بتاریخ: 16 جون 2026، بروز منگل ( نمائندہ بسنت رائے)
جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیرِ اہتمام جاری ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ کے سلسلے کی نویں کڑی 16 جون 2026 بروز منگل جامع مسجد جمنی کولہ میں نہایت کامیابی، نظم و ضبط اور عوامی دلچسپی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس بیداری مہم کا بنیادی مقصد نوجوان نسل اور عوام میں ایمان و عقیدہ کی مضبوطی، دینی شعور کی بیداری، اخلاقی تربیت اور مثبت فکری رجحانات کو فروغ دینا ہے۔
پروگرام کا آغاز مولانا عباس مظاہری صاحب کی پُرسوز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جبکہ جمعیت علمائے بسنت رائے کے صدر، مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرکے محفل کو روحانی کیفیت سے معطر کردیا۔ ابتدا ہی سے حاضرین میں غیر معمولی سنجیدگی، توجہ اور دلچسپی دیکھی گئی، جس نے پورے پروگرام کو ایک مؤثر اور پُراثر ماحول عطا کیا۔
پروگرام کے پہلے اہم عنوان ”اپنے ایمان کا محاسبہ کیجیے“ پر مفتی محمد نظام الدین قاسمی (صدر جمعیت علمائے بسنت رائے و بانی و مہتمم جامعۃ الہدی، جہاز قطعہ) نے نہایت فکر انگیز اور منفرد انداز میں پروجیکٹر کے ذریعے پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایمان کا جائزہ لینے کے بنیادی طور پر دو طریقے ہیں؛ ایک اللہ تعالیٰ کے حقوق کے اعتبار سے اور دوسرا بندوں کے حقوق، اخلاقیات اور باہمی تعلقات کے اعتبار سے۔ انہوں نے اس نشست میں خصوصیت کے ساتھ ایمان کے اخلاقی اور سماجی پہلو کو موضوع بنایا اور بتایا کہ ایک مسلمان کے ایمان کی مضبوطی اس کے اخلاق، باہمی محبت اور معاشرتی رویوں سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔
اس موقع پر انہوں نے حاضرین سے ایک فکر انگیز سوال کیا کہ ”اگر ایک دن کے لیے ہمارے اور آپ کے درمیان سلام کا سلسلہ مکمل طور پر بند کردیا جائے اور یہ اعلان کر دیا جائے کہ آج کے بعد کوئی کسی کو سلام نہیں کرے گا، تو اس کے سماجی اور معاشرتی اثرات کیا ہوں گے؟“
اس سوال کے جواب میں حاضرین نے کہا کہ اس سے آپسی رنجشیں، دوریاں اور تلخیاں بڑھ جائیں گی اور محبت و تعلقات کا سلسلہ کمزور پڑ جائے گا۔ اسی نکتے کو بنیاد بنا کر مفتی صاحب نے واضح کیا کہ سلام اسلام کا ایک بظاہر چھوٹا لیکن نہایت عظیم اخلاقی حکم ہے، جو دلوں کو جوڑنے، محبت پیدا کرنے اور ایمان کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
اس کے بعد ”سلام، مصافحہ اور معانقہ“ کے عنوان سے ایک عملی گیم کرائی گئی۔ حاضرین نے سلام اور مصافحہ کے طریقہ کار کا خوب مظاہرہ کیا، جبکہ معانقہ کے حوالے سے بعض اصلاحی پہلو سامنے آئے، جن کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ چونکہ دل بائیں جانب ہوتا ہے، اس لیے معانقے میں بائیں جانب سے قربت زیادہ محبت اور قلبی تعلق کے اظہار کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس عملی مشق نے حاضرین میں غیر معمولی دلچسپی پیدا کی اور ایمان کے اخلاقی تقاضوں کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس دوران مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سلام اور باہمی محبت ایمان کا ایک چھوٹا سا تقاضا ہے، لیکن اگر ہم ایمان کے بنیادی تقاضوں اور دینی ذمہ داریوں سے غفلت برتتے رہے تو آنے والے دنوں میں مسلمان سیاسی، سماجی اور مذہبی اعتبار سے شدید نقصانات سے دوچار ہوسکتے ہیں، جن کی تلافی نہایت دشوار ہوگی۔ اس لیے آج ہی ایمان کی مضبوطی اور دینی وابستگی کی فکر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسی موقع پر گاؤں جمنی کولہ کے دینی اور تعلیمی حالات پر مشتمل ایک مختصر جائزہ بھی پیش کیا گیا۔ بتایا گیا کہ اس بستی کی مسلم آبا دی تقریبا ساڑھے سات ہزار نفوس پر مشتمل ہے، لیکن دینی ضروریات کے لیے صرف ایک مسجد، ایک مکتب اور ایک بورڈ سے منسلک مدرسہ موجود ہے، جہاں عملی طور پر طلبہ کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح دو سرکاری اسکول موجود ہیں، جن میں تقریباً ایک سو سے ڈیڑھ سو بچے زیرِ تعلیم ہیں۔
جائزے کے مطابق مسجد سے باقاعدہ وابستہ افراد کی تعداد تقریباً پچاس ہے، جبکہ خواتین کو شامل کرکے یہ تعداد تقریبا ایک سو تک پہنچتی ہے۔ بچوں کی مجموعی تعداد تقریباً پانچ سو ہے، لیکن ان میں سے صرف ڈھائی سو بچے مکتب اور اسکول سے وابستہ ہیں، جبکہ تقریبا ڈھائی سو بچے کسی بھی تعلیمی یا دینی ادارے سے منسلک نہیں ہیں۔ دعوت و تبلیغ سے وابستہ افراد کی تعداد تقریباً تیس بتائی گئی۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں اس امر پر زور دیا گیا کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ ابھی بھی مسجد، مکتب اور دینی سرگرمیوں سے دور ہے، جسے دین سے جوڑنے کے لیے مسلسل انفرادی اور اجتماعی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔
اس کے بعد ”سات بنیادی عقائد“ کے موضوع پر مفتی محمد زاہد امان قاسمی (ناظم جمعیت علمائے بسنت رائے و بانی و مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبریٰ) نے نہایت مؤثر اور عام فہم انداز میں پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے عقیدہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح انسان کے جسم سے روح نکل جائے تو وہ زندہ انسان نہیں رہتا بلکہ محض ایک لاش بن جاتا ہے، اسی طرح اگر انسان کے عقائد کمزور ہوجائیں یا خراب ہوجائیں تو وہ صحیح معنوں میں مسلمان نہیں رہتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر عقیدہ درست ہو اور اعمال میں کمزوری ہو تب بھی اللہ کی رحمت سے جنت کی امید باقی رہتی ہے، لیکن اگر عقیدہ ہی خراب ہوجائے تو نجات کی راہ نہایت دشوار ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے سات بنیادی عقائد، یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، آسمانی کتابوں پر ایمان، رسولوں پر ایمان، یومِ آخرت پر ایمان، تقدیر پر ایمان اور دوبارہ زندہ کیے جانے پر ایمان کو بار بار دہرا کر حاضرین کو یاد کرایا۔ شرکاء سے عملی مشق بھی کرائی گئی، جس میں بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں نے بھرپور شرکت کی۔
بعد ازاں مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے ”ریل سے ریئل تک“ کے عنوان سے نوجوانوں کی فکری، تعلیمی اور عملی تربیت پر مبنی ایک مؤثر پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسان کو اپنی زندگی کا ایک واضح ہدف، مضبوط مقصد اور بلند خواب متعین کرنا چاہیے۔ مقصد کے تعین کے بعد اس کو حاصل کرنے کے لیے ایک مشن بنانا ہوگا، وقت کی منصوبہ بندی کے لیے ٹائم ٹیبل تیار کرنا ہوگا اور مسلسل محنت اور استقامت کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔
انہوں نے مختلف مثالوں، ویڈیوز اور بصری پریزنٹیشنز کے ذریعے سمجھایا کہ جن افراد کے پاس واضح ہدف نہیں ہوتا، وہ اپنی توانائیاں اور قیمتی وقت بے مقصد سرگرمیوں میں ضائع کردیتے ہیں، جبکہ کامیاب افراد اپنی صلاحیتوں کو ایک متعین مقصد کے حصول میں استعمال کرتے ہیں۔
اس کے بعد مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے حاضرین سے کلمۂ طیبہ کی صحیح تلفظ کے ساتھ اجتماعی تصحیح بھی کرائی، جس میں شرکاء نے نہایت دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا۔
اختتامی مرحلے میں ذکرِ جہری کی مجلس قائم کی گئی، جس میں حاضرین نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ شرکت کی۔
پروگرام کے اختتام پر مولانا سلیم الدین صاحب قاسمی نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ دینی بیداری کے لیے پروجیکٹر اور جدید ڈیجیٹل وسائل کا اس قدر مؤثر استعمال قابلِ تحسین اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختصر وقت میں، نہایت محدود وسائل اور بغیر کسی مالی بوجھ کے اس انداز میں دین اور دنیا دونوں کی رہنمائی فراہم کرنا ایک مثالی اقدام ہے۔ انہوں نے حاضرین سے اپیل کی کہ وہ اس بیداری مہم کے ساتھ جڑیں، اس کی حوصلہ افزائی کریں اور جمعیت علمائے بسنت رائے کے ساتھ مل کر معاشرے کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کریں۔
قابلِ ذکر ہے کہ پروگرام میں پروجیکٹر کے مکمل انتظام، تنصیب، آپریٹنگ اور اختتامی مراحل کی ذمہ داری جناب اسماعیل صاحب اور جناب فرقان صاحب نے انتہائی محنت، ذمہ داری اور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی ـ
یہ نواں بیداری پروگرام اپنی علمی افادیت، عملی مشقوں، فکری رہنمائی، روحانی تاثیر اور جدید طرزِ پیشکش کے اعتبار سے ایک کامیاب، مؤثر اور یادگار مرحلہ ثابت ہوا۔
دسواں پروگرام 17/ جون 2026 کو ابراہمی مسجد مدنی چک میں ہونا طے پایا ہے























