اصلاحِ ذات، خود شناسی اور سماجی تعمیر کا پیغام: مولانا محمود مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کا تربیتی خطاب
نئی دہلی (27/ جون 2026ء):
جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر میں منعقدہ ایک اہم تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمعیت علمائے ہند مولانا محمود مدنی صاحب نے اراکین، کارکنان اور ذمہ داران کو انفرادی و اجتماعی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے نہایت فکر انگیز اور عملی ہدایات سے نوازا۔
27/ جون 2026ء کو دیے گئے اس کلیدی خطاب کے اہم نکات کا تفصیلی و جامع جائزہ درج پیش خدمت ہے:
1۔ خود شناسی اور اعترافِ عیب (اپنی طاقت اور کمزوری کا ادراک)مولانا مدنی نے فرد کی اپنی ذات پر توجہ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک انسان اپنی اصلاح نہیں کرے گا، وہ ملت کی اصلاح کا حق ادا نہیں کر سکتا۔
خود شناسی: ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے آپ کو پہچانے اور اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرے۔
طاقت اور کمزوری کا تجزیہ: انسان کو اپنی طاقت اور اپنی کمزوری دونوں کا علم ہونا چاہیے۔ جب تک ہم اپنی خامیوں کو تسلیم نہیں کریں گے، تب تک انہیں دور کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
عیب کا اعتراف:
انہوں نے ایک لطیفہ کے پیرائے میں واضح کیا کہ اپنی خامیاں معلوم کرنی ہو تو اپنی بیوی کی برائی کرکے دیکھ لو کیوں کہ بیوی کو شوہر کی تمام خامیاں معلوم ہوتی ہیں، اسی طرح اگر کوئی ہماری برائی یا تنقید کرتا ہے، تو ہمیں غصہ ہونے کے بجائے اپنی حقیقت پر غور کرنا چاہیے اور ماننا چاہیے کہ انسان کے اندر اس کی ظاہر کی گئی برائیوں سے بھی زیادہ خامیاں ہو سکتی ہیں۔
2۔ اجتماعیت کی طاقت اور باہمی اتحاد (ایک اور ایک گیارہ)کارکنان کو تنہا کام کرنے کے بجائے مل جل کر کام کرنے اور ٹیم ورک کو فروغ دینے کی تلقین کی گئی۔
اتحاد کا فارمولا: اراکین کو یہ ذہن بنانا چاہیے کہ وہ صرف "ایک اور ایک دو” کی طرح محدود نہ رہیں، بلکہ جب وہ باہم ملیں تو ان کی طاقت "گیارہ” کی طرح مضبوط ہو کر سامنے آئے۔
انفرادیت بمقابلہ اجتماعیت: انفرادی سوچ اور ذاتی مفاد کے مقابلے میں اجتماعی سوچ اور ملت کے مشترکہ مفاد کو ترجیح دینا ہی تحریکوں کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
آگے بڑھانے کا جذبہ: ہر ذمہ دار کے اندر یہ تڑپ اور جذبہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے ساتھ دیگر ساتھیوں کو بھی آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کا موقع فراہم کرے۔ اور اس سلسلے میں دوسروں کو آگے بڑھانے سے جو ہم خود ڈرتے ہیں اس ڈر سے خود کو نکالنا ہوگا
3۔ مقامی جمعیت کی مضبوطی اور مرکزیت پر انحصار کا خاتمہ
مولانا نے تنظیمی نظم کو نچلی سطح تک فعال کرنے پر خصوصی توجہ مبذول کرائی۔
مقامی مسائل کا مقامی حل: جہاں پریشانی یا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اس کا اصل اور پائیدار حل بھی اسی مقام سے نکلتا ہے۔
مرکزیت سے ہٹ کر سوچنا: کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے ہمیشہ دہلی (مرکزی دفتر) کی طرف دیکھنے کے بجائے مقامی سطح پر اتنی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے کہ وہ خود حالات کو سنبھال سکیں۔
ساتھی بنانا: تنظیمی نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کے لیے مقامی سطح پر نئے مخلص ساتھیوں کو جوڑنا اور مقامی جمعیت علمائے ہند کو مستحکم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
4۔ گھریلو زندگی کی خوشگواری اور اخلاقی اقدارایک اچھے سماجی کارکن کے لیے اس کی گھریلو زندگی کا پرسکون ہونا لازمی ہے۔ اس ضمن میں مولانا نے دو اہم باتیں ارشاد فرمائیں:
خواتین کی عزت: معاشرے اور گھر میں بیوی کی عزت و احترام کرنا اخلاقی اور دینی فریضہ ہے۔
معافی مانگنے کا حوصلہ: غلطی یا کوتاہی پر معافی مانگنے سے انسان چھوٹا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا وقار اور احترام مزید بڑھ جاتا ہے۔
5۔ عملی و انتظامی ہدایات
خطاب کے آخر میں روزمرہ کے نظم و ضبط اور روحانیت سے متعلق عملی باتیں بتائی گئیں:
چھوٹی ڈائری کا استعمال:
ہر کارکن اور ذمہ دار کو اپنے پاس ایک چھوٹی ڈائری رکھنی چاہیے تاکہ وہ تنظیمی کاموں، اہم نکات اور روزمرہ کے فرائض کو نوٹ کر سکے اور کاموں میں نظم برقرار رہے۔
دعا کا اہتمام:
تمام تر ظاہری تدابیر اور کوششوں کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں مسلسل دعا اور رجوع الی اللہ کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ اصل کامیابی اللہ کی نصرت سے ہی ممکن ہے۔
خلاصہ:
27 جون 2026ء کا یہ خطاب جمعیت علمائے ہند کے اراکین کے لیے ایک مکمل تربیتی نصاب کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں انفرادی کردار سازی سے لے کر تنظیمی استحکام اور خاندانی خوش حالی تک کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
اس تربیتی ورکشاپ میں جمعیت علمائے ہند کے تعارف کے عنوان سے ناچیز کو بھی ایک عدد پرزنٹیشن پیش کرنے کا موقع ملا ، جس کے لیے انتظامیہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے
رپورٹ بتعاون جے می نائے : محمد یاسین جہازی





















