پسِ آئینہ: سہیل انجم
اقوام متحدہ کے کمیشن برائے فلسطین کی تازہ ترین رپورٹ کی گونج پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں اس کی بڑے پیمانے پر کوریج ہو رہی ہے اور اسرائیل اور اس کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی شدید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔ یوں تو یہ پوری رپورٹ چونکانے والی ہے جس میں اسرائلی افواج کے مظالم کی داستان بیان کی گئی ہے۔ لیکن اس کا وہ حصہ بڑا ہی تکلیف دہ ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2025 تک اسرائلی افواج کے ہاتھوں بیس ہزار سے زائد فلسطینی بچے شہید اور دسیوں ہزار زخمی ہوئے ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح بچوں کا بچپن چھین لیا گیا اور کس طرح انھیں اسرائیلی فوجوں کی درندگی کا شکار بننا پڑا۔ رپورٹ میں بچوں کو ہلاک کرنے کے وحشیانہ طریقوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور اس بارے میں اسرائیلی فوجیوں کے اعترافیہ بیانات بھی درج کیے گئے ہیں۔ دہلی اور اڑیسہ ہائی کورٹوں کے سابق جج ایس مرلی دھر کمیشن کے چیئرمین ہیں۔ انھوں نے جو تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے وہ بہت ہی لرزہ خیز ہے۔ اس کی روشنی میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا آج کے مہذب دور میں ایسی درندگی کو برداشت کیا جا سکتا ہے اور کیا ایسے حکمرانوں کے خلاف دنیا بھر کو پوری قوت کے ساتھ اٹھ کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔ ظلم و جبر کی یہ کہانی صرف اسرائیلی فوجوں نے ہی رقم نہیں کی ہے بلکہ اسرائیلی باز آبادکاروں نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔عام طور پر جب دو ملکوں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو فائرنگ کے راستے میں آکر بہت سے لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ یعنی وہ کراس فائرنگ میں مارے جاتے ہیں۔ لیکن فلسطینی بچوں کی ہلاکت اس طرح نہیں ہوئی بلکہ ان کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ عالمی میڈیا میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔ انگریزی صحافی افتخار گیلانی نے جسٹس مرلی دھر کا تفصیلی انٹرویو کیا جس کا غیر مطبوعہ اردو متن انھوں نے راقم السطور کو ارسال کیا ہے۔ یہاں اس انٹرویو اور کمیشن کی رپورٹ کی اہم باتیں پیش کی جا رہی ہیں۔ جسٹس مرلی دھر بتاتے ہیں کہ بچوں کو نشانہ بنانے کے دو گھناونے طریقے اختیار کیے گئے۔ پہلا طریقہ گنجان شہری علاقوں پر بھاری بموں کی برسات کرنا جس میں سات اکتوبر 2023 کے بعد ہولناک تیزی آئی۔ لیکن دوسرا طریقہ اس سے بھی زیادہ لرزہ خیز ہے۔یعنی کواڈ کاپٹر، ڈرون اور اسنائپر نشانہ بازوںکا استعمال کرنا۔ کواڈ کاپٹر تھرمل کیمروں سے لیس ہوتے ہیں جو انسانی جسم کا سائز بتاتے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سامنے موجود شخص کوئی بالغ ہے یا بچہ۔ شرمناک بات یہ ہے کہ خود اسرائیلی فوجیوں کے آن لائن اعترافات موجود ہیں۔ انھوں نے اسرائیلی ٹی وی پر کھلے عام اعتراف کیا کہ ڈرون چلانا ان کے لیے ایک ویڈیو گیم جیسا ہے جہاں فوجیوں کے درمیان مقابلہ ہوتا تھا کہ کون زیادہ فلسطینیوں کا شکار کرتا ہے۔ ایک فوجی کہتا ہے کہ ڈرون نے انسانیت بالکل ختم کر دی ہے۔ آپ اسکرین پر سب کچھ دیکھتے ہیں اور بٹن دبا کر بم گرا دیتے ہیں۔ آپ تہہ خانے میں سکون سے بیٹھ کر فلسطینیوں کو قتل کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کی 252 ویں ڈویژن کے ایک فوجی نے خود سر عام اعتراف کیا کہ اس نے ایک غیر مسلح سولہ سالہ فلسطینی بچے کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ معصوم بچوں کے سروں اور سینوں کو اسنائپرز نے نشانہ بنایا۔ جب کوئی فوجی کسی بچے کو مارتا ہے تو اس کا بٹالین کمانڈر اسے سزا دینے کی بجائے مبارکباد دیتا ہے۔ یعنی بچوں کو وحشیانہ انداز میں قتل کرنا ذاتی فعل نہیں بلکہ ادارہ جاتی فیصلہ ہے۔ ناہل بریگیڈ کے ایک اسنائپر نے تو یہاں تک اعتراف کیا کہ جب اس نے ایک بچے پر گولی چلانے میں ہچکچاہٹ دکھائی تو اس کے کمانڈر نے اس کو ہدایت دی کہ عمر مت دیکھو گولی چلاو۔ رپورٹ نے ان تمام بٹالینوں، بریگیڈوں اور ڈویژنوں کی نشاندہی کر دی ہے جو ان جرائم میں ملوث رہے ہیں۔ رپورٹ میں چھ سالہ ہند رجب کے المیہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس معصوم بچی کی دردناک آواز نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ اپنے خاندان کی لاشوں سے گھری گاڑی میں محصور تھی اور گھنٹوں بچاو کے عملے سے فون پر گریہ و زاری کرتی رہی۔ کمیشن نے سیٹلائٹ تصاویر، آڈیو ریکارڈنگ اور فورنسک شواہد سے ثابت کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ گاڑی کے اندر بچے موجود ہیں اسے جان بوجھ کر نشانہ بنایا اور بعد میں مدد کے لیے بھیجی گئی ایمبولینس پر بھی حملہ کر کے طبی عملے کو ہلاک کر دیا۔ اس طرح جنگ بندی معاہدے کے بعد نو اور دس سال کے دو سگے بھائی اپنی وہیل چیئر پر بیٹھے معذور باپ کے لیے لکڑیاں جمع کر رہے تھے کہ اسرائیلی فوج نے انہیں مشتبہ قرار دے کر گولیوں سے بھون ڈالا۔انخلا کے سرکاری احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے ہاتھوں میں سفید جھنڈا تھام کر محفوظ مقام کی طرف جانے والے ایک نوعمر لڑکے کو اسرائیلی نشانہ بازوں نے سامنے سے گولی مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پچھلے سال 17ا کتوبر کو ساحل سمندر پر پناہ لینے والے پانچ نوعمر لڑکوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا۔ ایک اور واقعے میں ایک چودہ سالہ فلسطینی لڑکا گولی لگنے کے بعد ایک گھنٹے تک تڑپتا رہا۔ اسرائیلی فوجی پاس کھڑے تماشہ دیکھتے رہے۔ جب اس کی ماں نے اپنے جگر گوشے تک پہنچنے کی کوشش کی تو اسرائیلی فوجیوں نے اس مجبور ماں پر بھی اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اسرائیلی قید میں بھی فلسطینیوں کو ٹارچر کیا جاتا ہے۔ نوعمر لڑکے لڑکیوں کو نیم برہنہ کرکے ویڈیو بنانا، جنسی تشدد کا شکار بنانا، کم کھانا دینا یا نہ دینا اور ان سے ناکردہ گناہوں کا جبراً اعتراف کرانا عام بات ہے۔رپورٹ میں اسرائلی بازآبادکاروں کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کی بھی تفصیل پیش کی گئی ہے۔ جس کے مطابق مغربی کنارے میں جو درندگی کی جا رہی ہے وہ انفرادی عمل نہیں بلکہ اسرائیلی پالیسی کا حصہ ہے۔ 19 اپریل 2025 کو مغربی کنارے کے بیت فورک علاقے میں اپنے گھر کے باہر کھیل رہی ایک بارہ سالہ لڑکی اور تین سالہ بچے کو چاقووں کی نوک پر گھسیٹتے ہوئے زیتون کے ایک باغ میں لے جایا گیا جہاں ان کو پیٹا گیا اور ان کے منہ پر کپڑے باندھ کر ایک درخت سے باندھ دیا گیا۔ اگست 2024 میں مویشی چرانے والے دو پندرہ سالہ لڑکوں کو اغوا کیا گیا، انھیں پیٹا گیا اور ایک دوسرے پر پیشاب کرنے کے لیے مجبور کیا گیا۔ خربت حمسہ علاقے میں 13 مارچ 2026 کو بازآبادکاروں نے ایک خاتون اور لڑکی کی پٹائی کی اور دھمکی دی کہ اگر اس خاندان نے اپنی زمین سے انخلا نہیں کیا تو وہ ان کی عصمت دری کریں گے۔ ایک شخص کو برہنہ کرکے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اس کے عضو تناسل کو ٹائٹ کرکے باندھ دیا گیا، اسے گھسیٹا گیا اور پیٹتے ہوئے پریڈ کرائی گئی۔ رپورٹ میں 2023ءاور 2025 میں فلسطینی مردوں کے ساتھ بدفعلی کے بھی واقعات درج کیے گئے ہیں۔ بازآبادکاروں کے مظالم کی مزید مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ منظم پلاننگ کے تحت نابالغ اسرائیلی بچوں کے ذہنوں میں فلسطینیوں کے تئیں نفرت پیدا کی جاتی ہے۔ ان لڑکوں کو اسکولوں سے بلایا جاتا ہے اور بازآبادکاروں کے علاقوں میں تشدد برپا کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ اس رپورٹ سے پوری دنیا میں ہنگامہ برپا ہے۔ جسٹس مرلی دھر نے دنیا سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائلی مظالم کے خلاف اٹھ کھڑی ہو۔ انھوں نے دنیا کے تمام ممالک کو ان کی قانونی ذمہ داریاں یاد دلائی ہیں اور بتایا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف دنیا کا کوئی بھی ملک اپنے یہاں مقدمہ چلا سکتا ہے خواہ وہ جرم کہیں بھی ہوا ہو اور متاثرین کسی بھی ملک کے ہوں۔ رونگٹے کھڑے کر دینے والی اس رپورٹ پر عالمی رہنماوں کی خاموشی باعث تشویش ہے اور بہت سے سوالات جنم دیتی ہے۔
موبائل:9818195929























