جمعیت علمائے بسنت رائے کا تیرہواں ’’گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام‘‘ پہلی مرتبہ بلاک بسنت رائے کی حدود سے نکل کر مہگاواں بلاک کے موہن پور میں منعقد عورتیں بھی شریک
بتاریخ: 23 جون 2026، بروز منگل (نمائندہ بسنت رائے)
جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیرِ اہتمام جاری ’’گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام‘‘ کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس بیداری تحریک کی کامیابی اور عوامی پذیرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب اس پروگرام کا دائرہ بلاک بسنت رائے کی حدود سے نکل کر دیگر علاقوں تک پہنچنے لگا ہے۔ مقامی عوام کے مسلسل مطالبے اور خواہش پر پہلی مرتبہ یہ پروگرام مہگاواں بلاک کے موہن پور گاؤں کی قاسمیہ مسجد میں 23 جون 2026 بروز منگل نہایت جوش و خروش اور بھرپور عوامی شرکت کے ساتھ منعقد ہوا، اس میں عورتیں بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئیں تھیں ـ جسے اس تحریک کا ایک اہم اور تاریخی قدم قرار دیا جارہا ہے۔پروگرام کا آغاز قاسمیہ مسجد کے امام و خطیب مولانا محفوظ الرحمن صاحب کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتیہ کلام سے ہوا، جس نے سامعین کے دلوں میں دینی جذبہ تازہ کردیا۔
اس کے بعد پروگرام کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔پروگرام کے پہلے عنوان ’’اپنے ایمان کا محاسبہ کیجیے‘‘ کے تحت جمعیت علمائے بسنت رائے کے ناظمِ اعلیٰ اور جامعہ خدیجۃ الکبریٰ بسنت رائے کے بانی و مہتمم مفتی محمد زاہد امان قاسمی نے پروجیکٹر کے ذریعے نہایت مؤثر اور فکر انگیز پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے ایمان کی حقیقت، اس کے تقاضوں اور عملی زندگی میں اس کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے حاضرین کو اپنے ایمان، اعمال اور دینی ذمہ داریوں کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی دعوت دی۔ شرکاء نے اس پریزنٹیشن کو گزشتہ پروگراموں کے مقابلے میں مزید مؤثر اور جامع قرار دیا۔پریزنٹیشن کے اختتام پر موہن پور گاؤں کے حوالے سے ایک خصوصی تجزیاتی جائزہ بھی پیش کیا گیا جس نے حاضرین کو غور و فکر پر مجبور کردیا۔ مقامی معلومات کے مطابق موہن پور میں تقریبا پانچ سو گھر آباد ہیں۔ اگر فی گھر اوسطا تین نوجوان یا بالغ افراد شمار کیے جائیں تو مرد و خواتین کی تعداد تقریبا پندرہ سو کے قریب بنتی ہے۔ پانچوں مساجد کو ملا کر اندازا صرف ڈھائی سو مرد مسجد سے وابستہ پائے گئے، اور اتنی ہی عورتیں بھی شامل کی گئیں جس سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ ایک بڑی تعداد اب بھی مسجد کی زندگی سے دور ہے۔اسی طرح بچوں کے حوالے سے بھی تجزیہ پیش کیا گیا۔ بتایا گیا کہ گاؤں میں تقریبا پندرہ سو بچے موجود ہیں، جبکہ دو مکاتب میں مجموعی طور پر صرف سو بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ اسی طرح مقامی مدرسے میں تقریبا سو طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور سرکاری و پرائیویٹ اسکولوں میں تقریبا تین سو بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر پانچ سو کے قریب بچے تعلیمی اداروں سے وابستہ ہیں جبکہ تقریبا ایک ہزار بچے اب بھی دینی و تعلیمی نظام سے دور دکھائی دیتے ہیں۔ اس موقع پر حاضرین کے سامنے یہ سوال رکھا گیا کہ ان بچوں اور نوجوانوں کی فکر کون کرے گا؟ جس پر مقامی ذمہ داران اور عوام نے انہیں دینی تعلیم اور مسجدی ماحول سے جوڑنے کے لیے سنجیدہ کوششوں کا عزم ظاہر کیا۔
اس کے بعد جمعیت علمائے بسنت رائے کے صدر، بانی و مہتمم جامعۃ الہدی جہاز قطعہ، مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے ’’ریل سے ریئل تک‘‘ کے عنوان سے نوجوانوں کی فکری، تعلیمی اور عملی رہنمائی پر مشتمل نہایت مؤثر پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے نوجوانوں کو سوشل میڈیا اور ریلز کی دنیا میں کھو جانے کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے، زندگی کا واضح مقصد متعین کرنے، وقت کی قدر کرنے اور حقیقی کامیابی کے لیے عملی منصوبہ بندی اختیار کرنے کی تلقین کی۔ ان کی گفتگو اور بصری مثالوں نے نوجوانوں میں غیر معمولی جوش و جذبہ پیدا کیا۔بعد ازاں مفتی محمد زاہد امان قاسمی نے ’’سات بنیادی عقائد‘‘ کے عنوان پر نہایت آسان اور یاد رہ جانے والے انداز میں عقائدِ اسلام کی تعلیم دی اور حاضرین سے ان عقائد کو دہروا کر یاد کرایا۔
پروگرام کے اختتامی مرحلے میں مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے حاضرین سے کلمۂ طیبہ کی صحیح تلفظ کے ساتھ اجتماعی تصحیح کرائی اور ذکرِ جہری کی مجلس قائم کی، جس سے روحانی کیفیت پیدا ہوگئی۔
بعد ازاں جمعیت علمائے ضلع گڈا کے جنرل سیکریٹری اور مدرسہ بدرالعلوم مہگاواں کے مہتمم مولانا سلیم الدین مظاہری نے اپنے خطاب میں اس منفرد پروگرام کو بے حد سراہا۔ انہوں نے بالخصوص موہن پور کے تجزیاتی جائزے کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام مسجدوں سے جڑ جائیں اور بچوں کو مکاتب اور دینی تعلیم سے وابستہ کرنے کی فکر کریں تو معاشرے میں بڑی مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مفتی محمد نظام الدین قاسمی کی سربراہی اور مفتی محمد زاہد امان قاسمی کی نگرانی میں جمعیت علمائے بسنت رائے کی ٹیم نہایت سرگرمی اور اخلاص کے ساتھ کام کررہی ہے اور جمعیت علمائے ہند کے پیغام کو عملی شکل دیتے ہوئے اصلاحِ معاشرہ کی ایک مؤثر تحریک چلا رہی ہے۔ انہوں نے پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ دیگر علاقوں کو بھی اس طرزِ عمل سے سبق لینا چاہیے۔مولانا موصوف نے اس بات پر خصوصی خوشی کا اظہار کیا کہ یہ پروگرام جو پہلے صرف بلاک بسنت رائے تک محدود تھا، اب مہگاواں بلاک تک پہنچ چکا ہے، جو اس تحریک کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور عوامی اعتماد کی واضح علامت ہے۔
پروگرام کے اختتام پر قاسمیہ مسجد کے امام مولانا محفوظ الرحمن صاحب نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور عزم ظاہر کیا کہ وہ گاؤں میں مسلسل محنت کرتے ہوئے لوگوں کو مسجدوں اور مکاتب سے جوڑنے کی کوشش کریں گے۔ نیز انہوں نے سات بنیادی عقائد کے موضوع پر آئندہ سات دن تک عوامی بیداری مہم چلانے کا بھی اعلان کیا۔بعد ازاں دعا کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ نمازِ عشاء مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے پڑھائی۔ نماز کے بعد تمام شرکاء کے لیے مٹھائی کا انتظام کیا گیا تھا
ـپروگرام میں موہن پور گاؤں کے متعدد معزز، تعلیم یافتہ اور سماجی شخصیات نے شرکت فرمائی، جن میں بالخصوص الحاج ولی الدین صاحب، ماسٹر قمر العالم صاحب، انجینئر ہلال الدین صاحب، پروفیسر شاہد صاحب، پروفیسر محی الدین صاحب، ماسٹر ہاشم صاحب، ماسٹر عظیم الدین صاحب، احمد صاحب (صدر قاسمیہ مسجد)، محمد سفیر الدین صاحب (نائب صدر قاسمیہ مسجد موہن پور)، ابوبکر صاحب (ٹیلر)، عبدالحلیم صاحب (ہارڈ ویئر)، محمد انعام الحق صاحب (ٹیلر)، حافظ شعیب صاحب، محمد شہید صاحب، محمد ابراہیم صاحب، محمد اسماعیل صاحب اور دیگر معزز حضرات شامل تھے۔ ان کے علاوہ مسجد کی دوسری منزل پر عورتوں کے لیے پروجیکٹر کے ساتھ معقول انتظام تھا ، وہاں بھی کافی عورتیں شریک تھیں ـ ان حضرات نے پروگرام کے تمام مراحل میں دلچسپی کے ساتھ شرکت کی اور اس بیداری تحریک کو علاقے کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کے تسلسل اور فروغ کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس بیداری تحریک کی مقبولیت کا دائرہ تیزی کے ساتھ وسیع ہورہا ہے۔ مہگاواں بلاک میں کامیاب انعقاد کے فوراً بعد مختلف علاقوں سے اس نوعیت کے پروگراموں کے مطالبات موصول ہورہے ہیں۔
اسی سلسلے کی اگلی کڑی 24 جون 2026 بروز بدھ بلاک مہرما کے بھسکا علاقے میں منعقد ہورہی ہے، جو اس تحریک کے مسلسل پھیلاؤ اور عوامی قبولیت کی روشن دلیل ہے۔























