مفتی خالد حسین نیموی قاسمی:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نئی کتاب
نام کتاب: شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)
مصنف: مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی، پرنسپل مدرسہ بدر الاسلام، بیگوسرائے، بہار
تعداد صفحات: 336
قیمت: 400 روپے
اشاعت: 1448 ہجری مطابق 2026 عیسوی
ناشر: سید مصباح الدین اشرف، ناظم جامعہ شیخ محسن خضر چک، برونی، بیگوسرائے، بہار
رابطہ: 9905387547
تعارف نگار: اشتیاق احمد قاسمی مدرس دارالعلوم دیوبند
ہندوستان کی سرزمین نے علوم و معارف کے ایسے بے شمار آفتاب و ماہتاب پیدا کیے ہیں جن کی ضیاپاشیوں سے نہ صرف ہندوستان کا علمی افق روشن ہوا، بلکہ عالمِ اسلام کے دور دراز خطوں نے بھی ان کے انوار سے کسبِ فیض کیا۔ انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں ہندوستان کے عظیم محدث، فقیہ، محقق، مورخ، خطیب، ادیب اور فلسفی، علامہ شیخ محمد محسن ترہتی رحمۃ اللہ علیہ کا نام نہایت عظمت و وقار کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ وہ اسماء الرجال کے فن کے جلیل القدر ماہر اور علمِ حدیث کے ایک باکمال خادم تھے۔ ان کا تعلق خضر چک، بیگوسرائے سے تھا، جو قدیم خطۂ تِرہُت کا ایک حصہ شمار ہوتا تھا؛ اسی نسبت سے وہ ’’تِرہُتی‘‘ کہلائے۔
بیگوسرائے قدیم زمانے میں ضلع مونگیر کا حصہ تھا اور خضر چک کا تعلق سرکارِ ترہت سے بیان کیا گیا ہے۔ قدیم ترہت کی حدود کے بارے میں ’’از گنگ تا سنگ‘‘ کی تعبیر بھی منقول ہے؛ یعنی گنگا سے ہمالیہ کے دامن تک پھیلا ہوا وسیع خطہ۔ دربھنگہ، مدھوبنی، سمستی پور، مظفرپور، بیگوسرائے وغیرہ کے علاقے اس وسیع خطے سے وابستہ رہے ہیں۔ صوبۂ بہار کا یہ خطہ ہمیشہ سے مردم خیز اور علم پرور رہا ہے۔ یہاں بڑے بڑے محدثین، فقہاء، ادباء، اہلِ قلم اور اولیائے کرام پیدا ہوئے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف اس خطے کے لیے ’’بلد العلماء‘‘ کی تعبیر منسوب کی جاتی ہے۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا بھی بہار کی طرف سفر کا ذکر ملتا ہے، جب کہ حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کا نام تو اس سرزمین کی روحانی و علمی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔
علامہ محسن ترہتی رحمۃ اللہ علیہ نے علمِ حدیث کے فروغ اور اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے والد محترم نے ان کی علمی تربیت پر غیر معمولی توجہ دی اور ان کے لیے تحصیلِ علم کے ایسے اسباب فراہم کیے جو اس دور میں ہر شخص کو میسر نہ تھے۔ چنانچہ انہیں عظیم آباد، جو موجودہ پٹنہ کا قدیم نام ہے، بھیجا گیا؛ پھر کلکتہ، خیرآباد، رام پور، کان پور اور دہلی کے علمی مراکز میں انہوں نے علومِ دینیہ کے مختلف شعبوں سے استفادہ کیا۔ بعد ازاں حرمین شریفین کی طرف روانہ ہوئے، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے شیوخ سے فیض اٹھایا، قاہرہ میں بھی علوم حاصل کیے اور استنبول، جسے قدیم زمانے میں قسطنطنیہ کہا جاتا تھا، تک علمی سفر کیا۔ اس طرح ہندوستان سے حجاز، مصر اور ترکی تک کا یہ علمی سفر ان کے علمی ذوق، جستجو اور طلبِ علم کی وسعت کا آئینہ دار ہے۔
تحصیلِ علم کے بعد جب ان کے علمی کمالات پختہ ہوئے تو انہیں حرمِ مکی میں درسِ حدیث کی خدمت کا موقع ملا۔ حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کو والہانہ تعلق تھا اور علمِ اسناد کے ذخائر سے انہیں خاص شغف تھا۔ اسی ذوق نے انہیں اس امر پر آمادہ کیا کہ شیخ عبدالغنی مجددی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے مشائخ و اسانید کے احوال کو ایک جامع علمی قالب میں محفوظ کریں۔ چنانچہ انہوں نے ’’الیانع الجنی فی اسانید الشیخ عبد الغنی‘‘ جیسی گراں قدر کتاب تصنیف کی، جو علمِ اسناد اور علمِ اثبات کے باب میں ایک نہایت اہم علمی ذخیرہ ہے۔
خود علامہ محسن رحمۃ اللہ علیہ نے اس کتاب میں اپنے علمی مصادر و مراجع کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہیں متقدمین و متاخرین ائمہ حدیث کی نہایت وقیع، نافع اور گراں قدر کتابوں سے استفادہ کا موقع ملا؛ چنانچہ امام خطابی، امام نووی، حافظ عراقی، حافظ ابن حجر عسقلانی، علامہ سیوطی، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، ان کے فرزند ارجمند شاہ عبدالعزیز دہلوی، علامہ عابد سندھی، امام شوکانی، علامہ فلانی فاسی اور دیگر اکابر اہلِ علم کی تصانیف کو پیشِ نظر رکھ کر یہ کتاب مرتب کی۔
اسی طرح وہ اپنی تحقیق کے منہج کے بارے میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے صحت و تحقیق کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا اور احتیاط و تدقیق میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی؛ اس لیے انہیں امید ہے کہ جو شخص ان مباحث میں سے کسی بات پر اعتماد کرے گا، ان شاء اللہ اسے اطمینان حاصل ہوگا اور وہ اسے قابلِ اعتماد پائے گا۔ یہ الفاظ مصنف کی علمی دیانت، تحقیقی احتیاط اور ذمہ دارانہ طرزِ تصنیف کا واضح ثبوت ہیں۔
علامہ محسن ترہتی رحمۃ اللہ علیہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہم عصر تھے۔ ’’الیانع الجنی‘‘ کی پہلی طباعت مولانا محمد احسن صدیقی نانوتوی کے مطبع صدیقی، بریلی سے 1287ھ/1870ء میں ہوئی۔ مولانا محمد احسن نانوتوی نے اس کتاب کی اشاعت میں خصوصی اہتمام فرمایا، اور بعد میں حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کتاب کی اشاعت فرمائی اور ’’الازدیاد السنی علی الیانع الجنی‘‘ کے نام سے اس پر اضافہ بھی کیا۔
یہی وجہ ہے کہ ’’الیانع الجنی‘‘ کو اہلِ علم کے درمیان غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی اور مشائخ کے تذکروں، خصوصاً ولی اللہی خانوادے کے تعارف اور اسناد کے اثبات میں اس کی اہمیت مسلم رہی۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے توسط سے علومِ حدیث حاصل کرنے والے علماء اور خصوصاً علمائے دیوبند کے سلسلۂ اسناد کی تحقیق میں بھی یہ کتاب ایک اہم مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ بعد کے اہلِ علم نے جب اس خانوادۂ علم کے شیوخ اور اسانید پر قلم اٹھایا تو ’’الیانع الجنی‘‘ سے استفادہ کیا۔
موجودہ کتاب کے مصنف میرے دوست، فضلاءِ دیوبند میں ممتاز حیثیت کے حامل، حضرت مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی، پرنسپل مدرسہ بدر الاسلام بیگوسرائے نے اسی گراں قدر کتاب پر تحقیق و حاشیہ نگاری کا سلسلہ شروع فرمایا ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے شیخ محسن ترہتی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے منتشر اور بکھرے ہوئے حالات کو تلاش و جستجو کے مراحل سے گزار کر یکجا کیا، انہیں مرتب کیا اور ایک مکمل علمی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی۔ یہ کام بلاشبہ ’’تنکا تنکا جمع کرکے آشیانہ بنانے‘‘ کے مترادف تھا؛ کیونکہ علامہ محسن ترہتی رحمۃ اللہ علیہ کے حالاتِ زندگی پر مستند اور جامع مواد بہت منتشر صورت میں ملتا ہے۔ خود مصنف نے اپنی تحریر میں اس دشوار مرحلے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
مؤلف نے اس کتاب کو تیرہ ابواب میں تقسیم فرمایا ہے۔ پہلے باب میں علمِ حدیث میں اسناد کی حیثیت و اہمیت کو واضح کیا گیا ہے اور اس فن کی علمی قدر و منزلت پر گفتگو کی گئی ہے۔ دوسرے باب میں ہندوستان کے علماء کی خدمتِ حدیث کا تذکرہ ہے، بالخصوص شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شاہ عبدالعزیز دہلوی، شاہ اسحاق دہلوی، شاہ عبدالغنی مجددی اور علمائے دیوبند کے سلسلۂ اسناد کو تحقیق کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ تیسرے باب میں مصنف نے اپنے وطن بیگوسرائے کی خصوصیات اور وہاں کے ممتاز علماء و مشائخ کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ تینوں ابواب دراصل کتاب کے تمہیدی ابواب ہیں اور اصل موضوع کے لیے ایک علمی پس منظر فراہم کرتے ہیں۔
چوتھے باب میں مصنف اصل موضوع کی طرف آتے ہیں اور علامہ محمد محسن ترہتی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ اس ضمن میں علامہ کے نسب، ان کے والد محترم شیخ غلام یحییٰ، ان کی تعلیمی ترجیحات اور اپنے فرزند کی تعلیم و تربیت کے لیے ان کی غیر معمولی توجہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ علامہ کے والد نے انہیں ہندوستان کے مختلف علمی مراکز سے استفادہ کا حسین موقع فراہم کیا؛ پھر حجازِ مقدس، قاہرہ اور استنبول تک ان کے علمی سفر کا ذکر آتا ہے۔ اسی باب میں علامہ محسن رحمۃ اللہ علیہ کی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت، ان کے رفیقِ درس شیخ علی بن ظاہر وتری مدنی کا تذکرہ اور ان کی تصنیفی خدمات کا بیان بھی ہے۔ بالآخر علامہ نے مدینہ منورہ ہی میں وفات پائی اور اپنے شیخ حضرت عبدالغنی مجددی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح جنت البقیع میں آسودۂ خاک ہوئے۔
پانچواں باب علامہ محسن رحمۃ اللہ علیہ کی عمومی عظمت و مقبولیت پر مشتمل ہے۔ مختلف اہلِ علم نے ان کی علمی عظمت کا جس انداز سے اعتراف کیا، مصنف نے اسے مختلف مصادر سے جمع کیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے سوانحی کتابوں، تذکروں اور متفرق علمی حوالوں سے ایک ایک موتی چنا، اسے تحقیق کی کسوٹی پر پرکھا اور پھر اس سے علامہ محسن رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کا ایک حسین اور جامع مرقع تیار کیا ہے۔ علمِ اسناد پر ان کے احسانات اور علمی مقام کو بھی اس باب میں نمایاں کیا گیا ہے۔
چھٹے باب میں علامہ محسن رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی سے متعلق مزید تحقیقی مباحث پیش کیے گئے ہیں۔ ان کے اساتذہ کا تذکرہ، خطۂ ترہت کی تفصیلات اور ترہت کے مشاہیر کا بیان بھی اسی باب میں شامل ہے۔ یہ مباحث کتاب کے تاریخی و جغرافیائی پس منظر کو مزید وسعت دیتے ہیں اور قاری کو اس ماحول سے روشناس کراتے ہیں جس میں علامہ محسن رحمۃ اللہ علیہ جیسی علمی شخصیت نے نشوونما پائی۔
ساتواں باب حجازی اور عراقی مکتبِ فکر کے تعارف اور محدثین میں اہلِ رائے کے مقام و تعارف سے متعلق ہے۔ یہ بحث محض تاریخی بیان نہیں بلکہ علمِ حدیث کے مختلف علمی رجحانات اور مناہج کو سمجھنے میں بھی معاون ہے۔
آٹھویں باب میں علامہ محسن رحمۃ اللہ علیہ کی مایۂ ناز تصنیف ’’الیانع الجنی فی اسانید الشیخ عبد الغنی‘‘ کا مفصل تعارف کرایا گیا ہے۔ علمِ اسناد، علمِ اثبات، شیخ عبدالغنی رحمۃ اللہ علیہ کی دوسری اسانید اور کتاب کے مختلف علمی پہلوؤں کو تحقیق کے ساتھ سامنے لایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’’الیانع الجنی‘‘ کی اشاعت کن کن مراحل سے گزری اور مختلف اہلِ علم نے اس پر حواشی و اضافے کس طرح کیے۔ نقشبندیہ کے سلسلے سے متعلق عربی و اردو منظومات کو بھی اس باب میں جگہ دی گئی ہے۔
نویں باب میں مولانا محمد احسن نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے مطبع صدیقی کا تعارف کرایا گیا ہے۔ روہیل کھنڈ کے علمی مرکز بریلی کا تاریخی تعارف بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ سفرِ حج کے دوران شیخ عبدالغنی مجددی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ سے مولانا احسن نانوتوی کی ملاقات کا ذکر بھی ہے۔ ’’الیانع الجنی‘‘ کی پہلی اشاعت اور طباعت کے بعد اس کے ایک نسخے کا حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پیش کیا جانا بھی اسی سلسلے میں بیان کیا گیا ہے؛ اس مناسبت کی اہمیت یہ ہے کہ شیخ محسن ترہتی اور حضرت نانوتوی دونوں کے استاد حضرت شیخ عبدالغنی مجددی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ ’’الیانع الجنی‘‘ کی پہلی اشاعت مطبع صدیقی بریلی سے 1287ھ/1870ء میں ہوئی، جو اس کتاب کی تاریخِ اشاعت کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔
دسویں باب میں خضر چک کے مشہور کتب خانے کا تعارف ہے، جو علامہ محسن ترہتی رحمۃ اللہ علیہ کی علمی زندگی اور کتب سے ان کی بے پناہ وابستگی کا ایک روشن نشان تھا۔ گیارہویں باب میں شیخ محمد محسن رحمۃ اللہ علیہ کے خانوادے کا تفصیلی تذکرہ ہے۔ بارہویں باب میں بیگوسرائے کی تاریخ اور وہاں کی خصوصیات پر نظر ڈالی گئی ہے، جب کہ تیرہویں باب میں بیگوسرائے کے مشائخ، بزرگانِ دین اور اولیائے کرام کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ کتاب کے اخیر میں ’’الیانع الجنی‘‘ کے قدیم و جدید مختلف نسخوں کی تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں، جو اس تحقیقی کاوش کی قدر و قیمت میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ اکابر اہل و تحقیق کی تصدیقات و تائیدات نے اس اعتماد میں اضافہ کر دیا ہے ۔
اس کتاب کو پڑھتے ہوئے یہ احساس بار بار دامن گیر ہوتا ہے کہ جب انسان کسی علمی کام کے لیے عزمِ مصمم کر لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے کوئی خدمت لینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے اسباب و وسائل کی راہیں خود بخود ہموار ہونے لگتی ہیں۔ علامہ محمد محسن ترہتی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات و سوانح کو مرتب کرنے کے لیے مختلف ادوار میں مختلف بزرگوں نے مصنف کو اس طرف متوجہ کیا، مگر اسباب کی عدمِ فراہمی کے باعث یہ کام آگے نہ بڑھ سکا۔ بالآخر جب ربِ کریم نے اس خدمت کی تکمیل کا ارادہ فرمایا تو منتشر مواد یکجا ہوا، دشواریاں آسان ہوئیں اور یہ علمی کارنامہ ایک حسین و مکمل صورت میں ہمارے سامنے آگیا۔
راقم الحروف اس علمی خدمت پر مصنف کو صمیمِ قلب سے مبارک باد پیش کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ ’’الیانع الجنی‘‘ پر شروع کیا گیا یہ تحقیقی کام بھی ان شاء اللہ تعالیٰ پایۂ تکمیل کو پہنچے گا۔ اہلِ حدیث، علماء، محدثین اور طلبۂ علم اس سے استفادہ کریں گے اور مصنف کے لیے دعائے خیر کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس علمی کاوش کو شرفِ قبول بخشے، اسے ذخیرۂ آخرت بنائے اور مصنف کو مزید علمی خدمات کی توفیق عطا فرمائے۔
موجودہ کتاب کی کتابت، کاغذ، طباعت اور ٹائٹل، الغرض اس کی ظاہری ترتیب و تزئین بھی نہایت پرکشش اور قابلِ تحسین ہے۔ امید ہے کہ اہلِ ذوق، علماء، طلبہ اور علمی کتابوں سے شغف رکھنے والے حضرات اسے ہاتھوں ہاتھ لیں گے، اس کے علمی جواہر سے مستفید ہوں گے اور اس تحقیقی کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔
ملنے کا پتہ نگارشات بک اسٹور دیوبند اور دیگر مکتبات دیوبند 8791519573














