بلاشبہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ پورے ملک کے تمام باشندے ایک قوم ہیں۔ میں بھی یہی کہتا ہوں کہ ایک قوم ہیں۔ لیکن اگر حقائق پر نظر ڈالی جائے، تو کیا یہ قول صحیح ہے اور کیا یہ دعویٰ اپنے اندر حقیقت رکھتا ہے؟
ہندستان میں کتنی زبانیں ہیں؟ کتنی تہذیبیں ہیں؟ اور کیا ہر ایک زبان کے بولنے والے اپنی تہذیب الگ نہیں رکھتے۔ اور زبان اور تہذیب کے اس معجون مرکب سے ان میں قومیت کے جذبات نہیں اُبھرتے اور کیا قومیت کے یہ جذبات ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہوتے؟ اور کیا تصادم ایسی صورت نہیں پیدا کردیتا کہ معلوم ہوتا ہے کہ پورا ملک ایک Èتش فشاں پر ٹکا ہوا ہے۔
اور کیا ایسا نہیں ہوتا ہے کہ عدل و انصافõ جو پوری نوع انسان کے لیے یکساں ہونا چاہیےõقومیت، یا گروہ بندی کے نام پر اس کے پیمانے الگ الگ ہوجاتے ہیں۔ گجراتی کا پیمانہ الگ، مرہٹی کا الگ، تامل الگ اور بنگالی الگ۔ اگر صورت حال یہی ہے اور جو کچھ کیا جارہا ہے، وہ Èئینہ حقیقت ہے، تو کیا ہندستانی قوم کی تعمیر و ترقی کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ ان جذبات کی رگوں کوõ جو قومیت سے متصادم ہیںõ کاٹا جائے۔ اور پوری قوم کے جذبات میں مساویانہ عدل و انصاف کی روح کار فرما بنائی جائے۔
مسلمانو! دوسروں سے شکوہ کرنے کے بجائے ہمیں خود اپنے اوپر افسوس کرنا چاہیے کہ ہمیں یہ احساس نہیں کہ اسلام اس تنگ نظر قومیت اور صحیح الفاظ میں اس تنگ دلانہ گروہ بندی کا کتنا مخالف ہے۔
بے شک شرک اور کفر بدترین چیز ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اسلام کو کفر و شرک سے شدید ترین نفرت ہے۔ لیکن واضح اور کھلی ہوئی حقیقت یہ ہے کہ کفر و شرک کی طرح اسلام اس تنگ نظر قومیت اور گروہ بندی کا بھی شدید ترین دشمن ہے۔ Èںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عصبیت جاہلیت فرمایا ہے، اور اس سے ایسی ہی نفرت فرمائی ہے کہ جیسے سڑی ہوئی چیز سے۔ ایک موقع پر Èپ نے عصبیت اور جاہلیت کے متعلق فرمایا: انہا منتنۃ۔(بہت ہی متعفن اور بدبودار چیز ہے)
ماخوذ از خطبۂ صدارت تئیسواں اجلاس عام منعقدہ: 5-6-7؍مئی 1972ء، صدر اجلاس حضرت مولانا عبدالوہاب آروی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند















