تفسیرِ تھانویؒ کی تعریب کے حوالے سے ایک استفسار
مولانا توصیف صاحب لکھنوی (اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت عطا فرمائے)کے ذریعہ جب سوشل میڈیا پر بیان القرآن کے عربی ترجمے کی خبر ملی، تو بڑی خوشی ہوئی اور مبارک بادی پیش کرنے کی سعادت بھی حاصل کی۔
اول الذکر وجہ کے علاوہ مسرت کی ایک دوسری بڑی وجہ ناچیز کے لیے تفسیر سے عملی وابستگی بھی ہے۔ اسی تناظر میں مختلف تفسیر وں کا مطالعہ ناچیز کے ذوق و شوق کےبنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ اسی تجربے کی بنیاد پراس خبر سے ئی سوالات ذہن میں آئے، جو درج ذیل ہیں:
(الف) کیا اس منصوبے میں صرف اصل عبارتوں کا عربی ترجمہ شامل ہے، یا
(ب) ان تعبیرات کا بھی تحقیقی جائزہ لیا جا رہا ہے، جو اپنے زمانے کے مخصوص حالات و معلومات کے تحت اختیار کی گئی تھیں، لیکن آج کے علمی، سائنسی اور سیاسی حقائق کے تناظر میں ان پر سوالات پیدا ہوتے ہیں؟
(ج)اگر ایسی تعبیرات کو من و عن عربی قالب میں منتقل کر دیا جائے، تو کیا ان کے ساتھ علمی توضیح، ضروری تصحیح، یا نظرِ ثانی کی کوئی صورت بھی اختیار کی جا رہی ہے؟
ان کی وضاحت کے لیے صرف تین مثالیں پیش کی جارہی ہیں:
1۔ علمِ غیب اور جدید سائنس: پانچ امورِ غیب کے سلسلے میں قرآن کی آیت کی تشریح کرتے ہوئے، حضرت تھانوی سورہ لقمان کی آیت نمبر(34) کے فوائد میں تحریر فرماتے ہیں کہ:
جو کچھ (لڑکا لڑکی حاملہ کے) رحم میں ہے، اس کو اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔
لہذا آج کل الٹراساؤنڈ اور جدید طبی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے تناظر میں اس تعبیر کی وضاحت ضروری ہے۔ کیا ترجمے کے ساتھ علمِ غیب اور انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والے محدود علم کا فرق واضح کیا جاجارہا ہے؟
2۔ یہودیوں کا اقتدار اور موجودہ اسرائیل:
حضرت تھانویؒ لکھتے ہیں کہ
منجملہ ذلت ومسکت کے یہ بھی ہے کہ یہودیوں سے سلطنت قرب قیامت تک کے لیے چھین لی گئی، البتہ بالکل قیامت کے قریب محض لٹیروں کا سا بے ضابطہ سا تھوڑا اور ورود دجال یہودی کا کل چالیس دن کے ہو جائے گا اس کو کوئی عاقل سلطنت نہیں کہہ سکتا اور ان سے یہ امر موسی علیہ السلام کی معرفت جتلادیا گیا تھا کہ اگر بے حکمی کروگے، تو ہمیشہ دوسری قوموں کے محکوم رہو گے، جیسا سورہ اعراف میں مذکور ہے۔ وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ يَسُومُهُمْ سوء العذاب۔ (تفسیر سورہ البقرہ، آیت نمبر61)
اس جگہ تفسیر میں یہودیوں کے لیے حکومت و اقتدار کے حصول کو ناممکن قرار دینے والی تعبیر موجود ہے، تو موجودہ اسرائیلی ریاست کے وجود کے تناظر میں اس کا تحقیقی جائزہ ضروری ہے۔ توعربی ترجمے میں اس فرق کی وضاحت کی جارہی ہے ، یا اصل تعبیر کو بلا تحقیق منتقل کر دیا جارہا ہے؟
3۔ ترکِ موالات اور غیر مسلموں سے تعلقات: برطانوی استعمار کے زمانے میں ترکِ موالات کے پس منظر میں اختیار کی گئی بعض تعبیرات حضرت تھانوی ؒ کی تحریر میں ان کے نظریہ ترک تعلقات پر مبنی تھیں، جب کہ معاصر علمائے کرام اسی آیت سے ترک تعلقات و ترک موالات میں فرق کیا کرتے تھے، اسی طرح ترک موالات کو غیر ملکی یہود و نصاریٰ اور کفار ومشرکین تک محدود رکھتے تھے، جب کہ حضرت تھانوی ؒ عمومیت کے قائل تھے۔ جیسا کہ سورہ النساء اور دوسرے مقامات پر متعلقہ آیتوں کی تفسیر میں دیکھ سکتے ہیں۔
تو ایسی مخصوص حالات کے تناظر میں اختیار کردہ مخصوص تعبیرات کو موجودہ جمہوری حالات کے تقاضے کے مطابق کیا جارہا ہے، یا پھر بعینہ تعریب کی جارہی ہے؟۔
اسی آج کے دور انکشافات نے جہاں زبان اور ترسیل کی بندشوں کا خاتمہ کردیا ہے اور عہد قدیم کی نایاب تحقیقات و دریافت نے قدیم مفسرین کے مصداق کی نوعیت کو غلط ثبات کردیا ہے، اس پر تحقیقات اور تعبیرات میں تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں؟
استفسار کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ کیا بیان القرآن کی صرف تعریب کی جارہی ہے ،یا ساتھ میں مخصوص تعبیرات کا علمی و تحقیقی جائزہ بھی لیا جا رہا ہے؟ اگر کسی عبارت میں تاریخی حالات سے متاثر کوئی رائے، اجتہادی تعبیر، یا ایسی تشریح موجود ہو جس کی وضاحت آج ضروری ہو، تو کیا اس پر حاشیہ، توضیح یا نظرِ ثانی کی جارہی ہے یا نہیں؟
ہمارے علمائے دیوبند کی بعض مشہور تفسیر میں بھی یہی چیزیں موجود ہیں، جیسے کہ تفسیر عثمانی، یا اس سے قبل کی تفاسیر، تو اس کے پیش نظر قارئین تحریر سے بھی ایک سوال یہ ہے کہ اس پر تحقیقی کام کی ضرورت ہے یا نہیں؟ امید ہے کہ اہل علم و تحقیق ضرور رہ نمائی فرمائیں گے۔
محمد یاسین جہازی
صرف واٹس ایپ: 9650366360(کال ندارد)
صرف کال : 9891737350 (واٹس ایپ ندارد)
















