جمعہ, اکتوبر 2, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    آپ کس سمت سے نکلیں گے بچاکے دامن

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    جماعت اسلامی ہند؛ شاخیں سکڑ رہی ہیں یا قیادت کا دائرہ؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(12) انگریزوں کی وفاداری کے بجائے آزادی کی راہ کیوں اختیار کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کو پٹری سے اتارنے کی مہم

    عرب جمہوریات کا اتحاد

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(10)۔الزام غداری اور وفاداری کا مطالبہ

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    آپ کس سمت سے نکلیں گے بچاکے دامن

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    جماعت اسلامی ہند؛ شاخیں سکڑ رہی ہیں یا قیادت کا دائرہ؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(12) انگریزوں کی وفاداری کے بجائے آزادی کی راہ کیوں اختیار کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کو پٹری سے اتارنے کی مہم

    عرب جمہوریات کا اتحاد

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(10)۔الزام غداری اور وفاداری کا مطالبہ

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(11)۔لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    حکیم الاسلام کے حکیمانہ جوابات کی رسمِ اجراعلمی و فکری حلقوں میں کتاب کی پذیرائی

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

برطانوی راج کے دوران 1892ء سے 1920ء کے درمیان تیار کیے گئے کیڈسٹرل سرو( Cadastral Survey)اور کھتیان کے بارے میں ایک مختصر تحریر، جسے بی جے پی کا ترمیم کردہ وقف ایکٹ ’’امید‘‘ (UMEED) کے مخفف سے موسوم حالیہ وقف قانون میں نظر انداز کر دیا گیا ہے، جو اس ایکٹ کی سب سے بڑی خامی ہے۔

by Admin
اکتوبر 1, 2026
in اسلامیات
0
0
SHARES
2
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

از طرف: امتیاز حسین
تاریخ: منگل، 23 ستمبر 2025، رات 11:28 بجے
موضوع: برطانوی راج کے دوران 1892ء سے 1920ء کے درمیان تیار کیے گئے کیڈسٹرل سرو( Cadastral Survey)اور کھتیان کے بارے میں ایک مختصر تحریر، جسے بی جے پی کا ترمیم کردہ وقف ایکٹ ’’امید‘‘ (UMEED) کے مخفف سے موسوم حالیہ وقف قانون میں نظر انداز کر دیا گیا ہے، جو اس ایکٹ کی سب سے بڑی خامی ہے۔

وقف ترمیمی قانون پر میرے نقطۂ نظر پر مشتمل ایک مختصر تحریر ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔
اگرچہ یہ قدرے طویل ہے، لیکن پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ میری معلومات کے مطابق یہ نکتہ نہ تو وقف کے معاملے میں مسلم قائدین نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (JPC) کے سامنے اٹھایا ہے اور نہ ہی اب تک مسلم درخواست گزاروں کی جانب سے سُپریم کورٹ میں دائر کردہ عرضیوں میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔

1۔ موجودہ صورتِ حال
15 ستمبر 2025ء کو معزز سپریم کورٹ آف انڈیا نے وقف ایکٹ 2025ء کی بعض دفعات کے سلسلے میں ایک عبوری حکم ، “وقف بائی یوزر” کے مد نظر جاری کیا۔
یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ حکم، حتمی فیصلہ نہیں بلکہ اس وقت تک کے لیے ایک عارضی انتظام ہے جب تک عدالت اس معاملے کا مکمل فیصلہ نہیں کر دیتی۔ لہٰذا تمام بنیادی دلائل اور شواہد پر ابھی عدالت کے سامنے مکمل طور پر غور ہونا باقی ہے۔

2۔ مسلم درخواست گزاروں کے طرزِ استدلال میں کمی:

ملک کے بعض بہترین قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے باوجود مسلم عرضی گزاران اپنے حق میں موجود سب سے مضبوط اور مستند دستاویزی ثبوت سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔
ان کی عرضیوں اور دلائل سے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان میں واضح سمت کا فقدان ہے، جب کہ وہ اس بنیادی دستاویزی ثبوت کو بنیاد بنا سکتے تھے جس پر ان کا مقدمہ مضبوطی سے قائم ہو سکتا ہے۔

3 : 1892ء سے 1920ء کا کیڈسٹرل سروے جیسے قیمتی دستاویز کو نظر انداز کرنا عرضی گُذاروں کی بہت بڑی بھول:

1892ء سے 1920ء کے درمیان برطانوی حکومت نے برصغیر میں کیڈسٹرل سروے کرایا تھا۔ بعد کے انتظامی سروے کے برعکس یہ زمینوں کی دستاویز بندی کا ایک جامع اور غیر جانب دار عمل تھا۔

اس سروے میں واضح طور پر درج کیا گیا تھا:

  • مساجد؛
  • قبرستان؛
  • امام بارگاہیں؛
  • مدارس؛
  • ⁠ہندؤں کے منادر
  • ⁠مٹھ
  • ⁠شمشان گھاٹ
  • ⁠چڑھیاری
  • مسلمانوں اور غیر مسلموں کے دیگر مذہبی اور تاریخی ادارے۔

اس کے علاوہ اس سروے میں مسلم ملکیت والی زمینوں کے ساتھ ساتھ مذہب سے قطع نظر انفرادی اور ادارہ جاتی ملکیت والی زمینوں کی بھی درست نشاندہی کی گئی تھی۔
ان میں سے بہت سی زمینیں بعد میں وقف کی املاک بنیں۔

اس طرح وقف کی زمینوں کی حیثیت صرف بعد میں بنائے گئے قوانین پر منحصر نہیں ہے، بلکہ ان کی بنیاد تاریخی طور پر تسلیم شدہ ملکیت اور استعمال پر بھی قائم ہے، جس کی تائید سرکاری ریاستی ریکارڈ سے ہوتی ہے۔

4۔ کیڈسٹرل سروے کی قانونی اہمیت

انڈین ایویڈنس ایکٹ 1872ء کے تحت سرکاری دستاویزات کو اعلیٰ درجے کی اثباتیت حاصل ہے۔ کیڈسٹرل سروے بھی ایسی ہی ایک دستاویز ہے، جو انڈین ایویڈنس ایکٹ 1872ء کے دائرے میں آتی ہے۔

اس کے علاوہ:

آئینِ ہند کی دفعہ 25 اور 26 مذہبی آزادی اور مذہبی اداروں کے انتظام و انصرام کے حقوق کی ضمانت دیتی ہیں۔

آئین کی دفعہ 300A شہریوں کو اس بات کا تحفظ فراہم کرتی ہے کہ انہیں کسی قانونی اختیار کے بغیر ان کی ملکیت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

اگر کیڈسٹرل سروے یہ ثابت کرتا ہے کہ بعض زمینیں تاریخی طور پر مسلمانوں یا ہندوؤں کی ملکیت تھیں، یا سرکاری ملکیت تھیں اور مذہبی مقاصد کے لیے مخصوص تھیں، تو اس کے بعد قانون سازی کے ذریعے ایسی ملکیت کو کمزور کرنا یا ضبط کرنا آئینی ضمانتوں کی خلاف ورزی کے دائرے میں آتا ہے۔

5۔ درخواست گزاروں کے لیے قانونی حکمتِ عملی کی ضرورت:

مطلوبہ قانونی نتیجے کے حصول کے لیے مسلم درخواست گزاروں کو چاہیے کہ:

  1. کیڈسٹرل سروے کے ریکارڈ کو بنیادی ثبوت کے طور پر عدالت کے سامنے پیش کریں۔
  2. اپنی عرضیوں میں ترمیم کرکے اس امر کو نمایاں کریں کہ وقف کی املاک کی بنیاد آئین سے پہلے کی ان زمینوں کی ملکیت پر قائم ہے جسے ریاستی ریکارڈ میں تسلیم کیا گیا تھا۔
  3. یہ مؤقف اختیار کریں کہ اگر ان تاریخی سرکاری ریکارڈ کو مسترد کر دیا جاتا ہے تو اس سے ہندوستان کے تمام زمینی ریکارڈ کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھ جائے گا، جن میں ریلوے کی زمینیں، آرمی کی زمینیں، پورٹ ٹرسٹ آف انڈیا کی زمینیں ، ایئرپورٹ کی زمینیں ، اور تمام سرکاری زمینیں بھی شامل ہیں، جن سب کی شناخت اُسی سروے و کھتیان سے ہوتی آئی ہے ۔
  4. ⁠اگر مسلم مذہبی و قومی اداروں کی زمینی ملکیت کو قبول کرنے میں سروے اور کھتیان کو اس “امیدایکٹ” میں نظر انداز کیاگیا ہے ، تو اسی بنیاد پر ، انصاف کا تقاضہ ہے کہ پورے سروے و کھتیان کو ناقابل قبول قرار دیا جائے، جو قانوناً ناقابلِ قبول صورتِ حال ہوگی۔
    جب دوسری ساری ملکیت ، اس سروے و کھتیان کی بنیاد پر تسلیم شُدہ ہے، تو پھر مسلم اداراجاتی ملکیت کو تسلیم کرنے میں اس سروے و کھتیان کو کیسے اس امید ایکٹ میں نظر انداز کیا گیا-
    یہی اس “امید” ایکٹ کی سب سے بڑی کمزوری ہے ، جسکی بنیاد پر اس ایکٹ کو سُپریم کورٹ میں الٹرا وائرس قرار دلوایا جا سکتا تھا یا ابھی بھی دلوایا جا سکتا ہے۔

6۔ نتیجہ

وقف ایکٹ 2025ء کے خلاف قانونی جدوجہد جذباتی یا محض خطیبانہ بنیادوں پر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اسے دستاویزی شواہد، آئینی تشریح اور مضبوط قانونی استدلال کی بنیاد پر آگے بڑھانا ہوگا۔

1892ء سے 1920ء کا کیڈسٹرل سروے ایک نہایت مضبوط اور ناقابلِ تردید نوعیت کا ثبوت ہے، جسے بدقسمتی سے اب تک نظر انداز کیا گیا ہے۔

اگر اس ثبوت کو وضاحت اور قانون کی دفائی طاقت کے ساتھ معزز سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے تو یہ حکومت کے مقدمے کی بنیادی ساخت کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ درخواست گزار اپنی غفلت سے بیدار ہوں اور قانون کے تقاضوں کے مطابق اپنے حقوق کے دفاع کے لیے پوری سنجیدگی اور قانونی محنت کے ساتھ آگے بڑھیں۔

تحریر و اشاعت:
امتیاز حسین

Admin

Admin

Next Post
راشٹرواد(01)

راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:دسواں سال: 1928ء

8 مہینے ago
نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

غزل

5 مہینے ago

مقبول

  • اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    آپ کس سمت سے نکلیں گے بچاکے دامن

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • برطانوی راج کے دوران 1892ء سے 1920ء کے درمیان تیار کیے گئے کیڈسٹرل سرو( Cadastral Survey)اور کھتیان کے بارے میں ایک مختصر تحریر، جسے بی جے پی کا ترمیم کردہ وقف ایکٹ ’’امید‘‘ (UMEED) کے مخفف سے موسوم حالیہ وقف قانون میں نظر انداز کر دیا گیا ہے، جو اس ایکٹ کی سب سے بڑی خامی ہے۔

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ناقابل عفو گناه!

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جماعت اسلامی ہند؛ شاخیں سکڑ رہی ہیں یا قیادت کا دائرہ؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.