سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186
ہندوستان سمیت دنیا بھر کے کئی ممالک میں قیدیوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کوئی نئی بات نہیں ہے،اس قسم کے واقعات وقفے وقفے سے میڈیا اور اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں، ہندوستان کی جیلوں میں بھی ہمیشہ مسائل رہے ہیں اور ان کے حل کے لئے سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی یا اس پر بہت کم توجہ دی گئی ہے،اول تو عدالتوں میں مقدمات کی یکسوئی ہونے میں غیر معمولی تاخیر ہوا کرتی ہے پھر فیصلے ہونے کے بعد بھی فی الفور عمل اور بھی اہم چیلنج ہے،زیر دریافت قیدیوں اور قیدوبند کی صعوبت جھیل رہے،لوگوں سے بدسلوکی اور مار پیٹ کے واقعات تو عام بات ہے،طویل عرصہ جیلوں میں زندگی کاٹنے والے بسا اوقات جیلوں میں ہی دم توڑ دیتے ہیں،رضاکارانہ خدمات انجام دینے والے افراد اور تنظیمیں بارہا قیدیوں کو درپیش مسائل کی جانب حکومت کی توجہ مرکوز کرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں،لیکن ان سنی کی جاتی رہی ہے، پروفیسر جی این سائی بابا برسوں جیل میں رہے اور مصائب جھیلتے رہے 10 برس کی قید سے رہائی کے چند ماہ بعد اکتوبر 2024 میں وہ چل بسے،رہائی کے بعد سائی بابا نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ جیل کے اندر انہیں کس قدر مسائل اور مشکلات سے دوچار ہونا پڑا تھا،انہوں نے بتایا تھا کہ جیلوں میں نہ ضرورت سے فارغ ہونے کی سہولت رہی، نہ ہاتھ منھ دھونے کی سہولت تھی وہ ناگپور سینٹرل جیل میں تھے،انہیں اپنی ویل چیئر استعمال کرنے کے لیے ساتھی قیدیوں سے مدد لینی پڑتی تھی، ہندوستان کے جیل خانے تشدد،گالی گلوچ اور بنیادی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے کافی بدنام ہوتے رہے ہیں،سال 1979/80 میں قیدیوں کی آنکھوں میں ایسڈ ڈالنے کا واقعہ پیش آیا تھا،جس سے پوری قوم دہل گئی تھی،1980 کے دہے کے اوائل میں جیل اصلاحات سے متعلق ملا کمیٹی کی رپورٹ جاری کی گئی تھی،جس میں جیل کے حالات اور انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے وسیع اقدامات تجویز کیے گئے تھے،لیکن حسب روایت عمل درآمد قدیم بہتری کے لیے کوئی قابل ذکر اقدامات نہیں کیے گئے،سال 1996 میں بنگلور سینٹرل جیل میں بند افراد نے چیف جسٹس آف انڈیا سے جیل کے اندر خراب اور انتہائی خستہ حالات کے بارے میں تحریری شکایت کی تھی، سپریم کورٹ نے بعد میں ایک کیس میں یہ ہدایات دی کہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی نہ رکھے جائیں،مقدمات کی سماعت میں تاخیر نہ ہو،قیدیوں کو اذیت نہ پہنچائی جائے،لیکن برسوں گزر جانے کے بعد بھی جیلوں کے حالات میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں ہوئی ہے،وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے،ہندوستانی جیلوں میں آج بھی تقریبا پانچ لاکھ سے زیادہ افراد جیلوں میں ہیں،جبکہ جیلوں میں گنجائش 4 لاکھ36 ہزار قیدیوں کے رہنے کی ہے،ہر دور حکومت میں ہندوستانی جیلوں کے حالات جوں کے توں،خراب اور ابتر رہے ہیں،جیلوں میں معذور قیدیوں کا استحصال باعث تشویش ہے،دوسرے قیدی اور افراد عملہ انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں،حکومت اب بھی ملک بھر کی جیلوں میں قید جسمانی معزورین کی حقیقی تعداد بتانے سے قاصر ہے،جیل کے اندر معذور قیدیوں کی حالت کے بارے میں بھی کچھ نہیں بتایا جاتا،تمام معذور قیدیوں کو ویل چیئر تک فراہم نہیں کیے جاتے ہیں،ملاقات روم سمیت بنیادی سہولتیں تک دستیاب نہیں ہے، قیدیوں سے ملاقات کے انتظار میں بیٹھنے والے شہری مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں،جبکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ہرحکومت معزور قیدیوں کو درکار بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی پابند ہے،اس کام میں کوتاہی اور تساہل افسوسناک ہے۔گزشتہ چند مہینے قبل عراق کے رسوائے زمانہ ابوغریب جیل میں قیدیوں سے بدسلوکی اور تشدد کے معاملے پر معاوضہ ادا کرنے امریکی کنٹریکٹر کو حکم دیا گیا تھا،خبر کے مطابق ورجینیا کی ایک جیوری نے ریاست کی ایک فوجی کنٹریکٹر کو دو عشرے قبل عراق کی رسوا ئے زمانہ جیل ابو غریب میں تشدد اور بد سلوکی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے تین سابقہ قیدیوں کو چار کروڑ 20 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا تھا،آٹھ افراد پر مشتمل جیوری کا یہ فیصلہ اس سال کے شروع میں ایک اور جیوری کے اس بارے میں اتفاق نہ ہونے کے بعد آیا کہ آیا ورجینیا کے شہر ریسٹن میں قائم سی اے سی آئی کو اس کے سویلین تفتیش کاروں کے کام کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے،جنہوں نے 2003 سے 2004 تک امریکی فوج کے ساتھ کام کیا تھا،جیوری نے مقدمہ دائر کرنے والوں سہیل الشمری،صالح العجیلی اور اسد الزوبی میں سے ہر ایک کو 30 لاکھ ڈالرز تلافی اور 11 لاکھ ڈالر فی کس جیل میں ڈالنے کی پاداش میں ادا کرنے کا حکم دیا تھا،تینوں نے اپنی شہادت میں بتایا تھا کہ انہیں جیل میں مارپیٹ،جنسی تشدد،جبری عریاں کیے جانے اور دیگر ظالمانہ سلوک کا نشانہ بنایا گیا تھا،انہوں نے یہ الزام نہیں لگایا کہ سی اے سی آئی کے تفتیش کاروں نے اپنے طور پر بدسلوکیاں کی بلکہ یہ کہا کہ سی اے سی آئی ان کاروائیوں میں اس لیے ملوث ہے کیونکہ اس کے تفتیش کاروں نے پولیس کے ساتھ مل کر پوچھ گچھ کے لیے سخت رویہ اختیار کیا،سی اے سی آئی نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کمپنی اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی بیان میں کہا گیا تھا کہ اس معاملے میں سی اے سی آئی کے کسی ملازم پر مجرمانہ سول یا انتظامی نوعیت کا کبھی بھی الزام نہیں لگایا گیا اور یہ کہ کمپنی کے تفتیش کاروں نے ان پر یشان کن کاروائیوں میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی ہمارا کوئی ملازم اس کا ذمہ دار تھا،سینٹر فار کانسٹیٹیوشنل رائٹس کے وکیل بحر اعظمی جنہوں نے مدعیان کی طرف سے مقدمہ دائر کیا تھا اس فیصلے کو انصاف اور احتساب کا ایک اہم قدم قرار دیا تھا،اعظمی نے کہا تھا کہ چار کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی رقم مدعیان کی طرف سے طلب کی جانے والی تلافی سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہے اور یہ رقم تین کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی اس رقم سے زیادہ ہے جو مقدمہ دائر کرنے والوں کے مطابق سی اے سی آئی کو ابو غریب جیل میں اس کی تفتیش کاروں کے لیے ادا کی گئی تھی،ابوغریب جیل کی اس تصویر میں ایک قیدی کو ڈبے پر کھڑا کرنے اور سیاہ لباس پہنائے جانے کے بعد اس کے ہاتھوں سے تار جوڑ کر بجلی کے جھٹکے لگائے جا رہے ہیں،اس تصویر کا تعلق سن 2003 کے آخری حصے سے ہے،العجیلی نے جو صحافی بھی ہیں اپنے تحریری بیان میں کہا تھا کہ آج کا دن میرے لیے اور انصاف کے لیے ایک بڑا دن ہے میں نے اس دن کے لیے طویل عرصے تک انتظار کیا، یہ اس کیس میں ایک کارپوریشن کے خلاف تین افراد کی فتح نہیں ہے بلکہ یہ فتح ہر اس شخص کے لیے ایک روشنی ہے جس پر ظلم ہوا اور یہ ہر اس کمپنی یا کنٹریکٹر کے لیے وارننگ ہے جو مختلف قسم کے تشدد اور بدسلوکیوں پر مبنی کاروائیاں کرتے ہیں،بنیادی طور پر سی اے سی آئی کا موقف یہ رہا کہ جیل میں ہونے والی بدسلوکیوں کی ذمہ دار حکومت ہے،یہ مقدمہ دو مختلف جیوریوں نے سنا اور انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ تفتیش کاروں کی جانب سے بدسلوکیوں کی ذمہ داری کنٹریکٹر یا فوج کس پر عائد ہوتی ہے؟ پہلی جیوری کسی اتفاق رائے پر نہیں پہنچ سکی،جبکہ دوسری جیوری نے سی اے سی آئی کو ذمہ دار قرار دے دیا،یہ مقدمہ سب سے پہلے 2008 میں دائر کیا گیا تھا لیکن 15 سال کی قانونی لڑائیوں اور سی اے آئی کی جانب سے مقدمے کو خارج کرنے کی متعدد کوششوں کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی،مقدمے میں پیش کیے جانے والے شواہد میں فوج کے دو ریٹائرڈ جنرلوں کی رپورٹس بھی شامل تھیں،جنہوں نے بد سلوکی کے واقعات کی دستاویزات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا اور ان میں سی اے سی آئی کے کئی تفتیش کار ملوث پائے گئے تھے۔ ایڈیٹر انقلاب جناب ودود ساجد صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں کہ” منموہن سنگھ کے دوسرے دور حکومت میں قومی سطح پر زیر سماعت ملزمین کی کل تعداد میں مسلمانوں کی تعداد ساڑھے 22 فیصد تھی۔جبکہ2011 کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کی آبادی 14.9 فیصد ہے۔’لا اینڈ آرڈر‘کا موضوع ریاستی حکومتوں کے تحت آتا ہے۔لہذایہاں ریاستی سطح پر جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔2011 کی مردم شماری کے مطابق آسام میں مسلمانوں کی آبادی 34 فیصد ہے لیکن وہاں کی جیلوں میں زیر سماعت مسلم قیدیوں کی تعدادساڑھے 47 فیصد ہے۔گجرات میں مسلمان 10فیصد ہیں مگروہاں کی جیلوں میں ان کی تعداد 27 فیصد ہے۔یہاں ایک نکتہ دلچسپ ہے: جب تک وہاں کے وزیر اعلی نریندر مودی تھے تو زیر سماعت مسلم قیدیوں کی تعداد 24 فیصد تھی۔اب اس میں تین فیصد کا اضافہ ہوگیا ہے۔ کرناٹک میں مسلمانوں کی آبادی 13 فیصد اورجیلوں میں 22 فیصدہے۔جیلوں میں یہ اضافہ اچانک 2018 میں ہوا جبکہ 2013سے 2017 تک زیر سماعت مسلم قیدیوں کی تعداد بھی آبادی کے تناسب کے مطابق 13فیصد ہی تھی۔کیرالہ میں مسلم آبادی ساڑھے 26فیصد ہے جبکہ جیلوں میں ان کی تعداد 30فیصد ہے۔مدھیہ پردیش میں مسلمان ساڑھے 6 فیصد ہیں،جبکہ جیلوں میں 15فیصد ہیں۔مہاراشٹر میں مسلمان ساڑھے 11فیصد ہیں جبکہ2015 تک جیلوں میں ان کی تعداد 30فیصد تھی۔2012 میں جیلوں میں ان کی تعداد 36فیصد تھی۔لیکن دکن ہیرالڈ کے مطابق 30اگست 2020تک ان کی آبادی بڑھ کر14.2فیصد ہوگئی اور جیلوں میں ان کی تعداد گھٹ کر18.26 رہ گئی۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ مہاراشٹر میں شو سینا کی قیادت والی موجودہ حکومت ان کے حق میں کچھ بہتر ثابت ہوئی۔راجستھان کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کیلئے بی جے پی اور کانگریس کی حکومتوں میں یکساں صورتحال ہے۔راجستھان میں مسلمانوں کی آبادی 9 فیصد ہے جبکہ وہاں کی جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد 23فیصد ہے۔2013 تک راجستھان کی جیلوں میں مسلمان 13فیصد تھے۔بی جے پی کی حکومت آتے ہی وہاں جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد بڑھنے لگی۔اضافہ کا یہ سلسلہ کانگریس کی اشوک گہلوت حکومت آنے کے بعد بھی جاری ہے۔اندازہ یہ ہوتا ہے کہ مرکز میں 2014 میں بی جے پی کی حکومت کے آتے ہی مسلمانوں کے تئیں کانگریس قیادت والی حکومتوں کا رویہ بھی ویسا ہی ہوگیا۔حیرت اس امر پر ہے کہ تامل ناڈو جیسی ریاست میں بھی مسلمان اسی صورتحال کا شکار ہیں۔وہاں مسلم آبادی 6فیصد ہے جبکہ جیلوں میں مسلمان 11فیصد ہیں۔یوپی کے اعداد وشمار بھی حیرت انگیز ہیں۔وہاں مسلم آبادی 19فیصد ہے‘جیلوں میں مسلمان 29 فیصد ہیں۔یعنی دوگنا سے 9 فیصد کم۔۔ اس موضوع کے تجزیہ کار بار بار یہ کہتے رہے ہیں کہ مسلمان اپنی آبادی کے تناسب سے زیادہ تعداد میں جیلوں میں تو ہیں لیکن ان کی سزا کے واقعات کی شرح کم ہے۔مثال کے طورپر 2019میں قومی سطح پر زیر سماعت مسلمان ساڑھے 47فیصد تھے لیکن ان میں سزا 39.6 فیصد کو ہوئی۔ جموں وکشمیر میں ہندوئو ں کی آبادی ساڑھے 28 فیصد ہے‘ جیلوں میں ان کی تعدادساڑھے 39 فیصد ہے اورسزا کی شرح ساڑھے 50فیصد ہے۔جبکہ یہاں مسلمانوں کی آبادی 68.3 فیصد ہے‘ جیلوں میں ان کی تعداد ساڑھے 60فیصد اور سزا کی شرح 53فیصد ہے۔اوپر کی ان تمام تفصیل سے جو اصل نکتہ نکل کر سامنے آیا وہ یہ ہے کہ مسلمان اپنی آبادی کے اعتبار سے جیلوں میں زیادہ ہیں مگراکثر رہا ہوجاتے ہیں۔جب تک ان کے معاملات تصفیہ کے مرحلہ میں پہنچتے ہیں وہ اپنی زندگی کا بیشتر قیمتی حصہ جیلوں میں یا مقدمہ کا سامنا کرتے ہوئے گزارچکے ہوتے ہیں۔وہ ٹوٹ پھوٹ کربکھر چکے ہوتے ہیں۔ ایک طرف ان کے اعزاء ان سے دور ہوجاتے ہیں اور دوسری طرف ان کا کاروبار یا روزگار ختم ہوچکا ہوتا ہے۔اب وہ نہ تو معاشرہ میں ہی سر اٹھا کرعزت کی زندگی جی سکتے ہیں اور نہ ہی وہ خاطی پولیس والوں کے خلاف تلافی کی کوئی کارروائی کرسکتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستانی جیلوں میں مسلمان قیدیوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور انہیں انصاف کی فراہمی انتہائی مشکل ہورہی ہے،دی وائر نامی ویب سائٹ پر نیشنل کرائم ریکارڈ کی ایک چونکا دینے والی رپورٹ نظر سے گزری،رپورٹ میں ہندوستان کی جیلوں میں مسلم قیدیوں کے اعداد و شمار مذکور تھے،ان اعداد و شمار کو دیکھ کر یہ یقین کرنا کوئی مشکل نہیں ہے کہ سرکاری عملہ مسلم مخالفت اور انہیں برباد کرنے کے لیے کس حد تک پہنچ گیا ہے اور حکومتی سطح پر اسلامو فوبیا کی کوشش کس قدر تیز ہو گئی ہے،اخباری رپورٹ سے ہرشخص اس کا اندازہ کر سکتا ہے،نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی طرف سے جاری ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی جیلوں میں قانونی حراست میں رکھے گئے 30 فیصد سے زیادہ قیدی مسلمان ہیں جو مسلم آبادی کے تناسب سے دوگنی تعداد ہے، دی ہندو نے بھی 2021 میں اپنی ایک رپورٹ میں ہندوستانی جیلوں میں حراست میں رکھے گئے قیدیوں میں 30 فیصد سے زیادہ مسلمان بتایا ہے،غور طلب ہے کہ ہندوستانی جیلوں میں چار قسم کے قیدی رہتے ہیں پہلے مجرم یعنی وہ لوگ جو کسی جرم کے مرتکب پائے گئے ہوں اور انہیں عدالت نے سزا سنائی ہو،دوسرے زیر سماعت قیدی جن پر اس وقت عدالت میں مقدمہ چل رہا ہو،تیسرے حراستی جن کو قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہو،چوتھے وہ جو ان تینوں زمروں میں سے کسی سے تعلق نہیں رکھتے اور جو قیدیوں کی مجموعی تعداد کا بہت چھوٹا سا حصہ ہے۔سوال یہ ہے کہ جیلوں کے بڑھتے مسائل پر حکومت کیا اقدام کررہی ہے؟ ضرورت ہے کہ فوری طور پرجیل سے متعلق مسائل حل کئے جائیں اور اس پر توجہ دی جائے۔
(مضمون نگار معروف صحافی اور کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)
sarfarazahmedqasmi@gmail.com























