۱۔ مساجد کے انہدام کے خلاف تجویز
منظور کردہ اجلاس مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند بتاریخ ۳۰-۳۱ اکتوبر ۲۰۲۶، بمقام نوح میوات
مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند کا یہ اجلاس ملک بھر میں مساجد، عید گاہوں، درگاہوں اور اسلامی شعائر کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان و واقعات پر گہری تشویش اور اضطراب کا اظہار کرتا ہے۔
یہ اجلاس واضح کرتا ہے کہ مساجد محض مادی عمارتیں نہیں بلکہ مسلمانوں کے عقیدے، اجتماعی شناخت اور آئین ہند کی دفعات 25 اور 26 کے تحت محفوظ شدہ بنیادی حقوق کی سب سے بڑی عملی مظہر ہیں۔ پارلیمنٹ کا منظور کردہ "پلیسز آف در شپ (اسپیشل پروویژنز) ایکٹ 1991” ہندستانی ریاست کا وہ پختہ دستوری و اخلاقی عہد ہے جس کا مقصد تاریخی تنازعات کے دروازوں کو ہمیشہ کے لیے بند کرنا تھا۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ نے اپنے ایودھیا فیصلے میں اس ایکٹ کو آئین کے بنیادی سیکولر ڈھانچے کا لازمی جز قرار دیا تھا۔
مجلس منتظمہ اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ ماتحت دیوانی عدالتیں، قانون کے اس صریح متن اور روح کو نظر انداز کرتے ہوئے، شر پسند عناصر کی جانب سے دائر کیے جانے والے بے بنیاد دعوؤں پر ضابطہ دیوانی کے تحت ایڈوکیٹ کمشنرز اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کے سروے کے احکامات جاری کر رہی ہیں۔ سنبھل کی تاریخی جامع مسجد کے معاملے میں چند گھنٹوں کے اندر یکطرفہ سروے کا حکم صادر ہونا اور اس کے نتیجے میں امن و امان کا درہم برہم ہونا اس عدالتی عجلت کا انتہائی المناک اور تباہ کن نتیجہ تھا۔
اس ذہنیت کا بدترین مظاہرہ ستمبر 2026 میں سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع تاریخی مسجد کا ظالمانہ انہدام تھا، جہاں وقف اور بلدیاتی ریکارڈز میں 1957 سے اندراج اور سب پوسٹ آفس کی باقاعدہ کرایہ داری جیسے شواہد نظر انداز کر کے اعلیٰ عدالت سے رجوع کا وقت دیے بغیر مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ملک میں متعدد مقامات پر مساجد منہدم کر دی گئی ہیں یا ان پر انہدام کی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ اس سنگین صورت حال کی بنا پر یہ اجلاس حکومت ہند اور اعلیٰ عدلیہ سے درج ذیل مطالبات کرتا ہے:
- سپریم کورٹ کے 12 دسمبر 2024 کے عبوری حکم کی پاس داری کرتے ہوئے ملک بھر کی تمام عدالتوں کو سختی سے پابند کیا جائے کہ وہ 1991 ایکٹ کے منافی کسی بھی نئے دعوے کو ابتدائی مرحلہ میں ہی خارج کریں۔
- بلدیاتی، ریونیو یا ترقیاتی اداروں کی جانب سے مساجد کو منصفانہ موقع دیے بغیر یکطرفہ انہدامی کارروائی کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی کھلی توہین قرار देकर ملوث افسران کے خلاف قانونی تعزیرات کا نفاذ یقینی بنایا جائے۔
- جمعیۃ علماء ہند اپنی تمام یونٹوں کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ مساجد کی انتظامیہ کمیٹیوں کو متوجہ کریں اور ان کے معاون بن کر تمام مساجد کی اراضی، خسرہ و کھتونی کے اندراجات اور بلدیاتی ٹیکس کے تمام کاغذات کی جانچ پڑتال کر کے ان کی قانونی دستاویز بندی کو آئندہ چھ ماہ میں مکمل کریں.
(۲) مدارس اسلامیہ کے تحفظ سے متعلق تجویز
منظور کردہ اجلاس مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند بتاریخ ۳۰-۳۱ اکتوبر ۲۰۲۶، بمقام نوح میوات
جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس دو ٹوک انداز میں یہ اعلان کرتا ہے کہ مدارس اسلامیہ ملی بقا، اسلامی تشخص اور اخلاقی اقدار کے لازوال سرچشمے ہیں۔ یہ ادارے آئین ہند کے آرٹیکل 30 سیکشن (1) کی ضمانتوں کے تحت قائم ہیں، جس کے مطابق مذہبی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام و انصرام کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ اسی طرح یہ واضح رہنا چاہیے کہ یہ مدارس اسلامیہ سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ اور دستور میں دیے گئے حقوق کے تحت جاری ہیں، نیز ان مدارس کو رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ سے استثناء حاصل ہے، لہٰذا یہ اجلاس ان کوششوں کی پرزور مذمت کرتا ہے جن میں منظوری کی تفتیش کے بہانے سے مدارس کو منظم طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے.
مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس حکومت ہند اور قانونی اداروں سے پرزور اپیل کرتا ہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو نت نئے حربوں سے متنازع بنانے کی غیر آئینی و غیر اخلاقی مہم پر فوری قدغن لگائیں اور ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے، بدنیتی پر مبنی سروے اور جارحانہ کارروائیوں کا سلسلہ بند کرنے کے لیے ضروری اقدامات کریں.
یہ اجلاس سپریم کورٹ کے 5 نومبر 2024 کے فیصلے (انجم قادری بنام یونین آف انڈیا) کا خیر مقدم کرتا ہے جس نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر مدارس کے قانونی اور آئینی وجود کی توثیق کی، اور لاکھوں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو تاریک ہونے سے بچالیا.
مجلس منتظمہ مدارس اسلامیہ کے ارباب حل و عقد کو درج ذیل تنظیمی و انتظامی امور کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے:
- اپنے اداروں کے اراضی کاغذات، منظور شدہ نقشہ جات، ہاسٹل میں مقیم طلبہ کے شناختی کوائف اور مالیاتی کھاتوں کے آڈٹ کو مکمل شفافیت کے ساتھ ریکارڈ کا حصہ بنائیں۔
- قومی و ریاستی سطح پر چلائے جانے والے بدنام کن بیانیے کے جواب میں مدارس اپنی خدمات، قومی و فلاحی کردار اور آئینی بنیادوں کو مدلل انداز میں میڈیا اور سول سوسائٹی کے سامنے پیش کرنے کے لیے باقاعدہ پریس سیل قائم کریں۔
- مجلس منتظمہ فیصلہ کرتی ہے کہ جمعیۃ علماء ہند کی تمام صوبائی، ضلعی اور تحصیلی اکائیاں مرکزی جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے مقرر کردہ ایک ہی تاریخ اور وقت پر اپنے اپنے متعلقہ حکام کو مساجد، مکاتب، مدارس، خانقاہوں اور مزاروں کے خلاف بلڈوزر کی کارروائیوں کے انسداد کے لیے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے مطالبے پر مشتمل یادداشتیں پیش کریں، تاکہ غیر قانونی انہدام کی کارروائیوں کی روک تھام اور قانون و عدالتی احکامات کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے.
(۳) ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت، اسلامو فوبیا اور نفرت انگیز جرائم کے انسداد پر تجویز
منظور کردہ اجلاس مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند بتاریخ ۳۰-۳۱ اکتوبر ۲۰۲۶، بمقام نوح میوات
جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس ملک کی موجودہ صورت حال پر اپنی گہری فکر مندی اور دکھ کا اظہار کرتا ہے۔ ہمارا پیارا وطن بھارت، جس کی بنیاد جمہوریت، مساوات، مذہبی آزادی اور پرامن بقائے باہم جیسی اعلیٰ آئینی اقدار پر رکھی گئی تھی، آج بحران سے دوچار ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے جس منظم، شرمناک اور بے لگام انداز میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر (Hate Speech)، اسلامو فوبیا، ماب لنچنگ اور سماجی و اقتصادی بائیکاٹ کی مہم چلائی جارہی ہے، وہ نہ صرف آئین ہند کے بنیادی ڈھانچے کے منافی ہے بلکہ ملکی سالمیت، عالمی وقار اور انسانی حقوق کے لیے بھی تباہ کن ہے.
یہ اجلاس شدت سے محسوس کرتا ہے کہ بعض متعصب سیاسی و غیر سماجی عناصر سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ‘لو جہاد’، ‘لینڈ جہاد’ اور ‘ایجوکیشن جہاد’ جیسی بے بنیاد، فرضی اور اشتعال انگیز اصطلاحات گھڑ کر معاشرے کو تقسیم کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں۔ مساجد، مدارس اور مسلم اوقاف پر بلا جواز حملے، اقلیتوں کی تاریخ کو مسخ کرنے کی منظم کوششیں اور شہریوں کے گھروں اور املاک پر بلڈوزر چلانے کی غیر آئینی کارروائیاں آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مجرمانہ خاموشی اور بعض ریاستی حکومتوں کی ان شر پسند عناصر کی کھلی سرپرستی نے اقلیتوں کو مایوس کر دیا ہے.
جمعیۃ علماء ہند، جس کی سنہری تاریخ وطن کی آزادی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی سے عبارت ہے، ملک میں پنپنے والے ان فسطائی رجحانات کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔ ہمارا یہ پختہ یقین ہے کہ نفرت کا جواب نفرت سے نہیں دیا جاسکتا، بلکہ اس کا خاتمہ محبت اور سماجی بیداری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس تناظر میں یہ اجلاس کثیر الجہتی لائحہ عمل اپناتے ہوئے حکومت، آئینی اداروں اور جمعیۃ کی تمام تنظیمی اکائیوں کے لیے درج ذیل واضح مطالبات اور فیصلوں کی متفقہ منظوری دیتا ہے:
- تحسین والا کیس (یا متعلقہ اہم کیس) میں دی گئی واضح ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مرکزی وزارت داخلہ اور ریاستی حکومتیں فوری طور پر ہر ضلع میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (SP) کی سطح کے نوڈل افسران مقرر کریں۔ نفرت پر مبنی جرائم کی سماعت کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں اور ضابطے کی خلاف ورزی اور غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔
- انتخابی ضابطہ اخلاق کی صریح خلاف ورزی کرنے والی سیاسی جماعتوں کی منظوری الیکشن کمیشن کی جانب سے منسوخ کی جائے اور نفرت انگیز تقاریر کرنے والے امیدواروں کو انتخاب لڑنے سے نااہل قرار دیا جائے۔
- الیکٹرانک میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں پر پھیلائی جانے والی جھوٹی خبروں (Fake News) اور منظم اشتعال انگیزی کی روک تھام کے لیے اظہار رائے کے آئینی دائرے کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور شفاف قانونی فریم ورک مرتب کیا جائے۔
- بھارت، بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) کا فریق ہونے کے ناطے، آرٹیکل 20 (2) کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، مذہب کی بنیاد پر نفرت پھیلانے اور لوگوں کو دوسروں کے خلاف اکسانے پر مؤثر پابندی لگائے، نیز نفرت پر مبنی جرائم کے مستند اعداد و شمار شفاف انداز میں شائع کرے.
یہ اجلاس اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ موجودہ بحران سے مقابلہ کے لیے سول سوسائٹی کا متحرک اور منظم کردار انتہائی ناگزیر ہے۔ لہٰذا جمعیۃ علماء ہند کی تمام مرکزی، صوبائی، ضلعی اور مقامی اکائیوں کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ درج ذیل تنظیمی لائحہ عمل کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں:
- جمعیۃ کے آئین کی دفعہ 8 کے تحت قائم "جمعیۃ سدبھاؤنا منچ پلیٹ فارم” کے تحت برادرانِ وطن (ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر اقلیتوں) کے مذہبی رہنماؤں، دانشوروں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے ساتھ مشترکہ امن نشستوں (سدبھاؤنا سنسد) اور کانفرنسوں کا مسلسل انعقاد کیا جائے۔
- اسلام و مسلمانوں کے متعلق پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے مقامی زبانوں میں مستند، عام فہم اور مدلل علمی مواد، کتابچے اور پمفلٹس کی اشاعت کی جائے۔ اس مہم میں سوشل میڈیا کا بھرپور، مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال کیا جائے۔
- جمعیۃ یوتھ کلب اور شعبہ رفیق کے نوجوانوں، طلبہ اور اساتذہ کے لیے آئینی حقوق، پرامن بقائے باہم اور قانونی کارروائیوں جیسے ہیٹ اسپیچ کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے اور قانونی شواہد اکٹھا کرنے کے حوالے سے ضلعی سطح پر تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے۔ نوجوان نسل کو جمہوری جدوجہد اور بین المذاہب ہم آہنگی کا کلیدی حصہ بنایا جائے۔
(۴) مسلمانوں کی آبادی سے متعلق فتنہ انگیزی پر تجویز
منظور کردہ اجلاس مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند بتاریخ ۳۰-۳۱ اکتوبر ۲۰۲۶، بمقام نوح میوات
جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس اپنی تحقیقی رپورٹ کے مطابق مردم شماری، NFHS (قومی خاندانی صحت کا سروے) اور دیگر سائنٹفک شواہد کی بنیاد پر ڈیموگرافک جہاد اور غیر قانونی دراندازی کے ذریعے آبادیاتی توازن بگاڑنے کے بیانیے کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔ مردم شماری کے اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلم آبادی کی دہائی وار شرح افزائش 1981 تا 1991 کے 32.9 فیصد سے گھٹ کر 2001 تا 2011 میں 24.7 فیصد رہ گئی ہے۔ لہٰذا حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ آبادیاتی تبدیلیوں کو دراندازی کے بجائے سماجی، معاشی اور تعلیمی پسماندگی کے تناظر میں دیکھے۔ مخصوص سیاسی حلقوں کی جانب سے اقلیتوں کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنا کر پیش کرنے کا سلسلہ فوری بند ہونا چاہیے.
وزارت داخلہ کی جانب سے 26 مئی 2026 کو تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی آبادیاتی کمیٹی کو یہ مجلس اس کی غیر سائنٹفک ساخت اور متعصبانہ ایجنڈے کی وجہ سے مسترد کرتی ہے۔ کسی بھی ماہر آبادیات (Demographer) کے بغیر اور "غیر قانونی دراندازی سے ہونے والی تبدیلی” کے مفروضے پر قائم یہ کمیٹی اقلیتوں، مظلوموں اور پسماندہ طبقات کے خلاف محض ایک سازش ہے.
جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ اگر حکومت آبادی کا حقیقی مطالعہ چاہتی ہے تو وہ بین الاقوامی معیار کے ماہرین پر مشتمل ایک غیر جانبدارانہ کمیشن بنائے جو ہجرت، تعلیم اور روزگار کے عوامل کا سائنٹفک جائزہ لے.
(۵) یکساں سول کوڈ کے منفی اثرات پر تجویز
منظور کردہ اجلاس مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند بتاریخ ۳۰-۳۱ اکتوبر ۲۰۲۶، بمقام نوح میوات
جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس گجرات، اتراکھنڈ، آسام اور دیگر ریاستوں میں منظور کردہ یونیفارم سول کوڈ (UCC) سے متعلق یہ واضح کرتا ہے کہ یہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی، عائلی خود مختاری اور آئینی حقوق پر براہ راست حملہ ہے۔ بالخصوص وراثت، نکاح اور طلاق کے اصول قرآن کریم اور احادیث مبارکہ نے صریح طور پر بیان کئے ہیں۔ یہ الہامی قوانین ہیں جن پر عمل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ یو سی سی بل کے ذریعے ان شرعی اصولوں میں مداخلت کرنا شریعت پر کھلی یلغار ہے جو کسی بھی مسلمان کے لیے قابلِ قبول نہیں.
مجلس منتظمہ حکومت کی اس منافقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ یہ قوانین خود اپنی ساخت میں صراحتاً امتیازی ہیں۔ ریاست اتراکھنڈ اور گجرات دونوں نے اپنے قوانین میں قبائلی طبقات (Scheduled Tribes) کو مکمل طور پر مستثنیٰ رکھتے ہوئے ان کی روایات کو تحفظ بخشا ہے، جب کہ مسلمانوں کو جبراً اس کے دائرہ اطلاق میں رکھا گیا ہے۔ یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ ان قوانین کا اصل مقصد اکثریتی ایجنڈے کا نفاذ اور اقلیتوں کو ان کی تہذیب و شریعت سے کاٹنا ہے.
دستور کی دفعہ 44 کی طرح دیگر رہنما دفعات بھی موجود ہیں، لیکن صرف ایک دفعہ کے نفاذ پر اصرار طاقت کا ناجائز اور غیر منصفانہ استعمال ہے۔ مزید یہ کہ دفعہ 44 میں لفظ "اسٹیٹ” سے مراد یونین حکومت ہے، اس لیے یکساں سول کوڈ کے سلسلے میں ریاستی قانون سازی آئینی طور پر قابل اعتراض ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ مجوزہ یو سی سی بل میں لیونگ ریلیشن شپ کو قانونی تحفظ دے کر مقدس ازدواجی رشتے اور ملکی خاندانی نظام اور ہندستانی تہذیب کو متاثر کیا جارہا ہے.
لہٰذا مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند یہ تجویز کرتی ہے کہ: (الف) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، دیگر تمام مسلم ملی تنظیموں، نیز سکھ، عیسائی، دلت، قبائلی (SCs/STs) اور دیگر اقلیتی اداروں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ اور مضبوط آواز بلند کی جائے، تاکہ دستور کی حفاظت کو ایک وسیع تر قومی اور جمہوری تحریک بنایا جا سکے۔ (ب) اتراکھنڈ، گجرات اور آسام کے قوانین کے خلاف ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں دائر کردہ قانونی چارہ جوئی کو مزید تیز اور مربوط کیا جائے اور آئینی بینچ کے ذریعے کالعدم کرانے کی جدوجہد کی جائے۔ (ج) صدر جمہوریہ ہند، وزیر اعظم، وزیر قانون اور متعلقہ ریاستوں کے گورنرز اور وزرائے اعلیٰ کو تفصیلی میمورنڈم بھیجے جائیں، جن میں قبائلی مستثنیات کے تضاد، آرٹیکل 14، 25 اور 26 کی پامالی اور مسلم پرسنل لا کی الہامی حیثیت پر دستاویزی اور قانونی ثبوت فراہم کیے جائیں۔
یہ اجلاس تمام مسلمانان ہند سے پرزور اپیل کرتا ہے کہ وہ شریعت اسلامیہ پر پوری مضبوطی اور استقامت سے قائم رہیں۔ خصوصاً خواتین کے حقوق کے معاملے میں اسلامی تعلیمات کے مطابق مکمل انصاف کو اپنے گھروں میں یقینی بنائیں۔ طلاق، نان و نفقہ، اور مہر جیسے معاملات میں شرعی اصولوں پر کامل دیانت داری سے عمل پیرا ہوں، تاکہ معاشرے میں ایک مثالی اسلامی توازن قائم ہو اور ریاست کو مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ کا جھوٹا بہانہ بنا کر مسلم پرسنل لا میں مداخلت کا کوئی اخلاقی و قانونی جواز نہ مل سکے.
(۶) تجویز: جدید قانون کے تناظر میں مسلم اوقاف، درگاہوں اور قبرستانوں کا تحفظ کا مسئلہ
منظور کردہ اجلاس مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند بتاریخ ۳۰-۳۱ اکتوبر ۲۰۲۶، بمقام نوح میوات
وقف خالصتاً اسلامی شریعت پر مبنی ایک مقدس عمل ہے جس کے تحت کسی جائیداد کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مستقل طور پر دینی، تعلیمی اور خیراتی مقاصد کے لیے مخصوص کر دیا جاتا ہے۔ اس کا تحفظ ہمارے دینی تقاضوں اور دستوری حقوق کا لازمی حصہ ہے.
یہ اجلاس پارلیمنٹ سے منظور شدہ وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 (UMEED Act) کو اس کی موجودہ شکل میں مسلم اقلیت کے مذہبی و دستوری حقوق، آئین ہند کے آرٹیکل 25 اور 26 کے تحت حاصل ضمانتوں اور اوقاف کی بنیادی روح کے منافی تصور کرتا ہے۔ یہ اجلاس حکومت کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ دستور ہند کے تئیں اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے اور وقف املاک کے تحفظ و انتظام کے لیے شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی (SGPC) کے طرز پر خود مختار، بااختیار ادارہ بنایا جائے.
یہ اجلاس اس امر پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ حکومت کی جانب سے بعض درگاہوں کے متولیوں، سجادہ نشینوں اور مجاوروں کو وقف زمینوں کے مالکانہ حقوق دے کر سرکاری ریکارڈ میں تبدیلی کی جارہی ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ وقف جائیدادوں کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے، کیونکہ متولی، سجادہ نشین اور مجاور وقف جائیداد کے مالک نہیں، بلکہ اس کے نگران اور محافظ ہوتے ہیں.
یہ اجلاس 15 ستمبر 2025 کو سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے صادر کردہ عبوری فیصلے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ وقف بالاستعمال (Waqf by User) کے خاتمے اور قانون میعاد (Limitation Act) کے اطلاق کے سلسلے میں مطلوبہ عبوری تحفظ حاصل نہیں ہو سکا۔ اجلاس اس امر کی طرف بھی توجہ مبذول کراتا ہے کہ ان قانونی تبدیلیوں کے نتیجے میں قدیم وقف املاک کے تحفظ اور ان پر قائم حقوق کے حوالے سے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں.
یہ اجلاس تمام مسلمانوں، بالخصوص متولیان اوقاف، سجادہ نشینان، انتظامی کمیٹیوں اور متعلقہ ذمہ داران سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اوقاف کی حفاظت، نگہداشت اور ان کے صحیح مصرف کو یقینی بنانے کی اپنی دینی، شرعی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری سنجیدگی کے ساتھ ادا کریں۔ جن وقف املاک کا رجسٹریشن تکنیکی وجوہات کی بنا پر مسترد ہو گیا ہے، ان کے ذمہ داران متعلقہ قانونی فورم، بالخصوص وقف ٹریبونل سے رجوع کریں.
یہ اجلاس تجویز کرتا ہے کہ قومی سطح پر نمائندہ کانفرنسوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے، جن میں ملک بھر کے متولیان، سجادہ نشین اور ارباب اوقاف کو مدعو کیا جائے۔ ان کانفرنسوں میں امید پورٹل سے متعلق مسائل، قانونی و دستاویزی تقاضوں اور متولیان کے حقوق و فرائض کے بارے میں تفصیلی رہنمائی فراہم کی جائے اور اوقاف کے تحفظ کے لیے ملک گیر سطح پر ایک متحدہ لائحہ عمل مرتب کیا جائے.
مزید برآں یہ مجلس تمام صوبائی اور مقامی اکائیوں کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ ضلعی اور علاقائی سطح پر متولیان اور وکلاء کی مشترکہ کانفرنسیں منعقد کریں۔ ہر ضلع میں "تحفظ اوقاف لیگل ڈیسک” قائم کیا جائے، تاکہ مقامی سطح پر وقف املاک سے متعلق مسائل، ناجائز قبضوں، قانونی تنازعات اور بالخصوص ریونیو ریکارڈ میں اندراجات کی درستی (Mutation) کے معاملات کا فوری جائزہ لے کر ضروری قانونی اقدامات کیے جاسکیں.
(۷) فتنہ ارتداد کا انسداد، تحفظ ایمان اور اصلاح معاشرہ کے لئے تجویز
منظور کردہ اجلاس مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند بتاریخ ۳۰-۳۱ اکتوبر ۲۰۲۶، بمقام نوح میوات
جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس ملک کے موجودہ دینی، تعلیمی، سماجی، تہذیبی اور فکری حالات کے تناظر میں نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت، ایمان و عقیدے کے تحفظ اور اسلامی شناخت کے استحکام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتا ہے۔ اجلاس محسوس کرتا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کا دینی تعلیم و تربیت سے دور ہونا، جدید تعلیمی ماحول میں مناسب دینی رہنمائی کا فقدان، الحاد و دہریت سے متعلق شکوک و شبہات اور خاندانی انتشار جیسے مسائل سنجیدہ توجہ کے متقاضی ہیں۔ ان چیلنجوں سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ دینی تعلیم، فکری رہنمائی، کھیلوں کی سرگرمیوں اور اصلاح معاشرہ کے کاموں کو ایک جامع اور مربوط نظام کے تحت انجام دیا جائے.
اس مقصد کے لیے اجلاس تجویز کرتا ہے:
- جمعیۃ علماء ہند کی مرکزی، صوبائی، ضلعی اور مقامی یونٹوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مکاتب قائم کیے جائیں اور پہلے سے موجود مکاتب کو منظم و فعال بنایا جائے، خاص طور پر اسکولوں میں زیر تعلیم صد فیصد مسلم بچوں کو بھی بنیادی دینی تعلیم، اسلامی عقائد، سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور اخلاقی تربیت حاصل ہو سکے۔
- اس کے ساتھ مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں کے تعاون سے اسکول ٹیوشن اور اسٹڈی سینٹرز کا منظم نظام قائم کیا جائے، جہاں طلبہ کو عصری مضامین میں تعلیمی معاونت کے ساتھ دینی و اخلاقی رہنمائی بھی فراہم کی جائے۔ نیز ہر بستی میں ایک چھت کے نیچے تعلیم کا ایسا ماڈل قائم کیا جائے، جس میں دن کے وقت اسکول اور شام کے وقت مکتب کا نظم ہو۔
- نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی اور اخلاقی نشو و نما کے لیے جمعیۃ یوتھ کلب اور متعلقہ شعبوں کے ذریعے کھیلوں کے میدان، اسپورٹس مقابلوں اور دیگر تعمیری سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے تاکہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دی جاسکے اور ان میں نظم و ضبط، صحت مندانہ مسابقت اور خدمتِ خلق کا جذبہ پروان چڑھے۔
- کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم مسلم طلبہ وطالبات کی دینی و اخلاقی تربیت اور رہنمائی کے لیے ان تعلیمی اداروں کے قریب مناسب سہولتوں کے ساتھ ہاسٹل قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے۔ اس سلسلے میں والدین، اہل خیر اور تعلیمی اداروں کے تعاون سے مرحلہ وار اقدامات کیے جائیں اور رہائشی مراکز میں تربیتی نشستوں، مطالعے، دینی رہنمائی اور تعلیمی معاونت کا باقاعدہ نظم بنایا جائے۔ نیز غریب اور خوددار خواتین کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی عملی جدوجہد کی جائے۔
- اسی طرح اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں پیدا ہونے والے فکری سوالات اور شبہات کے ازالے کے لیے اہل علم اور جدید علوم سے واقف ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں۔ طلبہ اور اسکولوں میں تدریسی خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے لیے تحفظ ایمان کے موضوع پر ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے اور معیاری علمی و تربیتی مواد تیار کیا جائے۔
- اصلاح معاشرہ کے تحت والدین کی تربیت، خاندانی استحکام، خاندانی مشاورت (فیملی کونسلنگ) اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو عام کرنے کے لیے مسلسل سرگرمیاں جاری رکھی جائیں اور ضلعی سطح پر فیملی تربیتی مراکز قائم کیے جائیں۔
مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند تمام اکائیوں، علماء، ائمہ مساجد، اساتذہ، والدین اور اہل خیر سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول میں اپنا بھرپور تعاون پیش کریں اور نئی نسل کے ایمان و عقیدے کے تحفظ، دینی و عصری تعلیم کے فروغ اور اخلاقی و سماجی اصلاح کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ اللہ تعالیٰ اس جدوجہد کو کامیاب کرے اور نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین.
(۸) تنظیمی اکائیوں کو مضبوط و مستحکم کرنے اور جمعیۃ علماء کے تعمیری پروگراموں کے مؤثر نفاذ پر تجویز
منظور کردہ اجلاس مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند بتاریخ ۳۰-۳۱ اکتوبر ۲۰۲۶، بمقام نوح میوات
جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس اس حقیقت کو پوری اہمیت کے ساتھ محسوس کرتا ہے کہ کسی بھی جماعت کی ہمہ جہت ترقی اور اس کے مقاصد کی تکمیل کا انحصار تنظیمی مضبوطی، مقامی اکائیوں کی فعالیت، کارکنان کی تربیت اور طے شدہ پروگراموں کے مؤثر نفاذ پر ہوتا ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر جمعیۃ علماء ہند کے دستور اساسی میں تعمیری پروگراموں کو جگہ دی گئی ہے.
جمعیۃ علماء ہند کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ اس نے اپنے کارکنان میں اجتماعیت، عہدے داران میں احساس ذمہ داری، وابستگان میں خدمت خلق کا جذبہ اور معاشرے میں اصلاح و تعمیر کا شعور پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کی ہے۔ تاہم ان مقاصد کے مؤثر حصول کے لیے ضروری ہے کہ تعمیری پروگراموں کو ایک منظم اور مربوط جماعتی تحریک کی شکل دی جائے، جس میں مرکزی، صوبائی، ضلعی اور مقامی اکائیاں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور ان کے درمیان رابطے، تعاون اور جواب دہی کا مؤثر نظام قائم ہو.
مجلس منتظمہ اس مقصد کے لیے درج ذیل تجاویز پیش کرتی ہے:
- مرکزی، صوبائی، ضلعی، شہری اور مقامی اکائیاں دستور اساسی میں متعین اپنی ذمہ داریوں کے مطابق تعمیری پروگراموں کے نفاذ کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ہر اکائی اپنے وسائل، مقامی ضروریات اور دستیاب افرادی قوت کو سامنے رکھتے ہوئے سالانہ منصوبہ عمل مرتب کرے اور اس پر باقاعدگی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ اس مقصد کے لیے مرکزی سطح سے ضروری تربیت یافتہ افرادی قوت اور منصوبہ بندی و نگرانی کے مؤثر ذرائع فراہم کیے جارہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام تنظیمی اکائیاں اس نظام سے وابستہ ہوں اور تنظیمی استحکام و تعمیری پروگراموں کے مؤثر نفاذ کے لیے بھرپور کوشش کریں۔
- ملک کے تمام علاقوں، قصبات، شہروں اور دیہات میں جمعیۃ علماء ہند کی تنظیمی توسیع پر خصوصی توجہ دی جائے۔ جہاں تنظیمی اکائیاں قائم نہیں ہیں، وہاں دستور وضوابط کے مطابق نئی اکائیاں قائم کی جائیں اور موجودہ اکائیوں کو فعال بنایا جائے۔ صوبائی اور ضلعی جمعیتیں اس مقصد کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کریں اور مخلص، فعال اور خدمت کے جذبے سے سرشار ایسے افراد کو رفیق کے طور پر تنظیم سے وابستہ کریں جو جماعت کے مقاصد اور تعمیری پروگراموں کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
(۹) عالم اسلام کی صورت حال اور فلسطین کے مسائل پر تجویز
منظور کردہ اجلاس مجلس منتظمہ جمعیۃ علماء ہند بتاریخ ۳۰-۳۱ اکتوبر ۲۰۲۶، بمقام نوح میوات
جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس عالم اسلام کے متعدد ممالک پر چھائے ہوئے جنگ کے بادل اور دہائیوں سے جاری فلسطین کے مسائل پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے.
حقیقت یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی عیاری اور مسلم حکمرانوں کی کوتاہ اندیشی کے نتیجے میں اکیسویں صدی کے آغاز بلکہ بیسویں صدی کے آخر سے دنیا کی زیادہ تر جنگیں اسی خطے پر مسلط ہوئی ہیں جن کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ گزشتہ پندرہ بیس سالوں میں اکثر مسلم ممالک کے نظام کو تہہ و بالا کر دیا گیا، جس کے گہرے اثرات پورے خطے اور بالخصوص فلسطین کے مسئلے پر مرتب ہوئے، حالیہ ایران امریکہ جنگ میں بھی سارا نقصان مسلم ممالک کا ہوا ہے اور یہی حال سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری جنگ کا بھی ہے.
اس صورت حال کے نتیجے میں مسلم ممالک کے امن و استحکام اور معاشی ترقی کو شدید خطرات لاحق ہوئے ہیں جس کے اثرات ساری دنیا کے مسلمانوں پر پڑتے ہیں.
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ظلم کے نئے نئے تجربے کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ 7 اکتوبر 2023ء میں شروع ہونے والا غزہ کا المیہ اس کی بدترین مثال ہے، جس میں 75000 سے زائد لوگ شہید، دو لاکھ کے قریب زخمی اور بیس لاکھ لوگ بے گھر ہوئے، اور اس کے بعد بھی حسب معمول اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں ناجائز اسرائیلی آبادیاں قائم کرنے کے ساتھ، بے شمار زیادتیوں، قتل و غارت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے.
اس صورت حال میں یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے:
- عالم اسلام میں فوری اور مؤثر جنگ بندی نافذ کی جائے، شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے اور تمام فریق، اشتعال انگیزی اور فوجی کارروائیوں سے گریز کریں اور عالمی طاقتیں اس سلسلے میں ایماندارانہ کردار ادا کریں۔
- مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل کی طرف سنجیدہ پیش قدمی شروع کی جائے اور اس مقصد کے لیے ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔ اسرائیلی آباد کاری کے بڑھتے ہوئے سلسلے کو روکا جائے اور اسرائیل کو اس کے جنگی جرائم کی قرار واقعی سزا دی جائے۔
- مسجد اقصی اور تمام مقامات مقدسہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے، غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں سے اجڑے ہوئے لوگوں کی بازآباد کاری کے لیے اقدامات کیے جائیں اور وہاں ہر قسم کی امداد پہنچنے کا راستہ ہموار کیا جائے۔
(۱۰) تجویز تعزیت
منظور کردہ اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ، بمقام ڈی ایل ایف اسپرنگ فیلڈ، سہسولا پٹی، پیپاکا-میوات بتاریخ ۳۰-۳۱ اکتوبر ۲۰۲۶ء
جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس ملک و بیرونِ ملک کی مقتدر، جلیل القدر اور اہم شخصیات کے سانحہ ارتحال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے اور ان سبھی حضرات کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے دعا کرتا ہے:
بالخصوص شیخ المشائخ حضرت مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی، حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء، حضرت مولانا محمد زین العابدین رشادی مظاہری مہتمم دار العلوم مظاہری، حضرت مولانا شاہ ولی اللہ بنگلور کرناٹک، حضرت مولانا عبد اللہ مغیثی صدر آل انڈیا ملی کونسل، ڈاکٹر منظور عالم جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل، حضرت مولانا پیر سید مختار الدین شاہ صاحب شیخ الحدیث جامعہ زکریا کبوغہ شریف، حضرت مولانا صغیر احمد رشادی (امیر شریعت کرناٹک)، الحاج ماسٹر سید ذاکر حسین صاحب کاظمی (مہتمم جامعہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ و سابق صدر جمعیۃ علماء شہر امروہہ)، حضرت مولانا محمد سالم قاسمی مہتمم جامعہ اسلامیہ دار العلوم زکریا مراد آباد، قاضی شہر حضرت مولانا محمد زین العابدین قاسمی صدر جمعیۃ علماء ضلع بلند شہر، حضرت مولانا محمد ایوب پالن پوری، حضرت مولانا محفوظ الرحمن قادری نقشبندی مجددی بہار، حضرت مولانا محمد ریاض الحسن ندوی استاذ مظاہر علوم وقف سہارنپور، حضرت مولانا داؤد صاحب کھیپی بولٹن، حضرت مولانا ہاشم صاحب کوثری کے پی، حضرت ابو بکر کیرالہ، حضرت مولانا رئیس الدین قاسمی مہتمم دار العلوم امدادیہ پھلو دی، حضرت پیر زادہ رئیس میاں چشتی (سابق سجادہ نشین درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتی آگرہ)، حضرت مولانا عارف ابراہیمی، جناب راشد سعید دہلوی، جناب محمد حنیف بھائی گجرات، جناب اللہ بخش بھائی واسکو، جناب سید بدر الاسلام میرٹھ، مولانا محمد نعمان، حاجی محمد گلفام (مظفر نگر)، الحاج مکہ ارشاد، حاجی منعام چلمل، ملا شوکت پرتاپ گڑھ، جناب شاہد جنگ کاندھلہ، ماسٹر زبیر (آسنسول)، قاری علاء الدین (ظہور آباد)، جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش کے چار مخلص ارکان و علمائے کرام جو دینی تعلیمی بورڈ کے اجلاس سے واپسی پر سڑک حادثے میں شہید ہوئے، اور جناب محمد وکیل (شیو وہار دہلی).
نیز درج ذیل خواتین کے انتقال پر కూడా تعزیت پیش کی جاتی ہے: والدہ مرحومہ جناب مولانا عبد الواحد کھتری، والدہ مرحومہ مولانا سید احمد بخاری، والدہ مرحومہ پروفیسر ڈاکٹر فیضان مصطفیٰ، والدہ مرحومہ جناب الحاج محمد یوسف دہلی، والدہ مرحومہ مفتی عبد القدیم (مہتمم جامعہ عربیہ خادم الاسلام ہاپوڑ)، والدہ مرحومہ مولانا محمد ہاشم بالوترا، والدہ مرحومہ مولانا عبد الرحیم ایبانی، والدہ مرحومہ ماسٹر محمد یامین انصاری (سمس پور)، دادی مرحومہ مولانا مفتی عبد المالک (مالیر کوٹلہ، پنجاب)، دادی اہلیہ محترمہ جناب شاہ عمیر رانچی، اہلیہ مرحومہ مولانا عبد الرحمن پرتاپ گڑھی، اہلیہ مرحومہ جناب مولانا عابد قاسمی (صدر جمعیۃ علماء ضلع بلند شہر)، اہلیہ مرحومہ مولانا قاری کمال (نائب صدر جمعیۃ علماء ضلع ہاپوڑ)، اہلیہ مرحومہ جناب مولانا محمد طاہر مظاہری (سابق آرگنائزر جمعیۃ علماء ہند)، اہلیہ مرحومہ جناب اقبال بھائی عثمانی نوساری گجرات، اہلیہ مرحومہ شکیل بھائی (شاہ پور مظفر نگر)، اہلیہ مرحومہ جناب حبیب اللہ (جدو پور، اڈیشہ)، اہلیہ مرحومہ جناب حکیم خورشید (بریلی)، اہلیہ مرحومہ مولانا محمد ایوب (نوح)، اہلیہ مرحومہ جناب عبد اللہ باپو (برطانیہ)، اہلیہ مرحومہ جناب ڈاکٹر نواز دیوبندی (معروف شاعر و ادیب)، ہمشیرہ مولانا سعید احمد (منی پور)، عرفان بھائی، اور مفتی عبد المومن صدر جمعیۃ علماء تری پورہ کی دو بہنیں اور ایک بہنوئی.
دعا ہے کہ اللہ رب العزت مذکورہ بالا تمام شخصیات کی قبروں کو اپنے نور سے منور فرمائیں، ان کی لغزشوں سے درگزر فرما کر حسنات کو شرف قبولیت بخشیں، جملہ پسماندگان و متعلقین کو صبر جمیل اور اجر عظیم عطا فرمائیں اور تمام مرحومین و مرحومات کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائیں (آمین یارب العالمین).

















