ازقلم افتخار حسین احسن
رشتہ دل بہت پرانا ہے
ان کے گھر میرا آنا جانا ہے
زخم کھانا ہے مسکرانا ہے
اس طرح حوصلہ بڑھانا ہے
رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوگا
بے وفائی کا یہ زمانہ ہے
ان سے نظریں ملانے آیا ہوں
چاۓ پینا تو اک بہانہ ہے
ابر رحمت برسنے والا ہے
آج موسم بڑا سہانا ہے
جب سے اپنا ہوا ہے بیگانہ
اشک تنہا ہی اب بہانا ہے
دل کی بنجر زمین میں احسن
پیار کا اک شجر لگانا ہے























