سیکشن 6.1: قدر پیمائی (Assessment) کے لیے رہنما اصول
6.1.1 قدر پیمائی کی نوعیت اور مقصد
این سی ایف (NCF) کے تجویز کردہ "قابلیت پر مبنی نصاب” (Competency-based curriculum) میں، قدر پیمائی (اسیسمنٹ) دراصل وہ ذرائع اور طریقے ہیں جن کے ذریعے بچوں کے سیکھنے کی کامیابیوں کے شواہد جمع کیے جاتے ہیں۔
بنیادی مرحلے (Foundational Stage) میں قدر پیمائی درج ذیل مقاصد کے لیے کارآمد ہو سکتی ہے:
- a. بچے کی ضروریات، ترجیحات اور دلچسپیوں کی شناخت کرنا: یہ معلومات استاد کو مواد اور تدریسی طریقوں کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کر سکتی ہیں۔
- b. استاد کو بچے کے سیکھنے کی کامیابیوں کے بارے میں بصیرت دینا اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنا: اسیسمنٹ کے کاموں پر بچوں کے ردِعمل معلومات کا ایک بڑا ذریعہ ہوتے ہیں جن پر اساتذہ مزید اقدام کر سکتے ہیں۔ یہ ردِعمل بچے کی سوچ اور سیکھنے کے عمل کو سمجھنے کا موقع دیتے ہیں۔ بچے کے ردِعمل کا باریک بینی سے تجزیہ کرنا استاد کے لیے اتنا ہی اہم کام ہے جتنا کہ سوچ سمجھ کر قدر پیمائی کو ڈیزائن کرنا۔
- c. سیکھنے کو مستحکم (Consolidate) کرنے کی اجازت دینا: اگر قدر پیمائی کے کام اچھی طرح ڈیزائن کیے جائیں تو وہ بچوں کو باکسی اور مقصد پر مبنی سرگرمیوں اور مشقوں کے ذریعے اپنے سیکھے ہوئے کو مستحکم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ حال ہی میں حاصل کردہ علم اور مہارتوں کے استعمال سے بچے اپنی سمجھ اور صلاحیتوں کو مزید گہرا کرتے ہیں۔
- d. بچے کے لیے سیکھنے کے مناسب مواقع فراہم کرنے کی کوششوں میں تعاون اور ہم آہنگی کو ممکن بنانا: قدر پیمائی کے ذریعے جمع کی گئی معلومات کو ان تمام افراد (اسٹیک ہولڈرز) کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے جو بچے کی تعلیم و تربیت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
- e. ایک وقت کے دوران ہر بچے کی پیشرفت کی شرح بتانا: یہ صرف صلاحیتوں (Competencies) کے حصول کی بات نہیں ہے، بلکہ ان صلاحیتوں کو حاصل کرنے میں لگنے والا وقت بھی سیکھنے کے عمل کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔
- f. ایک کلاس روم میں بچوں کی مجموعی سطح پر سیکھنے کی کامیابیوں کا ایک مکمل خاکہ فراہم کرنا: یہ معلومات استاد اور اسکول کے سربراہ دونوں کے لیے تمام بچوں کے لیے نصابی مقاصد حاصل کرنے کی خاطر مواد اور تدریس کی منصوبہ بندی اور تنظیم میں مددگار ہوتی ہیں۔
- g. بچوں کے مختلف سماجی و اقتصادی پس منظر اور سیکھنے کی رفتار میں فرق کو مدِنظر رکھنا: ایک ہی کلاس کے بچوں میں سیکھنے کے خلا ابتدائی دنوں میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو گریڈ 2 (دوسری جماعت) تک یہ خلا اور واضح ہو سکتے ہیں۔ مسلسل اور اچھی طرح سے ڈیزائن کی گئی اسیسمنٹ استاد کو ان بچوں کے لیے اضافی اور مناسب تعلیمی تجربات ترتیب دینے میں مدد دے سکتی ہے جو صحیح طریقے سے نہیں سیکھ پا رہے ہیں۔
- h. ممکنہ نشو و نما کے چیلنجوں یا سیکھنے کی مشکلات کے بارے میں ابتدائی اشارے دینا: اگرچہ یہ بنیادی مرحلے (Foundational Stage) میں خاص طور پر اہم ہے، لیکن اس بات کا پورا خیال رکھا جانا چاہیے کہ خراب انداز سے تیار کی گئی اسیسمنٹ کی بنیاد پر بچوں پر کوئی لیبل (تھپہ) نہ لگایا جائے۔ (براہ کرم اس بارے میں مزید تفصیلات کے لیے باب 8 دیکھیں)۔
6.1.2 بنیادی مرحلے (Foundational Stage) کے لیے قدر پیمائی کے اہم نکات
بنیادی مرحلے (فاؤنڈیشنل اسٹیج) میں بچے بہت چھوٹے ہوتے ہیں، اور قدر پیمائی کے عمل کی وجہ سے پیدا ہونے والا کوئی بھی غیر ضروری جذباتی تناؤ بہترین تدریسی و تعلیمی عمل کے خلاف ہے۔ درج ذیل باتوں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے:
- a. قدر پیمائی کو بچے کے لیے کسی بھی اضافی بوجھ کا باعث نہیں بننا چاہیے: قدر پیمائی کے آلات اور عمل کو اس طرح ڈیزائن کیا جانا چاہیے کہ وہ بچے کے سیکھنے کے تجربے کا ایک قدرتی حصہ لگیں۔ اس مرحلے کے لیے رسمی امتحانات اور ٹیسٹ بالکل نا مناسب ذرائع ہیں۔
- b. قدر پیمائی معلومات کا ایک قابلِ اعتماد ذریعہ ہونی چاہیے: چونکہ یہ بچے کی تعلیم کا ایک اہم ثبوت ہے، اس لیے اسیسمنٹ کو کسی صلاحیت یا تعلیمی نتیجے (Learning Outcome) کے حصول کی درست عکاسی کرنی چاہیے۔ مطلوبہ تعلیمی نتیجے اور اسیسمنٹ کے درمیان تعلق واضح اور درست ہونا چاہیے۔
- c. قدر پیمائی کو بچوں اور ان کے سیکھنے کے تنوع (مختلف طریقوں) کو قبول کرنا چاہیے: بچے مختلف طریقوں سے سیکھتے ہیں اور اپنے علم کا اظہار بھی مختلف انداز میں کرتے ہیں۔ کسی تعلیمی نتیجے یا صلاحیت کو جانچنے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں۔ استاد کے پاس یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ ایک ہی تعلیمی نتیجے کے لیے مختلف قسم کی قدر پیمائی تیار کر سکے اور ہر طریقہ کار کا مناسب استعمال کرے۔
- d. قدر پیمائی کو ریکارڈنگ اور دستاویزی شواہد بنانے کے قابل ہونا چاہیے: بچوں کی پیشرفت کو شواہد کے منظم جمع آوری کے ذریعے بیان اور تجزیہ کیا جانا چاہیے۔
- e. قدر پیمائی سے اساتذہ پر حد سے زیادہ بوجھ نہیں پڑنا چاہیے: استاد کے پاس یہ خودمختاری ہونی چاہیے کہ وہ اسیسمنٹ کے لیے مناسب طریقہ کار کا انتخاب کرے اور ریکارڈ برقرار رکھنے کا وقفہ خود طے کرے۔ اگرچہ یہ خودمختاری اہم ہے، لیکن بچوں کی قدر پیمائی کا منظم ریکارڈ رکھنا استاد کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا ایک اہم حصہ سمجھا جانا چاہیے۔
















