جمعرات, اکتوبر 1, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    آپ کس سمت سے نکلیں گے بچاکے دامن

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    جماعت اسلامی ہند؛ شاخیں سکڑ رہی ہیں یا قیادت کا دائرہ؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(12) انگریزوں کی وفاداری کے بجائے آزادی کی راہ کیوں اختیار کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کو پٹری سے اتارنے کی مہم

    عرب جمہوریات کا اتحاد

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(10)۔الزام غداری اور وفاداری کا مطالبہ

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    آپ کس سمت سے نکلیں گے بچاکے دامن

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    جماعت اسلامی ہند؛ شاخیں سکڑ رہی ہیں یا قیادت کا دائرہ؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(12) انگریزوں کی وفاداری کے بجائے آزادی کی راہ کیوں اختیار کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کو پٹری سے اتارنے کی مہم

    عرب جمہوریات کا اتحاد

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(10)۔الزام غداری اور وفاداری کا مطالبہ

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

ناقابل عفو گناه!

by Admin
اکتوبر 1, 2026
in اسلامیات
0
عقیدهٔ توحید اور توهم پرستی
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بسم الله الرحمٰن الرحیم

ناقابل عفو گناه!

شمع فروزاں

2026.10.02 مولانا خالد سیف الله رحمانی

اسلام کی نگاہ میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شرک اور کفر ہے ، اس کی سزا ہمیشہ کے لئے دوزخ ہے ، جو شخص کفر کی حالت میں دنیا سے چلا جائے ، اس پر جنت کے دروازے بند ہیں اور ہمیشہ کے لئے آتشیں دوزخ کی آغوش اس کی رفیق رہے گی ، کفر کے بعد ایک ہی عمل ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا کہ اس کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب ہوتا رہے گا اور اللہ کی لعنت برستی رہے گی ، کتنا گھبرادینے اور تڑپا دینے والا ہے یہ ارشاد ربانی : 

وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ ، خَالِدًا فِیْھَا وَغَضَبَ اﷲُ عَلَیْہِ وَلَعْنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا ۔ (النساء : ۹۳)

جو جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرے اس کا بدلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہو اور اللہ نے اس کے لئے بھیانک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ 

کتنی لرزہ براندام کردینے والی ہے یہ آیت ! — لیکن اس شخص کے لئے جس کے دل میں خوفِ خداوندی کا کوئی گوشہ موجود ہو ، جس کی آنکھ کبھی کبھی سہی ، اللہ کے خوف سے نم ہونا جانتی ہو ، جس کا دل آخرت کے تصور سے لمحہ دو لمحہ سہی ، لرزنے سے آشنا ہو ، جو آخرت کے وسعتوں پر یقین رکھتا ہو ، جسے جنت کی نعمتوں اور دوزخ کی ہولناکیوں پر ایمان ہو اور جس کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل ہو ، جن سینوں میں دل کے بجائے پتھر کی سل رکھی ہوئی ہو اور جن قلوب میں محبت کی شبنم کے بجائے نفرت اور ظلم و جور کی بھٹیاں سلگتی ہوں ، ان کے بارے میں کیوں کر سوچا جاسکتا ہے، کہ خالقِ کائنات کا یہ ارشاد بھی ان کو تڑپا سکے گا ؟ خدا و ررسول کی بات بھی ان کے دلوں پر دستک دے سکے گی ؟؟

آہ ! کس قلم سے لکھا جائے اور کس زبان سے بولا جائے کہ ہمارے شہر میں ابھی چند دنوں قبل ایک مسلمان کا بے دردانہ قتل ہوا ہے ، کن کے ہاتھوں ؟ کیا کسی غیر مسلم کے ہاتھ ؟ کیا کسی دشمن اسلام کے ذریعہ ؟؟ نہیں ، حیرت کے کانوں سے سنئے ، کہ ایک کلمہ گو نے دوسرے کلمہ گو کو ناحق قتل کیا ہے ، ایک مسلمان کی تشنہ تلوار نے ایک مسلمان ہی کے لہو سے اپنی پیاس بجھائی ہے، سستے داموں خدا کا غضب خرید کیا ہے ، اپنے گلے کو لعنت ِخداوندی کے طوق سے آراستہ کیا ہے اور ابدی دوزخ حاصل کی ہے ، اس بے حسی پر آنکھیں جس قدر آنسو بہائیں ، دل جتنا بھی تڑپے اور روئے کم ہے ، ہائے ! یہ اس اُمت کا حال ہے جس کو آخر آخر دم تک اس کے نبی ﷺنے مسلمان کے خون کی حرمت بتائی تھی اور ایک دوسرے کی جان و مال اور عزت وآبرو سے ہاتھ رنگنے کو منع فرمایا تھا ۔

رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ : اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو معاف فرمادیں گے ، سوائے اس کے کہ کوئی شخص شرک کی حالت میں مرے یا کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کردے ، (ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۴۲۷۰) حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا : جس نے کسی مومن کو قتل کیا اللہ تعالیٰ نہ اس کی کوئی فرض نماز قبول فرمائیں گے اور نہ نفل : لم یقبل اﷲ منہ صرفا ولا عدلا  ( ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۴۲۷۰) اور کیوں نہ ہو کہ مومن کا قتل اللہ کے نزدیک دنیا کے ختم ہوجانے سے بہتر ہے :  قتل المومن اعظم عند اﷲ من زوال الدنیا (نسائی ، حدیث نمبر : ۳۹۹)حضرت ابو سعید خدری ؓاور ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺنے فرمایا کہ : اگر تمام اہل زمین اور اہل آسمان بھی ایک مسلمان کی موت میں شریک ہوں، تو اللہ ان سب کو جہنم میں اوندھے منھ ڈال دے گا ،(ترمذی ، حدیث نمبر : ۱۳۹۸) اس سے اندازہ کیجئے کہ مومن کے خون کی کیا حرمت اور عظمت ہے ؟ اور کسی مسلمان کا جان لینا کیسی لعنت اور غضب ِالٰہی کو دعوت دینا ہے ؟ اس لئے حضور ﷺ نے فرمایا کہ : مومن برابر دین کے معاملہ میں وسعت و گنجائش میں رہتا ہے، جب تک کہ کسی خون حرام کا مرتکب نہ ہو ۔ ( بخاری ، حدیث نمبر : ۶۸۶۲)

جیسے قتل کرنا گناہ ہے، اسی طرح قتل میں تعاون بھی گناہ ہے ؛ بلکہ اگر کسی شخص نے دوسرے کو قتل پر اکسایا ہو، یا دوسرے کو قتل پر استعمال کیا ہو، تو اس کا گناہ اصل قاتل سے بھی بڑھ کر ہے ، ایک بار آپ ﷺسے قاتل اور قتل کا حکم دینے والے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا ، کہ جہنم کے ستر حصے کئے جائیں گے جس میں انہتر (۶۹)حصہ قتل کا حکم دینے والے کے لئے ہوگا اور ایک حصہ خود اس قاتل کے لئے اور یہ ایک حصہ بھی اس کے لئے بہت کافی ہوگا : وللقاتل جزء وحسبہ  (مسند احمد ، حدیث نمبر : ۲۲۵۵۷، عن مرثد بن عبد اللہ )

نہ صرف یہ کہ قتل پر اُکسانا اور اُبھارنا بہت بڑا گناہ ہے ؛ بلکہ مقتول کو بچانے کی کوشش نہ کرنا اور پہلو تہی سے کام لینا بھی انسان کو اللہ تعالیٰ کی لعنت کا مستحق بنادیتا ہے ؛ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا : جہاں کسی شخص کا ظلماً قتل ہو ، وہاں تم کھڑے نہ ہو ، وہاں موجود رہنے والوں پر بھی اللہ کی لعنت ہوتی ہے کہ انھوں نے اسے بچایا کیوں نہیں ؟ اور جہاں کسی شخص کو ظلماً زد و کوب کیا جارہا ہو ، وہاں بھی نہ ٹھہرو ؛ کیوں کہ حاضرین پر بھی اللہ کی لعنت ہوگی کہ انھو ںنے مدافعت کیوں نہیں کی۔ (طبرانی فی الکبیر ، حدیث نمبر : ۱۱۶۷۵) 

اصل یہ ہے کہ کسی شخص کو قتل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ اس کی زندگی میں انسانی خون او ر انسانی زندگی کا احترام نہیںاور یہ بہت ہی خطرناک بات ہے ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ( ایک نفس انسانی کا قتل پوری انسانیت کو قتل کرنے اور ایک انسان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے)مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْفَسَادٍ فِی الْاَرضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَمَنْ اَحْیَاھَا فَاِنَّمَا اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا( المائدۃ: ۳۲)

اس جرم کے شدید ہونے کی وجہ ظاہر ہے ، زندگی اللہ کی امانت ہے ، جان دینا اور جان لینا اللہ ہی کا حق ہے ، قاتل گویا اللہ کا حق اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے ، اس سے بڑھ کر تعدی اورکیا ہوگی ؟ پھر خود مقتول کے ساتھ کتنی بڑی زیادتی ہے، قتل کی تکلیف کو جس سے بڑھ کر کسی اور تکلیف کا تصور نہیں کیا جاسکتا، پھر قاتل اسے ایسی نعمت سے محروم کرتا ہے ، جس کی واپسی ممکن نہیں اور جس کا بدل ناقابل حصول ہے، یہ تو خود قاتل کا معاملہ ہے ، پھر غور کیجئے کہ ہرانسان کے ساتھ کتنے ہی حقوق متعلق ہیں، معصوم بچوں اور بچیوں کی تربیت اس کے ذمہ تھی ، جو ان بہنوں کی شادی کا وہی ذمہ دار تھا، بوڑھے ماں باپ کی کفالت اسی کے سر تھی، بیوی کا سہاگ اس کے دم سے قائم تھا، خاندان کی کتنی ہی آرزوئیں اور تمنائیں اس سے متعلق تھیں اور سماج کی کتنی ہی اُمیدیں اور توقعات اس سے وابستہ تھیں ، بظاہر یہ ایک جان کا قتل ہے ؛ لیکن در حقیت وہ کتنی ہی تمناؤں ، حسرتوں ، اُمیدوں اور آرزوؤں کا قاتل ہے ، اس نے ایک بے قصور عورت کو بیوہ کیا ، معصوم بچوں کو یتیم اور بے سہارا بنایا ، بوڑھے ماں باپ سے اس کا عصائے پیری چھینا ہے اورچھوٹے بھائیوں اور بہنوں کی اُمیدوں کے محل کو خاکستر کر کے رکھ دیا ہے ، اس لئے یقیناً اس نے ایک شخص کا نہیں ؛ بلکہ ایک خاندان اور ایک کنبہ کا اور انسانیت کا قتل کیا ہے ۔ 

اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انتقام کاقانون رکھا کہ یا تو خود قاتل کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے ، (البقرۃ : ۱۷۸) اگر مقتول کے اولیا ، رضامند ہو جائیں تو ان کو دیت ادا کی جائے ، جو سو اونٹ یا اس کی قیمت ہے ، احادیث میں اس کی تفصیل موجود ہے ، مقصد اس دیت کا یہی ہے کہ ایک شخص کے قتل کی وجہ سے مقتول کے خاندان کو جو نقصان پہنچا ہے وقتی طور پر سہی ، کچھ تو اس کی اشک شوئی ہو جائے اور ہنگامی مدد تو اسے حاصل ہو ، یہ خون بہا اس وقت بھی واجب ہے ، جب کسی شخص کو دھوکہ میں قتل کر دے ، (النساء: ۹۲) اور اس غلطی کی صورت میں صرف دیت ہی کافی نہیں ؛ بلکہ کفارہ بھی واجب ہے، کہ مسلسل دوماہ روزے رکھے جائیں، (النساء : ۹۲) اگر جان بوجھ کر قتل کیا ہو تو اس کے لئے کوئی کفارہ متعین نہیں کیا گیا ، زندگی بھر توبہ و استغفار کرتا رہے ؛ کیوں کہ یہ اتنا بڑا جرم اور اتنا شدید گناہ ہے کہ کوئی عمل اس کا کفارہ بن نہیں سکتا ، یہ کفارہ اسی لئے ہے کہ حقوق اللہ میں جو دست درازی ہوئی ، اس کی کچھ تلافی ہو جائے ۔ 

رسول اللہ ﷺنے حجۃ الوداع کے موقعہ سے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ : آج کون سا دن ہے؟ یہ کون سا مہینہ ہے ؟ اور یہ کون سی جگہ ہے ؟ پھر فرمایا کہ یہ حرام مہینہ ، حرام دن اور حرام سر زمین یعنی حدودِ حرم کا علاقہ ہے، اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ مسلمان کی جان و مال اور عزت و آبرو اس سے بھی زیادہ قابل حرمت ہیں ، (بخاری ، حدیث نمبر : ۶) اگر اس پیغمبر رحمت کی اُمت بھی مسلمانوں کے ؛ بلکہ انسانوں کے خون کی اہمیت و حرمت کو نہ سمجھ سکے اور اس کے ہاتھ بھی ایک دوسرے کے خون سے رنگین ہوں تو اس سے بڑھ کر بھی قابل افسوس ، لائق حیرت اورتعجب انگیز کون سی بات ہوگی ؟؟ 

= = = 

_________

Khalid Saifullah Rahmani

Gen.Secretary : Islamic Fiqh Academy,India 

Director : Al Mahadul A’ali Al Islami Hyderabad.

E-mail :ksrahmani@yahoo.com

Website: www.khalidrahmani.in

Admin

Admin

Next Post

برطانوی راج کے دوران 1892ء سے 1920ء کے درمیان تیار کیے گئے کیڈسٹرل سرو( Cadastral Survey)اور کھتیان کے بارے میں ایک مختصر تحریر، جسے بی جے پی کا ترمیم کردہ وقف ایکٹ ’’امید‘‘ (UMEED) کے مخفف سے موسوم حالیہ وقف قانون میں نظر انداز کر دیا گیا ہے، جو اس ایکٹ کی سب سے بڑی خامی ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

جمعیت علمائے ہندکا ہاتھ تقسیم ہندستان کے خون سے پاک ہے

جمعیت علمائے ہندکا ہاتھ تقسیم ہندستان کے خون سے پاک ہے

12 مہینے ago
باب اول در بیان انجام مداہنت

ہندوتو، آگے کا سوال

9 مہینے ago

مقبول

  • اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    آپ کس سمت سے نکلیں گے بچاکے دامن

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • برطانوی راج کے دوران 1892ء سے 1920ء کے درمیان تیار کیے گئے کیڈسٹرل سرو( Cadastral Survey)اور کھتیان کے بارے میں ایک مختصر تحریر، جسے بی جے پی کا ترمیم کردہ وقف ایکٹ ’’امید‘‘ (UMEED) کے مخفف سے موسوم حالیہ وقف قانون میں نظر انداز کر دیا گیا ہے، جو اس ایکٹ کی سب سے بڑی خامی ہے۔

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ناقابل عفو گناه!

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جماعت اسلامی ہند؛ شاخیں سکڑ رہی ہیں یا قیادت کا دائرہ؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.