مذہب کے نام پر ہر ایک ناانصافی جائز سمجھی جاتی ہے۔ جو ہمارا ہم مذہب نہیں وہ گویا کسی انصاف کا مستحق نہیں؛ بلکہ بسا اوقات مذہبیت کا یہ لازمہ سمجھا جاتا ہے کہ غیر مذہب والوں کو انصاف سے مرحوم رکھیں اور اس کو ہر طرح کے ظلم و زیادتی کا تختہ¿ مشق بنائیں۔ مگر کلام الٰہی اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ اجازت درکنار، مذہب کے نام پر ظلم و زیادتی کو وہ دوہرا جرم قرار دیتا ہے۔ ظلم بذات خود جرم ہے اور مذہب کے نام پر ظلم ہو،تو قرÈنی تعلیم کا اشارہ یہ ہے کہ ایک ظالمانہ گٹھ جوڑ بن جاتا ہے، جو پہلے جرم سے کہیں زیادہ خطرناک اور ہول ناک ہوتا ہے۔
سیرت مبارکہ کا مشہور واقعہ ہے کہ سرورِ کائنات رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چودہ سو رفقا کے ساتھ مدینہ منورہ سے عمرہ کی غرض سے روانہ ہوئے ؛مگر جب مکّہ معظمہ کے قریب مقام حدیبیہ پر پہنچے، تو مکہ کے ارباب اقتدار مشرکین قریش نے اس جماعت کو Èگے بڑھنے سے روک دیا۔
مکہ پورے عرب کے لیے کھلا ہوا شہر مانا جاتا تھا۔ ہر ایک کو حق تھا کہ جب بھی وہ چاہے حرم میں داخل ہو۔ خانہ کعبہ کا طواف کرے۔ قریش حرم کے محافظ ضرور تھے؛ مگر ان کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ کسی کو حرم میں داخل ہونے سے روک سکیں۔ مشرکین قریش نے Èںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور Èپ کے چودہ سو عرب رفقا کو مکہ میں داخل ہونے سے روک کر صرف مسلمانوں پر ظلم نہیں کیا، بلکہ خود اپنے اصول کو پامال اور عرب کے متفقہ دستور و Èئین کی خلاف ورزی کی تھی۔
وہ ظالم و جابر قوم، جس کو خود اپنے اصول اور پوری قوم کے مسلمہ دستور کا پاس و لحاظ نہ ہو اور وہ ایک متفقہ دستور و Èئین کو پامال کرے، غور فرمائیے Èج مہذب سے مہذب قوم کے نفسیات بھی اس کے حق میں کیا ہوں گے، کیا ایک جابر اور ظالم قوم کے جبر و قہر اور ظلم کے مقابلہ میں جبر و قہر اور ظلم کو کیا جائز نہیں سمجھائے گا۔ لیکن یاد رکھیے اور خوب سمجھ لیجیے اسلام اس کو حرام سمجھتا ہے اور اس طرح کے اقدام کو ظالمانہ گٹھ جوڑ کی حوصلہ افزائی قرار دیتا ہے۔
قریش کے اس ظالمانہ اور جابرانہ رویہ کے سلسلہ میں مسلمانوں کو ہدایت کی جاتی ہے۔
وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أَن صَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَن تَعْتَدُوا وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَیٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْÊِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔ (المائدۃ: 2)
اور ایسا ہرگز نہ ہوکہ اس بنا پر کہ ایک گروہ نے تم کو مسجد حرام سے روک دیا تھا، اس کے حق میں زیادتی کرنے لگو۔ اس طرح ظلم کا سلسلہ دراز ہوگا اور تم غیر شعوری طور پر ظالموں کے مددگار بن جا¶ گے۔ حالاںکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ نیکی اور پرہیزگاری کے ہر کام میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور ظلم کی بات میں مدد نہ کرو۔ (اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے) اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ کا عذاب سخت ہوتا ہے۔
Èپ نے خیال فرمایا، اسلام کی تعلیم کیا ہے۔ انصاف، ہر موقع پر انصاف۔ خود اپنی ذات اور اپنے ذاتی مفادات کے مقابلہ میں انصاف۔ قریب سے قریب عزیز کے مقابلہ میں انصاف۔ فریق مخالف کے مقابلہ میں انصاف۔ قومی جذبات مشتعل ہوں، تب حریف اور دشمن قوم کے حق میں انصاف۔ مذہبی جذبات کو پامال کرنے والی قوم کے حق میں انصاف۔
ماخوذ از خطبۂ صدارت تئیسواں اجلاس عام منعقدہ: 5-6-7؍مئی 1972ء، صدر اجلاس حضرت مولانا عبدالوہاب آروی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند
















