راشٹرواد (14)
محمد یاسین جہازی
ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟
جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ ہمارے اکابر نے ہندستان کی تعمیر و ترقی کے لیے جمہوریت کی راہ اختیار کی تھی تاکہ ہرکس و ناکس برابری اور مساوات کے حقوق کے ساتھ زندگی گزار سکیں لیکن 2014کے بعد سے جب سے بی جے پی کی حکومت بنی ہے، اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو جس طرح سیاسی،اقتصادی،عدل و مساوات اور انسانی حقوق سے محروم رکھنے کی منصوبہ بند سازش کی گئی ہے اور ایسے حالات پیدا کردیے گئے ہیں کہ مساجد و مدارس اور مزارات وغیرہ جیسے مقدس شعائر کے تحفظ کے لیے بھی محض آواز اُٹھانا بھی فرقہ پرستوں کے لیے انتقامی کارروائی کا بہانہ بن جارہا ہے اور ایسے حالات پیدا کردیے گئے ہیں کہ مسلم قیادتیں ہر محاذ پر بالکل بے بس نظر آتی ہیں۔
ایسی صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے انھیں کونسا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا؟
تو اس حوالے سے پہلی بات یہ ہے کہ ہمارے اکابر نے ہندستان کی غلامانہ حیثیت بدل کر جمہوریت لانے کے لیے جو جدوجہد کی تھی، ازادی کے بعد ہندستان کی جمہوریت برقرار رکھنے کے لیے مسلمانوں نے بحیثیت قوم ایسی ذمہ داری نہیں نبھائی اور جمہوریت کی پر سکون آغوش میں گہری نیند سوگئے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ قانون قدرت ہے کہ کوئی بھی سیاسی حالت ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ خود ہندستان کی ہی بات کریں تو موریہ کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا،مغلیہ سلطنت بھی قصہ پارینہ بن گئی، ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی اقتدار کا سورج بھی غروب ہوگیا، اب یہ جمہوریت بھی بوڑھی ہوکر ہندو راشٹر کے لیے راہ ہموار کررہی ہے ۔ ایسے حالات میں اگر مسلمان تحفظ وطن کے لیے ضرور شعور پیدا نہیں کریں گے اور اپنا فریضہ ادا نہیں کریں گے، تو انقلاب سے مسلمانوں کو کوئی نہیں بچا سکتا۔
جمعیت علمائے ہند کی ایک مشترکہ کوشش
ملک میں دلتوں، آدی واسیوں، پسماندہ طبقات اور مسلم اقلیت کے خلاف بڑھتی ہوئی ناانصافیوں اور دستور کو درپیش خطرات کے پس منظر میں جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام مدنی ہال، نئی دہلی میں ’’ملک دوراہے پر اور آگے کا راستہ‘‘ کے عنوان سے 20 فروری 2018ء کو اجتماع منعقد ہوا۔ مقررین نے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دستور کے تحفظ، نفرت کے مقابلے، سماجی ہم آہنگی اور مختلف مظلوم و پسماندہ طبقات کے مشترکہ محاذ پر زور دیا۔
- مولانا محمود مدنی، جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند: ملک کے حالات انتہائی تشویش ناک ہیں؛ مذہب و ذات کی بنیاد پر حملوں کے ساتھ معاشی بحران، کسانوں کی خودکشی اور نوجوانوں کی بے روزگاری نے مسائل کو مزید سنگین کردیا ہے، اس لیے مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔
- مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری، صدر جمعیت علمائے ہند: حکومت دستور کی پابند ہے؛ محض حکومت سے بے تعلقی یا مذمت کافی نہیں، بلکہ اس کے رویے کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ضرورت کے وقت اس سے بات چیت بھی ہونی چاہیے۔
- پرکاش امبیڈکر، دلت رہنما: ملک میں دستور اور شخصی آزادی کے تحفظ کی لڑائی جاری ہے؛ مختلف محروم طبقات کو متحد کرکے ان کی اجتماعی طاقت بنانا ضروری ہے۔
- پروفیسر رام پنیانی: آر ایس ایس اور منو وادی سوچ پر مبنی ہندو راشٹر کا تصور سماج کے لیے خطرہ ہے؛ نفرت ایک منظم عمل کے ذریعے پھیلائی گئی ہے، اس لیے کیڈر سازی اور اقلیت و اکثریت کی مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔
- مولانا سید ارشد مدنی: نفرت کو نفرت سے نہیں بلکہ محبت سے ختم کیا جاسکتا ہے؛ دلتوں اور مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اجتماعی فیصلوں کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔
- شری شیورودر النگایت، لنگایت مذہبی رہنما: دلوں کو جوڑنے کی ضرورت ہے؛ صلح حدیبیہ اس بات کی مثال ہے کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی صلح و مفاہمت کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔
- ہرش مندر، سابق نوکر شاہ: آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ ہم نے موجودہ حالات میں کیا کردار ادا کیا؛ خوف و نفرت کے ماحول کے خلاف مضبوط منصوبہ بندی کے ساتھ جدوجہد ضروری ہے۔
- پروفیسر کنچا الیا: محض سیاسی تحریک کے بجائے سول تحریک کی ضرورت ہے؛ موجودہ فاشزم اور اس کے ایجنڈے کو سمجھ کر عملی لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔
- ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں، چیئرمین دہلی اقلیتی کمیشن: نفرت کے خلاف آواز بلند کرنے اور فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانونی اقدامات کا مطالبہ مضبوطی سے اٹھانا چاہیے۔
- نوید حامد، صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت: ملک کی یک جہتی کی جدوجہد صرف مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں؛ اکثریتی طبقے کو بھی آگے آکر اس میں مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
- اشوک بھارتی، دلت رہنما و چیئرمین ناکڈور: منو وادی سوچ کے مقابلے کے لیے ادارہ جاتی نظام، معیشت میں مظلوم طبقات کی یقینی حصہ داری اور حقوق کے تحفظ کرنے والے اداروں کی نگرانی ضروری ہے۔
- سوامی اگنی ویش، آریہ سماجی رہنما: موجودہ نظام میں جمہوریت و سوشلزم کمزور اور سرمایہ دارانہ غلبہ نمایاں ہے؛ بینکوں کی لوٹ مار، کسانوں کی خودکشیاں اور معاشی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
- مولانا اصغر علی امام مہدی، امیر جمعیت اہل حدیث ہند: امید ہے کہ یہ اجتماع ملک کا رخ بدلنے اور موجودہ حالات کے حل کی طرف مؤثر پیش رفت کا ذریعہ بنے گا۔
- قاسم رسول الیاس: حکومت اپنے وعدوں میں ناکام ہورہی ہے اور ان ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے میڈیا کے ذریعے غیر اہم اور متنازع موضوعات کو نمایاں کیا جارہا ہے۔
- سریش کھیر نار: پسماندہ اور محروم طبقات کے مسائل کے حل کے لیے اجتماعی جدوجہد اور مشترکہ پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔
- ڈاکٹر ظفر محمود، صدر زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا: سماجی محرومی اور اقلیتوں کے مسائل کے حل کے لیے حقوق، مساوات اور عملی سماجی اقدامات کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔
- محترمہ ریشما جی: موجودہ حالات میں محروم طبقات کی آواز کو منظم کرکے ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔
- پروفیسر شرف الدین: سماجی انصاف اور تمام طبقات کے مساوی حقوق کے لیے اجتماعی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
- ایم ایم انصاری: ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ دستور اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔
- سی ایل یادگیری: پسماندہ طبقات کی شرکت اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی جدوجہد ضروری ہے۔
- بیلا این تیجاوت: محروم اور کمزور طبقات کو اپنے حقوق کے لیے متحد اور منظم ہونا چاہیے۔
- کے کے کھیریا: دستور اور سماجی انصاف کے تحفظ کے لیے مختلف طبقات کو مشترکہ جدوجہد میں شریک ہونا چاہیے۔
- جان چھٹناٹ: سماجی ہم آہنگی اور محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوشش ضروری ہے۔
- اشوک اروڑا: موجودہ حالات میں جمہوری اور آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے اجتماعی آواز کو مضبوط کرنا چاہیے۔
- مولانا محمد احمد، سکریٹری جماعت اسلامی ہند: ملک کے حالات میں اصلاح اور اجتماعی جدوجہد کے لیے مختلف طبقات کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
- ڈاکٹر عرشی خان: اقلیتوں اور دیگر محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔
- مولانا ندیم صدیقی، صدر جمعیت علمائے مہاراشٹرا: موجودہ حالات میں مسلمانوں اور دیگر مظلوم طبقات کے مسائل کو اجتماعی طور پر اٹھانا ضروری ہے۔
- مولانا اسامہ کانپوری، صدر جمعیت علمائے یوپی: دستور اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔
- حافظ پیر شبیر احمد، صدر جمعیت علمائے تلنگانہ و آندھرا پردیش: موجودہ حالات میں اتحاد، باہمی تعاون اور حقوق کے تحفظ کی جدوجہد ضروری ہے۔
- صلاح الدین احمد: سماجی انصاف اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔
- ٹی آر کھنٹے: محروم طبقات کی آواز کو مضبوط کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوشش ضروری ہے۔
- اے سی مائیکل: دستور اور سماجی مساوات کے تحفظ کے لیے تمام طبقات کو متحد ہوکر کام کرنا چاہیے۔
- ڈاکٹر چندرپال: دلتوں، پسماندہ طبقات اور دیگر محروم گروہوں کے حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔
اجتماع کے اختتام پر آگے کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے سوامی اگنی ویش، پرکاش امبیڈکر، سریش کھیر نار، پروفیسر کنچا الیا، نتن چودھری، راکیش بہادر، ہرش مندر اور قربان علی پر مشتمل کور کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی نے بعد کی میٹنگ میں ایک ڈرافٹ پیش کیا، جس میں دستور کے تحفظ کے لیے ’’دستور بچاؤ تحریک‘‘ شروع کرنے اور ایس سی، ایس ٹی، او بی سی، آدی واسی اور اقلیتوں سمیت تمام پسماندہ طبقات کی شرکت پر زور دیا گیا۔ اس تحریک کا نعرہ تجویز کیا گیا: ’’بھارت دیش، سب کا دیش‘‘۔
لیکن اس کمیٹی نےکیا علمی کارروائیاں کیں، راقم کو معلوم نہیں ہوسکا۔
جہازی فارمولا















