شمس آغازایڈیٹر،دی کوریج9716518126shamsaghazrs@gmail.com
برصغیر کی تاریخ میں مسلمانوں کے عروج و زوال کے کئی ادوار گزرے ہیں، لیکن 1857ء کی ناکام جنگِ آزادی ایک ایسا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی، جس نے برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی، سماجی، علمی اور تہذیبی زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ یہ واقعہ ان کے لیے نہ صرف سیاسی زوال کا باعث بنا بلکہ انہیں علمی، معاشی اور فکری لحاظ سے بھی پسماندگی کی گہرائیوں میں دھکیل دیا۔ وہ قوم جو صدیوں تک اس خطے پر حکمرانی کرتی رہی تھی، اب غلامی، مایوسی، غربت، جہالت اور محکومی کے شکنجے میں جکڑی جا چکی تھی۔ انگریز حکومت نے مسلمانوں کو اس بغاوت کا مرکزی محرک قرار دے کر ان کے خلاف سخت اقدامات کیے۔ انہیں سرکاری ملازمتوں، زمینوں اور تعلیمی اداروں سے تقریباً مکمل طور پر خارج کر دیا گیا۔ ایک طرف مسلمان اپنے سماجی ڈھانچے کے بکھرنے کا صدمہ جھیل رہے تھے، تو دوسری طرف انگریزوں کی جانب سے متعارف کردہ نیا تعلیمی نظام ان کے لیے اجنبی اور خطرناک محسوس ہوتا تھا۔ چنانچہ مسلمانوں نے اس نظام سے اجتناب کیا اور انگریزی تعلیم کو اپنی دینی اور تہذیبی شناخت کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے اس سے دوری اختیار کی۔ اس کے برعکس غیر مسلم برادری نے اس نئے تعلیمی نظام کو قبول کیا اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو گئی۔ نتیجتاً مسلمان مزید پسماندہ ہو گئے اور ان کا علمی، معاشی اور فکری زوال مزیدگہرا ہوتا گیا۔ایسے اندھیرے دور میں جب مسلمان ایک ہمہ گیر بے بسی کا شکار ہو چکے تھے، ایک شخصیت نے روشنی کی شمع روشن کی، جس نے نہ صرف حالات کا ادراک کیا بلکہ اس کے حل کے لیے عملی اقدام بھی کیے۔ یہ شخصیت سر سید احمد خان تھے، جنہوں نے مسلمانوں کے اس زوال کو محض ایک وقتی حادثہ نہیں سمجھا بلکہ اس کے اسباب کی گہرائی میں جا کر تجزیہ کیا۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری تعلیم سے دوری تھی۔ وہ جانتے تھے کہ اگر مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عزت اور عظمت کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں جدید تعلیم، علم و عقل، سائنسی شعور اور فکری بیداری کو اپنانا ہوگا۔ سر سید کے نزدیک صرف مذہبی تعلیم کافی نہیں تھی، بلکہ دینی اور دنیاوی علوم کا امتزاج ضروری تھا تاکہ مسلمان زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکیں۔1857ء کے بعد سر سید احمد خان علیہ الرحمہ نے اپنے عملی سفر کا آغاز علمی اور سماجی خدمات سے کیا۔ انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب "آثارالصنادید” کے ذریعے مسلمانوں کو ان کے ماضی کی علمی و تہذیبی عظمت کی یاد دلائی۔ ان کی دوسری اہم کتاب "اسبابِ بغاوتِ ہند” نہ صرف ان کی فکری گہرائی کا ثبوت تھی بلکہ انگریزوں کے سامنے مسلمانوں کی پوزیشن واضح کرنے کی ایک جرات مندانہ کوشش بھی تھی۔ اس کتاب میں سر سید نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ 1857ء کی جنگ دراصل انگریزوں اور ہندوستانیوں کے درمیان بداعتمادی، غلط پالیسیوں اور باہمی غلط فہمیوں کا نتیجہ تھی۔ ان کی اس جرأت نے انگریزوں کے رویے میں نرمی پیدا کی اور مسلمانوں کے لیے نئے تعلیمی اور سماجی مواقع کے دروازے کھلے۔سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی اصلاح اور ترقی کے لیے ایک واضح اور مربوط منصوبہ تیار کیا۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کی نجات کا واحد راستہ جدید تعلیم اور فکری بیداری تھا۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے 1875ء میں علی گڑھ کے مقام پر محمدن اینگلو اورینٹل کالج کی بنیاد رکھی، جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں ایک عظیم تعلیمی مرکز بن گیا۔ یہ ادارہ محض ایک کالج نہیں تھا بلکہ ایک تحریک، ایک نظریہ اور ایک فکری انقلاب تھا۔ یہاں تعلیم کے ساتھ تربیت پر بھی زور دیا جاتا تھا۔ سر سید کا مقصد ایسے باشعور نوجوان تیار کرنا تھا جو جدید علوم و فنون سے آراستہ ہوں لیکن اپنی تہذیبی، دینی اور اخلاقی اقدار سے بھی جڑے رہیں۔ ان کے نزدیک تعلیم کا مطلب صرف کتابی معلومات حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ انسان کے سوچنے کے انداز کو بدلنا اور اسے ایک باشعور، فعال اور ذمہ دار شہری بنانا تھا۔اس تحریک کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو جدید سائنسی، سماجی اور سیاسی شعور سے روشناس کرانا تھا۔ سر سید کا ماننا تھا کہ تعلیم انسان کو نہ صرف ترقی کی راہ دکھاتی ہے بلکہ اس کے اندر اعتماد، بصیرت اور عمل کی صلاحیت بھی پیدا کرتی ہے۔ وہ تعلیم کو مذہب کے خلاف نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسلام کو علم اور عقل کا داعی مذہب مانتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن مجید میں بارہا غور و فکر، تدبر اور تحقیق کی دعوت دی گئی ہے، لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ علم کے میدان میں سب سے آگے ہوں۔ ان کے نزدیک اسلام اور جدید تعلیم میں کوئی تضاد نہیں بلکہ دونوں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔تاہم اس جدوجہد میں انہیں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف مذہبی طبقے نے انہیں کفر و الحاد کے فتووں کا نشانہ بنایا، تو دوسری طرف قدامت پسند مسلمانوں نے انگریزی تعلیم کو دشمن کا ہتھیار سمجھتے ہوئے اس سے گریز کیا۔ لیکن سر سید اپنی راہ پر ثابت قدم رہے۔ وہ مسلسل تحریروں، تقریروں اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے قوم کو قائل کرنے میں لگے رہے کہ جدید تعلیم ان کے ایمان، تہذیب یا ثقافت کے خلاف نہیں بلکہ بقاء کی ضمانت ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر مسلمان انگریزی زبان اور علوم سے ناواقف رہے تو وہ کبھی حکومت، عدالت یا تجارت جیسے اہم شعبوں میں قدم نہیں جما سکیں گے اور یوں مزید پسماندگی کا شکار ہوں گے۔وقت گزرنے کے ساتھ علی گڑھ تحریک نے مسلمانوں میں فکری بیداری کی نئی لہر پیدا کی۔ جب علی گڑھ کالج کے فارغ التحصیل طلبہ اپنے علاقوں میں واپس گئے تو انہوں نے وہاں بھی تعلیمی ادارے قائم کیے، جس سے ایک نیا تعلیمی اور فکری تسلسل قائم ہوا۔ یہ بیداری صرف تعلیم تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے مسلمانوں کے سماجی اور سیاسی شعور کو بھی متاثر کیا۔ سر سید نے اپنی تحریروں کے ذریعے قوم کو اخلاقی اصلاح، عملیت پسندی، اتحاد اور حقیقت پسندی کی تعلیم دی۔ ان کا معروف رسالہ "تہذیب الاخلاق” اسی مقصد کے لیے جاری کیا گیا۔ اس میں شامل مضامین نے مسلمانوں کے ذہنوں میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا کی، اور پہلی بار یہ احساس اجاگر ہوا کہ مذہب، تمدن، اخلاق اور علم ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں۔علی گڑھ تحریک نے مسلمانوں کو اس حقیقت سے روشناس کرایا کہ علم ہی ترقی کا واحد ذریعہ ہے۔ جن قوموں نے علم کو اپنی زندگی کا محور بنایا، وہی دنیا پر حکمرانی کر رہی ہیں۔ سر سید اکثر کہا کرتے تھے کہ جب تک مسلمان جدید علوم حاصل نہیں کریں گے، وہ غلامی اور پسماندگی سے نجات حاصل نہیں کر سکیں گے۔ ان کے نزدیک تعلیم صرف ذریعۂ معاش نہیں بلکہ انسان کی شخصیت کی تعمیر اور قوم کی تقدیر بدلنے کا اہم وسیلہ ہے۔ علی گڑھ کالج میں نہ صرف انگریزی زبان اور سائنس کی تعلیم دی جاتی تھی بلکہ اسلامی اخلاقیات اور مشرقی روایات کو بھی نصاب کا حصہ بنایا گیا۔ ان کا مقصد ایک ایسا فرد تیار کرنا تھا جو مغرب کی سائنسی ترقی سے روشناس ہو لیکن مشرق کی روحانی و تہذیبی اقدار سے جڑا ہوا ہو۔رفتہ رفتہ یہ تحریک ایک فکری انقلاب میں تبدیل ہو گئی۔ مسلمانوں میں یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ وہ اپنی تقدیر خود بدل سکتے ہیں۔ ان کے دلوں میں خود اعتمادی، جذبۂ عمل اور امید پیدا ہوئی۔ تعلیم نے ان کے خیالات کو وسعت بخشی اور انہیں دنیا کے بدلتے ہوئے تقاضوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیا۔ اگر اس تحریک کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے برصغیر کی مسلم زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو متاثر کیا۔ تعلیمی میدان میں اس نے نئے اداروں اور اسکولوں کے قیام کی بنیاد رکھی، سماجی سطح پر اس نے جمود، تنگ نظری اور غیر معقول رسم و رواج کے خلاف فکری بیداری پیدا کی، اخلاقی اعتبار سے اس نے انسان دوستی، برداشت، سچائی اور عملیت پسندی جیسے اوصاف کو فروغ دیا، اور سب سے بڑھ کر سیاسی سطح پر اس نے مسلمانوں میں علیحدہ قومی شعور پیدا کیا۔اگرچہ سر سید خود سیاست سے دور رہے، لیکن ان کے خیالات میں وہ بیج موجود تھےجن سے بعد میں سیاسی تحریکیں پروان چڑھیں۔ ان کا نظریہ تھا کہ جب تک مسلمان تعلیمی اور فکری اعتبار سے مضبوط نہیں ہوں گے، سیاست میں شمولیت ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے نزدیک تعلیم اور شعور سیاسی شرکت کی بنیاد ہے، اور یہی ان کی دور اندیشی تھی۔ انہوں نے مسلمانوں کو تیار کیا کہ وہ علم کے ذریعے خود کو منوائیں اور پھر اپنے حقوق کا مطالبہ باعزت انداز میں کریں۔علی گڑھ تحریک کا ایک اور نمایاں پہلو اردو زبان کی ترویج وترقی ہے۔ اس تحریک نے اردو کو ایک علمی زبان کے طور پر پروان چڑھایا۔ اس وقت اردو کو محض شاعری اور نثر کی زبان سمجھا جاتا تھا، مگر علی گڑھ سے وابستہ افراد نے اس میں سائنسی، فلسفیانہ اور تحقیقی مواد شامل کر کے اسے جدید اظہار کا مؤثر وسیلہ بنایا۔ "تہذیب الاخلاق” اور دیگر رسائل نے اردو نثر کو ایک نئے انداز میں پیش کیا، جس میں علم، تجربہ اور عقل کا امتزاج تھا، اور یوں اردو کو علمی وقار اور فکری گہرائی حاصل ہوئی۔اگرچہ ابتدا میں سر سید احمد خان کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، کئی علما نے انہیں مغرب زدہ قرار دیا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ان کی مخالفت بے بنیاد تھی۔ ان کا مقصد مغربی طرزِ زندگی کو اپنانا نہیں تھا، بلکہ مغرب کی علمی و سائنسی ترقی سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا تھا۔ وہ مغربی تہذیب کے اندھے مقلد نہیں تھے بلکہ اس کے ناقدانہ فہم کے قائل تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان علم حاصل کریں، عقل کو بروئے کار لائیں، لیکن اپنی دینی، اخلاقی اور تہذیبی بنیادوں کو نہ چھوڑیں۔سر سید کی وفات کے بعد بھی علی گڑھ تحریک کا سفر جاری رہا۔ ان کے شاگردوں نے اس مشن کو اپنایا اور آگے بڑھایا۔ ان میں سے کئی افراد نے بعد ازاں برصغیر کے علمی، ادبی اور سیاسی میدانوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ علی گڑھ یونیورسٹی ایک ایسا مرکزِ علم بن گئی جہاں سے فارغ التحصیل نوجوان مختلف خطوں میں جا کر اصلاح و بیداری کا کام کرتے رہے۔ یہ ادارہ تحقیق، رواداری، علم اور عملیت پسندی کی علامت بن گیا۔ علی گڑھ تحریک نے صرف برصغیر ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر مسلم معاشروں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے افراد مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور دیگر خطوں میں گئے اور وہاں تعلیمی و سماجی اصلاحات کے علمبردار بنے۔ یوں علی گڑھ تحریک ایک بین الاقوامی پیغام میں تبدیل ہو گئی ۔آج جب دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت، سائنسی ترقی، ڈیجیٹل انقلاب اور عالمی سیاست کے نئے منظرنامے سامنے آ چکے ہیں، تو علی گڑھ تحریک کا پیغام مزید اہم ہو گیا ہے۔ سر سید احمد خان نے کہا تھا کہ قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں ہے، اور جو قوم علم سے غافل ہو جائے، وہ محکوم بن جاتی ہے۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کو پھر اسی فلسفے کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے، یعنی جدید تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت، مذہبی توازن اور فکری وسعت کو اپنانا۔ علی گڑھ تحریک نے یہ ثابت کر دیا کہ قوموں کی تقدیر تعلیم سے بدلی جا سکتی ہے۔ سر سید نے جو چراغ جلایا ، وہ صرف ایک تعلیمی ادارے کی عمارت میں نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے دل و دماغ میں روشن ہوا۔ آج بھی علی گڑھ یونیورسٹی کے میناروں سے نکلنے والی روشنی علم، تحقیق اور خدمتِ خلق کا پیغام دیتی ہے۔ اس تحریک نے مسلمانوں کو مایوسی سے نکال کر خود اعتمادی بخشی، جہالت سے نکال کر علم کی راہ دکھائی، اور محکومی سے آزاد ہو کر عزت و وقار کا راستہ فراہم کیا۔ سر سید احمد خان کی یہ تحریک برصغیر کے مسلمانوں کی فکری تاریخ کا ایک روشن باب ہے، جس نے ہمیں یہ سبق دیا کہ ایمان اور عقل، علم اور اخلاق، مشرق اور مغرب ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ان کا امتزاج ہی ترقی کا زینہ ہے۔ ان کے نزدیک تعلیم محض ذریعۂ معاش نہیں بلکہ قوم کی تقدیر کا تعین کرنے والا عنصر ہے۔ انہوں نے ایک ایسی فکری بنیاد رکھی، جس پر بعد کے تمام تعلیمی، سماجی اور سیاسی ادارے استوار ہوئے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ علی گڑھ تحریک نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کی فکری و تعلیمی بیداری کا سنگِ میل ہے بلکہ یہ آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ سر سید احمد خان نے جو فکری بنیاد رکھی، وہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ترقی کا راز تعلیم، تحقیق، اخلاق اور تہذیبی شعور میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم اپنے ماضی سے سبق سیکھ کر حال میں علم و عمل کو اپنا شعار بنائیں، تو ایک روشن مستقبل ہمارا منتظر ہو سکتا ہے۔


















