مولانا عبدالحمید نعمانی
بھارت میں دوطرح کی سوچ کے حامل عناصر سرگرم عمل رہے ہیں،ایک تو وہ جو بھارت جیسے ملک کی مختلف آبادیوں کے پیش نظر اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے، اس میں فرقہ وارانہ اتحاد کو دائمی ضرورت سمجھتے ہوئے سرگرم عمل رہے ہیں تو دوسری قسم کے افراد وہ ہیں جو اپنے طبقاتی تفوق اور اپنے خصوصی مقاصد و عزائم کو پورا کرنے کے لیے فرقہ وارانہ انتشار و سماجی تفریق و تقسیم کو اپنی ضرورت سمجھتے ہوئے سرگرم عمل رہے ہیں، یہ دونوں طبقے ہمیشہ سے رہے ہیں، تاہم اتحاد پسند طبقے والے، منفی سوچ والے طبقے پر حاوی ہونے کی وجہ سے ملک کی متنوع روایات کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہے ہیں ان کے ساتھ عوام کی اکثریت بھی رہی ہے، جس کے سبب انتشار پسند طاقتوں کو سماج پر حاوی و غالب ہونے کا موقع نہیں ملا، اس صورت حال نے بھارت کے تنوعات کو باقی رکھتے ہوئے ایک مخصوص قسم کی متحدہ قومیت کے نظریے کے تحت فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر مبنی ایک ملواں تہذیب والا معاشرہ بنانے میں اہم رول ادا کیا، عہد وسطی میں بھی ابتدائی جنگی مقابلہ آرائی کے باوجود عوامی سطح پر کوئی بڑا بکھراؤ پیدا نہیں ہوا، اقتداری گروہ کے جنگی تصادم کے بعد جب مختلف مذہبی اکائیوں اور سماجی گروہوں کا ملن ہوا اور باہمی قربت ہوئی تو روایتی اختلافات کے باوجود بھی مل جل کر زندگی گزارنے کی راہ پیدا کر لی گئی اور اتحاد پسند باشندوں نے کثرت میں وحدت کا ایک خوب صورت نمونہ پیش کیا، یہ نمونہ آج بھی ملک کے مختلف حصوں میں موجود ہے، اس کے باوجود کہ سیاسی مقاصد والے عناصر سماجی ہم آہنگی کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے ہیں، ہندو مسلم اقتداری گروہوں میں اقتداری تفوق کے لیے باہمی مقابلہ آرائی کے باوجود مختلف فرقوں کے عوام فرقہ وارانہ نفرت سے دور و نفور رہے ہیں، اس سلسلے میں فرقہ پرست عناصر فرقہ وارانہ ٹکراؤ کی جو کہانیوں سناتے ہیں وہ سراسر بے بنیاد اور من گھڑت ہیں، مہارانا پرتاپ اور شیوا جی کے حوالے سے بھی جو ہندوتو اور اسلام، مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان کشمکش کی کہانیوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے، وہ پوری طرح بعد کے برہمن وادیوں کی دماغی اختراعات ہیں، اس کی ابتدا برٹش سامراج کے دور میں بنگال میں اس کے گماشتوں کے ذریعے کی گئی تھی، برطانوی دور حکومت میں سامراجی مقاصد کے لیے ماضی میں مختلف فرقوں کے درمیان جس قسم کی نفرت اور دوریاں دکھانے کا کام کیا گیا تھا ان کو آج کی تاریخ میں دور کرنا ایک جمہوری مہذب معاشرے کی تشکیل اور بھارت کی نیک نامی اور ترقی و استحکام اور بہتر شبیہ بنانے کے لیے ضروری ہے، اس کی سمت میں آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد کے دنوں میں، انتشار پسند قوتوں کی سرگرمیوں کے باوجود، مختلف سطحوں پر کوششیں اور پیش رفت ہوئی ہے، متحدہ ہندستان کو باقی رکھنے یا کم از کم تقسیم وطن کے بعد بھی مختلف فرقوں میں مل جل کر رہنے کے ذہن و جذبہ پروان چڑھانے کے لیے اتحاد پسند گاندھی، آزاد، مدنی جیسے رہنما کوشاں رہے ہیں، گاندھی جی اس کے لیے سرگرم تھے کہ تقسیم وطن کے بعد بھی پڑوسی ممالک کے درمیان ایسا ماحول بنا رہے کہ منقسم باشندوں اور خاندانوں کا رشتہ قائم رہے، اس مقصد کو لے کر گاندھی جی فروری ماہ میں پاکستان جانا چاہتے تھے، یہ فرقہ پرست خصوصا ہندوتو وادی طاقتوں کو کسی قیمت پر قابل قبول نہیں تھا، ان کے نمائندے گوڈسے جس نے قابض انگریزوں پر ایک کنکر تک نہیں پھینکی تھی نے جنوری ماہ میں ہی تین گولیاں مار کر اہنساوادی گاندھی جی کو اپنی راہ سے ہٹا دیا، اس کا مقصد اس کے سوا کچھ اور نہیں تھا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی و اتحاد پیدا نہ ہونے پائے، یہ افسوس ناک ہے کہ اس ذہنیت کے افراد بھارت میں مختلف شعبہ ہائے حیات پر حاوی ہوتے جا رہے ہیں، یہ دکھاوا اور منافقت عروج پر ہے کہ گاندھی جینتی پر فرقہ واریت کو فروغ دینے والے بھی گاندھی جی کے حضور سر جھکاتے نظر آتے ہیں لیکن دائیں بازو کی شدت پسند ہندوتو وادی عناصر کے لیے سر اٹھانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے اور ان کی سرپرستی بھی کی جا رہی ہے، گری راج سنگھ ،نند کشور گجر اور دیگر لیڈر اور نام نہاد دھرم گرو تک کھلے عام کہتے ہیں کہ بھارت صرف ہندوؤں کا ہے، مسلمانوں کا یہاں کوئی حق و اختیار نہیں ہے جب کہ گاندھی جی پوری قوت سے کہتے ہیں "مسلمانوں سے دشمنی کرنا، بھارت سے دشمنی کرنا ہے ،پاکستان بننےکےبعدبھارت میں مسلمان بہت مشکل صورت حال میں مبتلاہوگئےہیں، ،اب یہ کام اکثریتی فرقہ کا ہے کہ ان کے ساتھانصاف کرے ہندودھرم اور اکثریتی فرقہ کی بربادی ہو گی اگر اکثریتی فرقہ اقتدار کے نشہ کی حالت میں یہ سمجھ لے کہ وہ اقلیت کو کچل سکتاہے اور ایک خالص ہندو راج قائم کرسکتاہے ” (ہریجن 1/فروری 1948) لیگی فرقہ پرست اور ہندوتو وادی فرقہ پرست دونوں گاندھی جی کو کاٹ چھانٹ کر اور آدھا ادھورا پیش کرتے ہیں ،اتحاد پسند ہندو مسلم گاندھی، نہرو، آزاد رح مدنی رح جیسے رہنماؤں کو آج کی تاریخ میں از سر نو وسیع تر تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے، ان کے نزدیک فرقہ وارانہ مسائل کو لے کر پیدا شدہ اختلافات کے باوجود ساتھ ساتھ رہنے کی پوری امید ہے، وہ ایمان داری سے سمجھتے تھے کہ فرقہ وارانہ علیحدگی اور وطن کی تقسیم کی کوشش، مایوسی کی پیدا وار ہے، وہ یہ بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ مایوسی کی کوئی حد نہیں ہوتی ہے ،تقسیم و تفریق مسائل پیدا کرتی ہے نہ کہ مسائل کا حل، اشفاق اللہ خان کے قریبی رشتہ دار ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہاں پوری، حالات کے جبر کا شکار ہو کر پاکستان چلے گئے تھے لیکن انہوں نے کئی ملاقاتوں میں اس احساس کا اظہار کیا کہ دو قومی نظریہ کے تحت ملک کی تقسیم نے کئی سارے مسائل و مشکلات پیدا کیے ہیں، پاکستان میں رہتے ہوئے بھی انھوں نے اور نور محمد قریشی ایڈووکیٹ، محمد فاروق قریشی ایڈووکیٹ وغیرہم نے جناح اور لیگ کے موقف اور فرقہ وارانہ علیحدگی کے خلاف اپنی آراء کے اظہار کی جرآت کی، ڈاکٹر شاہ جہاں پوری نے حضرات شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رح، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رح، مفتی اعظم ہند مولانا کفایت اللہ رح، مولانا احمد سعید دہلوی رح، مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن رح، مولانا آزاد رح، امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی رح وغیرہم کے سیاسی افکار و حالات پر مطالعے پیش کیے ہیں، 8/جلدوں پر مشتمل شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کی سیاسی ڈائری کے نام سے لا جواب کتاب لکھی ہے، اس سے فرقہ وارانہ اتحاد کی اہمیت و معنویت ثابت ہوتی ہے، اگر اتحاد پسند اکابر کے نظریہ متحدہ قومیت، متحدہ ہندستان ، فرقہ وارانہ اتحاد اور ان کے افکار و حالات کا مطالعہ، ہندوتو وادی لیڈروں، ڈاکٹر مونجے، ساورکر، ڈاکٹر ہیڈ گیوار، گرو گولولکر، بھائی پرما نند سوامی دیانند، سوامی سردھا نند وغیرہم کے افکار و حالات زندگی کی روشنی میں کیا جائے تو کئی ایسے مسائل اور فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کے پہلو سامنے آئیں گے، جن سے آج کے ہندوتو وادیوں کے مفروضہ بیانیے کی حقیقت ظاہر ہو جائے گی اور ہندستانی عوام کو معلوم ہو گا کہ جو شریک سفر نہیں تھے ان کو منزل کیسے مل گئی ،وہ آج اقتدار کی کرسی پر براجمان ہو کر اتحاد پسند مجاہدین آزادی کے خوابوں کے ہندستان کو کس کس طریقے سے برباد کر رہے ہیں، مجاہدین آزادی کے حالات و خدمات کا یک طرفہ مطالعہ کے بجائے انتشار پسند فرقہ پرست لیڈروں کے حالات کے پیش نظر تقابلی مطالعہ آج کی بڑی ضرورت اور وقت کا آہم تقاضا ہے، اس پر مواد کی کمی نہیں ہے، بس تھوڑی محنت و توجہ سے منتشر باتوں کو ترتیب سے یکجا کر کے سامنے لانے کی ضرورت ہے، بھارت جیسے مختلف مذہبی اکائیوں اور سماجی گروہوں والے ملک میں مولانا آزاد رح، مولانا مدنی رح جیسے رہ نماؤں کو پختہ یقین تھا کہ یہاں فرقہ وارانہ اتحاد، ایک مستقل و دائمی ضرورت ہے، اس کے خلاف انتشار پسند طاقتوں کا سماج پر غلبہ ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے، ساورکر، جناح، صحیح معنی میں مذہبی آدمی نہیں تھے لیکن مذہبی و تہذیبی راستے اور فرقہ کے نام پر فرقہ وارانہ علیحدگی پر مبنی ریاست کی تشکیل کے حامی و داعی بن کر سامنے آئے، ان کے بر خلاف گاندھی جی، مولانا آزاد رح، مولانا مدنی رح پوری طرح مذہبی تھے لیکن وہ مذہب کی بنیاد پر سماجی تقسیم اور مذہب و فرقہ وارانہ شناخت پر مبنی نہ ریاست کی تشکیل کے حق میں تھے نہ ثقافتی و وطنی تقسیم پر مبنی قومیت کے حامی تھے، سیکولر ازم کے مثبت معنی کہ حکومت تمام مذاہب کا یکساں احترام و لحاظ کرے گی، یہاں پنڈت نہرو بھی ان کے ساتھ ہو جاتے ہیں، اس سے ہندوتو وادی عناصر کی طرف سے ان کی مخالفت و مذمت کی وجہ کو سمجھنا کوئی زیادہ مشکل نہیں رہ جاتا ہے، سیکولر جمہوری بھارت میں فرقہ پرستوں اور فرقہ وارانہ سیاست کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، اس کی طرف گاندھی جی نے متوجہ کرتے ہوئے لکھا ہے
"ریاست بلا شبہ غیر مذہبی ہونا چاہیے، ہر شخص کو جو اس کے اندر رہتا ہے، یہ حق ہونا چاہیے کہ بغیر کسی رکاوٹ کے، اپنے مذہب کی پیروی کرے، جہاں تک اس میں ملک کے عام قوانین کی خلاف ورزی نہ ہو، تبلیغی سرگرمیوں میں مداخلت نہ کی جائے، مگر کسی تبلیغی مشن کو حکومت کی سرپرستی حاصل نہ ہو،( جریدہ ہریجن 2/اگست 1931 )
اس کے برخلاف ہندوتو وادی ذہنیت کی حامل مرکزی و ریاستی سرکاریں ہندستانی تہذیب و روایات کے نام پر ہرہمن وادی ہندوتو کو ملک کے تمام باشندوں پر لادنے میں پوری تن دہی سے لگی ہوئی ہیں، شدت پسند ہندوتو وادی عناصر کی سرگرمیوں کو حکومتوں کی سرپرستی حاصل ہے، اس کا خطرہ و خدشہ گاندھی جی کو تھا کہ فرقہ پرست، مذہب و فرقہ کے نام پر اقتداری طاقتوں کا غلط استعمال کریں گے، اس لیے وہ مختلف مذہبی اکائیوں و گروہوں والے ملک بھارت میں غیر مذہبی ریاست کی تشکیل کی حمایت کرتے ہیں، یوگی آدتیہ ناتھ کھلے عام کہتے ہیں کہ سناتن کے موافق جو ہو گا وہ کیا جائے گا، ان کے نزدیک سناتن کا معنی ہندو فرقہ پرستی ہے ،ورنہ اردو بازار کو ہندی بازار، علی نگر کو بجرنگ بلی نگر میں بدلنے کا اور کیا مطلب ہو سکتا ہے، حالاں کہ اردو، ہندی اور علی، بجرنگ بلی میں اصلا کوئی ٹکراؤ نہیں ہے، فرقہ واریت پھیلانے کے لیے ہنومان کے نام کا استعمال اس کے کردار کو مجروح کرنے کی مذموم سعی ہے، ہندستانی روایت میں ہنومان ایک مخصوص کردار ہے، اس کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں ہے، گاندھی جی انصاف پر مبنی ریاست کی حمایت کرتے ہیں، حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رح نے وطنی نسبت پر مبنی متحدہ قومیت کا تصور پیش کرتے ہوئے فرقہ وارانہ اتحاد کی بڑی بنیاد فراہم کی ہے، اس سلسلے کے کئی اہم نکات ،علامہ انور شاہ کشمیری رح اور مولانا آزاد رح نے بھی پیش کیے ہیں، مولانا آزاد رح نے براہ راست سیاست و حکومت کا حصہ ہونے کے ناتے فرقہ وارانہ اتحاد کے لیے جو جد وجہد کی ہے، اس سے رہ نمائی و روشنی لے کر انتشار پسند فرقہ پرست عناصر کی سرگرمیوں کی کامیاب مزاحمت کی جا سکتی ہے، اتحاد پسندوں کا مقدمہ و موقف بہت مضبوط ہے، بس اسے مضبوطی و تسلسل کے ساتھ پیش کر کے عوام کو اس سے جوڑنے کی ضرورت ہے، انتشار پسندی اور فرقہ پرستی بھارت کی متنوع روایات و روح کے لیے ناقابل قبول ہے، ملک کے باشندوں کے سامنے یہ سوال رکھنا ضروری ہے کہ وہ اتحاد کو اختیار کریں گے یا انتشار کی راہ پر چلیں گے؟














