غزلپھر رہے ہیں خود نمائی کو وہ بے پردہ کیے اس ہوس نے کیسے کیسے خوب رو رسوا کیے ہم ضرورت اور انا کی کش مکش دیکھا کیےبھیک ٹھکرایا کیے دامن بھی پھیلایا کیے دیکھنے دیتے نہیں، کچھ سوچنے دیتے نہیں وہ جو بیٹھے ہیں نگاہ و فکر پر قبضہ کیے یہ نہ سنا، یہ نہ پڑھنا، یہ نہ بن جانا کہیں شوق کے دروازے ان پابندیوں نے وا کیے وار کو ان کے کبھی خاطر میں لایا ہی نہیں کتنے دشمن میں نے اس تدبیر سے پسپا کیے چاند کا کردار اپنایا ہے ہم نے دوستو! داغ اپنے پاس رکھے روشنی بانٹا کیے رشک مجھ کو بے ضمیروں پر نہیں آیا حفیظ لاکھ میرے حال پر وہ طنز فرمایا کیےحفیظ میرٹھی



















