بدھ, اکتوبر 21, 2026
  • Login
  • Register
No Result
View All Result
NEWSLETTER
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
No Result
View All Result
Home اہم خبریں دیگر ریاستیں

عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

by Admin
جولائی 19, 2026
in دیگر ریاستیں
0
عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان
0
SHARES
19
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے نے کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے

از: عبدالحلیم منصور

؀ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگاسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروںکسی بھی مہذب معاشرے کی اصل پہچان اس کے بلند و بالا دعووں، مضبوط اداروں یا معاشی ترقی سے نہیں بلکہ اس امر سے ہوتی ہے کہ وہاں عورت کی عزت، وقار، آزادی اور جسمانی خودمختاری کو کس حد تک تحفظ حاصل ہے۔ ایک عورت صرف خاندان کی بنیاد نہیں بلکہ معاشرے کے اخلاقی شعور، تہذیبی شناخت اور آئینی اقدار کا مظہر بھی ہے۔ اسی لیے خواتین کے خلاف جنسی جرائم سے متعلق ہر عدالتی فیصلہ صرف ایک مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ وہ قانون، انصاف اور سماجی شعور کے باہمی تعلق پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔9 جولائی 2026 کو پٹنہ ہائی کورٹ کے جسٹس پورنیندو سنگھ کے ایک فیصلے نے ملک بھر میں ایک اہم قانونی اور سماجی بحث کو جنم دیا۔ مقدمے کے مطابق ایک نوجوان خاتون کو فوٹو اسٹوڈیو کے اندر تنہا لے جا کر اس کے جسم کے حساس حصوں پر زبردستی دست درازی کی گئی، اس کا لباس اتارنے کی کوشش کی گئی، تاہم خاتون کی مزاحمت اور اس کے والد کی بروقت مداخلت کے باعث واقعہ آگے نہ بڑھ سکا۔ ٹرائل کورٹ نے ان حالات کو مجموعی طور پر دیکھتے ہوئے ملزم کو اقدامِ زیادتی کا مرتکب قرار دیا، لیکن پٹنہ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ ملزم کا طرزِ عمل سنگین اور قابلِ سزا ہے، تاہم استغاثہ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ وہ قانون کی نظر میں اقدامِ زیادتی کے مرحلے تک پہنچ چکا تھا۔ چنانچہ عدالت نے اقدامِ زیادتی سے متعلق سزا ختم کرتے ہوئے معاملے کو تعزیرات کی دفعہ 354 کے دائرے میں قرار دیا۔اس فیصلے پر رائے قائم کرنے سے پہلے ایک اصولی بات ذہن میں رہنی چاہیے۔ عدلیہ کا احترام اور عدالتی فیصلوں کا قانونی و آئینی تجزیہ ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ آئینی جمہوریت میں عدالتیں قانون کی تشریح کرتی ہیں، جبکہ ان تشریحات پر دلیل، نظائر اور آئینی اصولوں کی روشنی میں بحث کرنا بھی انصاف کے ارتقا کا حصہ ہوتا ہے۔ اس لیے اس فیصلے سے اختلاف یا اتفاق، دونوں ہی شائستگی، قانون اور ذمہ داری کے دائرے میں ہونے چاہییں۔اصل سوال یہ ہے کہ اقدامِ زیادتی (عصمت دری کی کوشش) کی قانونی حد کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ اگر کسی عورت کو تنہائی میں لے جا کر اس کے جسم پر زبردستی دست درازی کی جائے، اس کا لباس اتارنے کی کوشش کی جائے اور جرم صرف اس کی مزاحمت یا کسی تیسرے شخص کی مداخلت کے باعث مکمل نہ ہو سکے، تو کیا ایسے پورے واقعے کو ایک مربوط مجرمانہ عمل سمجھا جائے یا ہر حرکت کو الگ الگ دیکھ کر اس کی قانونی حیثیت متعین کی جائے؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس نے اس فیصلے کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔سپریم کورٹ نے مختلف مقدمات میں واضح کیا ہے کہ "تیاری” (Preparation) اور "اقدام” (Attempt) کے درمیان فرق ہر مقدمے کے مخصوص حالات سے طے ہوتا ہے۔ عدالت کو صرف یہ نہیں دیکھنا ہوتا کہ آخری مرحلہ طے ہوا یا نہیں، بلکہ یہ بھی جانچنا ہوتا ہے کہ ملزم کی نیت، اس کے مسلسل اقدامات اور جرم کے نامکمل رہ جانے کی وجوہات کیا تھیں۔ اگر جرم ملزم کے ارادے سے نہیں بلکہ متاثرہ خاتون کی مزاحمت یا بیرونی مداخلت کی وجہ سے رکا ہو تو یہ حقیقت بھی قانونی تجزیے کا حصہ بنتی ہے۔اسی تناظر میں پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر دو مختلف قانونی آراء سامنے آئی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ اقدامِ زیادتی جیسے سنگین جرم میں سزا دینے کے لیے شک سے بالاتر اور نہایت مضبوط ثبوت ضروری ہیں، اس لیے عدالت نے فوجداری قانون کے بنیادی اصولوں پر عمل کیا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ ایسے مقدمات میں صرف انفرادی حرکات نہیں بلکہ واقعات کے مکمل تسلسل، ملزم کے ارادے اور جرم کی سمت میں اس کی عملی پیش رفت کو بھی برابر اہمیت دی جانی چاہیے۔ یہی اختلاف اس مقدمے کو ایک اہم قانونی مباحثے میں تبدیل کرتا ہے، جس کا اثر مستقبل کی عدالتی تشریحات پر بھی پڑ سکتا ہے۔یہ بحث صرف تعزیرات کی چند دفعات تک محدود نہیں۔ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 14 مساوات، آرٹیکل 15 صنفی امتیاز کے خاتمے اور آرٹیکل 21 باوقار زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ سپریم کورٹ نے متعدد فیصلوں میں واضح کردیا ہے کہ عورت کی رضامندی، جسمانی خودمختاری اور انسانی وقار، آئین کے بنیادی تصورات میں شامل ہیں۔ اسی لیے جنسی جرائم سے متعلق ہر عدالتی تعبیر میں قانون کی سختی کے ساتھ آئین کی روح اور انسانی وقار کو بھی یکساں اہمیت دینا ناگزیر ہے۔قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی شخص کو محض قیاس، جذبات یا عوامی دباؤ کی بنیاد پر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح یہ بھی اتنا ہی اہم اصول ہے کہ جنسی جرائم کی تشریح اس انداز میں نہ ہو جس سے عورت کے وقار، جسمانی خودمختاری اور احساسِ تحفظ کے بارے میں کوئی غلط پیغام جائے۔ انصاف کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ ان دونوں اصولوں کے درمیان ایسا متوازن راستہ اختیار کیا جائے جس میں نہ کسی بے گناہ کے حقوق مجروح ہوں اور نہ کسی متاثرہ خاتون کے ساتھ انصاف کے تقاضے کمزور پڑ جائیں۔یہ مقدمہ محض ایک عدالتی تنازع نہیں بلکہ ایک بڑے سماجی سوال کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ کیا ہمارا قانونی اور سماجی شعور عورت کے جسم کو اس کی اپنی خودمختار شخصیت کا حصہ سمجھتا ہے، یا اب بھی بعض رویّوں میں اسے مرد کی خواہشات کے تابع ایک وجود کے طور پر دیکھا جاتا ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ جنسی جرائم کا اثر صرف جسم تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ عورت کی عزتِ نفس، نفسیاتی سکون، سماجی اعتماد اور شخصی آزادی کو بھی گہرائی سے متاثر کرتا ہے۔ دنیا بھر میں جدید قانونی فکر اسی بنیاد پر انسانی وقار کو فوجداری قانون کا مرکزی اصول قرار دیتی ہے۔ہندوستان میں خواتین کے حقوق سے متعلق قانون بھی مسلسل ارتقا کے عمل سے گزرا ہے۔ 1972 کے متھورا مقدمے سے لے کر 2012 کے نربھیا سانحے اور اس کے بعد جسٹس جے۔ ایس۔ ورما کمیٹی کی سفارشات اور 2013 کی قانونی اصلاحات تک، ہر مرحلے نے قانون کو زیادہ حساس، واضح اور مؤثر بنانے کی کوشش کی۔ اس تاریخی پس منظر کو سامنے رکھا جائے تو پٹنہ ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ بھی اسی ارتقائی قانونی سفر کی ایک کڑی دکھائی دیتا ہے، جس پر سنجیدہ قانونی مکالمہ فطری اور ضروری ہے۔ اس مقدمے کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ اقدامِ زیادتی جیسے جرائم کا تعین کرتے وقت کسی ایک فعل کو الگ تھلگ دیکھنے کے بجائے پورے واقعے کے تسلسل، ملزم کے طرزِ عمل، اس کی نیت اور جرم کے نامکمل رہ جانے کی اصل وجہ کو مجموعی طور پر جانچا جانا چاہیے۔ اگر جرم صرف متاثرہ خاتون کی مزاحمت یا کسی تیسرے شخص کی بروقت مداخلت کے باعث مکمل نہ ہو سکا ہو تو اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اس کے ساتھ یہ اصول بھی ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے کہ کسی شخص کو سنگین فوجداری جرم میں سزا صرف مضبوط، قابلِ اعتماد اور شک سے بالاتر شواہد کی بنیاد پر ہی دی جا سکتی ہے۔ یہی انصاف کا بنیادی تقاضا ہے۔اس فیصلے سے اتفاق ہو یا اختلاف، ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عورت کی عزت، رضامندی اور جسمانی خودمختاری محض تعزیرات کی چند دفعات کا موضوع نہیں بلکہ آئین کی روح، انسانی حقوق کی بنیاد اور ایک مہذب معاشرے کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ عدالتوں کا فرض صرف قانون کی تشریح کرنا نہیں بلکہ ایسے قانونی اصول وضع کرنا بھی ہے جو انصاف پر اعتماد کو مضبوط کریں اور یہ پیغام دیں کہ ہر عورت کی حرمت ریاست کی ذمہ داری ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فیصلے کو محض تائید یا مخالفت کے زاویے سے نہ دیکھا جائے بلکہ اسے اس سوال پر سنجیدہ غور و فکر کا موقع سمجھا جائے کہ جنسی جرائم سے متعلق ہمارے قانونی معیار عصرِ حاضر کے تقاضوں، آئینی اقدار اور عورت کے وقار کے تصور سے کس حد تک ہم آہنگ ہیں۔ اگر اس بحث کے نتیجے میں سپریم کورٹ مزید واضح رہنما اصول فراہم کرتی ہے یا قانون ساز ادارے ضروری قانونی وضاحتیں کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف عدالتی یکسانیت مضبوط ہوگی بلکہ متاثرہ خواتین اور ملزمان، دونوں کے آئینی حقوق کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔آخرکار انصاف صرف قانون کی دفعات کا نام نہیں بلکہ انسانی وقار کے تحفظ کا دوسرا نام ہے۔ ایک منصفانہ ریاست وہی ہے جہاں قانون کی سختی، عدالتی غیر جانب داری اور عورت کی عزت و حرمت ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے محافظ ہوں۔ عورت کا وقار کسی رعایت کا محتاج نہیں؛ وہ آئین کی روح، انسانی تہذیب کی اساس اور ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔ یہی وہ اصول ہے جسے ہر عدالتی تعبیر، ہر قانونی اصلاح اور ہر سماجی رویّے میں نمایاں ہونا چاہیے۔

haleemmansoor@gmail.com

Admin

Admin

Next Post
آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

پرزور اسلوب

9 مہینے ago

بچوں کے لیے تعلیمی چیزیں،جو تدریس و تفہیم کے لیے ضروری ہیں

1 مہینہ ago

مقبول

  •  آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تحریک مسجد شہید گنج اور جمعیت علمائے ہند

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ہمارے لیڈر کا انداز تکلم 1947 سے پہلے والا ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ارشاد انصاری: میرے محسن، میرے استاد اور اردو کے خاموش خادم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • رجسٹر
  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.