31/ مئی 2026
لوچنی ، بسنترائے:
جمعیت علماء بسنترائے کے زیرِ اہتمام جاری "گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے سلسلے کی ایک اہم نشست لوچنی گاؤں میں منعقد ہوئی، جس میں علماء کرام اور مقامی افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا مفتی محمد نظام الدین قاسمی (صدر جمعیت علماء بسنترائے و بانی و مہتمم جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ) نے موجودہ دور کے نوجوانوں کی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان قیمتی وقت کو ضائع کرتے ہوئے گلی کوچوں میں بے مقصد مشاغل میں مصروف ہیں، جبکہ اپنی زندگی کے مقصد اور مشن سے بالکل بے خبر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غربت اور جہالت نے نوجوانوں کو اس حد تک جکڑ لیا ہے کہ وہ نہ اپنی زندگی کا کوئی واضح ہدف متعین کر پا رہے ہیں اور نہ ہی اس کے حصول کے لیے محنت اور جدوجہد کر رہے ہیں۔
اپنے خطاب کے دوران انہوں نے ایک سبق آموز واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک مشہور کرکٹر سلیم درانی کی زندگی ہمارے لیے عبرت کا سامان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیاوی چمک دمک اور عیش و عشرت میں زندگی گزارنے کے باوجود جب انہوں نے آخرت کی فکر اور اولاد کی صحیح تربیت کو نظر انداز کیا تو اس کا انجام نہایت افسوسناک ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ کروڑوں کی ملکیت رکھنے کے باوجود ان کی اہلیہ بڑھاپے میں آشرم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئیں، کیونکہ اولاد نے مال لے کر انہیں تنہا چھوڑ دیا۔ انہوں نے اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ ہمارے لیے ایک تنبیہ ہے کہ اگر ہم اپنی زندگی کا رخ درست نہ کریں اور اپنی نسلوں کی تربیت پر توجہ نہ دیں تو انجام اس سے بھی زیادہ دردناک ہو سکتا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم گلی کوچوں اور پلوں پر بیٹھ کر وقت ضائع کرتے رہیں گے اور حقیقی زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے سے گریز کریں گے تو ہماری حالت بھی اسی طرح بگڑ سکتی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ خراب ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان اپنی زندگی کا مقصد متعین کریں، وقت کی قدر کریں اور مسلسل محنت کے ذریعے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کی کوشش کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہی جہالت معاشی کمزوری کو بڑھا رہی ہے، جس کے نتیجے میں نوجوان نہ والدین کا احترام کر پا رہے ہیں، نہ رشتوں کا تقدس برقرار رکھ پا رہے ہیں اور نہ ہی اپنے اخلاق و کردار کو سنوار پا رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں اور والدین دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے تربیت پر خصوصی توجہ دینے اور وقت کے چیلنجز کو سمجھ کر ان کا مقابلہ کرنے کی تلقین کی۔ آخر میں انہوں نے ذکرِ جہری کا اہتمام کرا کے حاضرین کے قلوب کو تازگی بخشنے کی کوشش کی۔
اس موقع پر مفتی محمد زاہد امان قاسمی (ناظم جمعیت علماء بسنترائے و بانی جامع خدیجۃ الکبریٰ بسنترائے) نے سات بنیادی عقائد پر مبنی پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے ایمان و عقیدہ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی کا دارومدار درست عقائد پر ہے، اور اگر عقیدہ درست نہ ہو تو نیک اعمال بھی انسان کو کامیابی سے ہمکنار نہیں کر سکتے۔
اس سے قبل مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی نے "اپنے ایمان کا محاسبہ کیجئے” کے عنوان سے ایک تفصیلی جائزہ پیش کیا، جس میں لوچنی گاؤں کے مسلمانوں کی دینی صورتِ حال پر روشنی ڈالی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں تقریباً 700 مسلمان آباد ہیں، دو مساجد موجود ہیں مگر نمازیوں کی تعداد 60 تا 70 سے زیادہ نہیں۔ ایک مکتب میں تقریباً 50 بچے اور مکتبِ نسواں میں 20 تا 25 بچیاں زیرِ تعلیم ہیں۔ انہوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صرف محدود افراد ہی دینی اداروں سے وابستہ ہیں، جبکہ بڑی تعداد دین سے دور ہے، جو مستقبل کے لیے خطرناک اشارہ ہے۔
اسی تناظر میں انہوں نے مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے اس فکر انگیز قول کا حوالہ دیا، جو انہوں نے برما (میانمار) کے مسلمانوں کے حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد وہیں ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی حفاظت اسی وقت فرماتے ہیں جب مسلمان خود اللہ کے ہو جاتے ہیں اور اس کے احکام کی پابندی کرتے ہیں، ورنہ اگر مسلمان اللہ سے دور ہو جائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کو بھی اس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ ان کی حفاظت کرے۔ انہوں نے کہا کہ برما کے مسلمانوں کی زبوں حالی اسی غفلت کا نتیجہ بنی، اور اگر ہم نے بھی اپنے ایمان و اعمال کی اصلاح نہ کی تو ہمارے حالات بھی اس سے مختلف نہیں رہیں گے۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، بعد ازاں نعتِ رسول ﷺ پیش کی گئی۔ نظامت کے فرائض مولانا محمد یاسین قاسمی لوچنی نے انجام دیے۔ آخر میں مولانا محمد یاسین قاسمی لوچنی نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور عشاء کے بعد مہمانوں کے لیے پرتکلف عشائیہ کا اہتمام بھی انہی کی جانب سے کیا گیا۔
پروگرام میں مولانا سرفراز صاحب، ماسٹر نسیم صاحب، مولانا افروز ندوی صاحب اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
پروجیکٹر، پی پی ٹی اور ویڈیو گرافی کے امور جناب اسماعیل صاحب نے انجام دیے ۔
واضح رہے کہ یہ بیداری مہم بسنترائے بلاک کی 83 بستیوں میں سے 55 مسلم بستیوں میں جاری ہے، اور یہ اس سلسلے کا چوتھا پروگرام تھا۔ آئندہ پانچواں پروگرام 2 جون 2026 بروز منگل بعد نماز مغرب تا عشاء مسجد جہاز قطعہ میں منعقد ہوگا۔
جاری کردہ:
جمعیت علماء بسنترائے





















