مدرسہ دارالعلوم انوارِ صحابہ، مکتاپور، چندن کیاری، بوکارو: ایک مختصر تعارف اور یادگار حاضری
31 اکتوبر 2026 کو جھارکھنڈ ٹیٹ (JHTET) کے امتحان کے سلسلے میں مدرسہ دارالعلوم انوارِ صحابہ، مکتاپور، چندن کیاری، ضلع بوکارو میں حاضری کا موقع ملا۔ یہ حاضری حضرت مولانا مفتی محمد جنید صاحب قاسمی دامت برکاتہم کی دعوت پر ہوئی، جن کے برادرِ محترم حضرت مولانا سہیل النصر صاحب اس ادارے کے بانی و مہتمم ہیں۔ امتحان کے بعد یکم نومبر 2026 کو بھی مدرسے میں ایک شب مزید قیام کا موقع ملا۔ اس طرح اس مختصر قیام کے دوران ادارے کے تعلیمی، تربیتی اور انتظامی ماحول کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔
اس دوران حضرت حافظ عبدالرحمن صاحب، قاری محمد اختر صاحب، قاری حبیب اللہ صاحب، قاری عیاض صاحب اور مولانا محمد ابوطالب صاحب مظاہری سمیت متعدد اساتذہ کرام سے ملاقات ہوئی۔ مختصر سی مدت میں ان حضرات نے جس خلوص، محبت، اپنائیت اور حسنِ سلوک کا مظاہرہ کیا، وہ نہایت متاثر کن تھا۔ اساتذہ کی یہ محبت اور مہمان نوازی دل پر نقش ہوگئی اور ناچیز وہاں سے خوش گوار یادیں لے کر رخصت ہوا۔
یکم نومبر 2026 کی شام حضرت مولانا مفتی محمد جنید صاحب قاسمی دامت برکاتہم مہتمم مدرسہ حسینیہ دیوبند سے بھی ایک بے تکلف اور خوش گوار ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر مدارس کے نظامِ تعلیم، نصابِ تعلیم، طریقۂ تدریس، اساتذہ و طلبہ کے حقوق اور اداروں کو سرکاری رہنما اصولوں (Guidelines) کے مطابق منظم انداز میں چلانے کی ضرورت جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ گفتگو سے اندازہ ہوا کہ مدارس کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے، انتظامی امور کو مضبوط کرنے اور اساتذہ و طلبہ کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلے میں سنجیدہ فکر و توجہ کی ضرورت ہے۔
قیام و خدمات کا مختصر تعارف
مدرسہ دارالعلوم انوارِ صحابہ، مکتاپور، چندن کیاری، ضلع بوکارو کا قیام 2008 میں حضرت مولانا سہیل النصر صاحب کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ ادارے کے سرپرست حضرت مولانا احمد نصر صاحب بنارسی دامت برکاتہم ہیں۔ اپنے قیام سے اب تک یہ ادارہ دینی تعلیم و تربیت کے میدان میں سرگرمِ عمل ہے اور مختلف اہلِ علم و فضل کی آمد و سرپرستی سے بھی اسے فیض حاصل ہوتا رہا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق اس ادارے میں سب سے پہلے حضرت مولانا ایوب صاحب بھٹکلی دامت برکاتہم 22 اکتوبر 2012 کو تشریف لائے۔ بعد ازاں 30 نومبر 2019 کو دوسری مرتبہ بھی ان کی آمد ہوئی۔
11 فروری 2014 کو امارتِ شرعیہ، ہند، پٹنہ کا ایک وفد بھی ادارے کے دورے پر آیا، جس میں حضرت مولانا ثناء الہدیٰ صاحب قاسمی، حضرت مولانا رضوان صفدر صاحب، حضرت مولانا سعید الرحمن صاحب، حضرت مولانا قمر الدین صاحب اور مفتی شاہد صاحب شریک تھے۔
اسی طرح جانشینِ فدائے ملت، قائدِ جمعیت حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب دامت برکاتہم، سابق جنرل سکریٹری و حالیہ صدر جمعیت علمائے ہند، 5 اپریل 2015 کو اس ادارے میں تشریف لا چکے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے ہاتھوں سے 18 طلبہ کی دستار بندی فرمائی، جو ادارے کی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار واقعہ ہے۔
بعد ازاں صدر جمعیت علمائے اتر پردیش حضرت مولانا مفتی عفان منصورپوری صاحب16 نومبر 2025 میں اس ادارے کا دورہ کر چکے ہیں۔ اس موقع پر مولانا آصف محمود صاحب بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ 88 طلبا کی دستار بندی اس موقع پر کی گئی ۔
تعلیمی و تربیتی نظام اور طلبہ کی کفالت
فی الوقت مدرسے میں 163 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ادارہ ان طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ان کے قیام، طعام اور دیگر تمام بنیادی ضروریات کی کفالت بھی کرتا ہے۔ طلبہ کی ضروریات کا اس طرح خیال رکھنا یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ ناشتے کے انتظام میں بھی دو مرحلے رکھے گئے ہیں؛ پہلے ابتدائی ناشتہ دیا جاتا ہے جسے جلپان کہا جاتا ہے اور کچھ وقفے کے بعد دوسری مرتبہ بھی ناشتے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس سے بیسام کہا جاتا ہے۔
ادارے کا نظامِ تعلیم ہردوئی قاعدے کے مطابق ہے۔ اساتذہ کرام طلبہ کی تعلیمی و تربیتی نگرانی میں مسلسل مصروف رہتے ہیں اور ان کی علمی ترقی کے لیے ہمہ وقت محنت اور توجہ صرف کرتے ہیں۔ کسی بھی دینی ادارے کی حقیقی کامیابی کا انحصار صرف عمارتوں اور وسائل پر نہیں، بلکہ اس کے تعلیمی معیار، اساتذہ کی محنت، طلبہ کی تربیت اور نظم و ضبط پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے یہاں اساتذہ کی مسلسل جدوجہد اور طلبہ کی نگرانی کا جذبہ قابلِ قدر ہے۔
عمارت اور تعمیراتی صورتِ حال
مدرسے کے پاس تقریباً 2 بیگھہ زمین موجود ہے، جس میں ایک وسیع و عریض میدان بھی شامل ہے۔ میدان کے تین اطراف میں عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں اور مزید تعمیراتی کام بھی جاری ہے۔ ادارے کے موجودہ تعلیمی و انتظامی ڈھانچے کو دیکھتے ہوئے امید ہے کہ مستقبل میں یہ تعمیرات اس کے تعلیمی اور تربیتی نظام کو مزید وسعت دینے میں معاون ثابت ہوں گی۔
دعا اور امید
مدرسہ دارالعلوم انوارِ صحابہ، مکتاپور، چندن کیاری، بوکارو کا یہ مختصر قیام کئی اعتبار سے یادگار رہا۔ ایک طرف اساتذہ کرام کی محبت، خلوص اور مہمان نوازی نے متاثر کیا، تو دوسری طرف محدود وسائل میں طلبہ کی تعلیم، رہائش اور کفالت کے لیے ادارے کی کوششیں دیکھ کر خوشی ہوئی۔
اللہ تعالیٰ اس ادارے کے بانی و مہتمم حضرت مولانا سہیل النصر صاحب، سرپرست حضرت مولانا احمد نصر صاحب بنارسی، تمام اساتذہ کرام، معاونین اور متعلقین کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ ادارے کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اس کے علمی و تربیتی معیار میں مزید نکھار پیدا فرمائے، تعمیراتی مراحل کو بحسن و خوبی مکمل فرمائے اور اسے تادیر دینِ اسلام کی اشاعت، علومِ نبوت کی حفاظت اور نسلِ نو کی دینی و اخلاقی تربیت کا مؤثر مرکز بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔
اس موقع پر ایک اہم بات شدت کے ساتھ محسوس ہوئی کہ جھارکھنڈ کے مقامی علماء اور دینی اداروں کے درمیان باہمی تعارف، رابطے اور آمد و رفت کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ عام طور پر صورتِ حال یہ ہے کہ جھارکھنڈ اور بہار کے علماء یوپی اور پنجاب کے مدارس و علمائے کرام سے تو اچھی خاصی واقفیت رکھتے ہیں، لیکن اپنے ہی علاقے کے مدارس، علماء اور ان کی علمی و دعوتی خدمات سے ناواقف رہتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ مقامی علماء ایک دوسرے سے ملاقات کریں، ایک دوسرے کے اداروں کا دورہ کریں اور علمی و تجرباتی تبادلہ کریں۔ اس سے نہ صرف باہمی تعارف کی خلیج ختم ہوگی، بلکہ ایک دوسرے کے علاقوں کے حالات، تہذیبی مزاج اور علمی و دعوتی تجربات کو سمجھنے کا موقع بھی ملے گا۔ نتیجتاً باہمی اعتماد، تعاون اور علمی استفادے کی نئی راہیں کھلیں گی اور پورے خطے میں دینی و تعلیمی سرگرمیوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے میں مدد ملے گی۔
مولانا مصدق صاحب قاسمی صدر جمعیت علمائے چاس بکارو کے شکریہ کے ساتھ اس تحریر کو مکمل کرتے ہیں جس کی وجہ ناچیز کے اس دورے میں ان کی معاونت ہے ۔
محمد یاسین جہازی
3 نومبر 2026



















