سیکشن 6.2: قدر پیمائی (Assessment) کے طریقے اور آلات
بنیادی مرحلے (Foundational Stage) کے لیے قدر پیمائی کے دو اہم اور مناسب طریقے بچے کا مشاہدہ (Observation) اور بچے کی تیار کردہ تخلیقات/مصنوعات (Artefacts) کا تجزیہ ہیں جو انھوں نے اپنے سیکھنے کے تجربے کے حصے کے طور پر بنائی ہیں۔
یہ سیکشن واضح کرتا ہے کہ بنیادی مرحلے میں ان طریقوں اور آلات کا استعمال کیسے کیا جا سکتا ہے۔ دیگر آلات اور طریقے جو تیار کیے جائیں، انہیں پچھلے سیکشن میں بیان کردہ قدر پیمائی کے اصولوں کی پیروی کرنی چاہیے۔
6.2.1 بچے کے مشاہدات (Observations of the Child)
وقت کے ساتھ ساتھ کیا جانے والا مشاہدہ استاد کو بچے کے سیکھنے کی جامع سمجھ فراہم کرتا ہے۔ ایسے کئی مواقع ہو سکتے ہیں جہاں بچے اپنے رویے، طرزِ عمل اور اپنی سیکھی ہوئی باتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
بچے عمل کر کے، دکھا کر اور بول کر اپنی سمجھ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ مشاہدات اساتذہ کو مختلف صلاحیتوں (Competencies) میں بچے کی کامیابی کو دیکھنے میں مدد دے سکتے ہیں جن کا مظاہرہ بچے کئی ممکنہ طریقوں سے کر سکتے ہیں۔ استاد ان عوامل کو بھی نوٹ کر سکتا ہے جو اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی، خاص حالات یا اشیاء بچے کو ایک مخصوص طریقے سے عمل کرنے کے لیے ترغیب دے سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر استاد یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ بچے میں کھلونے شیئر کرنے اور اپنی باری کا انتظار کرنے کی صلاحیت ہے یا نہیں، تو ایک ایسا ماحول بنایا جانا چاہیے تاکہ بچہ شیئر کرنے یا باری لینے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کر سکے۔ استاد بچے کو کلاس روم کے کسی خاموش کونے میں کسی دوسرے بچے کے ساتھ باری باری کھیلنے کے لیے کہہ سکتا ہے۔
قدر پیمائی کے لیے منظم مشاہدے (Systematic observation) میں درج ذیل مراحل شامل ہیں:
- a. منصوبہ بندی (Planning): کلاس روم میں مشاہدے کے لیے چند بچوں کا انتخاب کریں۔ طے کریں کہ آپ نصابی مقاصد (Curricular Goals) میں سے کن کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان صلاحیتوں اور تعلیمی نتائج (Competencies and Learning Outcomes) کی فہرست بنائیں جن کا آپ مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ مشاہدات کو ریکارڈ کرنے کے لیے درکار ٹول (وسیلا) طے اور تیار کریں۔
- b. شواہد جمع کرنا (Gather evidence): ایسا وقت تلاش کریں جہاں منتخب کردہ صلاحیتیں یا تعلیمی نتائج بچوں کے ذریعے ظاہر کیے جا سکیں۔ مثال کے طور پر، اگر یہ بڑی عضلاتی نشو و نما (Gross motor development) سے متعلق ہے، تو باہر کھیلنا مشاہدے کے لیے ایک بہترین ماحول ہوگا۔ اگر یہ سماجی نشو و نما سے متعلق ہے، تو گروپ سرگرمیوں یا ڈرامائی کھیل کے کونے میں بچوں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ جو کچھ بھی دیکھتے ہیں اسے بالکل ویسے ہی ریکارڈ کرتے رہیں، مثال کے طور پر، اگر آپ دیکھتے ہیں کہ بچہ خود سے باری لینے کے قابل ہے، تو آپ اپنی چیک لسٹ پر ٹک کر سکتے ہیں اور شواہد کے طور پر درست مشاہدے کو نوٹ کر سکتے ہیں۔
- c. غور و فکر اور اندازہ لگانا (Reflect and assess): ایک خاص مدت میں ہر بچے کی پیشرفت کا پتہ لگانے کے لیے شواہد اور ریکارڈز کو پڑھیں۔ ہر ٹھوس ثبوت استاد کو بتائے گا کہ مستقبل میں بچوں کے لیے اپنی تدریس کی منصوبہ بندی کیسے کی جائے اور اس میں کیسے تبدیلی لائی جائے۔
چند عام تدریسی عمل کے دوران مشاہدے کے لیے کچھ اشارے:
- a. کہانی سنانا (Story telling):
- i. کیا بچہ کہانی میں دلچسپی لے رہا ہے؟
- ii. کیا بچہ تصویروں کی وضاحت کر رہا ہے؟
- iii. کیا بچہ کہانی کے مختلف کرداروں کے بارے میں سوالات پوچھ رہا ہے؟
- iv. کیا بچہ اپنے ذاتی تجربات کو کہانی کے واقعات سے جوڑ رہا ہے؟
- v. کیا بچہ کہانی کے واقف الفاظ کو یاد کر رہا ہے؟
- vi. کیا بچہ کہانی کے بارے میں اپنی پسند یا ناپسند کا اظہار کر رہا ہے؟
- b. رہنمائی کے ساتھ گفتگو (Guided conversation):
- i. کیا بچہ سرکل ٹائم (گول دائرے میں بیٹھنے کے وقت) کے دوران دوسروں کو سن رہا ہے؟
- ii. کیا بچہ بولنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے؟
- iii. کیا بچہ دوسروں کو سنتے ہوئے اپنی خوشی یا ناگواری کا اظہار کر رہا ہے؟
- iv. کیا بچہ یہ پیشین گوئی کرنے کے قابل ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے؟
- c. کھیل – آزادانہ، رہنمائی شدہ، یا منظم (Play – Free, Guided, or Structured):
- i. کیا بچہ سادہ مسائل حل کر رہا ہے؟
- ii. کیا بچہ کھیلنے والے مواد کے ساتھ مشغول ہونے کے لیے بڑے اور چھوٹے عضلات کا استعمال کرنے کے قابل ہے؟
- iii. کیا بچہ مختلف جذبات کا اظہار کرنے کے قابل ہے؟
- iv. کیا بچہ دوسروں کے جذبات پر مناسب ردِعمل دینے کے قابل ہے؟
6.2.1.1 مشاہدات کو ریکارڈ کرنے کے آلات (Tools to record observations)
اساتذہ اپنے مشاہدے کو ریکارڈ کرنے کے لیے ‘واقعاتی ریکارڈ’ (Anecdotal records)، ‘چیک لسٹ’ (Checklists) اور ‘واقعاتی نمونہ بندی’ (Event sampling) جیسے آلات کا استعمال کر سکتے ہیں۔
a. واقعاتی ریکارڈ (Anecdotal records)
واقعاتی ریکارڈ کسی خاص واقعہ کی تفصیل سے ریکارڈنگ کی ایک کوشش ہوتی ہے جو خاص دلچسپی یا تشویش کا باعث ہو۔
جب کوئی خاص واقعہ استاد کی توجہ حاصل کرتا ہے، تو وہ جتنی جلدی ہو سکے اس واقعے کی تحریری تفصیل لکھ سکتے ہیں۔ واقعاتی ریکارڈ اس بات کا مشاہدہ ہے کہ بچے کسی خاص سرگرمی میں مشغول رہتے ہوئے کیا کہتے اور کرتے ہیں۔
نمونہ: واقعاتی مشاہداتی ریکارڈ (Sample Anecdotal Observation Record)
سیاق و سباق (Context): میں 4-5 سال کے بچوں کی کلاس کو پڑھاتا/پڑھاتی ہوں۔ یہ ایک مشاہدہ ہے جو میں نے بچوں کے ساتھ ‘کہانی کے وقت’ (story time) کے دوران کیا جس نے میری توجہ حاصل کی۔ نام: دیوی | عمر: 4.5 سال مشاہدے کی تاریخ و وقت: DDMMYY, HH:MM | مقام/علاقہ: کلاس روم مشاہدے کا مقصد: جذباتی نظم و ضبط (Emotional regulation)
مشاہدہ (Observation): میں نے اپنی کلاس میں ‘راجیش اپنی بہن کو گلے لگاتا ہے’ کی کہانی پڑھ کر سنائی۔ دیوی پریشان ہو گئی اور اپنے پاس بیٹھے بچوں کو دھکا دینے لگی۔ کہانی پڑھنے کے بعد، میں نے بچوں سے اپنے خاندان کی تصویر بنانے کو کہا۔ دیوی نے ایسا ہی کیا لیکن موم کے رنگ (crayon) کا استعمال کرتے ہوئے تصویر میں موجود لڑکے کو کالا کر دیا۔ میں نے اس سے اس کے بارے میں پوچھا، تو اس نے کہا ‘یہ میرا بھائی ہے۔ میں اسے پسند نہیں کرتی۔ وہ مجھے ہمیشہ چڑحاتا ہے اور میرا کھانا لے لیتا ہے۔ امی اور ابو اسے پسند کرتے ہیں۔’
تعبیر/نتیجہ (Interpretation):
- ایسا لگتا ہے کہ دیوی اپنے بھائی کے بارے میں اپنے جذبات سے نمٹنے میں دشواری کا سامنا کر رہی ہے۔
- ہو سکتا ہے وہ اپنے والدین کو اپنے جذبات بتانا نہ جانتی ہو۔
- یہ چیز دوسرے بچوں کے ساتھ اس کے رویے کو بھی متاثر کر رہی تھی۔
عملی منصوبہ (Plan of action):
- دیوی کے والدین سے اس بارے میں بات کی جائے۔ انہیں گھر پر کچھ چیزیں کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے – جیسے بھائی اور دیوی کو ایک ساتھ کھلانا، کچھ کام ایک ساتھ کرنا، کھانا شیئر کرنا، اور واضح طور پر اسے یقین دلانا کہ وہ دونوں سے یکساں محبت کرتے ہیں۔
- کہانیوں اور ڈراموں میں جہاں والدین اور بھائیوں کے کردار شامل ہوں، دیوی کے ردِعمل اور رویے پر زیادہ توجہ دی جائے؛ پیشرفت کا مشاہدہ اور ریکارڈ کیا جائے۔
b. چیک لسٹ (Checklists)
چیک لسٹ یہ جانچنے اور ریکارڈ کرنے کا ایک ٹول ہے کہ آیا بچے نے فہرست میں شامل تعلیمی نتیجہ (Learning Outcome) حاصل کر لیا ہے یا نہیں۔ یہ عام طور پر بچے کے ذریعے نتائج کے مظاہرے سے متعلق ‘ہاں/نہیں’ کا فارمیٹ فراہم کرتی ہے۔
چیک لسٹ عام طور پر سیکھنے کے ایک ترتیب وار انداز پر مبنی ہوتی ہے اور یہ فرض کرتی ہے کہ تمام بچے ایک ہی منظم ترتیب میں آگے بڑھیں گے۔ چیک لسٹ کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے جب بہت سے نتائج کا مشاہدہ کرنا ہو۔ انہیں جلدی اور آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اساتذہ کو بچوں کی کامیابی کے ‘رپورٹ کارڈ’ کے طور پر نہیں بلکہ بہتری کے مقصد کے لیے چیک لسٹ اور سوالنامے کا استعمال کرنا چاہیے۔ چیک لسٹ کا استعمال کرتے وقت، ‘مکس اینڈ میچ’ اپروچ کو ترجیح دی جاتی ہے جو چیک لسٹ کو ڈیٹا اکٹھا کرنے کے دوسرے طریقے کے ساتھ جوڑتا ہے (مثلاً، فیصلہ کرنے کے لیے مشاہداتی ریکارڈ کے ساتھ چیک لسٹ)۔
زبان اور خواندگی (language and literacy) کی مہارتوں کے مشاہدے کے لیے ایک نمونہ چیک لسٹ نیچے دی گئی ہے جو ایک بچے اور بچوں کے گروپ کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے:
جدول 6.2A: مشاہدے کے لیے نمونہ چیک لسٹ (Sample Checklist for Observation)
| سنے اور بولنے کی صلاحیت (Listening and speaking) | سہ ماہی 1 (Quarter 1) | سہ ماہی 2 (Quarter 2) | سہ ماہی 3 (Quarter 3) |
|---|---|---|---|
| 1. بولی جانے والی گفتگو اور کہانیوں کو توجہ سے سنتا/سنتی ہے | |||
| 2. چھوٹی نظمیں اور ایکشن گانے دہراتا/دہراتی ہے اور موسیقی و ردھم کی سرگرمیوں میں حصہ لیتا/لیتی ہے | |||
| 3. 2 یا 3 مرحلہ وار ہدایات پر عمل کرنے کے قابل ہے | |||
| 4. مناسب جملوں کے ذریعے سوالات کے جوابات دیتا/دیتی ہے | |||
| 5. مناسب الفاظ کا استعمال کرتا/کرتی ہے اور کسی خیال/شے/تصویر/تجربے کے بارے میں مکمل جملے بولتا/بولتی ہے | |||
| ابتدائی پڑھائی (Emergent reading) | |||
| 6. پرنٹ آگاہی (Print awareness) اور معنی سمجھنا – کلاس روم اور ماحول میں پرنٹ کی آگاہی کا مظاہرہ کرتا/کرتی ہے | |||
| 7. اپنا نام پہچاننے کے قابل ہے اور بولے گئے الفاظ اور لکھے گئے الفاظ کے درمیان تعلق کو سمجھتا/سمجھتی ہے | |||
| 8. کتابوں سے لگاؤ – عمر کے مطابق کتابوں کی حد کو تلاش کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتا/کرتی ہے (مثلاً تصاویر کی کتابیں، نظموں کی کتابیں، کہانیوں کی کتابیں) | |||
| 9. فرضی پڑھائی (Pretend reading) – دلچسپی کا مظاہرہ کرتا/کرتی ہے، کتابوں کو دیکھتا/دیکھتی ہے اور انہیں پڑھنے کی کوشش کرتا/کرتی ہے | |||
| 10. تصویر والی کتابوں یا کہانی کی کتابوں کے پرنٹ کے معنی کو سمجھنے اور تعبیر کرنے کے قابل ہے |
c. واقعاتی نمونہ بندی (Event sampling)
جبکہ واقعاتی ریکارڈ تفصیل سے کیفیتی مشاہدات ہوتے ہیں اور چیک لسٹ کا خلاصہ تیار کیا جاتا ہے، Event sampling دونوں کا امتزاج فراہم کرتا ہے۔ ہر بار جب کوئی ہدف شدہ واقعہ پیش آتا ہے، استاد تحریری طور پر، واقعہ کے آغاز سے لے کر اختتام تک جتنی ہو سکے تفصیلات محفوظ کر سکتا ہے۔
واقعہ يا فریکوئنسی سیمپلنگ (Event or frequency sampling) خاص طور پر اس وقت کارآمد ہوتی ہے جب اساتذہ بچوں کے ناپسندیدہ رویے یا عمل کا رخ موڑنا چاہتے ہوں۔ ریکارڈنگ ایک سادہ جدول (table) کی شکل لے سکتی ہے جہاں استاد ناپسندیدہ رویے یا عمل کے وقوع پذیر ہونے کی تعداد کو نشان زد کرتا ہے۔ رویے کا باعث بننے والے واقعات، دن کا وقت، اور کسی دوسرے شخص اور صورت حال کی موجودگی کی تفصیلات بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔
اسی طرح، اگر استاد کسی خاص رویے یا اعمال کو باقاعدہ وقفوں سے جانچنا چاہتا ہے تاکہ مسئلے کی شدت کو سمجھا جا سکے، تو وہ اسے ‘ٹائم سیمپلنگ’ (time sampling) میں کر سکتا ہے، جیسے 1 گھنٹے کی سرگرمی کے دوران ہر 10 منٹ کے وقفے میں کسی عمل کو ریکارڈ کرنا۔ (مثال کے طور پر، اگر استاد کسی بچے کے جارحانہ رویے کا مشاہدہ کرنا چاہتا ہے، تو وہ دو دنوں کے لیے آزادانہ کھیل کے وقت ہر 10 منٹ میں ریکارڈ کر سکتا ہے، جس سے بچے کی ضد اور تنازعات اور کسی خاص صورتحال میں اس کے سماجی و جذباتی رویے کا واضح اندازہ ہو جائے گا)۔
واقعاتی نمونہ – مشاہداتی ریکارڈ (Event Sample – Observation record)
سیاق و سباق (Context): یہ 4-5 سال کی عمر کے بچوں کی کلاس تھی۔ میں نے اپنے بچوں کو گروپ کا کام دیا تھا اور اپنے مشاہدات ریکارڈ کیے تھے۔ اس سے مجھے مزید اقدام کے لیے مفید بصیرت ملی۔ بچوں کے نام: متھو، چندری، سُریان، کارتھک | عمر: 4.5 سال مشاہدے کی تاریخ و وقت: DDMMYY, HH:MM | مقام/علاقہ: تخلیقی سرگرمی، آؤٹ ڈور (باہر) مشاہدے کا مقصد: بچوں کا گروپ ورک (باہمی کام)
واقعے کی تفصیل (Description of the incident) تعبیر/نتیجہ (Interpretation) * میں نے انہیں 3 یا 4 کے چھوٹے گروپوں میں کام کرنے اور ٹہنیوں اور پتوں کا استعمال کرتے ہوئے ایک تصویر بنانے کا کام دیا تھا۔ انہیں باہر سے یہ جمع کرنا تھا اور پھر آ کر کام ختم کرنا تھا۔ * متھو، چندری، سُریان اور کارتھک ایک گروپ میں تھے۔ کارتھک نے ٹہنیوں اور پتوں کو چھوا لیکن کام کو مکمل کرنے میں اپنا حصہ نہیں ڈالا، وہ ارد گرد بھاگ رہا تھا اور دوسرے بچوں کو پریشان کر رہا تھا۔ * چندری اور متھو نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا اور اپنے جمع کیے گئے پتوں اور ٹہنیوں سے درخت کا ماڈل بنایا۔ * سُریان اس عمل سے لطف اندوز ہوتا ہوا نظر آیا لیکن اس نے زیادہ حصہ نہیں لیا۔ * یہ بچے مختلف سطحوں پر ہیں: * کارتھک میں مخل ہونے والا رویہ ظاہر ہوتا ہے، وہ کام پر توجہ مرکوز کرنے کے قابل نہیں ہے۔ مجھے اس کے ساتھ اس پر کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔ * سُریان، اگرچہ مخل نہیں ہے، لیکن اسے مناسب سماجی رویے کا مظاہرہ کرنے کے لیے مدد کی ضرورت ہوگی۔ * متھو اور چندری گروپس میں اچھی طرح کام کر سکتے ہیں، کام مکمل کر سکتے ہیں۔ نوٹ: میں خاص طور پر کارتھک کے مخل کرنے والے رویے کے بارے میں فکر مند تھا/تھی۔ اسے مزید سمجھنے کے لیے، میں نے کارتھک کی فریکوئنسی سیمپل مشاہدہ (frequency-sample observation) کرنے کا فیصلہ کیا، مثال کے طور پر، ہر دوسرے دن 30 منٹ کی مدت میں ہر 5 منٹ بعد اس کا مشاہدہ کرنا اور اس کے رویے کی تعبیر کرنا کہ وہ کسی دیے گئے کام پر کتنا وقت توجہ مرکوز کر پاتا ہے اور اس کے رویے کی وجہ کو سمجھنا۔ میں نے اسے ایک سادہ چیک لسٹ فارمیٹ میں ریکارڈ کیا۔ اس کے بعد میں اس کے خاندان کے ساتھ مل کر حل پر کام کر سکا/سکی، اسے اس کی دلچسپی کی بنیاد پر کام دے سکا/سکی، اور کام مکمل ہونے پر اس کی تعریف کر سکا/سکی۔
6.2.2 تخلیقات/مصنوعات کا تجزیہ کرنا (Analysing Artefacts)
ابتدائی بچپن کی کلاس روم میں ایک Artefact (تخلیق/مصنوعات) سے مراد تدریسی و تعلیمی عمل کے دوران بچے کی تیار کردہ کوئی چیز یا کام ہے۔ بچوں کے کام کو دیکھ کر اور یہ دیکھ کر کہ کسی خاص تعلیمی نتیجے کی ان کی فهم نے ان کی تخلیق کو کیسے متاثر کیا، Artefacts کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ Artefacts بچے کی صلاحیتوں اور طاقتوں کے بارے میں معلومات کا ایک بھرپور ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔
6.2.1.1 ایسے Artefacts کی کچھ مثالیں:
اساتذہ بچوں کے مکمل شدہ کام یا ان کے جاری کام کی تصاویر ایک فولڈر میں رکھ سکتے ہیں۔ بچے کیرم/مدت کے اختتام پر پورا فولڈر گھر لے جائیں گے۔ آرٹ ورک اور ایکٹیویٹی شیٹس کی یہ تدوین، فیلڈ ٹرپ سے جمع کی گئی چیزیں، تصاویر، ویڈیو یا ساؤنڈ ریکارڈنگز (اگر ممکن ہو)، اساتذہ کے تبصروں اور مشاہداتی نوٹس کے منظم ریکارڈ کے ساتھ مل کر بچے کی تعلیم، نشو و نما اور پیشرفت کے بارے میں جامع معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔
اسے بچے کی پیشرفت کے ثبوت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور چائلڈ پورٹ فولیو (Child Portfolio) میں منظم طریقے سے دستاویزات کے لیے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
پورٹ فولیو بچوں کے اہم کام کے نمونوں اور ریکارڈز کا ایک باقاعدہ مجموعہ ہے جو مخصوص تعلیمی نتائج سے متعلق کوششوں اور کامیابیوں کے شواہد فراہم کر کے قدر پیمائی کی اجازت دیتا ہے۔ استاد کو مخصوص نتائج کے حوالے سے بچے کے پورٹ فولیو کا تجزیہ کرنا چاہیے اور صلاحیتوں کے مقابلے میں بچے کی پیشرفت کو نشان زد کرنا چاہیے۔ بچے کے پورٹ فولیو کی تنظیم سے حاصل کیے جانے والے نتائج کو واضح طور پر ظاہر ہونا چاہیے۔ ہر بچے کے پاس ان کی متعلقہ تخلیقات کو محفوظ کرنے کے لیے ایک مخصوص فولڈر ہونا چاہیے۔
a. کام کے نمونے جیسے کہ آرٹ ورک (Work samples such as artwork)
طالب علم کا کام بطور ثبوت (Student work as evidence)
باریک عضلاتی مہارتوں (Fine motor skills) کو تیار کرنا 3-4 سال کے بچوں کے لیے تعلیمی نتائج میں سے ایک ہے جن کے ساتھ میں کام کرتا/کرتی ہوں۔ آرٹ ورک ان اہم طریقوں میں سے ایک ہے جنہیں میں بچوں کو ان مہارتوں کو تیار کرنے میں مدد کے لیے استعمال کرتا/کرتی رہا ہوں۔ سیشن کے آغاز میں اور اختتام کی طرف بچوں کا بنایا ہوا آرٹ ورک بھی ان کی پیشرفت کے واضح ثبوت کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ ایک بچے کے کام کا نمونہ ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، اس مدت کے دوران ہاتھ اور آنکھ کے درمیان ہم آہنگی (hand-eye coordination) اور باریک عضلاتی مہارتوں میں پیشرفت ہوئی ہے۔
- مدت کے آغاز میں (Beginning of the term): (تصویر 1)
- مدت کے اختتام پر (Towards end of the term): (تصویر 2)
b. ورک شیٹس (Worksheets)
ورک شیٹس میں وہ کام شامل ہوتے ہیں جو بچے انجام دیتے ہیں اور تحریری شکل میں جواب دیتے ہیں۔ یہ کام مخصوص تعلیمی نتائج حاصل کرنے کے لیے ڈیزائن کیے جا سکتے ہیں۔
ورک شیٹس اساتذہ کے لیے قدر پیمائی کے بہت موثر آلات ہو سکتی ہیں۔ ورک شیٹس میں طلباء کے ردِعمل کا تجزیہ کرنے سے استاد کو بچے کی سیکھنے کی سطح کی واضح تفہیم مل سکتی ہے۔
مخصوص خواندگی اور ریاضی کی صلاحیتوں (literacy and numeracy competencies) کے لیے، گریڈ 1 اور 2 کے بچوں کی ورک بکس کے حصے کے طور پر ایسی اسیسمنٹ ورک شیٹس شامل کرنا مفید ہے۔
(ایک نمونہ ورک شیٹ اور طلباء کے ردِعمل کے تجزیے سے حاصل ہونے والی بصیرت کی وضاحت الضمیہ 2 [Annexure 2] میں کی گئی ہے)۔















