یکم جون 2026جہاز قطعہ
جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام جاری “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے تحت ضلع گڈا، جھارکھنڈ کی شہرۂ آفاق بستی جہاز قطعہ کی جامع مسجد میں ایک نہایت اہم، بامقصد اور فکر انگیز پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں علما، نوجوانوں اور معززینِ علاقہ نے شرکت کی۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت جناب حافظ خالد صاحب (امام جامع مسجد جہاز قطعہ) نے حاصل کی، جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ جناب قاری کلیم الدین صاحب (استاد جامعۃ الہدیٰ) نے پیش کی۔
اس موقع پر مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی نے بستی کے مسلمانوں کی دینی و تعلیمی صورت حال کا ایک چونکا دینے والا تجزیہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس بستی میں تقریباً 2000 مسلمان آباد ہیں، جن کی عبادت کے لیے 6 مساجد، 4 مکاتب، 4 مدارس اور ایک خانقاہ موجود ہے۔ مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اگر اوسطاً ہر مسجد میں نمازیوں کی تعداد کو دیکھا جائے تو کل نمازیوں کی تعداد صرف 300 کے قریب بنتی ہے۔اسی طرح اگر مکاتب و مدارس میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو تقریباً 400 بچے ایسے ہیں جو براہِ راست دینی تعلیم سے وابستہ ہیں۔ تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کی تعداد اندازاً 40 سے 50 اور خانقاہ سے وابستہ افراد تقریباً 10 ہیں۔ ان تمام اعداد و شمار کو یکجا کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ کل آبادی میں سے صرف 600 تا 700 افراد ہی اپنے دین و ایمان کے حوالے سے سنجیدہ ہیں، جبکہ بقیہ 1400 افراد دینی شعور سے بڑی حد تک غافل ہیں۔مولانا نے ان حقائق کی روشنی میں نہایت دردمندی کے ساتھ متنبہ کیا کہ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو وہ وقت دور نہیں جب مسلمانوں کا مذہبی وجود خطرے میں پڑ جائے گا اور وہ سیاسی اعتبار سے بھی بے وزن ہو جائیں گے۔ انہوں نے “محاسبۂ خودی” کا ایک آسان اور عملی طریقہ پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہر مسلمان کو اپنے ایمان کا مسلسل جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔
بعد ازاں مفتی محمد زاہد امان قاسمی (ناظم جمعیت علمائے بسنترائے و بانی و مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبری) نے ایک مؤمن کے لیے ضروری سات بنیادی عقائد کو نہایت مؤثر، دلنشیں اور مدلل انداز میں پیش کیا، اور عوام میں رائج بعض غلط اور کفریہ جملوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی۔
پروگرام کے مرکزی خطاب میں مفتی محمد نظام الدین قاسمی (صدر جمعیت علماء بسنترائے و بانی جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ) نے جدید طرز پر پروجیکٹر کے ذریعے ایک متاثر کن پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے نوجوانوں کو “ریل کی فینٹسی زندگی” (یعنی موبائل، ویڈیوز اور فضول مشاغل) سے نکل کر “حقیقی زندگی کے چیلنجز” کا سامنا کرنے کا عملی فارمولا دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کامیابی کے لیے سب سے پہلے انسان کو اپنی زندگی کا ایک واضح ویژن (Vision) اور مشن (Mission) طے کرنا ہوگا، پھر اسی کے مطابق مسلسل محنت اور جدوجہد کرنی ہوگی۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی نوجوان استاد بننا چاہتا ہے تو اسے مرحلہ وار تعلیم، تربیت اور محنت کے تمام تقاضے پورے کرنے ہوں گے، مگر افسوس کہ آج کے نوجوان اسکول و کالج جانے کے باوجود اپنے مقصد سے بھٹک جاتے ہیں اور موبائل و ریل کی دنیا میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں۔مفتی صاحب نے والدین کو بھی خصوصی طور پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ان کے لیے باعثِ فخر بنیں، بڑھاپے کا سہارا بنیں اور خاندانی وقار کو آگے بڑھائیں، تو انہیں اپنے بچوں کی صحیح تربیت، موبائل کے استعمال پر نگرانی، اور ان کے ویژن و مشن کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
اس کے بعد حضرت مولانا خلیل احمد صاحب (استاد، مدرسہ اصلاح المسلمین، چمپا نگر، بھاگلپور) نے اپنے خطاب میں اس جدید اور مؤثر طرزِ دعوت کی بھرپور ستائش کی، اور کہا کہ پروجیکٹر اور پی پی ٹی کے ذریعے عام لوگوں تک بات پہنچانے کا یہ انداز نہایت مفید، منفرد اور دور رس نتائج کا حامل ہے۔
حافظ عبد الستار جہازی نے نعت شریف پیش کی۔
پروگرام کے اختتام پر مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے “تصحیح کلمہ و تذکیر کلمہ” کے عنوان سے اجتماعی ذکر جہری کرایا، جس نے حاضرین کے قلوب پر روحانی اثرات مرتب کیے۔
اس پروگرام میں تقریباً 500 افراد نے شرکت کی، جن میں علماء اور سماجی شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ قابلِ ذکر شخصیات میں مولانا محمد مختار، مولانا فیضان سرور، حافظ خالد، مفتی عبداللہ، حافظ عبدالستار، مولانا محمد قاسم، مکھیاں صغیر، ماسٹر مرشد، ڈاکٹر خالد اور دیگر شامل ہیں۔
پروگرام کے انتظامی امور میں حافظ نور الزماں (پروجیکٹر)، جناب اسماعیل صاحب (ویڈیوگرافی)، اور حافظ محمد الیاس صاحب (مائک و نظمِ طعام) نے نمایاں خدمات انجام دیں۔
واضح رہے کہ بسنترائے بلاک کی 83 بستیوں میں سے تقریباً 55 بستیوں میں اس بیداری پروگرام کے انعقاد کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اور جہاز قطعہ اس سلسلے کی پانچویں کڑی تھا۔ ان شاء اللہ یہ اصلاحی و تعلیمی مہم اپنے مقررہ ہدف تک جاری رہے گی۔
جاری کردہ:جمعیت علمائے بسنترائے





















