جماعت اسلامی ہند؛ شاخیں سکڑ رہی ہیں یا قیادت کا دائرہ؟
از۔مدثراحمد۔9986437327
ایک طرف جماعت اسلامی ہند خود کو ملک کی ایک بڑی اسلامی و سماجی تنظیم کے طور پر پیش کرتی ہے، وہیں دوسری جانب یہ سوال بھی شدت کے ساتھ اٹھ رہا ہے کہ اس کی بعض ذیلی تنظیمیں مضبوط اور وسیع ہونے کے بجائے اندرونی اختلافات، قیادت کے محدود دائرے اور تنظیمی بے توجہی کے باعث کمزور کیوں ہوتی جارہی ہیں؟۔اگر کسی تنظیم کا دعویٰ اقامتِ دین، معاشرے کی اصلاح اور نوجوانوں کی فکری و اخلاقی تربیت ہے، تو پھر اس کی اپنی صفوں میں پیدا ہونے والی کمزوریوں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر تنظیم اپنی ہی جڑوں کو مضبوط نہ کرسکے تو وہ معاشرے میں اقامتِ دین کے اپنے بڑے مقصد کو کس طرح آگے بڑھائے گی؟۔جماعت اسلامی ہند کی اہم نوجوان تنظیموں میں شمار ہونے والی اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا، یعنی SIO، کا قیام 1982 میں ہوا تھا۔ جماعت کے اپنے متعلقہ مواد میں اسے طلبہ و نوجوانوں کی فکری، اخلاقی اور سماجی تربیت کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا گیا ہے۔ لیکن آج سوال یہ ہے کہ جس SIO کو کبھی نوجوانوں کی فکری و تنظیمی قوت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، اس کی موجودہ صورتِ حال کیا ہے؟ کیا وہ واقعی نئی نسل کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہے؟ کیا اس کے پروگرام پہلے کی طرح تسلسل کے ساتھ ہورہے ہیں؟ یا پھر تنظیمی سرگرمیاں چند مخصوص افراد تک محدود ہوتی جارہی ہیں؟۔ شکایات بھی سننے میں آتی ہیں کہ ماضی کی طرح SIO کے ہفتہ وار پروگرام، مطالعاتی نشستیں اور نوجوانوں کو متحرک کرنے والی سرگرمیاں اب نظر نہیں آتیں۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا قیادت نے کبھی اس زوال کی وجوہات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا ہے؟۔نوجوانوں میں ’’عقابی روح‘‘ پیدا کرنے کے لیے تقریریں، جلسے اور تربیتی پروگرام تو منعقد کیے جاتے ہیں، لیکن جب انہی نوجوانوں میں سے کوئی اپنی صلاحیت، سوال کرنے کی جرأت اور قیادت کی اہلیت کا اظہار کرتا ہے تو کیا اسے آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے؟۔یا پھر تنظیمی ڈھانچہ صرف ایسے افراد کو قبول کرتا ہے جو سوال نہ کریں، اختلافِ رائے کا اظہار نہ کریں اور قیادت کے فیصلوں پر خاموشی سے عمل کرتے رہیں؟۔یہ سوال محض نظری نہیں ہے۔ ایسے کئی نوجوانوں کی مثالیں موجود ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے جو صلاحیت رکھنے کے باوجود SIO سے دور ہوگئے، جبکہ بعض کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہیں تنظیم چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہاں ان نوجوانوں کے نام جان بوجھ کر نہیں لیے جارہے، کیونکہ مقصد کسی فرد کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ایک تنظیمی رویے پر سوال اٹھانا ہے۔اگر ایک تنظیم نوجوانوں کو قیادت کے لیے تیار کرتی ہے، تو پھر اس کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ نئی قیادت کو اپنے اندر جگہ کتنی دیتی ہے۔
صرف اپنے بعد آنے والوں کو تیار کرنا کافی نہیں؛ انہیں ذمہ داری منتقل کرنا بھی ضروری ہے۔یہاں ایک بنیادی سوال جماعت اسلامی ہند کی قیادت سے بھی بنتا ہے کہ کیا جماعت کے اندر اختلافِ رائے کو تنظیمی قوت سمجھا جاتا ہے یا اسے قیادت کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے؟۔یہ تاثر بھی عام ہوتا جارہا ہے کہ پہلے جماعت میں سوال کرنے، اختلاف رکھنے اور اپنی رائے پیش کرنے کی گنجائش زیادہ تھی، لیکن اب خاموشی، اطاعت اور ’’ہاتھ باندھ کر کھڑے رہنے‘‘ کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔اگر یہ تاثر غلط ہے تو جماعت کی قیادت کو کھل کر اس کی تردید کرنی چاہیے اور یہ بتانا چاہیے کہ تنظیم میں اختلافِ رائے، تنقید اور نئی قیادت کے لیے عملی طور پر کتنی جگہ موجود ہے۔کیونکہ جس تنظیم کا مقصد معاشرے کی اصلاح ہو، اگر اس کے اندر سوال کرنے والے ہی کنارے لگنے لگیں تو پھر تنظیمی احتساب کا سوال ضرور پیدا ہوگا۔اسی تناظر میں عمر خالد کا معاملہ بھی ایک الگ اور اہم سوال کھڑا کرتا ہے۔ عمر خالد، جماعت اسلامی ہند کے سینئر رکن سید قاسم رسول الیاس کے فرزند ہیں۔ کیا جماعت اسلامی ہند نے اپنے سینئر رکن کے فرزند کے معاملے میں اتنی ہی واضح اور نمایاں آواز اٹھائی جتنی دیگر سماجی و سیاسی جماعتیں اٹھا رہی ہیں؟۔اگر جماعت کی طرف سے اس معاملے پر کوئی واضح اور باقاعدہ موقف سامنے آیا ہے تو اسے عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے۔ اور اگر جماعت نے اس سلسلے میں خاموشی اختیار کی تو اس خاموشی کی وجہ بھی بتائی جانی چاہیے۔کیونکہ جو تنظیم اپنے ہی دائرے سے وابستہ افراد کے معاملے میں واضح موقف اختیار نہیں کرتی، اس کے بارے میں یہ سوال لازماً پیدا ہوتا ہے کہ عام نوجوانوں، کارکنوں اور وابستگان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اس کی عملی ترجیح کیا ہے؟۔یہاں ایک اور اہم پہلو جماعت اسلامی ہند سے وابستہ سیاسی پلیٹ فارم ویلفئر پارٹی آف انڈیا کا ہے۔ویلفئر پارٹی آف انڈیا کو جماعت اسلامی ہند سے وابستہ یا اس کی حمایت یافتہ سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر بیان کیا ہے۔ خود ویلفئر پارٹی کے صدر نے 2022 میں غیر بی جے پی جماعتوں کے اتحاد کی کوششوں اور کانگریس کے ساتھ مذاکرات کا ذکر کیا تھا۔ یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ انتخابی تعاون کیا گیا یا نہیں۔ جمہوری سیاست میں سیاسی جماعتیں اپنے حالات، نظریات اور سیاسی حکمتِ عملی کے مطابق اتحاد اور تعاون کرتی ہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ اگر ویلفئر پارٹی کا مقصد نظریاتی سیاست اور ایک الگ سیاسی متبادل پیش کرنا تھا، تو پھر مسلسل انتخابی مفاہمتوں اور بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت کی پالیسی کو عوام کے سامنے کس نظریاتی بنیاد پر سمجھایا گیا؟۔اگر کسی انتخاب میں اپنے امیدوار کھڑے نہ کرنے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس سے کسی دوسری جماعت کو فائدہ ہوسکتا ہے، تو پھر یہ سوال بھی جائز ہے کہ ایک الگ سیاسی جماعت بنانے کا بنیادی مقصد کیا تھا؟۔اور اگر ہر انتخاب میں ’’کم نقصان‘‘ یا ’’بڑی جماعت کو روکنے‘‘ کی منطق ہی فیصلہ کن بن جائے تو پھر نظریاتی سیاست اور انتخابی مصلحت میں فرق کہاں باقی رہتا ہے؟۔ویلفئر پارٹی کے انتخابی ریکارڈ پر نظر ڈالیں تو 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں اس نے 25 نشستوں پر مقابلہ کیا، جبکہ 2019 میں دو اور 2024 میں ایک نشست پر مقابلہ کیا؛ ان تینوں ادوار میں کوئی لوک سبھا نشست جیت نہیں سکی۔ یہ اعداد خود ایک سنجیدہ تنظیمی سوال پیدا کرتے ہیںکہ کیا ایک الگ سیاسی جماعت کا مقصد صرف بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت کرنا ہے، یا اس کے پاس اتنی مضبوط تنظیم، واضح حکمتِ عملی اور عوامی بنیاد بھی ہونی چاہیے کہ وہ اپنے نظریات کو انتخابی میدان میں خود پیش کرسکے؟۔اسی طرح یہ سوال بھی جماعت کے کارکنوں اور وابستگان کے سامنے رکھا جانا چاہیے کہ اگر جماعت اسلامی ہند خود کو ایک نمائندہ قوت سمجھتی ہے تو اس نمائندگی کا عملی معیار کیا ہے؟ تنظیم کی رکنیت؟ عوامی اثر؟ نوجوانوں کی شرکت؟ انتخابی کامیابی؟ سماجی خدمات؟ یا محض تنظیمی ڈھانچے کا پھیلاؤ؟۔ اگر تائید کا فارمولا بی جے پی نے اختیار کیا ہوتا تو شاید آج وہ ملک میں راج نہیں کررہی ہوتی بلکہ تائید ہی کرتی ہوتی ۔ جن سنگھ کے قیام کے بعد ایک نمائند ہ پارلیمنٹ پہنچا تھا اور مسلسل ہار و شکست کے باوجود وہ اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹے اور کوشش کو جاری رکھی تھی ، آج اس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ یہاں تو جنگ سے پہلے ہی ہتھیار ڈالے جارہے ہیں ۔صرف نئے پروگرام، نئے منصوبے اور نئے نام متعارف کرانے سے کوئی تنظیم مضبوط نہیں ہوتی۔تنظیم اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس کے کارکن سوال کرسکیں، نوجوان آگے آسکیں، اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے، قیادت کا احتساب ہو اور فیصلوں کے بارے میں شفافیت موجود ہو۔ کسی بھی بڑی تنظیم کی اصل طاقت اس کے عہدے نہیں، اس کے کارکن ہوتے ہیں؛ اس کی عمارتیں نہیں، اس کے نظریات ہوتے ہیں؛ اور اس کے دعوے نہیں، بلکہ اس کا عملی کردار ہوتا ہے۔جماعت اسلامی ہند اگر واقعی اقامتِ دین کے بڑے مقصد کو آگے بڑھانا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی صفوں میں شفافیت، احتساب، نئی قیادت کے لیے جگہ اور اختلافِ رائے کے احترام کو مضبوط کرنا ہوگا۔ورنہ سوال صرف یہ نہیں رہے گا کہ جماعت کتنی بڑی ہے؛ اصل سوال یہ ہوگا کہ اس کے اندر نئی نسل کے لیے کتنی جگہ باقی رہ گئی ہے؟















