جمعرات, جون 18, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

    تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

    نیا ڈیہہ بانکا بہار میں  اکابر علمائے کرام کی بہار

    نیا ڈیہہ بانکا بہار میں اکابر علمائے کرام کی بہار

    یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

    یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

    نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت

    جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

    جمعیت علمائے ہند کا 6 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    جمعیت علمائے بسنت رائے کے گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں مفتی محمد نظام الدین کا سمری جامع مسجد میں جمعہ کا خطاب، مشاورتی نشست میں 20 جون کو عوامی بیداری پروگرام کا فیصلہ

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا آٹھواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ لیتھا میں کامیابی کے ساتھ

    علماء عوام کے دروازے پر: گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں جمنی کولہ میں مشاورتی نشست، 16 جون کی تاریخ طے

    الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

    وندے ماترم کو لازمی قرار دینا بنیادی حقوق اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

    تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

    نیا ڈیہہ بانکا بہار میں  اکابر علمائے کرام کی بہار

    نیا ڈیہہ بانکا بہار میں اکابر علمائے کرام کی بہار

    یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

    یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

    نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت

    جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

    جمعیت علمائے ہند کا 6 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    جمعیت علمائے بسنت رائے کے گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں مفتی محمد نظام الدین کا سمری جامع مسجد میں جمعہ کا خطاب، مشاورتی نشست میں 20 جون کو عوامی بیداری پروگرام کا فیصلہ

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا آٹھواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ لیتھا میں کامیابی کے ساتھ

    علماء عوام کے دروازے پر: گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں جمنی کولہ میں مشاورتی نشست، 16 جون کی تاریخ طے

    الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

    وندے ماترم کو لازمی قرار دینا بنیادی حقوق اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اہم خبریں

جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

by Admin
جون 17, 2026
in اہم خبریں, جمعیۃ علماء ہند
0
جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد
0
SHARES
51
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بتاریخ: 16 جون 2026، بروز منگل ( نمائندہ بسنت رائے)

جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیرِ اہتمام جاری ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ کے سلسلے کی نویں کڑی 16 جون 2026 بروز منگل جامع مسجد جمنی کولہ میں نہایت کامیابی، نظم و ضبط اور عوامی دلچسپی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس بیداری مہم کا بنیادی مقصد نوجوان نسل اور عوام میں ایمان و عقیدہ کی مضبوطی، دینی شعور کی بیداری، اخلاقی تربیت اور مثبت فکری رجحانات کو فروغ دینا ہے۔

پروگرام کا آغاز مولانا عباس مظاہری صاحب کی پُرسوز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جبکہ جمعیت علمائے بسنت رائے کے صدر، مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرکے محفل کو روحانی کیفیت سے معطر کردیا۔ ابتدا ہی سے حاضرین میں غیر معمولی سنجیدگی، توجہ اور دلچسپی دیکھی گئی، جس نے پورے پروگرام کو ایک مؤثر اور پُراثر ماحول عطا کیا۔

پروگرام کے پہلے اہم عنوان ”اپنے ایمان کا محاسبہ کیجیے“ پر مفتی محمد نظام الدین قاسمی (صدر جمعیت علمائے بسنت رائے و بانی و مہتمم جامعۃ الہدی، جہاز قطعہ) نے نہایت فکر انگیز اور منفرد انداز میں پروجیکٹر کے ذریعے پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایمان کا جائزہ لینے کے بنیادی طور پر دو طریقے ہیں؛ ایک اللہ تعالیٰ کے حقوق کے اعتبار سے اور دوسرا بندوں کے حقوق، اخلاقیات اور باہمی تعلقات کے اعتبار سے۔ انہوں نے اس نشست میں خصوصیت کے ساتھ ایمان کے اخلاقی اور سماجی پہلو کو موضوع بنایا اور بتایا کہ ایک مسلمان کے ایمان کی مضبوطی اس کے اخلاق، باہمی محبت اور معاشرتی رویوں سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔

اس موقع پر انہوں نے حاضرین سے ایک فکر انگیز سوال کیا کہ ”اگر ایک دن کے لیے ہمارے اور آپ کے درمیان سلام کا سلسلہ مکمل طور پر بند کردیا جائے اور یہ اعلان کر دیا جائے کہ آج کے بعد کوئی کسی کو سلام نہیں کرے گا، تو اس کے سماجی اور معاشرتی اثرات کیا ہوں گے؟“

اس سوال کے جواب میں حاضرین نے کہا کہ اس سے آپسی رنجشیں، دوریاں اور تلخیاں بڑھ جائیں گی اور محبت و تعلقات کا سلسلہ کمزور پڑ جائے گا۔ اسی نکتے کو بنیاد بنا کر مفتی صاحب نے واضح کیا کہ سلام اسلام کا ایک بظاہر چھوٹا لیکن نہایت عظیم اخلاقی حکم ہے، جو دلوں کو جوڑنے، محبت پیدا کرنے اور ایمان کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

اس کے بعد ”سلام، مصافحہ اور معانقہ“ کے عنوان سے ایک عملی گیم کرائی گئی۔ حاضرین نے سلام اور مصافحہ کے طریقہ کار کا خوب مظاہرہ کیا، جبکہ معانقہ کے حوالے سے بعض اصلاحی پہلو سامنے آئے، جن کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ چونکہ دل بائیں جانب ہوتا ہے، اس لیے معانقے میں بائیں جانب سے قربت زیادہ محبت اور قلبی تعلق کے اظہار کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس عملی مشق نے حاضرین میں غیر معمولی دلچسپی پیدا کی اور ایمان کے اخلاقی تقاضوں کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس دوران مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سلام اور باہمی محبت ایمان کا ایک چھوٹا سا تقاضا ہے، لیکن اگر ہم ایمان کے بنیادی تقاضوں اور دینی ذمہ داریوں سے غفلت برتتے رہے تو آنے والے دنوں میں مسلمان سیاسی، سماجی اور مذہبی اعتبار سے شدید نقصانات سے دوچار ہوسکتے ہیں، جن کی تلافی نہایت دشوار ہوگی۔ اس لیے آج ہی ایمان کی مضبوطی اور دینی وابستگی کی فکر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اسی موقع پر گاؤں جمنی کولہ کے دینی اور تعلیمی حالات پر مشتمل ایک مختصر جائزہ بھی پیش کیا گیا۔ بتایا گیا کہ اس بستی کی مسلم آبا دی تقریبا ساڑھے سات ہزار نفوس پر مشتمل ہے، لیکن دینی ضروریات کے لیے صرف ایک مسجد، ایک مکتب اور ایک بورڈ سے منسلک مدرسہ موجود ہے، جہاں عملی طور پر طلبہ کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح دو سرکاری اسکول موجود ہیں، جن میں تقریباً ایک سو سے ڈیڑھ سو بچے زیرِ تعلیم ہیں۔

جائزے کے مطابق مسجد سے باقاعدہ وابستہ افراد کی تعداد تقریباً پچاس ہے، جبکہ خواتین کو شامل کرکے یہ تعداد تقریبا ایک سو تک پہنچتی ہے۔ بچوں کی مجموعی تعداد تقریباً پانچ سو ہے، لیکن ان میں سے صرف ڈھائی سو بچے مکتب اور اسکول سے وابستہ ہیں، جبکہ تقریبا ڈھائی سو بچے کسی بھی تعلیمی یا دینی ادارے سے منسلک نہیں ہیں۔ دعوت و تبلیغ سے وابستہ افراد کی تعداد تقریباً تیس بتائی گئی۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں اس امر پر زور دیا گیا کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ ابھی بھی مسجد، مکتب اور دینی سرگرمیوں سے دور ہے، جسے دین سے جوڑنے کے لیے مسلسل انفرادی اور اجتماعی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔

اس کے بعد ”سات بنیادی عقائد“ کے موضوع پر مفتی محمد زاہد امان قاسمی (ناظم جمعیت علمائے بسنت رائے و بانی و مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبریٰ) نے نہایت مؤثر اور عام فہم انداز میں پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے عقیدہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح انسان کے جسم سے روح نکل جائے تو وہ زندہ انسان نہیں رہتا بلکہ محض ایک لاش بن جاتا ہے، اسی طرح اگر انسان کے عقائد کمزور ہوجائیں یا خراب ہوجائیں تو وہ صحیح معنوں میں مسلمان نہیں رہتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر عقیدہ درست ہو اور اعمال میں کمزوری ہو تب بھی اللہ کی رحمت سے جنت کی امید باقی رہتی ہے، لیکن اگر عقیدہ ہی خراب ہوجائے تو نجات کی راہ نہایت دشوار ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے سات بنیادی عقائد، یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، آسمانی کتابوں پر ایمان، رسولوں پر ایمان، یومِ آخرت پر ایمان، تقدیر پر ایمان اور دوبارہ زندہ کیے جانے پر ایمان کو بار بار دہرا کر حاضرین کو یاد کرایا۔ شرکاء سے عملی مشق بھی کرائی گئی، جس میں بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں نے بھرپور شرکت کی۔

بعد ازاں مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے ”ریل سے ریئل تک“ کے عنوان سے نوجوانوں کی فکری، تعلیمی اور عملی تربیت پر مبنی ایک مؤثر پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسان کو اپنی زندگی کا ایک واضح ہدف، مضبوط مقصد اور بلند خواب متعین کرنا چاہیے۔ مقصد کے تعین کے بعد اس کو حاصل کرنے کے لیے ایک مشن بنانا ہوگا، وقت کی منصوبہ بندی کے لیے ٹائم ٹیبل تیار کرنا ہوگا اور مسلسل محنت اور استقامت کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔

انہوں نے مختلف مثالوں، ویڈیوز اور بصری پریزنٹیشنز کے ذریعے سمجھایا کہ جن افراد کے پاس واضح ہدف نہیں ہوتا، وہ اپنی توانائیاں اور قیمتی وقت بے مقصد سرگرمیوں میں ضائع کردیتے ہیں، جبکہ کامیاب افراد اپنی صلاحیتوں کو ایک متعین مقصد کے حصول میں استعمال کرتے ہیں۔

اس کے بعد مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے حاضرین سے کلمۂ طیبہ کی صحیح تلفظ کے ساتھ اجتماعی تصحیح بھی کرائی، جس میں شرکاء نے نہایت دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا۔

اختتامی مرحلے میں ذکرِ جہری کی مجلس قائم کی گئی، جس میں حاضرین نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ شرکت کی۔

پروگرام کے اختتام پر مولانا سلیم الدین صاحب قاسمی نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ دینی بیداری کے لیے پروجیکٹر اور جدید ڈیجیٹل وسائل کا اس قدر مؤثر استعمال قابلِ تحسین اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختصر وقت میں، نہایت محدود وسائل اور بغیر کسی مالی بوجھ کے اس انداز میں دین اور دنیا دونوں کی رہنمائی فراہم کرنا ایک مثالی اقدام ہے۔ انہوں نے حاضرین سے اپیل کی کہ وہ اس بیداری مہم کے ساتھ جڑیں، اس کی حوصلہ افزائی کریں اور جمعیت علمائے بسنت رائے کے ساتھ مل کر معاشرے کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کریں۔

قابلِ ذکر ہے کہ پروگرام میں پروجیکٹر کے مکمل انتظام، تنصیب، آپریٹنگ اور اختتامی مراحل کی ذمہ داری جناب اسماعیل صاحب اور جناب فرقان صاحب نے انتہائی محنت، ذمہ داری اور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی ـ

یہ نواں بیداری پروگرام اپنی علمی افادیت، عملی مشقوں، فکری رہنمائی، روحانی تاثیر اور جدید طرزِ پیشکش کے اعتبار سے ایک کامیاب، مؤثر اور یادگار مرحلہ ثابت ہوا۔


دسواں پروگرام 17/ جون 2026 کو ابراہمی مسجد مدنی چک میں ہونا طے پایا ہے

Admin

Admin

Next Post

چاۓ پینا تو اک بہانہ ہے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب التشرف بمعرفۃ احادیث التصوف کی طباعتوں پر ایک نظر

5 مہینے ago
حج کی فرضیت کا بیان 

ممنوعات احرام کا بیان

2 مہینے ago

مقبول

  • تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • چاۓ پینا تو اک بہانہ ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جمعیت علمائے بسنت رائے کا نواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ جمنی کولہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • نیا ڈیہہ بانکا بہار میں اکابر علمائے کرام کی بہار

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.