑا ہوا ہے اور 2013ئ میں سپریم کورٹ میں دائر مفاد عامہ کی درخواستوں کے بعد یہ عمل عدالتی نگرانی میں آگے بڑھا۔ انھوں نے واضح کیا کہ جن حقیقی شہریوں کے نام فہرست میں شامل نہ ہوسکے ، جمعیت ان کی قانونی مدد جاری رکھے گی۔ مجلس منتظمہ نے بھی حتمی این آر سی کی اشاعت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان افراد کو قانونی امداد فراہم کرنے کا عزم کیا جن کے نام کسی وجہ سے شامل نہ ہوسکے۔
اسی عرصے میں قومی سطح پر این آر سی کے نفاذ کے بیانات سے پیدا ہونے والی تشویش کے پیش نظر جمعیت نے عوام سے ووٹر لسٹ، آدھار، پاسپورٹ، بینک کھاتوں اور راشن کارڈ وغیرہ میں اپنے اور والدین کے نام درست رکھنے کی اپیل کی۔ یکم ستمبر تا 15/اکتوبر2019ئ ووٹر لسٹ میں ناموں کے اندراج و تصحیح کے لیے بیداری مہم چلانے ، ائمہ مساجد، متولیان اور نوجوانوں کو ورکشاپس منعقد کرنے کی ترغیب دی گئی۔
21/ستمبر2019ئ کو مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری کی قیادت میں ایک وفد نے وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کرکے آسام کے این آر سی اور ملک گیر نفاذ سے متعلق خدشات پر گفتگو کی۔ یکم اکتوبر2019ئ کو وزیر داخلہ امت شاہ نے کولکاتا میں این آر سی کو قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیا، 7/اکتوبر2019ئ کو اسے بہتر حکمرانی سے جوڑا، 10/اکتوبر2019ئ کو غیر قانونی مقیم افراد کی شناخت اور اخراج کی بات کی، 14/اکتوبر2019ئ کو پورے ملک میں این آر سی نافذ کرنے کا اعلان کیا اور 15/اکتوبر2019ئ کو بھی مناسب وقت پر ملک گیر نفاذ کا اعادہ کیا۔ 6/اکتوبر2019ئ کو مولانا محمود مدنی نے ان بیانات میں مذہبی امتیاز کے خدشے کو دستور ہند کی دفعات 14 اور 15 کے تناظر میں اٹھایا اور واضح کیا کہ دراندازی اور پناہ گزینی الگ مسائل ہیں اور کسی مظلوم کو محض مذہبی شناخت کی بنیاد پر امتیاز کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
آسام میں این آر سی کے بعد بے دخلی اور انسانی حقوق کا مسئلہ مزید نمایاں ہوا۔ ستمبر 2021ئ میں درانگ ضلع کے دھال پور میں سرکاری زمین سے مبینہ تجاوزات ہٹانے کی مہم کے دوران 20/ستمبر کو تقریباً 800 خاندان بے گھر ہوئے۔ 23/ستمبر کو بے دخلی کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس اور مقامی باشندوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، پولیس فائرنگ سے دو شہری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ 24/ستمبر2021ئ کو جمعیت علمائے ہند نے پولیس کارروائی، گھروں کی مسماری اور احتجاج کرنے والے شہریوں پر تشدد کی سخت مذمت کی۔ مولانا محمود مدنی نے وزیر اعلیٰ آسام، وزیر داخلہ، قومی اقلیتی کمیشن اور انسانی حقوق کے متعلقہ اداروں کو خطوط لکھ کر اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات، ملوث پولیس اہل کاروں کے خلاف کارروائی، جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو معاوضہ اور بے دخل خاندانوں کی بازآبادکاری کا مطالبہ کیا۔
27/ستمبر2021ئ کو جمعیت علمائے ہند اور جماعت اسلامی ہند کے مشترکہ وفد نے وزیر اعلیٰ ہیمنت کمار بسوا شرما سے گوہاٹی میں ملاقات کرکے دھال پور واقعہ پر احتجاج کیا اور اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات، جاں بحق افراد کے لیے 20 لاکھ اور زخمیوں کے لیے 10 لاکھ روپے معاوضہ، متاثرین کے لیے دوا، پانی و خوراک اور حکومت کی طرف سے وعدہ کردہ 6 بیگھہ زرعی و 1 بیگھہ رہائشی زمین جلد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ 28/ستمبر2021ئ کو وفد نے دھال پور کا دورہ کرکے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔ مقتول معین الحق کے اہل خانہ اور 14 سالہ شیخ فرید کے والدین کو جمعیت علمائے آسام اور اجمل فا¶نڈیشن کی جانب سے 2،2 لاکھ روپے دیے گئے۔ 900 خاندانوں میں غذائی کٹس تقسیم کی گئیں، جن میں چاول، دال، شکر، تیل، نمک، مصالحہ اور بچوں کے لیے بسکٹ شامل تھے ؛ 200 ٹیوب ویل اور 900 ٹینٹ بھی تقسیم کیے گئے ، جب کہ جماعت اسلامی ہند نے طبی کیمپ قائم کیا۔
12/فروری2023ئ کے چونتیسویں اجلاس عام کے صدارتی خطبے میں مولانا محمود اسعد مدنی نے آسام میں جبری بے دخلی پر شدید تشویش ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ہزاروں افراد کو سرکاری اراضی خالی کرانے کے نام پر ان کے گھروں اور دکانوں سے بے دخل کیا جارہا ہے ، پولیس و نیم فوجی دستوں کی موجودگی میں بلڈوزروں سے مکانات مسمار کیے گئے اور بے دخل افراد بھوک، بیماری، سردی اور غیر صحت مند حالات سے دوچار ہیں۔ انھوں نے دھال پور کے اس واقعے کو بھی ذکر کیا، جس میں ایک شہری کو پولیس فائرنگ کا نشانہ بنائے جانے کے بعد اس کے جسم کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیو سامنے آئی تھی۔
اسی چونتیسویں اجلاس عام میں آسام میں جبری انخلا کے سرکاری رویے کے خلاف قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ قدرتی آفات، غربت یا دیگر حالات سے بے گھر ہونے والے لوگوں کو حکومتی زمین خالی کرانے سے پہلے متبادل رہائش فراہم کرنا ضروری ہے۔ اجلاس نے بالخصوص مسلمانوں کے انخلا اور بنیادی حقوق کی پامالی پر تشویش ظاہر کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ بے گھر خاندانوں کی فوری بازآبادکاری کا انتظام کیا جائے۔ اسی قرارداد میں کم سنی کی شادی کے نام پر ہزاروں گرفتاریوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ گرفتاری کو واحد حل بنانے کے بجائے غربت، جہالت اور سماجی پسماندگی جیسی بنیادی وجوہ کے خاتمے کے لیے م¶ثر لائحہ¿ عمل اختیار کیا جائے اور گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔
آسام میں زمین، شہریت، بے دخلی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے جمعیت علمائے ہند کی جدوجہد 2024ئ اور 2025ئ میں بھی مسلسل جاری رہی۔ 2024ئ میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کی حکومت نے سرکاری، جنگلاتی اور قبائلی زمینوں سے تجاوزات ہٹانے کی مہم تیز کردی، جس سے مختلف اضلاع میں ہزاروں خاندان متاثر ہوئے۔ سوناپور کے کچھوٹولی میں 12/ستمبر2024ئ کو قبائلی زمین سے بے دخلی کے دوران پولیس اور مقامی باشندوں میں تصادم ہوا، جس میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ حکومت نے اسے سرکاری و محفوظ زمین واگزار کرانے کی کارروائی قرار دیا، جب کہ مخالفین نے بڑی تعداد میں بنگالی نژاد مسلمانوں کے متاثر ہونے اور مناسب بازآبادکاری نہ کیے جانے پر اعتراض کیا۔
ان حالات کے پیش نظر مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کے 5-4/جولائی2024ئ کے اجلاس میں آسام لینڈ پالیسی 2019ئ کے تحت مذہبی و لسانی اقلیتوں کی بے دخلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئینی مساوات کے منافی قرار دیا گیا اور مرکزی و ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ آسامی باشندوں کے درمیان مساوات کے اصول کو برقرار رکھتے ہوئے اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کو ان کے واجبی حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔ اسی تجویز میں این آر سی آسام کو حتمی شکل دیے جانے کے باوجود اس کی عدم اشاعت پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور مرکزی حکومت اور رجسٹرار جنرل آف انڈیا سے این آر سی کی اشاعت کے لیے لازمی نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
27/اگست2024ئ کو گوہاٹی میں آسام اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے ’’میاں مسلمانوں‘‘ کے بارے میں سخت اور اشتعال انگیز بیان دیا۔ اس کے جواب میں 31/اگست2024ئ کو صدر جمعیت علمائے ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان بیانات کو آئینی اصولوں سے انحراف قرار دیا۔ انھوں نے چیف جسٹس آف انڈیا، وزیر داخلہ اور بی جے پی کے قومی صدر کو خطوط لکھ کر وزیر اعلیٰ کے متعدد غیر آئینی اور اشتعال انگیز بیانات کی نشاندہی کی اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے چیف جسٹس آف انڈیا سے ازخود کارروائی کی بھی اپیل کی۔ مولانا مدنی نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ کا منصب غیر جانب داری، آئینی ذمہ داری اور ریاست کے تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کا تقاضا کرتا ہے ، لیکن آسام کے وزیر اعلیٰ کے بیانات میں ایک مخصوص لسانی و مذہبی اقلیت کو تحقیر آمیز انداز میں ’’میاں‘‘ کہنا، آسام کے مستقبل میں مسلم اکثریت بننے کے دعوے کرنا اور اختلافِ رائے کو ’’جہاد‘‘ قرار دینا سماجی انتشار اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھانے کے مترادف ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس قول کی بھی یاد دہانی کرائی کہ ’’آئین ہمارے لیے رہنما اصول ہے‘‘ اور مطالبہ کیا کہ آسام حکومت بھی اسی آئینی اصول کی پابندی کرے۔
اسی دوران شہریت کے مسئلے پر جمعیت کی طویل قانونی جدوجہد کو 17/اکتوبر2024ئ کو ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی، جب سپریم کورٹ نے شہریت ایکٹ 1955ئ کی دفعہ 6A کو 4:1 کی اکثریت سے آئینی قرار دیتے ہوئے آسام کے لیے 25/مارچ1971ئ کی حدِ تاریخ کو برقرار رکھا۔ عدالت نے بعد ازاں آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت اور اخراج کے لیے قوانین کے مؤثر نفاذ پر بھی زور دیا۔ اسی روز مولانا محمود اسعد مدنی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے آسام کے لاکھوں لوگوں کے لیے تاریخی راحت اور جمعیت علمائے ہند کی طویل جدوجہد میں سنگِ میل قرار دیا۔ جمعیت علمائے آسام کے صدر مولانا بدرالدین اجمل نے بھی شہریت کے حقوق کے تحفظ میں کردار ادا کرنے والی تنظیموں اور افراد کا شکریہ ادا کیا۔یہ فیصلہ اس قانونی جدوجہد کا نتیجہ تھا جس میں جمعیت علمائے ہند اور جمعیت علمائے آسام گزشتہ تقریباً 15/برس سے سپریم کورٹ میں آسام معاہدے اور 25/مارچ1971ئ کی حدِ تاریخ کے تحفظ کے لیے سرگرم تھیں۔
2025ئ میں آسام میں شہریت اور بے دخلی کا مسئلہ مزید سنگین ہوگیا۔ 21/ جون 2025ئ کو جمعیت علمائے ہند نے وزارت داخلہ، حکومت ہند کو ایک تفصیلی میمورنڈم ارسال کرکے آسام پولیس کی جانب سے بے قصور شہریوں کو غیر ملکی یا غیر قانونی تارکین وطن قرار دے کر اٹھانے ، ہراساں کرنے اور دوبارہ حراست میں لینے کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
اسی سال آسام میں بے دخلی کی مہم نے ایک نئے انسانی بحران کو جنم دیا۔ 12/ جولائی 2025ئ کو گولپاڑہ ضلع کے پائیکان ریزرو فارسٹ میں تقریباً 140 ہیکٹر جنگلاتی زمین پر قائم بستیوں کے خلاف بڑی انہدامی کارروائی کی گئی۔ 15/جولائی2025ئ کو جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے گوالپاڑہ کے آشودوبی اور ہسیلابیل علاقوں کا دورہ کیا، جہاں حکومتی کارروائی میں 3973 مکانات مسمار کیے جانے کی اطلاع تھی اور متاثرین کی اکثریت بنگالی نژاد مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ جمعیت علمائے آسام نے بے گھر افراد کے لیے خیموں کا انتظام کیا۔ وفد نے متاثرین سے ملاقات کرکے ان کے حالات کا جائزہ لیا اور ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔ وفد نے ضلع مجسٹریٹ کے توسط سے وزیر اعلیٰ آسام کے نام یادداشت بھی پیش کی، جس میں انہدامی کارروائی کو غیر انسانی، غیر آئینی اور مذہبی تعصب پر مبنی قرار دیا گیا۔
جمعیت علمائے آسام کے صدر مولانا بدرالدین اجمل اور جنرل سکریٹری حافظ بشیر احمد قاسمی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق گوالپاڑہ، دھوبڑی، نلباری اور دیگر علاقوں میں مجموعی طور پر 8115 خاندان، یعنی 32530 سے زائد افراد، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل تھے ، متاثر ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق نومبر2023ئ سے جولائی2025ئ تک جاری انہدامی کارروائیوں میں 21 مساجد، 44 مکاتب و مدارس اور 9 عیدگاہیں بھی مسمار کی جاچکی تھیں۔ جمعیت علمائے ہند نے متاثرین کے لیے پناہ گاہ اور خوراک کا انتظام کیا، اگرچہ بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے مقابلے میں یہ انتظامات ناکافی تھے۔
24/جولائی2025ئ کو جمعیت علمائے ہند کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کے لیے منعقدہ عشائیہ تقریب میں صدر جمعیت مولانا محمود اسعد مدنی نے آسام کی بے دخلی مہم کو ایک منظم اور منصوبہ بند عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ترقی کے نام پر قانون کے مطابق نقل مکانی بھی ہو تو اس پر غور ضروری ہے ، لیکن کسی مخصوص کمیونٹی کو قانون شکنی کے ذریعے نشانہ بنانا ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ انھوں نے تمام پارٹیوں پر مشتمل آل پارٹی وفد یا ہم خیال جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کا وفد آسام بھیجنے کی تجویز پیش کی، تاکہ زمینی حقائق سامنے آسکیں۔ ارکان پارلیمنٹ نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ ای ٹی بشیر نے مختلف مذاہب کے دانش وروں اور ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل وفد کی ضرورت پر زور دیا، جب کہ مولانا محب اللہ ندوی، کشن گنج کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید، مغربی بنگال کے رکن پارلیمنٹ عیسیٰ خاں چودھری اور نیشنل کانفرنس کے میاں الطاف لاروی نے بھی آسام میں بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں، دلتوں، او بی سی اور دیگر متاثرہ طبقات کے مسائل پر تشویش ظاہر کی اور مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔
آسام میں ہر سال آنے والے سیلاب اور برہمپترا کے دریائی کٹا¶ نے بھی بے دخلی کے مسئلے کو مزید پیچیدہ کردیا۔ 30/مئی2025ئ کو شدید بارشوں کے باعث سیلاب کا پہلا بڑا دور شروع ہوا، جس نے جون کے ابتدائی دنوں میں ریاست کے متعدد اضلاع کو متاثر کیا۔ اس پس منظر میں مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کے 20/اگست2025ئ کے اجلاس نے آسام کے حالات پر تفصیلی تجویز منظور کی۔ تجویز میں کہا گیا کہ 1950ئ سے اب تک دریائی کٹا¶ کے باعث تقریباً 4,27,000 سیکٹر زمین دریا برد ہوچکی ہے ، جس سے ہزاروں خاندان سرکاری یا جنگلاتی زمینوں پر عارضی سکونت اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔ جمعیت نے واضح کیا کہ وہ روز اول سے سرکاری زمین پر ناجائز قبضے کی تائید نہیں کرتی، لیکن موجودہ کارروائیوں میں غیر انسانی سلوک، مذہبی تعصب، سوتیلے رویے اور نفرت انگیز بیانات نے پورے عمل کو انصاف اور انسانی ہمدردی کے دائرے سے خارج کردیا ہے۔ تجویز میں یہ بھی کہا گیا کہ مخلوط آبادی والے علاقوں میں مسلمانوں کو چن چن کر بے دخل کرنا، انھیں کبھی بنگلہ دیشی اور کبھی مشکوک شہری قرار دینا اور بے دخلی کے بعد بے سہارا چھوڑ دینا آئینی اصولوں کے منافی ہے۔ جمعیت نے متاثرہ خاندانوں کی فوری بازآبادکاری، شفاف و غیر جانب دار سروے ، قانونی تقاضوں کی پابندی، نفرت انگیز بیانات پر قدغن اور آئینی اداروں سے وزیر اعلیٰ کے خلاف مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا۔
21/اگست2025ئ کو یہ تجویز اخبارات میں شائع ہوئی، تو وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے جمعیت علمائے ہند اور اس کے صدر کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کیا اور مولانا محمود اسعد مدنی کو بنگلہ دیش بھیجنے کی دھمکی دی۔ آسام میں مولانا مدنی کے خلاف مظاہرے بھی کیے گئے اور ان کا پتلہ نذر آتش کیا گیا۔ 23/اگست2025ئ کو موری گاؤں میں وزیر اعلیٰ نے بے دخلی مہم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آسام کے فیصلے آسام کے لوگ کریں گے ، جمعیت نہیں، اور مولانا مدنی کے بارے میں سخت کلمات کہے۔
ان حالات میں مولانا محمود اسعد مدنی نے خود آسام جانے کا فیصلہ کیا۔ یکم ستمبر2025ئ کی صبح وہ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کے ہمراہ دہلی سے روانہ ہوئے اور باگڈوگرا ایئرپورٹ پہنچ کر بذریعہ کار آسام کے لیے روانہ ہوئے۔ ان کے ہمراہ مفتی جاوید اقبال، صدر جمعیت علمائے کشن گنج، مولانا خالد کشن گنج اور دیگر حضرات بھی تھے۔ قافلے نے تقریباً 300 کلومیٹر کا سفر کرکے مختلف متاثرہ کیمپوں کا دورہ کیا اور گوہاٹی پہنچ کر آر کے ڈی ہوٹل میں پریس کانفرنس کی۔ مولانا مدنی نے اپنی آنکھوں سے دیکھے گئے حالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بے دخلی کی کارروائیاں انسانی بنیادوں اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے خلاف ہیں اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر لوگوں کو ’’میاں‘‘ اور ’’ڈاوٹ فل‘‘ جیسے تحقیر آمیز الفاظ سے پکارنا جسمانی انہدام سے بھی زیادہ ذلت آمیز ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی واقعی غیر ملکی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ، لیکن ہندستانی شہریوں کو اجاڑ کر بے یار و مددگار چھوڑنا قابل قبول نہیں۔ جہاں بے دخلی ناگزیر ہو وہاں سپریم کورٹ کی ہدایات اور انسانی ہمدردی کو مقدم رکھا جائے۔
مولانا مدنی نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے انھیں بنگلہ دیش بھیجنے کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے اپنی آزادی کی جدوجہد میں اکابرین کی قربانیوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگر ایک ایسے شخص کو بھی، جس کے آبا¶ اجداد نے آزادی کی جنگ میں جیلیں کاٹیں، اس طرح مخاطب کیا جاسکتا ہے تو عام مسلمانوں کے ساتھ رویے کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
پریس کانفرنس میں مولانا محمد حکیم الدین قاسمی، مولانا محبوب حسن، مولانا عبدالقادر، مولانا فضل الکریم، مفتی سعد الدین گوالپاڑہ، مولانا ابوالہاشم کوکراجھار اور دیگر ذمہ داران موجود تھے۔ مولانا عبدالقادر نے بتایا کہ جمعیت کی طرف سے لکھی گنج، دھوبری میں 300 متاثرہ خاندانوں میں ضروریات زندگی کا سامان تقسیم کیا گیا۔ مولانا مدنی کے اس دورے اور بے دخلی کے خلاف جرأت مندانہ موقف کو مختلف قومی شخصیات نے بھی سراہا۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر نوید حامد نے سوشل میڈیا پر مولانا مدنی کی اس پہل کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نازک وقت میں متاثرین تک پہنچنا اور ان کی آواز اٹھانا قابلِ قدر اقدام ہے۔
آسام میں بے دخلی کے ساتھ ایک نیا مسئلہ ووٹر فہرست کی Special Revision یعنی ایس آر کا بھی سامنے آیا۔ 17/نومبر2025ئ کو الیکشن کمیشن نے آسام میں ووٹر فہرست کی خصوصی نظرثانی کا حکم دیا اور 22/نومبر2025ئ سے گھر گھر تصدیقی عمل شروع ہوا۔ این آر سی کے خصوصی پس منظر کے باعث آسام میں اس عمل کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کے 29/نومبر2025ئ کے اجلاس نے آسام میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی بے دخلی اور اس کے بعد ایس آر کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ تجویز کے مطابق گزشتہ مہینوں میں ساٹھ ہزار سے زائد شہری اپنے گھروں اور بستیوں سے محروم ہوکر مختلف اضلاع میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور بہت سے خاندان کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزار رہے تھے۔ اجلاس نے کہا کہ 22/نومبر2025ئ سے جاری ایس آر نے ان مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے ، کیوںکہ بے دخلی کے شکار افراد کے نام نہ اصل علاقوں میں ووٹر فہرست میں شامل کیے جارہے ہیں اور نہ عارضی قیام گاہوں میں رہائشی ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر ان کی درخواستیں قبول کی جارہی ہیں۔ جمعیت نے خبردار کیا کہ اس صورت حال کے جاری رہنے سے ہزاروں خاندان ووٹر فہرست سے خارج ہوسکتے ہیں اور مستقبل میں ان کے حقِ شہریت پر بھی منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
29/نومبر2025ئ کی اس تجویز میں جمعیت علمائے ہند نے مطالبہ کیا کہ آسام میں غیر انسانی اور غیر قانونی بے دخلی فوراً روکی جائے ، متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کی جائے ، مرکزی و صوبائی حکومتیں بے گھر افراد کے ووٹر فہرست میں اندراج کے لیے واضح تحریری رہنما اصول جاری کریں، الیکشن کمیشن خصوصی ہدایات کے ذریعے عارضی یا خصوصی رہائشی ثبوت کی بنیاد پر متاثرین کو ووٹر فہرست میں شامل کرنے کا راستہ پیدا کرے ، متاثرہ علاقوں میں خصوصی کیمپ قائم کیے جائیں اور حکومت اس بحران کو محض انتظامی مسئلہ سمجھنے کے بجائے انسانی مسئلہ تسلیم کرتے ہوئے تمام بے گھر خاندانوں کی فوری امداد اور بازآبادکاری کو یقینی بنائے۔















