تحریک مدح صحابہ اور جمعیت علمائے ہند
محمد یاسین جہازی
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی عظمت و محبت اسلامی عقیدے کا اہم حصہ ہے۔ تاریخ میں ان کی مدح و ثنا کے مسئلے پر بعض مقامات پر شیعہ سنی اختلافات نے شدت اختیار کی، جن میں لکھنؤ کی تحریک مدح صحابہ نمایاں ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے اس پورے معاملے میں صحابہ کرام کی حرمت، اہل سنت کے مذہبی و شہری حقوق اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے مختلف ادوار میں عملی کردار ادا کیا۔
لکھنؤ میں شیعہ سنی اختلافات کی شدت کے آثار 1902ء میں مقبول احمد کے آنے کے بعد نمایاں ہوئے۔ 1903ء میں اہل سنت نے لکھنؤ سے تقریباً 3 میل دور کاکوری روڈ پر پھول کٹورا کے نام سے اپنی کربلا قائم کی۔ 1905ء میں تال کٹورا کی کربلا میں داخلے کے لیے بعض پابندیاں عائد ہوئیں، جن پر سنی مسلمانوں نے اعتراض کیا، اور 1906ء میں دونوں فرقوں کے جلوس الگ الگ راستوں سے نکلنے لگے۔ بالآخر 1908ء میں لکھنؤ میں شیعہ سنی فساد ہوا۔ اس صورت حال کے پیش نظر حکومت یوپی نے 30/اکتوبر 1908ء کو مسٹر پیگوٹ کی صدارت میں کمیشن قائم کیا، جس نے 7/جنوری 1909ء کو رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں تعزیہ جلوسوں کے راستوں کے تعین اور عشرہ محرم، چہلم اور 21/رمضان کو عوامی مقامات پر مدح صحابہ کی ممانعت سمیت متعدد پابندیاں تجویز کی گئیں، جنہیں حکومت نے نافذ کردیا۔ شیعہ حلقوں کی طرف سے 28/ذوالحجہ سے 8/ربیع الاول تک پابندی کا مطالبہ بھی اختلاف کا سبب بنا۔
جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں شیعہ سنی تصادم کا ایک اہم تذکرہ 1927ء میں وادی تیراہ کے کالیا اور مستورہ علاقے سے متعلق ملتا ہے۔ مقامی روایت کے مطابق 1926ء میں اخونزادہ مال محمود کی تقریروں کے بعد 1927ء میں کشیدگی بڑھی اور شیعہ آبادی کو زمینوں سے بے دخل کیا گیا۔ 1928ء میں حکومت نے شیعوں کی باقی ماندہ زمینوں کو محفوظ علاقہ قرار دیا، جب کہ مارچ 1930ء میں امن کا معاہدہ ہوا، جس کے تحت انہیں ان کی سابقہ زمینوں پر واپس بحال کیا جانا تھا۔ اسی پس منظر میں جمعیت علمائے ہند کے آٹھویں اجلاس عام، منعقدہ 2، 3، 4 اور 5/دسمبر 1927ء، کی تجویز نمبر 20 میں شیعہ سنی مخاصمت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دونوں فریقوں سے صلح کی اپیل کی گئی اور اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی کہ معاملے میں حکومت کی مداخلت سے تیراہ کی آزادی متاثر نہ ہو۔
1936ء کے انتخابات کے زمانے میں لکھنؤ کا اختلاف مذہبی حدود سے نکل کر سیاسی رقابتوں سے بھی متاثر ہونے لگا۔ بعض بااثر شیعہ و سنی خاندانوں کی باہمی کشمکش اور انتخابی مفادات نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنایا۔ 3/جون 1936ء کو مدح صحابہ کے جلوس کا اعلان ہوا، جس پر پولیس کمشنر نے پابندی لگادی؛ تاہم سنی مسلمانوں نے جلوس نکالا، جس میں صحابہ کرام کی تعریف پر مشتمل قرآنی آیات پڑھی گئیں۔ اس کے جواب میں تبرا کا جلوس نکلا اور کشیدگی بڑھ گئی۔ 10/جولائی 1936ء کو مجلس احرار اسلام کے کارکنوں نے مدح صحابہ پڑھ کر گرفتاریاں پیش کرنے کی منظم سول نافرمانی شروع کردی۔ اس سے پہلے تحریک جمعیت علمائے ہند کی نگرانی میں آئینی طریقے سے جاری تھی، لیکن آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ سے اتحاد اور اپنی تنظیمی قوت منتشر ہونے سے بچانے کے پیش نظر جمعیت نے تحریک کی ذمہ داری صوبائی مجلس احرار کے سپرد کردی۔ نومبر 1936ء کے وسط تک ایک ہزار سے زائد احراری رضاکار جیل جاچکے تھے۔ 14/نومبر 1936ء کو گورنر نے صحابہ کمیٹی کے وفد سے بات چیت کی اور شکایات پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد 19/نومبر 1936ء کو تحریک عارضی طور پر ملتوی کردی گئی۔
1937ء میں مسئلے کے حل کے لیے جسٹس آلسوپ کی سربراہی میں کمیٹی نے کام شروع کیا۔ 20/اپریل 1937ء کو چیف کورٹ میں کارروائی کا آغاز ہوا، جس میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، مولانا عبدالشکور لکھنوی اور حضرت مفتی محمد کفایت اللہ نے بیانات دیے۔ اکابر علما نے واضح کیا کہ مدح صحابہ اہل سنت کا مذہبی حق ہے اور اسے بزور روکنے، صحابہ کرام کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلنے یا مخالف مذہبی مشابہت پیدا ہونے کی صورت میں اس کی ادائیگی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مقصد کسی کی دل آزاری نہیں، بلکہ اپنے دینی عقیدے کا اظہار ہے۔ آلسوپ کمیٹی نے جون 1937ء میں اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں پیگوٹ کمیشن کی سفارشات برقرار رکھنے کی تائید کی گئی۔ اس سے اہل سنت کی ناراضی میں اضافہ ہوا۔
28/مارچ 1938ء کو حکومت نے آلسوپ کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات شائع کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ سنی مسلمانوں کو عوامی و نجی مجالس میں خلفائے راشدین کی مدح کا حق حاصل ہے، البتہ طریقۂ کار اور حالات کے تعین کو انتظامی مسئلہ قرار دیا۔ 23/اپریل 1938ء کو حضرت مفتی محمد کفایت اللہ، مولانا احمد سعید ناظم جمعیت علمائے ہند اور مولانا ظفر الملک علوی نے دیوبند میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی سے ملاقات کرکے صورت حال پر غور کیا اور وزیر اعظم یوپی کو تار بھیجا۔ اپریل 1938ء میں چہلم کے موقع پر ہونے والے فساد میں 9 افراد ہلاک، 160 زخمی، 33 گرفتار اور 9 مکانات نذر آتش ہوئے۔ 25/اپریل 1938ء کو مولانا عبدالشکور اور دیگر علما سے ضمانت طلب کی گئی، جس سے انکار پر وہ جیل گئے۔ 7/مئی 1938ء کے قریب حافظ محمد ابراہیم کی کوٹھی پر کانگریسی وزرا، پنڈت جواہر لال نہرو، پنڈت گووند ولبھ پنتھ اور جمعیت کے اکابر کی مشاورت ہوئی، جس میں مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد اور پنڈت پنتھ پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے حل تلاش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مئی 1938ء میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی لکھنؤ تشریف لے گئے۔ 20/مئی 1938ء کو انہوں نے جیل میں گرفتار سنی رہنماؤں سے ملاقات کی اور اہل سنت سے اپیل کی کہ وہ وقتی طور پر سول نافرمانی روک کر کمیٹی کے فیصلے کا انتظار کریں۔ 3/جون 1938ء کو تحریک دوبارہ تیز ہوئی اور گرفتاریاں شروع ہوگئیں۔ اسی سال 3/اگست 1938ء کو حضرت مفتی محمد کفایت اللہ کی صدارت میں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے حکومت یوپی سے مطالبہ کیا کہ مدح صحابہ کے تسلیم شدہ حق کے استعمال میں حکام کی طرف سے عائد کردہ رکاوٹیں دور کی جائیں۔
جمعیت علمائے ہند کے گیارہویں اجلاس عام، منعقدہ 3 تا 6/مارچ 1939ء، میں صدر اجلاس مولانا سید عبدالحق مدنی نے مدح صحابہ کو اہل سنت کا مذہبی و شہری حق قرار دیا اور حکومت پر زور دیا کہ فتنہ روکنے کے نام پر کسی کو جائز حق سے محروم نہ کیا جائے۔ اسی اجلاس میں حکومت یوپی کے رویے کی مذمت کی گئی، کیونکہ اس نے مولانا عبدالشکور، مولانا ظفر الملک اور دیگر علما کو جلسے کا اعلان شائع کرنے پر گرفتار کرکے ایک ایک سال کی سزا دی تھی۔ 20/فروری 1939ء کو مولانا عبدالشکور نے یکم محرم کے موقع پر سیرت فاروق اعظم کے جلسے کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں ان کی اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں۔ 6/مارچ 1939ء کو مولانا حسین احمد مدنی نے اپیل جاری کرکے مدح صحابہ کو مذہبی، انسانی اور شہری حق قرار دیا اور پُرامن سول نافرمانی کی حمایت کی۔ 17/مارچ 1939ء کو لکھنؤ کی مسجد ٹیلہ میں عظیم احتجاجی اجتماع ہوا، جس میں 378 افراد گرفتار ہوئے اور سینکڑوں رضاکاروں نے شرکت کی کوشش کی۔ 21/مارچ 1939ء کو مولانا مدنی نے 31/مارچ کو یوم مدح صحابہ منانے کی اپیل کی۔ 24/مارچ 1939ء کو ایک اور بڑے اجتماع میں 571 افراد نے گرفتاریاں پیش کیں۔ ان احتجاجات میں مختلف شہروں کے رضاکاروں نے شرکت کی اور تحریک نے ملک گیر صورت اختیار کرلی۔
31/مارچ 1939ء کو پورے ہندستان میں یوم مدح صحابہ منایا گیا۔ اسی روز حکومت یوپی نے سنی مسلمانوں کے مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نے تحریک کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے سول نافرمانی کے لیے مزید جتھے بھیجنے سے روک دیا۔ اس تحریک کے دوران دو ہزار سے زائد گرفتاریاں ہوچکی تھیں۔ تاہم مئی 1939ء میں تبرا کی نئی تحریک اور شیعہ سنی کشیدگی نے پھر شدت اختیار کی۔ جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ، منعقدہ 27، 28 اور 29/مئی 1939ء، نے تبرا کی تحریک کو خلاف آئین و انسانیت اور امن عامہ کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ ساتھ ہی سنی مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اشتعال انگیزی سے متاثر ہوکر لکھنؤ سے باہر کشیدگی نہ پھیلائیں، صبر و سکون سے کام لیں اور ذمہ دار علما کی ہدایت تک کوئی نئی صورت حال پیدا نہ کریں۔
جمعیت علمائے ہند کے بارہویں اجلاس عام، منعقدہ 7، 8 اور 9/جون 1940ء، کی صدارت مولانا حسین احمد مدنی نے کی۔ اجلاس نے واضح کیا کہ لکھنؤ کی تحریک مدح صحابہ اہل سنت کی تیس سالہ جدوجہد ہے، اسے کانگریسی حکومت کو مشکلات میں ڈالنے کی سیاسی تحریک قرار دینا غلط ہے، اور خلفائے راشدین و صحابہ کرام کی علانیہ مدح اہل سنت کا مذہبی حق ہے جس پر کوئی پابندی قبول نہیں کی جاسکتی۔
20 اور 21/اپریل 1941ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے ریاست محمود آباد میں سنی مسلمانوں پر مبینہ مظالم کی تحقیقات کے لیے مولانا محمد احمد کاظمی اور ڈاکٹر عبدالعلی پر مشتمل وفد مقرر کیا۔ 22/اپریل 1941ء کو مولانا حسین احمد مدنی نے گورنر یوپی کو تار بھیج کر سنیوں کو ان کے قانونی حق سے محروم کرنے اور مقابل جلوس کی اجازت دینے پر اعتراض کیا۔ 25/جون 1941ء کو مجلس عاملہ نے تحقیقاتی وفد کے فیصلے کو برقرار رکھا اور تحریک کے مختلف گروہوں کو متحد کرکے انجمن تحفظ ناموس صحابہ لکھنؤ کی سربراہی میں کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ریاست محمود آباد میں دفعہ 144 کے ذریعے تحقیقاتی وفد کو داخلے سے روکا گیا، جس پر 4/جولائی 1941ء کو جمعیت کی جانب سے احتجاجی بیان جاری ہوا۔ اسی سال کشمیر کے خپلو علاقے میں سنی مسلمانوں پر مظالم کی اطلاعات پر 4/نومبر 1941ء کو مولانا حسین احمد مدنی نے مہاراجہ ہری سنگھ کو تار بھیج کر سنیوں کی حفاظت اور غیر جانب دارانہ کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ناظم جمعیت مولانا عبدالحلیم صدیقی نے بھی نومبر 1941ء میں اسی سلسلے میں مہاراجہ کو تار بھیجا اور آزادانہ تحقیقات کی درخواست کی۔
جمعیت علمائے ہند کے چودھویں اجلاس عام، منعقدہ 4 تا 7/مئی 1945ء، نے حکومت یوپی کے اس طرز عمل کی مذمت کی جس کے تحت لکھنؤ میں مدح صحابہ پر پابندیاں برقرار رکھی گئیں، حالاں کہ 12/ربیع الاول کو جلوس اور جلسے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ 9، 10 اور 11/مئی 1947ء کو مجلس عاملہ مرکزیہ نے بھی اس غیر مساوی پالیسی پر تشویش ظاہر کی اور مطالبہ کیا کہ لکھنؤ اور دیگر مخصوص قصبات میں بھی وہی آزادی دی جائے جو یوپی کے دوسرے شہروں میں حاصل تھی۔
1947ء کے بعد بھی یہ مسئلہ مختلف اوقات میں سامنے آتا رہا۔ 25/جون 1997ء کو محرم کے جلوس کے تناظر میں لکھنؤ میں شیعہ سنی تصادم ہوا۔ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے 4 اور 5/اکتوبر 1997ء کے اجلاس میں ناظم عمومی مولانا عبدالعلیم فاروقی نے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے مدح صحابہ کے حق کے تحفظ کے لیے دوسرے مقامات پر کانفرنسیں منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔ 28/اپریل 1999ء کو لکھنؤ میں محرم کے جلوسوں کی تعداد اور اجازت کے مسئلے پر تشدد ہوا، جس میں تقریباً 40 افراد زخمی ہوئے۔ 2/مئی 1999ء کو مولانا اسعد مدنی نے اسے افسوس ناک قرار دیتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانے اور مذہبی اشتعال انگیزی سے گریز کی اپیل کی، نیز حکومت سے متاثرین کے معاوضے اور بے قصور گرفتار شدگان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
5/نومبر 2000ء کی رات اعظم گڑھ کے مبارک پور میں شیعہ سنی تشدد بھڑکا، جس میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے۔ 17/نومبر 2000ء کو مولانا اسعد مدنی نے حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انتظامیہ اور فرقہ پرست طاقتوں کی مذمت کی اور دونوں فرقوں سے اپیل کی کہ وہ سیاسی سازشوں کا شکار نہ ہوں اور اختلافات کی بنیاد پر قانون ہاتھ میں نہ لیں۔ 20/فروری 2005ء کو یوم عاشورا کے موقع پر لکھنؤ میں جلوس کے راستے کے تنازع پر خونریز تصادم ہوا، جس میں 3 افراد ہلاک اور کم از کم 20 زخمی ہوئے۔ 21/فروری 2005ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شرپسندوں کی گرفتاری، واقعے کو دوطرفہ جھگڑا قرار نہ دینے اور آئندہ تشدد روکنے کے لیے مؤثر انتظامات کا مطالبہ کیا۔
28/اپریل 2012ء کو ضلع مظفر نگر کے موضع بہاری میں تعزیے اور قبرستان کے پرانے تنازع پر تشدد ہوا، جس میں 8 افراد زخمی ہوئے۔ 30/اپریل 2012ء کو جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا محمود مدنی جائے وقوع پر پہنچے، انتظامیہ سے غیر جانب داری کے ساتھ امن قائم کرنے کا مطالبہ کیا اور دونوں فریقوں کو باہمی صلح و اتحاد کی تلقین کی۔ اس واقعے کی تفصیل ہفت روزہ الجمعیۃ، 11 تا 17/مئی 2012ء میں شائع ہوئی۔
11/جون 2025ء کو مرکزی دفتر جمعیت علمائے ہند کی مسجد عبدالنبی، نئی دہلی میں جمعہ کے موقع پر ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی نے عظمت صحابہ کے موضوع پر خطاب کیا۔ اس خطاب کا پس منظر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں مولانا سلمان حسنی ندوی کی طرف منسوب گستاخانہ بیان پر پیدا ہونے والی بحث تھی۔ مولانا حکیم الدین قاسمی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو مؤثر جواب دیا جائے۔
اس تاریخی جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے تحریک مدح صحابہ کے مختلف مراحل میں صحابہ کرام کے احترام اور اہل سنت کے مذہبی و شہری حقوق کی حمایت کی، سرکاری پابندیوں کے خلاف قراردادیں منظور کیں، مذاکرات و تحقیقاتی وفود کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی اور مختلف فرقہ وارانہ تصادم کے مواقع پر امن، انصاف، صبر اور باہمی صلح کی اپیل بھی کی۔ اس کی جدوجہد کا بنیادی پہلو یہ رہا کہ مذہبی حقوق کا تحفظ کیا جائے، کسی فریق کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور اختلافات کو تشدد اور سیاسی مفاد کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے۔
Worked for 55s















